Today News
تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا، وزیراعظم
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
شہباز شریف نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی شعبے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔ انہوں نے پی این ایس سی کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری سے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی رسد یقینی بنائی گئی ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی لائحہ عمل، حالیہ عالمی صورتحال میں ملکی برآمدات کے لئے مواقع اور درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع اور 45 فیصد حصہ حیاتیاتی (fossil) ایندھن کا ہے جب کہ اگلے 10 سال میں بجلی کی قابل تجدید ذرائع سے پیداوار 90 فیصد تک، جب کہ حیاتیاتی ایندھن سے پیداوار 10 فیصد تک لے جانے کے لیے منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔
شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، ، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
Today News
ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ ہوا ہے لیکن ہمیں حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ2025 کے بعد پاکستان کا اسٹیٹس کافی تبدیل ہوا ہے، جس انداز سے دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے، امریکا اور یورپ کی پاکستان کی جانب اپروچ تبدیل ہوئی ہے، یہ سب پاکستانی عوام کی یک جہتی، سپورٹ اور افواج پاکستان کی بہادری کی وجہ سے ہوا ہے اور پاکستان کا مکمل اسٹیٹس تبدیل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، سمجھتے ہیں جنگ نہیں ہونی چاہیے، کل اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ پاکستان اس میں کیا کردار ادا کر رہا ہے، ہم چاہتے ہیں پاکستان بہترین کردار ادا کرے لیکن ہمیں بتائیں تو صحیح کیا مذاکرات ہو رہے ہیں، پاکستان کا کیا کردار ہے اور آپ جو ثالثی کررہے ہیں وہ کس مرحلے پر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہوا، حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بھی کہا اور سب نے کہا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ بہت اچھا ہے لیکن ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، سیاسی سوچ رکھتے ہیں، تحریک بھی چلائیں گے، احتجاج کریں گے اور عدالتوں میں جائیں گے جبکہ ملاقاتیں نہ ہونا افسوس ناک ہے، ہماری ملاقاتیں اکتوبر سے نہیں ہو رہی ہیں اور جنوری سے سارے تشویش کا شکار ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ لوگ دو دو قدم پیچھے ہوجائیں گے لیکن ہمیں ایک انچ کی اسپیس نہیں مل رہی ہے، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے تو یہ آپ کی غلط سوچ ہے، برائے مہربانی ملک پر رحم کریں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکریہ آج انہوں نے ملاقات کا حکم دیا ہے، دیکھتے ہیں کل ملاقات کراتے ہیں یا نہیں، وکیل کی ملاقات کافی نہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی فیملی ملاقات بھی ہونی چاہیے، بہنوں نے یہاں تک کہا کہ ملاقات کے بعد پریس ٹاک تک نہیں کریں گی لیکن یہ بات بھی نہیں مانی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فسطائیت کی ایک بڑی مثال ہے ہمارے خلاف ہرحکم پر عمل درآمد ہوجاتا ہے، پورے پاکستان سے لوگ اظہار یک جہتی کے لیے یہاں آتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آج ملاقات کرائیں، اگلے منگل یہ لوگ نہیں ہوں گے، آپ نے کوشش کی کہ فروری میں تاثر دیا جائے وہ جیل چلا گیا لیکن دوری پیدا نہیں ہوسکی، ایسے ہتھکنڈوں سے بانی کی مقبولیت کم نہیں ہوسکتی بلکہ اس سے نفرت بڑھ رہی ہے اور ملک کےلیے اچھا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا جہاں سے بھی پاکستان پر حملہ ہو آپ آخری حد تک چلے جاؤ، آج آدھا گھنٹے کی ملاقات کراتے تو یہاں کوئی نہ ہوتا، مہنگائی کے دور میں لوگ دور دور سے خود چل کر آتے ہیں ہم نے کسی کو بھی کال نہیں دی، لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ بانی سے ملاقات نہ ہونا زیادتی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پر کوئی تحفظات نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی جب فیصلہ کرلیں تو پارٹی اس کو قبول کرتی ہے، علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے تحریک چلانی ہے یا جو کرنا ہے یہ ان کا فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس بانی کی تحریری ہدایات آئی تھیں جو علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان ہدایت کریں گے پارٹی اس پر عمل کرے گی، میرا خیال تھا کہ جلد حالات تبدیل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے بعد اسمبلی کے سیشن میں محمود خان اچکزئی صاحب نے شرکت کی ہے، امید ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں گے، اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر پارٹی تنقید نہیں کررہی بلکہ پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے، اتحاد کے پلیٹ فارم سے کل ان کے ساتھ ہماری دوبارہ میٹنگ ہے جس میں اہم فیصلے ہوں گے اور یہ میٹنگ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ محمود اچکزئی اور ناصر عباس جیسے آگے بڑھیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے کا اعلان کیا جو کہ رجیم چینج پر تھا، ہم نے این او سی کے لیے اپلائی کیا اور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی فائل کر دی ہے، ہم لوگوں سے کہیں گے کہ وہ جلسے میں ضرور شرکت کریں اور ہمیں حکومت جہاں روکے گی ہم وہی جلسہ کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان ہم سمیت کوئی حائل نہیں عوام بانی کے ساتھ ڈائریکٹ الائن ہے، احتجاج، تحریک، پارلیمان اور عدالتیں سب کچھ ٹیبل پر ہے، ہم نے اسی لیے عدالتوں کو کہا ہماری سنیں اور بانی کی سزاؤں کی معطلی پر اپنا حکم جاری کریں، تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
Source link
Today News
سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر تک پبلک کردیں گے، آئی ایم ایف کو یقین دہانی
اسلام آباد:
حکومت نے آئی ایم ایف کو اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی کرادی، سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026ء تک پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بینکوں کو سرکاری افسران کے اثاثوں تک رسائی دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنے کا نظام بنایا جائے گا، لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے عالمی معاہدوں میں بہتری کا پلان ہے، منجمد، ریکور شدہ اور واپس لائے گئے اثاثوں کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیارکیا جائے گا، ایسٹ ریکوری اور منیجمنٹ یونٹس کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر اثاثہ جات جمع کروانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے گا، کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے 10 بڑے محکموں کی نشاندہی کا فیصلہ کیا گیا ہے مشکوک مالی ٹرانزیکشنز رپورٹ کرنے کے معیار اور تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، کرپشن کے خلاف ایکشن پلان اکتوبر 2026ء تک تیار ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو یقن دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت ہر 6 ماہ بعد اصلاحات کی رپورٹ جاری کرے گی، نیب کو مزید خودمختاری دی جائے گی، نیب اس سال کرپشن سے متعلق نیشنل رسک اسیسمنٹ کرے گا، اینٹی منی لانڈرنگ، کاوٴنٹر ٹیرر فنانسنگ اتھارٹی کے تحت ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے۔
حکومت نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین کی تقرری کے لیے اپوزیشن کی نمائندگی سمیت کمیشن قائم کرنے پر زور دیا۔ نیب میں میرٹ، شفاف اور اوپن سلیکشن سسٹم متعارف ہوگا۔ نیب کے قواعد اور کارکردگی رپورٹ عوام کے لیے جاری کی جائے گی۔ منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات اور سزاوٴں کے طریقہ کار کو مضبوط کیا جائے گا۔
Today News
ایران میں آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوسکتا ہے؛ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بار پھر ایران کو آج رات تک آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت الٹی میٹم دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہ کھولا تو آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہوسکتی ہے جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا جو ان کے حالیہ الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً 12 گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جس سے ان کے سنگین عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم اب جب کہ مکمل اور کلی رجیم چینج ہو چکی ہے۔ زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ذہن غالب آ سکتے ہیں، تو شاید کچھ انقلابی اور حیران کن مثبت تبدیلی بھی ممکن ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم آج رات دیکھیں گے، یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہوگا۔ 47 سال کی بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کو ایک سخت بیان میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے ہرمز آبنائے کو نہ کھولا تو امریکا منگل کی شام سے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، جس میں بجلی گھر اور پُل شامل ہوں گے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final