Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
چند شخصیات کو قتل کرکے دشمن ایران کی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتا، سپریم لیڈر
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے انٹیلی جنس کمانڈر ماجد خادمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہادر سپاہی تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکا نے انٹیلی جنس ادرے کے سربراہ کو شہید کیا ہے لیکن اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ایرانی فوج کمزور نہیں ہوسکتی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے کی امریکی دھمکی قابل مذمت ہے۔ دشمن ہر روز دھمکیاں اور تباہی کی دھمکی دے رہا ہے لیکن اسے ایران میں مسلسل شکست ہو رہی ہے۔
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامہ ای نے یہ بھی کہا کہ دشمن ممالک اہم ملکی شخصیات کو قتل کرکے ایرانی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتے۔ فتح ہماری ہے۔
ٹرمپ کی ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی پر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ پُلوں، بجلی کے پلانٹ اور اسکولوں پر حملے انسانیت کیخلاف اور جنگی جرائم ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی حملے میں ایران کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی شہید ہوگئے تھے۔
Today News
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ہزاروں جہاز پھنس گئے، عالمی تجارت شدید متاثر
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان واقعات کے بعد بحری راستے کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
کئی جہازوں کو سوئز کینال کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو طویل سفر اختیار کرتے ہوئے کیپ آف گُڈ ہوپ کے بحری راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرنا پڑ رہی ہے جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے تاہم ایرانی بحریہ کی چھوٹی آبدوزیں مڈگیٹ سب میرینز اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے جو کہ جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہے۔
Today News
بھارت، پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر 9 اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا
TAMIL NADU, INDIA:
بھارت میں حراست کے دوران باپ بیٹے کی ہلاکت کے کیس میں عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔
یہ واقعہ 2020 میں جنوبی ریاست تامل ناڈو میں پیش آیا جہاں 58 سالہ پی جے یاراج اور ان کے 38 سالہ بیٹے بینکس کو کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے موبائل فون کی دکان مقررہ اوقات کے بعد کھلی رکھی۔
عدالت کے مطابق دوران حراست دونوں افراد کو برہنہ کر کے ایک دوسرے کے سامنے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث چند روز بعد جیل میں ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
جج نے ریمارکس دیے کہ یہ اختیارات کا کھلا ناجائز استعمال تھا اور اہلکاروں نے یہ کارروائی قتل کی نیت سے کی۔
کیس میں مجموعی طور پر 10 پولیس اہلکار گرفتار کیے گئے تھے، تاہم ایک ملزم 2020 میں ہی کورونا کے باعث ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ باقی 9 کو گزشتہ ماہ قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور اب انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ مجرم اہلکاروں کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔
واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور بھارتی کرکٹر شیکھر دھون سمیت کئی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پر متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Today News2 weeks ago
کراچی ایئرپورٹ پر نجی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، 160 مسافر محفوظ