Today News
سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر تک پبلک کردیں گے، آئی ایم ایف کو یقین دہانی
اسلام آباد:
حکومت نے آئی ایم ایف کو اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی کرادی، سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026ء تک پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بینکوں کو سرکاری افسران کے اثاثوں تک رسائی دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنے کا نظام بنایا جائے گا، لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے عالمی معاہدوں میں بہتری کا پلان ہے، منجمد، ریکور شدہ اور واپس لائے گئے اثاثوں کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیارکیا جائے گا، ایسٹ ریکوری اور منیجمنٹ یونٹس کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر اثاثہ جات جمع کروانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے گا، کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے 10 بڑے محکموں کی نشاندہی کا فیصلہ کیا گیا ہے مشکوک مالی ٹرانزیکشنز رپورٹ کرنے کے معیار اور تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، کرپشن کے خلاف ایکشن پلان اکتوبر 2026ء تک تیار ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو یقن دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت ہر 6 ماہ بعد اصلاحات کی رپورٹ جاری کرے گی، نیب کو مزید خودمختاری دی جائے گی، نیب اس سال کرپشن سے متعلق نیشنل رسک اسیسمنٹ کرے گا، اینٹی منی لانڈرنگ، کاوٴنٹر ٹیرر فنانسنگ اتھارٹی کے تحت ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے۔
حکومت نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین کی تقرری کے لیے اپوزیشن کی نمائندگی سمیت کمیشن قائم کرنے پر زور دیا۔ نیب میں میرٹ، شفاف اور اوپن سلیکشن سسٹم متعارف ہوگا۔ نیب کے قواعد اور کارکردگی رپورٹ عوام کے لیے جاری کی جائے گی۔ منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات اور سزاوٴں کے طریقہ کار کو مضبوط کیا جائے گا۔
Today News
آرٹیمس II کے خلابازوں کو چاند مشن سے قبل ریان گوسلنگ کی فلم کیوں دکھائی گئی؟
چاند کے تاریخی مشن پر روانگی سے قبل ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے ایک دلچسپ انداز میں تیاری کی، جہاں انہوں نے لانچ سے پہلے ایک خصوصی ’مووی نائٹ‘ کا اہتمام کیا۔
رپورٹس کے مطابق چار رکنی عملے نے خلائی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ریان گوسلنگ کی 2026 کی سائنس فکشن فلم Project Hail Mary دیکھی۔
یہ فلم ایک ایسے ماہر حیاتیات کی کہانی پر مبنی ہے جو خلا میں جا کر ایک اجنبی مخلوق کے ساتھ مل کر زمین کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
آرٹیمس II کے خلا باز یکم اپریل کو اپنے مشن پر روانہ ہوئے اور 6 اپریل کو زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے انسان بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس دوران 4 اپریل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے بتایا کہ انہوں نے یہ فلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ قرنطینہ کے دوران دیکھی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم دیکھنا ان کے لیے ایک خاص تجربہ تھا کیونکہ انہیں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر اس خلائی مہم سے پہلے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے کا موقع ملا۔ جیریمی ہینسن نے ریان گوسلنگ کی اداکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’فن اور سائنس ایک دوسرے کی عکاسی کرتے ہیں، اور انہوں نے اس فلم میں شاندار کام کیا۔‘‘
یہ دلچسپ پہلو اس تاریخی مشن کو مزید یادگار بنا گیا، جہاں حقیقت میں خلا کا سفر کرنے والے خلا بازوں نے روانگی سے پہلے ایک ایسی فلم دیکھی جو خلا میں انسان کی جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔
Source link
Today News
تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ؛ ٹرمپ نے ایران کو اب تک کتنی بار ڈیڈلائنز دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں ایران کو متعدد بار ڈیڈ لائنز دیں اور اتنی ہی بار اپنی فتح کا اعلان بھی کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں اور انھوں نے روایتی انداز میں دھمکی دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہوجائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی بھی کوئی آخری دھمکی نہیں دی۔ ہم جائزہ لیں گے کہ اس سے قبل امریکی صدر کب کب اور کن کن مواقعوں پر ایسا کرچکے ہیں۔
امریکی صدر نے زیادہ تر دھمکیاں تیل کی ترسیل کی سب سے مصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے دی ہیں لیکن تاحال ایران نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی پہلی ڈیڈ لائن 21 مارچ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ نہ کھولی تو وہ ایران بڑے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔
تاہم یہ ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر انھوں نے ایک نئی ڈیڈ لائن دیدتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات‘ ہوئے ہیں اس لیے 5 دن کے لیے حملے مؤخر کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پانچ دن مکمل ہونے کے بعد 27 مارچ کو تیسری ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر پاور پلانٹس پر حملے کو مزید مؤخر کر رہے ہیں اور نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل مقرر کی تھی۔
بعد ازاں جمعہ کو جب کہ 6 اپریل کی ڈیڈ لائن ختم بھی نہیں ہوئی تھی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس صرف 48 گھنٹے بچے ہیں بصورت دیگر وہ قیمات برپا کر دیں گے۔
اس 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے دوران اتوار کے روز کو ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ منگل کی شام 8:00 بجے تک آبنائے ہرمز پر ایران نے کوئی معاہدہ نہیں کیا تو ایرانی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیں گے۔
Today News
امریکہ کو نہ روکا گیا تو ہر مسلم ملک اپنی باری کا انتظار کرے
سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
پاکستان کی طرف سے امریکہ ایران جنگ بندی کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں بڑی توجہ اور مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کو اسلام آباد میں پاکستان مصر’ سعودی عرب اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے مابین مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے انہیں سراہا گیا۔ اس اجلاس کے بعد ڈپٹی پرائم منسٹر و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جنگ بندی کیلئے فریقین کے مابین پاکستان میں مزاکرات کی باقاعدہ پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی میزبانی کرنا پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا اور اس سلسلے میں امریکہ اور ایران کی طرف سے پاکستان پر اعتماد باعث فخر ہے۔
یقیناً اس تنازعے کے حل کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اسے دنیا بھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے تاہم میرے نزدیک ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سابقہ رویے اور ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے ان کوششوں سے زیادہ توقعات باندھنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ میری رائے یہ ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کو ٹرمپ غیر قانونی جنگ کو شروع کرنے کے باعث اپنے خلاف قائم ہونے والی منفی رائے عامہ کو diffuse کرنے کیلئے استعمال کریں گے اور دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ وہ مزاکرات کے ذریعے اس تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران ایسا نہیں چاہتا،اور پھر وہ اسی بات کو وجہ بناتے ہوئے نئی حکمت عملی کے تحت دوبارہ حملے شروع کردیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس صورت حال میں کہاں کھڑا ہوگا، سعودی عرب کے ساتھ جس سے اسکا دفاعی معاہدہ ہے یا ایران کے ساتھ جس پر جارحیت کی وہ مزمت کرتا چلا آرہا ہے یا پھر امریکہ کے ساتھ جس سے اسکا ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے؟۔ یقینا پاکستان جو اب تک ایک کامیاب سفارت کاری کے ذریعے ان تمام فریقین سے دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور ایران سعودی عرب یو اے ای کویت ترکیہ اومان سب جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن ایران کو سابقہ تلخ تجربات کی بنا پر امریکہ سے مزاکرات میں خیر کی کوئی توقع نہیں۔ وہ پاکستان سمیت دیگر برادر ممالک کی ان مفاہمتی کوششوں کو بادلِ نخواستہ موقع دے رہا ہے اور پاکستان بھی کسی بڑی سفارتی آزمائش سے بچنے کیلئے یہ کوشش کررہا ہے اور یہ کہ ان کوششوں میں کامیابی سے ’جس کے امکانات بظاہر بہت کم ہیں‘ پاکستان کا سفارتی قد بہت بڑھ جائے گا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا اس وقت اتنا سفارتی وزن ہے کہ وہ امریکہ سے ایران کے جائز مطالبات منوا سکے اور ایران کو امریکی مطالبات کے قریب لاسکے.
یہ تقریبا ایک ناممکن کام ہے اسلئے ان مفاہمتی کوششوں کی ناکامی کی صورت میں پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑا چیلینج در پیش ہوگا، جس سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر جنگ شدت اور طوالت اختیار کرتی ہے تو اس کو فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی پاسداری کرے یا ایران سے تعلقات کو بہتر رکھے اور امریکہ کو بھی کس طرح راضی رکھے۔
امریکہ کے ایران پر حملے روکنے اور مزاکرات کو ویلکم کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل ایران کے ایٹمی ری ایکٹرز سمیت دیگر تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اورٹرمپ زمینی فوج اتارکر خارزگ جزیرے اور ایرانی تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنے اور مزید فضائی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ زمینی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ان حالات میں مزاکرات کو امریکہ کی طرف سے وقت حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ وہ مناسب وقت پر نئی حکمت عملی کے تحت دوبارہ حملہ آور ہو سکے۔
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ موجودہ جنگ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے کیونکہ ایک طرف اس جنگ کے ذریعے عراق لیبیا اور شام کی طرح ایران کو فوجی معاشی اور سیاسی سطح پر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ایران اور پاکستان’ عرب ممالک اور دیگر خلیجی مسلم ممالک کے مابین اختلافات کو ہوا دے کر آپس میں لڑا نے تقسیم اور کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔تاہم یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اکسانے کے باوجود تاحال تمام مسلم ممالک نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی محاذ نہیں کھولا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی کوششیں بھی لائق تحسین ہیں۔ اس حوالے سے ترک انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کا ہدف ایران کا نیوکلیئر پروگرام نہیں بلکہ ترک عرب کرد فارس مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اس جنگ کو شروع کرنے کیلئے ایران کا ایٹمی پروگرام تو بس ایک بہانہ ہے دراصل مسلم دنیا کو آپس میں الجھا کر بیچ سے نکل جانا اور ایران مخالف ممالک کو اسلحہ فروخت کرنا ہے۔اس سے قبل بھی اس خطے میں عراق ایران’ عراق کویت’ یمن سعودی عرب کے مابین تصادم کروائے جاتے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی میں ایران کے ساتھ پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ اور عرب دنیا میں صدیوں پرانی عرب فارس چپقلش کو دوبارہ زندہ کرنا بھی شامل ہے جس میں دشمنوں کو فی الحال ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کے بعض گروہوں کی طرف سے اس سلسلے میں کراچی اور گلگت بلتستان میں شدید ری ایکشن دیکھنے کو ملا ہے جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا اور اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کی شیعہ کمیونٹی کے علماء کرام سے ملاقات بھی زیر بحث ہے۔
گزشتہ روز حکان فدان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی مصروفیات کی وجہ سے ترکی ، سعودیہ اور مصر کے وزیر خارجہ بروز اتوار پاکستان جائیں گے جہاں حالیہ جنگی صورتحال سمیت مستقبل کے ایک نئے بلاک کے قیام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
کہنے کو یہ چند سطور پہ مشتمل بیان تھا لیکن اس کی حیثیت آج سے عشروں قبل سعودی عرب کے شاہ فیصل ، لیبیا کے معمر قذافی اور ذوالفقار علی بھٹو کے مسلم ممالک کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانے کے اقدامات جیسی ہے۔ مسلم ممالک کو موجودہ صورت حال اور مستقبل میں ممکنا طور پر سامنے آنے والے حالات کی پیش بندی کیلئے فوری طور ایک پلیٹ فارم سے مؤثر آواز بلند کرنے اور اقدامات کی ضورت ہے۔دوسری جانب ترکی کی جانب سے ایک اہم پیٹرن کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کس طرح صیہونی طاقتیں مسلم ممالک میں خفیہ پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعہ انتشار پیدا کر کے اْنہیں اندر سے کھوکھلا کرتی ہیں اور جب اندرونی انتشار سے وہ ملک کمزور ہونے لگتا ہے تو پھر کوئی بہانہ بنا کر باقاعدہ جنگ کا آغاز کردیا جاتا ہے. ہمارے سامنے شام مصر عراق اور لیبیا کی شکل میں واضح مثالیں موجود ہیں۔
آجکل ترکی میں کُرد مسئلہ کو ہوا دی جا رہی ہے ایران میں قدامت پسند اور لبرل تقسیم پیدا کرکے اور کرد باغیوں کی پشت پناہی کرکے رجیم کو کمزور اور چینج کرنے کی کوشش جا رہی ہے۔ پاکستان میں بلوچ شدت پسند گروپس، ٹی ٹی پی اور افغان عبوری حکومت کے ذریعے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے۔یہ حقیقت ہمیں ماننا ہوگی کہ ان سازشوں میں جہاں دشمنوں کے خفیہ ہاتھ ملوث ہیں وہیں اس میں ہماری اپنی غلطیوں کا بھی بہت عمل دخل ہے ان غلطیوں کا ادراک اور انہیں درست کئے بغیر معاملات درست ہونا ممکن نہیں۔
پاکستان کے حوالے سے تو بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی نے بھارت اور افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مشتمل ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جو جنگ کے آغاز سے ہی ایران کے نام سے فیک اکاؤنٹس بنا کر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کر رہا تھا۔
دوسری جانب سعودیہ سے امریکہ اسرائیل راہنماؤں کو ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ وہاں مسلسل تنصیبات پہ حملے ہو رہے ہیں لیکن سعودیہ ایران کے خلاف اعلان جنگ کیوں نہیں کر رہا ایک بات اب واضح ہے کہ ہمارے خطے اور دنیا کی سیاست ایک بڑے سنگین موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی کوششوں سے اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے اور ایران و امریکہ کے مابین کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ بہت بڑا بریک تھرو ہوگا۔ یقیناً اسرائیلی ڈیزائن اور ایران و امریکہ کی شرائط میں طویل فاصلے کی وجہ سے یہ بہت مشکل مرحلہ ہے لیکن اگر ٹرمپ ’جو اگر اب ایک رائے کے مطابق جنگ سے نکلنا چاہ رہا ہے‘ کو فیس سیونگ مل گئی تو وہ اپنی فتح کا اعلان کرکے جنگ بندی کا مشروط اعلان کرسکتا ہے۔ جو پاکستان کیلئے سفارتی سطح پر بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کے قد کو دنیا کی اقوام میں بہت بلند کردے گا۔
اس سے قبل ٹرمپ کی صدارت میں کابینہ اجلاس کے دوران وٹکوف کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی حکومت ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ 15 نکاتی امن منصوبہ بذریعہ پاکستانی حکومت ایران تک پہنچایا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہونے کے اچھے امکانات ہیں اور اگر معاہدہ ہوا تو ایران خطے اور دنیا بھر کے لیے اچھا ہوگا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم اور نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا عمل پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔ٹرمپ نے شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ بھی کیا ہے۔
جمعرات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور درحقیقت امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے پیغامات کے ذریعے ہو رہی ہے، انھوں نے بتایا کہ اس تناظر میں امریکہ نے 15 نکات دیے ہیں جن پر ایران نے غور کیا ہے اور اس کے جواب میں چار مطالبات رکھے ہیں۔ ترکی مصر چین اور دیگر برادر ممالک بھی اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور پاکستان امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور خطے اور اس سے باہر استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ خیال رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی خبریں اتوار کو اس وقت گردش کرنا شروع ہوئیں تھیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاور پلانٹس پر حملوں کے فیصلوں کو مؤخر کیا جاتا ہے، بعد ازاں اس میں توسیع بھی کردی۔ ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی لیکن اس کے فوراً بعد ہی یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کی شام سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں لکھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جاری کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔
انھوں نے لکھا کہ امریکہ اور ایران رضا مند ہوں تو پاکستان معنی خیز اور حتمی مذاکرات کروانے کے لیے تیار ہے، جن کے ذریعے تنازع کا حل نکالا جا ئے۔ صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کا بیان ٹرتھ سوشل پر بھی شیئر کیا، جس سے یہ گمان ہوا کہ شاید واشنگٹن پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ بھارت میں تعینات ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ ’’اس بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔اگر ان مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے‘‘۔
پاکستان کی مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کے بعد متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں جیسے کہ ایران اور امریکہ اسلام آباد کو بطور ثالث کیوں قبول کر رہے ہیں اور اگر اس کوشش کے نتیجے میں کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو کیا پاکستان اس کا ضامن ہوگا؟ سب سے اہم سوال یہ کہ پاکستان کو ان کوششوں سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ گذشتہ دنوں میں پاکستانی رہنماؤں نے ایرانی اور امریکی صدور سے فون پر بات چیت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ تاہم مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی اور کشیدگی کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے کم کرنے پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ممالک کی ہی قیادت سے قربت پاکستان کو ایک اس تنازع کے حل کے لیے ایک مستحکم ثالث بناتی ہے۔
پاکستان کے قیادت کی سطح پر امریکہ اور ایران دونوں سے ذاتی تعلقات ہیں۔ اس کی غیرجانبداری، امن کے لیے کوششیں اور امریکہ اور ایران کا اس پر اعتماد اسے ایک ثالث کا کردار نبھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں ہی پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایران کے خلیجی ممالک سے تعلقات میں کشیدگی ہے ترکی سے بھی تعلقات میں تناؤ ہے۔ ایسے میں پاکستان ہی ایک بہتر ثالث بن سکتا ہے۔ امریکہ بھی ان مذاکرات کے لیے پاکستان پر ہی اعتماد کرے گا کیونکہ انڈیا تو ان مذاکرات میں غیرجانبدار ثالث نہیں بن سکتا کیونکہ مودی ایران پر حملے سے دو دن قبل اسرائیل میں تھے۔ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ برس جون اور پھر دسمبر میں اس نے قطر اور عمان کی ثالثی میں تہران سے مذاکرات کیے اور دونوں مرتبہ ایران پر حملوں کے نیتجے میں بات چیت کا عمل معطل ہوگیا۔
ایسے میں سوال اْٹھتا ہے کہ کیا پاکستان ان مذاکرات کے کو کسی منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے؟ معلوم یہی ہوتا ہے کہ پاکستان اس عمل یا کسی معاہدے کی ضمانت نہیں دے گا بلکہ ثالث کے طور پر فریقوں کے درمیان رابطے بڑھائے گا اور یقینی بنائے گا کہ وہ دونوں ممالک اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ یعنی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں بھی وہ اپنا بطور ثالث کردار ادا کرتا رہے گا۔ اسلام آباد کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا بلکہ وہ اپنی سرزمین پر بات چیت کے ذریعے ایران اور امریکہ کو تنازع کے حل کا موقع دے رہا ہے۔ ابھی یہ معاملات ابتدائی نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ مذاکرات کی ابتدا میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ بطور ثالث ملک کا مینڈیٹ کیا ہوگا۔ اس صورتحال میں یہ سوال بھی اْٹھتا ہے کہ پاکستان بطور ثالث ان مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان بھی ایران میں جنگ سے متاثر ہو رہا ہے اور کشیدگی میں کمی سے اسے معاشی اور سیاسی آسانیاں مل سکتی ہیں۔
کشیدگی میں کمی سے پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی فوائد حاصل ہوں گے۔ استحکام سے تجارت پر دباؤ کم ہوگا خاص طور پر ایندھن اور تیل کی مارکیٹ میں آسانی پیدا ہوگی۔ پاکستان کے خلیجی ممالک سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور اسلام آباد نے ریاض کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ تاہم اس جنگ کی ابتدا کے بعد ایران نے تقریباً تمام ہی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ کشیدگی میں کمی کی صورت میں خلیجی ممالک کی معیشتوں پر بھی دباؤ کم ہوگا جہاں سے سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر پاکستان آتی ہیں۔ خطے میں استحکام کے بعد پاکستان افغانستان کے محاذ اور اپنے شمال مغربی علاقوں میں دہشتگردی پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھ سکے گا۔
ایران ایک پڑوسی ملک ہے اور وہاں جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تیل کی فراہمی معطل ہے، اقتصادی پریشانیاں جنم لے رہی ہیں۔
خیال رہے اس تنازع کی ابتدا کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جہاں سے دنیا بھر کو تیل کی فراہمی ہوتی ہے۔ تاہم اب ایران نے پاکستانی جھنڈہ بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ادھر ڈائریکٹر برائے امور جنوبی ایشیا الیزبتھ ٹھریلکڈ کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے بیچ مذاکرات کروانا ایک خطرہ مول لینا بھی ہے۔ سابق امریکی سفارت کار اور سٹمسن سینٹر میں ڈائریکٹر برائے امور جنوبی ایشیا الیزبتھ ٹھریلکڈ کا ماننا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کا امریکہ، ایران سمیت مشرق وسطی کے اہم ممالک سے تعلق ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں اسلام آباد خاموشی سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کروانے میں کردار ادا کرتا رہا جس کی وجہ سے اسے فریقین کا اعتماد حاصل ہوا۔
لیکن کیا امریکہ اور ایران کے بیچ کسی معاہدے کی صورت میں پاکستان ضامن ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں الیزبتھ کا کہنا تھا کہ فی الحال کسی قسم کے معاہدے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا جب تک ممکنہ مذاکرات کے نتائج کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ ہو جائیں۔تاہم ان کے مطابق پاکستان کی کوشش ہو گی کہ دونوں فریقین کے ساتھ مرکزی کردار کو برقرار رکھے۔ الیزبتھ کہتی ہیں کہ اگر پاکستان ایک معاہدہ کروانے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ پاکستان ایک جانب امریکہ سے تعلقات کو مزید مضبوط بنا لے گا تو دوسری طرف سعودی عرب سے دفاعی معاہدے اور ہمسائے ایران سے قریبی تعلقات کی وجہ سے موجودہ کیفیت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گا۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بنا کسی رکاوٹ سامان اور توانائی کی رسد سے بھی پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ الیزبتھ کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے بیچ مذاکرات کروانا ایک خطرہ مول لینا بھی ہے اگر یہ بات چیت کامیاب نہیں ہوتی یا تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کیلئے یہ ایک مشکل صورتحال ہوگی۔ادھر امریکہ سمیت یورپی ممالک میں حکومتی اور عوامی سطح پر ایران کے خلاف جنگ پر تنقید اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے اس جنگ کو عالمی قوانین و اخلاقیات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اور دنیا کو گمراہ کر کے یہ جنگ شروع کی گئی ہے انہوں نے ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن بظاہر نظر یہی آرہا ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کے ڈیزائن کے مطابق ایران کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایران کو بھی لیبیا عراق اور شام کی طرح ایک منقسم کمزورملک بنا دے۔ اب خاص طور پر پاکستان ترکیہ اور بالعموم عرب ممالک کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اس صورتحال کا سامنا کریں گے یا متحد ہوکر سفارتی معاشی اور فوجی سطح پر ایسے اقدامات کریں گے جو امریکہ اور اسرائیل کو جارحیت کا یہ سلسلہ ہمیشہ کیلئے روکنے پر مجبور کر دے ورنہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ باقی مسلم ممالک اپنی اپنی باری کا انتظار کریں۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final