Connect with us

Today News

بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ

Published

on



کوئٹہ:

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

چند شخصیات کو قتل کرکے دشمن ایران کی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتا، سپریم لیڈر

Published

on


ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے  انٹیلی جنس کمانڈر ماجد خادمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہادر سپاہی تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکا نے انٹیلی جنس ادرے کے سربراہ کو شہید کیا ہے لیکن اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ایرانی فوج کمزور نہیں ہوسکتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے کی امریکی دھمکی قابل مذمت ہے۔ دشمن ہر روز دھمکیاں اور تباہی کی دھمکی دے رہا ہے لیکن اسے ایران میں مسلسل شکست ہو رہی ہے۔

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامہ ای نے یہ بھی کہا کہ دشمن ممالک اہم ملکی شخصیات کو قتل کرکے ایرانی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتے۔ فتح ہماری ہے۔

ٹرمپ کی ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی پر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ  پُلوں، بجلی کے پلانٹ اور اسکولوں پر حملے انسانیت کیخلاف اور جنگی جرائم ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی حملے میں ایران کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی شہید ہوگئے تھے۔  

 





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ہزاروں جہاز پھنس گئے، عالمی تجارت شدید متاثر

Published

on


آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان واقعات کے بعد بحری راستے کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

کئی جہازوں کو سوئز کینال کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو طویل سفر اختیار کرتے ہوئے کیپ آف گُڈ ہوپ کے بحری راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرنا پڑ رہی ہے جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے تاہم ایرانی بحریہ کی چھوٹی آبدوزیں مڈگیٹ سب میرینز اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے جو کہ جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت، پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر 9 اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا

Published

on



TAMIL NADU, INDIA:

بھارت میں حراست کے دوران باپ بیٹے کی ہلاکت کے کیس میں عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔

یہ واقعہ 2020 میں جنوبی ریاست تامل ناڈو میں پیش آیا جہاں 58 سالہ پی جے یاراج اور ان کے 38 سالہ بیٹے بینکس کو کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے موبائل فون کی دکان مقررہ اوقات کے بعد کھلی رکھی۔

عدالت کے مطابق دوران حراست دونوں افراد کو برہنہ کر کے ایک دوسرے کے سامنے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث چند روز بعد جیل میں ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ یہ اختیارات کا کھلا ناجائز استعمال تھا اور اہلکاروں نے یہ کارروائی قتل کی نیت سے کی۔

کیس میں مجموعی طور پر 10 پولیس اہلکار گرفتار کیے گئے تھے، تاہم ایک ملزم 2020 میں ہی کورونا کے باعث ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ باقی 9 کو گزشتہ ماہ قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور اب انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ مجرم اہلکاروں کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔

واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور بھارتی کرکٹر شیکھر دھون سمیت کئی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پر متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending