Connect with us

Today News

سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹو؛ متحدہ عرب امارات کا اظہارِ تشویش

Published

on


متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سلامتی کونسل نے ایران کے غیر قانونی حملوں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے واضح عالمی تعاون کا فریم ورک قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرِ ہرمز کو سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی ملک کو یہ طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کی شریانوں کو بند کرے اور دنیا کو اقتصادی بحران کے کنارے پہنچا دے۔

بیان میں قرارداد پیش کرنے پر بحرین کی قیادت اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ یو اے ای عالمی کوششوں کے ذریعے بحرِ ہرمز کی حفاظت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل ترسیل کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا می تیل کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ترقی کا فریب – ایکسپریس اردو

Published

on


یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے،اتنا ہی اپنے اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے؟ یہ کیسا زمانہ ہے جہاں مشینیں بولنے لگی ہیں اور انسان خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے صدیوں کا سفر تو طے کر لیا مگر اپنے ہی دل تک پہنچنے کا راستہ کھو دیا۔آج جب ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور تیز رفتار ٹیکنالوجی کے عروج کا جشن منا رہے ہیں،تو کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچا ہے کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس چمکتے ہوئے منظرنامے کے پیچھے اندھیرے میں کھڑے ہیں؟ وہ مزدور، وہ کسان، وہ چھوٹے ہنر مند جن کی محنت اس ترقی کی بنیاد ہے مگر جن کا ذکر کسی رپورٹ ،کسی سیمینار،کسی تقریر میں نہیں آتا۔

یہ ترقی ہمیں سہولت تو دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی۔ ہم ایک بٹن دباکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بات کر سکتے ہیں مگر اپنے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کی فرصت نہیں رکھتے۔ ہم ہزاروں میل دور کے لوگوں کے دکھ سن لیتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی نہیں سن پاتے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے مگر اس گاؤں میں رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ کیوں ایک ماں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اس کے موبائل کا انتظار کرتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر اس کی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

ترقی دراصل ایک فریب ہے، ایسا فریب جس میں روشنی زیادہ ہے اور بصیرت کم۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ اب انسان کی خوشی نہیں بلکہ اس کی پیداوار اس کی رفتار اور اس کی کارکردگی بن چکا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ترقی کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، اس کے دکھ کم ہوں اس کے خواب پورے ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تیز رفتاری ہی کامیابی نہیں بلکہ ٹھہراؤ بھی ایک نعمت ہے، اگر ہم ہر وقت دوڑتے رہیں گے تو شاید ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو محسوس ہی نہ کر پائیں۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، بزرگوں کی باتیں سننی ہوں گی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا یہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو انسان کو مکمل بناتی ہیں اور یہی اصل ترقی کی بنیاد ہے، مگر اب ترقی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ مشینیں زیادہ تیز ہو جائیں منافع زیادہ بڑھ جائے اور وقت کو اس حد تک نچوڑ لیا جائے کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ جائے۔

ہماری دنیا میں اب سب کچھ ڈیٹا ہے انسان بھی، اس کے جذبات بھی، اس کے خواب بھی۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے احساسات کو بھی گراف اور چارٹس میں بدل دیتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ہماری بہتری کے لیے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کے تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔اب اسی مصنوعی ذہانت نے ایک اور خوفناک راستہ بھی اختیار کر لیا ہے، جنگوں کا راستہ۔ کبھی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں جہاں سپاہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے جہاں انسانی آنکھوں میں خوف اور ہمت دونوں نظر آتے تھے، مگر آج جنگیں اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، بٹن دبانے والے ہاتھ دور بیٹھے ہوتے ہیں اور مرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ڈرونز خودکار ہتھیار اوراسمارٹ میزائل یہ سب اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ فیصلے انسان کم اور الگورتھم زیادہ کر رہے ہیں۔ ایک مشین طے کرتی ہے کہ کون ہدف ہے اور کون نہیں۔ مگر کیا ایک مشین انسان کی جان کی قیمت سمجھ سکتی ہے؟ کیا وہ یہ جان سکتی ہے کہ جس گھر کو وہ نشانہ بنا رہی ہے وہاں ایک ماں اپنے بچے کو کہانی سنا رہی ہے، اس نے اپنے بچے کے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ مشین نہیں جان سکتی کہ اولاد کو کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں چاہے وہ غزہ ہو یا یوکرین جنگوں کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب یہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ڈیٹا نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے۔ چہرے پہچاننے والے نظام نگرانی کے کیمرے اور ڈیجیٹل نقشے یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان ہر وقت ایک ٹارگٹ بن سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جنگوں میں اہداف کو آسان بناتی ہے اور اس سے غلطی کی گنجائش کم سے کم ہو جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب قتل کا عمل آسان ہو جائے جب فیصلہ کرنے والا میدان میں موجود نہ ہو تو جنگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاصلے انسان کے ضمیر کو کمزور کر دیتے ہیں۔یہ ترقی ہمیں تیز تو بنا رہی ہے مگر گہرا نہیں بنا رہی۔ ہم معلومات کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر حکمت کے ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر ایک ایسا جال بُن لیا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے مشینیں بنائیں اور اب وہی مشینیں ہمیں اپنی رفتار پر چلنے پر مجبور کر رہی ہیں حتیٰ کہ جنگ جیسے فیصلے بھی اب ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔مگر کیا اس کا کوئی متبادل نہیں؟ کیا ہم اس دوڑ کو تھام نہیں سکتے ،کیا ہم ترقی کی تعریف کو بدل نہیں سکتے۔ شاید ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا یہ صرف زیادہ پیداوار زیادہ منافع اور زیادہ رفتار ہے یا یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں ہر انسان کو عزت ملے جہاں ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہو جہاں ہر مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر یہ اسے اس کی جڑوں سے کاٹ دے، اگر یہ اسے ایک عدد ایک ڈیٹا پوائنٹ یا ایک ٹارگٹ بنا دے تو ایسی ترقی دراصل تنزلی ہے نہ کہ عروج۔ آج ہمیں مشینوں سے نہیں اپنے دل سے سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کیا کھویا ہے نہ کہ صرف یہ کہ ہم نے کیا پایا ہے، کیونکہ آخر میں، ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان کتنا انسان رہا اور اگر اس تمام ترقی کے باوجود انسان ہی کھو جائے تو پھر یہ سارا سفر ساری محنت ساری چمک سب کچھ ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایپسٹین؛ کانگریس کمیٹی بل گیٹس سے تحقیقات کرے گی

Published

on



مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور امریکا کے ارب پتی بل گیٹس بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایپسٹین کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان سے سوالات کیے جائیں گے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل امریکی ارب پتی اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس 10 جون کو کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جو جنسی اسکینڈل میں سزا میں دوران قید انتقال کر جانے والے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گیزلین میکسویل کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی ایپسٹین اسکینڈل میں ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جن کے نام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں سامنے آئے، جن میں ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات، مشتبہ مالی معاملات اور نجی تصاویر کا ذکر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بل گیٹس ایک “تحریری ریکارڈ کے لیے انٹرویو دیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی گواہی بند کمرے میں اسی طرز پر ہوگی جیسے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیر خارجہ اور سینیٹر ہلیری کلنٹن سے گواہی لی گئی تھی۔

قبل ازیں گیٹس اعتراف کر چکے ہیں کہ ایپسٹین کے ساتھ تعلق رکھنا ان کی بڑی غلطی تھی اور اپنی فلاحی تنظیم کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے تاہم انہوں نے ایپسٹین کے جرائم میں کسی صورت ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

بل گیٹس نے رواں برس فروری میں گیٹس فاؤنڈیشن میں عملے کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات نے ان کی فلاحی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات میں شامل ایک ڈرافٹ ای میل میں ایپسٹین نے الزام لگایا کہ گیٹس کے غیر ازدواجی تعلقات تھے اور لکھا کہ ان کا تعلق بل گیٹس کی مدد کرنے سے لے کر روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے منشیات فراہم کرنے اور شادی شدہ خواتین کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کو آسان بنانے تک پھیلا ہوا تھا۔

70 سالہ بل گیٹس نے اس اجلاس میں دو تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے تعلقات تھے، ایک روسی برج پلیئر کے ساتھ جس سے میری ملاقات برج مقابلوں میں ہوئی اور ایک روسی نیوکلیئر فزسسٹ کے ساتھ جس سے میں کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے ملا تھا، تاہم انہوں نے ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کی۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور میں نے کوئی غیر قانونی چیز نہیں دیکھی، ان کا ایپسٹین سے تعلق 2011 میں شروع ہوا، یعنی اس کے تین سال بعد جب ایپسٹین نے ایک کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے راغب کرنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

بل گیٹس نے کہا کہ وہ ایپسٹین پر عائد 18 ماہ کی سفری پابندی سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے اس کا پس منظر جانچنے کی کوشش نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس وقت کی اہلیہ میلنڈا نے 2013 میں ایپسٹین کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کم از کم ایک سال تک اس سے تعلق برقرار رکھا۔

یاد رہے کہ ایپسٹین کا 2019 میں نیویارک کی جیل میں اس وقت انتقال ہوگیا تھا جب وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہا تھا اور انہیں سزا بھی ہوچکی تھی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

ڈیڈلائن سے قبل شہباز شریف کی جنگ بندی کی نئی تجویز؛ امریکا اور ایران کا ردعمل آگیا

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیڈلائن کے آخری لمحات میں امریکی صدر سے دو ہفتوں کی توسیع اور اتنے ہی عرصے کے لیے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل کی ہے۔
  
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران پاکستان کی اس تجویز کا مثبت جائزہ لے رہا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے امریکی ویب سائٹ ایکسکیوز سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان کی اس تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ اس پر جلد ردعمل دیں گے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق موجودہ سفارتی کوششیں حوصلہ افزا ہیں اور اگر مزید وقت دیا جائے تو کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔

یاد رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کی جائے۔

پاکستان کی تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اس دوران آبنائے ہرمز کو کھول دے تاکہ عالمی تجارت کا بہاؤ بحال ہو سکے جبکہ سفارتی کوششوں کو مکمل ہونے کا موقع ملے۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending