Connect with us

Today News

احسن تقویم ، اسفلہ سافلین

Published

on


یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔

ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور  سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔

آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔

اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔

چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔

زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔

جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔

چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔

اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے

ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی

جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ

 ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ، 15 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

Published

on



راولپنڈی:

اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 6 اپریل سے 20 اپریل تک 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر مکمل پابندی عائد ہوگی جبکہ جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی نمائش، خطرناک اشیاء ساتھ رکھنے، پیٹرول بم، بال بیرنگ اور لاٹھیاں لے کر چلنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

اس کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیزی، ڈبل سواری اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی اداروں کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے کی۔

اجلاس میں اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ ٹریفک کی روانی متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی عوام نے سر پر کفن باندھ لیے، ایک کروڑ سے زائد افراد فوج میں شامل ہونے کو تیار

Published

on



تہران:

گزشتہ رات امریکی صدر کی جارحانہ پریس کانفرنس کے بعد ایران میں عوامی سطح پر غیرمعمولی ردعمل سامنے آیا ہے جہاں لاکھوں افراد نے ملک کے دفاع میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو پیش کر دیا۔

ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ محاذ آرائی کے پیش نظر گزشتہ 10 دنوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کرالی ہے، رجسٹریشن میں گزشتہ روز غیر معمولی اضافہ نظر آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوج کا حصہ بنیں، جس پر بھرپور اور تیز رفتار ردعمل دیکھنے میں آیا۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل بدستور جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے شہریوں کی بڑی تعداد اس میں حصہ لے رہی ہے، جو دفاع وطن کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں سیستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو جنگی تیاریوں اور ملک کے دفاع کے عزم کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

دباؤ میں نہیں آئیں گے جواب سخت ہو گا، ٹرمپ کی پریس کانفرنس پر ایران کا دو ٹوک ردعمل

Published

on



تہران:

ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے بنیاد اور حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔

ایرانی مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل ناکامیوں اور سبکی کا سامنا ہے اور اس قسم کی سخت زبان دراصل انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دھمکیوں کے ذریعے نہ تو امریکا اپنی ساکھ بحال کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔

فوجی حکام نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی دراصل اس کی کمزوری کا اعتراف ہے۔

ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی یا جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے سخت ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending