Today News
کل نہ تم رہو گے نہ آبنائے ہرمز
اٹھائیس فروری کے دن اچانک دو بڑی وارداتیں ہوئیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آئیت اللہ علی خامنہ ای کو بیشتر اہلِ خانہ سمیت تہران میں قتل کر دیا اور تہران سے ساڑھے تیرہ سو کلومیٹر پرے جنوب مغرب میں آبنائے ہرمز کے ساحل سے پچیس کلومیٹر اندر قائم مناب قصبے کے شجرِ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کی ایک سو ستر بچیوں کو یکے بعد دیگرے دو امریکی میزائلوں نے ختم کر دیا۔
تب سے اب تک کے پانچ ہفتے میں آبنائے ہرمز کا نام کرہِ ارض کے لگ بھگ ہر انسان کے کانوں تک شائد پہنچ چکا ہو۔خلیجِ فارس کو براستہ خلیجِ اومان بحرِ ہند سے ملانے والی انتالیس کلومیٹر چوڑی آبنائیِ ہرمز کو گذشتہ ڈیڑھ ہزار برس میں کئی لقب ملے۔
مثلاً عربوں نے جب ایران پر قبضہ کیا تو اس آبنائے کو دو نام عطا ہوئے۔باب السلام ( درِ امن ) اور باب الحدید ( درِ آہن )۔خلیج میں داخلے اور واپسی کے اس دروازے کے نزدیک ایرانی ساحل سے آٹھ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تین اہم جزیرے ہیں۔ان میں سب سے بڑا جزیرہ کیشم ہے۔اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں کی پتھریلی زمین پر جس قدر رنگ بکھرے ہوئے ہیں کرہِ ارض پر شائد ہی کوئی ایسا ارضیاتی نمونہ ملے۔ایک جزیرے کا نام لرک ہے اور ایک جزیرہ ہرمز ہے ( ویسے تو ابو موسی ، تمبِ اکبر و اصغر اور جزیرہ خرگ بھی ہیں مگر وہ آبنائے ہرمز سے فاصلے پر ہیں )۔
جزیرہ ہرمز ایک ایسی ساحلی سلطنت کا تجارتی مرکز رہا ہے جہاں فارس اور میسوپوٹیمیا سے گذرنے والی مقامی اور یورپی و ایشیائی و افریقی مصنوعات کو گوداموں میں رکھا جاتا تھا ( کھجور ، مصالحے ، قیمتی پتھر ، کپڑا ، خوشبویات ، خوراک ، لکڑی ، موتی وغیرہ )۔
ان مصنوعات کی بولی لگتی تھی اور تجارتی کشتیوں میں یہ سامان تمام معلوم دنیا میں آتا جاتا تھا ( تب تلک معلوم دنیا میں کسی شخص نے امریکا کا نام بھی نہیں سنا تھا )۔
ہرمز جزیرے پر سہولہویں صدی میں ( پندرہ سو پندرہ ) پرتگیزیوں نے قبضہ کر کے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔سولہ سو بائیس میں ایرانی صفوی بادشاہت نے جزیرہ واپس لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔یہاں سے گذرنے والے مال پر محصولات میں بھی فریقین کے مابین شراکت داری قرار پائی ( آج ایران اور اومان ہرمز پر محصول لگا کر دراصل صدیوں پرانا آمدنی نظام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں )۔
آبنائے ہرمز کے دوسری جانب صحراِ عرب یا چٹیل علاقہ ہے۔ ان دنوں جہاں کویت ، قطر ، بحرین ، اور امارات قائم ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی ساحلی بستیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماہی گیری اور سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت ہی روزگار کا بنیادی وسیلہ تھا۔ پورے خطے میں انیسویں صدی کے وسط کے بعد انگریزی سامراجی اثر و رسوخ کے سبب تیل کی دریافت بھی برٹش پٹرولیم کمپنی نے کی تھی۔( ایران خطے کا پہلا ملک تھا جہاں انیس سو آٹھ میں تیل کی پیداوار شروع ہوئی )۔
دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتِ برطانیہ کے زوال کے بعد اس علاقے میں آزادی حاصل کرنے والی قوم پرست حکومتوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیل کو قومی ملکیت میں لینا شروع کیا۔کوڑیوں کے مول وسائل سمیٹنے والی مغربی و امریکی تیل کمپنیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی حمائیت سے نیشنلائزیشن کے مقامی رجحان کی خاصی مزاحمت کی۔اس کش مکش کے دوران متعدد حکومتوں کے تختے الٹے گئے۔
تاہم اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو تین ماہ تک تیل کی رسد منقطع ہونے سے جہاں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب یہاں کی حکومتیں اپنے مفاداتی فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔وہیں امریکا اور یورپ نے بھی آیندہ ایسے کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے اس علاقے میں مغرب نواز حکومتوں کو مستحکم کرنا شروع کیا۔یوں تیل کی آمدنی کو پیٹرو ڈالر اور مغربی معیشت سے جوڑ کے ایک نیا کولونیل مالیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔
اسرائیل کو عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور عرب ممالک سے تمام تر معاشی فوائد سمیٹنے کے باوجود یہ اہتمام برقرار رکھا گیا کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھاری ٹھیکے بھی ملتے رہیں مگر کسی علاقائی ملک کو ایسا اسلحہ ، مہارت یا طاقت حاصل نہ ہو سکے جس سے اسرائیل کی عسکری برتری چیلنج ہو جائے۔ایران نے چونکہ انیس سو اناسی کے بعد اس نئی گیم کے قوانین ماننے سے انکار کر دیا لہذا اس کے گرد سرخ حصار کھینچ دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کی ایرانی سائیڈ پر کوہ ِزاغروس کی چٹانیں ہیں جب کہ اومان کی سائیڈ پر سمندر میں جو نوک سی نکلی ہوئی ہے اسے جزیرہ نما مسندم کہا جاتا ہے۔
جیالوجی کے علم کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ شکل ساڑھے تین کروڑ برس قبل یوریشین اور عربین ارضیاتی پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ایرانی سمت میں کوہِ زاغروس اور اومانی سمت میں کوہِ الہجر وجود میں آیا اور اس اتھل پتھل کے نتیجے میں وجود پذیر نئے ارضیاتی نظام میں جو نشیب پیدا ہوا اسے ہم خلیج کے طور پر جانتے ہیں۔اب سے بیس ہزار برس قبل آخری برفانی دور کے اختتام تک خلیج میں پانی کی مقدار ( برف بتدریج پگھلنے کے سبب ) اتنی اتھلی تھی کہ کئی مقامات پر آرپار چل کے جایا جا سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی اومانی سائیڈ پر جزیرہ نما مسندم اب بھی حرکت میں ہے یعنی وہ سال بہ سال ایرانی سائیڈ کی جانب کھسک رہا ہے۔ماہرینِ ارضیات کا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ برس بعد ہرمز کی اومانی اور ایرانی سائیڈ ملنے سے آبنائے کا وجود ہی ختم ہو جائے گا اور خلیج ایک خالص جھیل کی شکل اختیار کر لے گی۔
اچھی بات یہ ہے کہ انسان یہ نوبت آنے سے لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہو چکا ہو گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لہٰذا کرہِ ارض کی ان تمام نعمتوں پر جو تم سے پہلے بھی تھیں اور تمہارے بعد بھی رہیں گی جتنا لڑ سکتے ہو ابھی لڑ لو۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
قلعہ عبداللہ میں آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹا جاں بحق، ایک شخص زخمی
قلعہ عبداللہ کے دور افتادہ علاقے نورک سلیمان خیل میں آسمانی بجلی گرنے کا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا، جس میں ایک باپ اور اس کا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی بھی ہوا۔
تفصیلات کے مطابق عبدالبصیر اور ان کے بیٹے زبیر احمد آسمانی بجلی کی زد میں آگئے اور دونوں شہید ہو گئے۔ جبکہ محمد شفیع کلی منگلزی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ اچانک تیز آسمانی بجلی گرنے سے تینوں افراد متاثر ہوئے، عبدالبصیر اور زبیر احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ محمد شفیع کو شدید چوٹیں آئیں۔
ریسکیو ٹیموں اور مقامی لوگوں نے فوری طور پر لاشیوں اور زخمی کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔ زخمی کی حالت کوئی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ سانحہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں جاری طوفانی بارشوں اور موسلا دھار موسم کے باعث پیش آیا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں آسمانی بجلی کے متعدد واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ نورک سلیمان خیل کا پہاڑی علاقہ موسم کی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔متاثرہ خاندان میں سوگ کی فضا طاری ہے۔
مقامی لوگوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دور دراز علاقوں میں بجلی گرنے سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری امدادی پیکج دیا جائے۔
محکمہ موسمیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں اور آسمانی بجلی کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ طوفانی موسم میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
Source link
Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز