Connect with us

Today News

تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ؛ ٹرمپ نے ایران کو اب تک کتنی بار ڈیڈلائنز دیں

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں ایران کو متعدد بار ڈیڈ لائنز دیں اور اتنی ہی بار اپنی فتح کا اعلان بھی کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں اور انھوں نے روایتی انداز میں دھمکی دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہوجائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی بھی کوئی آخری دھمکی نہیں دی۔ ہم جائزہ لیں گے کہ اس سے قبل امریکی صدر کب کب اور کن کن مواقعوں پر ایسا کرچکے ہیں۔

امریکی صدر نے زیادہ تر دھمکیاں تیل کی ترسیل کی سب سے مصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے دی ہیں لیکن تاحال ایران نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی پہلی ڈیڈ لائن 21 مارچ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ نہ کھولی تو وہ ایران بڑے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔

تاہم یہ ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر انھوں نے ایک نئی ڈیڈ لائن دیدتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات‘ ہوئے ہیں اس لیے 5 دن کے لیے حملے مؤخر کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پانچ دن مکمل ہونے کے بعد 27 مارچ کو تیسری ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر پاور پلانٹس پر حملے کو مزید مؤخر کر رہے ہیں اور نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل مقرر کی تھی۔

بعد ازاں جمعہ کو جب کہ 6 اپریل کی ڈیڈ لائن ختم بھی نہیں ہوئی تھی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس صرف 48 گھنٹے بچے ہیں بصورت دیگر وہ قیمات برپا کر دیں گے۔

اس 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے دوران اتوار کے روز کو ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ منگل کی شام 8:00 بجے تک آبنائے ہرمز پر ایران نے کوئی معاہدہ نہیں کیا تو ایرانی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیں گے۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران نے امریکا کیساتھ مذاکرات منسوخ کر دیےے، پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا: نیویارک ٹائمز

Published

on


ایران نے امریکا کے ساتھ جاری آخری مذاکرات کو منسوخ کرتے ہوئے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ اب وہ امن معاہدے یا جنگ بندی کی کوششوں میں حصہ نہیں لے گا۔

یہ بات نیویارک ٹائمز کو تین سینیئر ایرانی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی تاہم ایران یا پاکستان کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ادھر ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی واحد شخص ہیں جو ایران کے حوالے سے اپنے منصوبوں سے واقف ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں اور وہ کیا کریں گے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آج رات تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی تو ایرانی تہذیب ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان نے آبنائے ہرمز کھولنے کی حمایت کردی

Published

on



اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی سے متعلق قرارداد کی حمایت کردی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر ان مشکل حالات میں برادر مملکت بحرین اور دیگر برادر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سلطنتِ عمان اردن کے ساتھ یکجہتی، غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے فریق تو نہیں، مگر اس کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ آبنائے ہرمز اشیا اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، پاکستان جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی، شہری جہازوں کی تیز رفتار اور محفوظ آمد و رفت، اور آبنائے میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے اس کے نتائج واضح طور پر سخت اور سنگین ہیں، جبکہ عام پاکستانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی آباد ہے، اس صورتحال کا بوجھ اٹھا رہا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جدید تاریخ کے بڑے توانائی سپلائی جھٹکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اس کے اثرات صرف توانائی کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء تک بھی پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی تحفظ متاثر ہو رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کی معاشی حالت مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر فوجی کشیدگی اور رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ مشکلات خطے سے کہیں آگے بڑھ کر وسیع پیمانے پر معاشی بدحالی کا سبب بنیں گی۔

پاکستان نے کہا کہ مسودہ قرارداد پر بحرین کی انتھک محنت اور وسیع مشاورت پر ان کے شکر گزار ہیں، ہم صورتحال کی فوری نوعیت اور مسودہ قرارداد کے بنیادی مؤقف سے متفق ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف خلیجی تعاون کونسل کے ممالک بلکہ خطے اور اس سے باہر کے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بھی منطقی امر ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بحث یا انتظام میں جی سی سی ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ بحرین کی جانب سے جی سی سی کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد 2817 کی حمایت کی تھی، اور ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اس قرارداد پر حرف بہ حرف اور مکمل طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹو؛ متحدہ عرب امارات کا اظہارِ تشویش

Published

on


متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سلامتی کونسل نے ایران کے غیر قانونی حملوں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے واضح عالمی تعاون کا فریم ورک قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرِ ہرمز کو سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی ملک کو یہ طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کی شریانوں کو بند کرے اور دنیا کو اقتصادی بحران کے کنارے پہنچا دے۔

بیان میں قرارداد پیش کرنے پر بحرین کی قیادت اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ یو اے ای عالمی کوششوں کے ذریعے بحرِ ہرمز کی حفاظت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل ترسیل کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا می تیل کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending