Today News
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایپسٹین؛ کانگریس کمیٹی بل گیٹس سے تحقیقات کرے گی
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور امریکا کے ارب پتی بل گیٹس بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایپسٹین کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان سے سوالات کیے جائیں گے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل امریکی ارب پتی اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس 10 جون کو کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جو جنسی اسکینڈل میں سزا میں دوران قید انتقال کر جانے والے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گیزلین میکسویل کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی ایپسٹین اسکینڈل میں ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جن کے نام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں سامنے آئے، جن میں ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات، مشتبہ مالی معاملات اور نجی تصاویر کا ذکر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بل گیٹس ایک “تحریری ریکارڈ کے لیے انٹرویو دیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی گواہی بند کمرے میں اسی طرز پر ہوگی جیسے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیر خارجہ اور سینیٹر ہلیری کلنٹن سے گواہی لی گئی تھی۔
قبل ازیں گیٹس اعتراف کر چکے ہیں کہ ایپسٹین کے ساتھ تعلق رکھنا ان کی بڑی غلطی تھی اور اپنی فلاحی تنظیم کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے تاہم انہوں نے ایپسٹین کے جرائم میں کسی صورت ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔
بل گیٹس نے رواں برس فروری میں گیٹس فاؤنڈیشن میں عملے کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات نے ان کی فلاحی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات میں شامل ایک ڈرافٹ ای میل میں ایپسٹین نے الزام لگایا کہ گیٹس کے غیر ازدواجی تعلقات تھے اور لکھا کہ ان کا تعلق بل گیٹس کی مدد کرنے سے لے کر روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے منشیات فراہم کرنے اور شادی شدہ خواتین کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کو آسان بنانے تک پھیلا ہوا تھا۔
70 سالہ بل گیٹس نے اس اجلاس میں دو تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے تعلقات تھے، ایک روسی برج پلیئر کے ساتھ جس سے میری ملاقات برج مقابلوں میں ہوئی اور ایک روسی نیوکلیئر فزسسٹ کے ساتھ جس سے میں کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے ملا تھا، تاہم انہوں نے ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کی۔
انہوں نے کہا تھا کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور میں نے کوئی غیر قانونی چیز نہیں دیکھی، ان کا ایپسٹین سے تعلق 2011 میں شروع ہوا، یعنی اس کے تین سال بعد جب ایپسٹین نے ایک کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے راغب کرنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
بل گیٹس نے کہا کہ وہ ایپسٹین پر عائد 18 ماہ کی سفری پابندی سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے اس کا پس منظر جانچنے کی کوشش نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس وقت کی اہلیہ میلنڈا نے 2013 میں ایپسٹین کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کم از کم ایک سال تک اس سے تعلق برقرار رکھا۔
یاد رہے کہ ایپسٹین کا 2019 میں نیویارک کی جیل میں اس وقت انتقال ہوگیا تھا جب وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہا تھا اور انہیں سزا بھی ہوچکی تھی۔
Today News
اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز، پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا مذاکرات پر تیار
اسلام آباد:
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق کی خبر نشر کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا، جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔
Today News
یہ کیا ہے؟ – ایکسپریس اردو
ایک اردو یا اردو، پنجابی مکس کہاوت تو یہ ہے کہ جو ’’سوتے ‘‘ ہیں، وہ کھوتے ہیں لیکن پشتو کہاوت یہ ہے کہ جو سوتے ہیں، ان کی بھینسیں ہمیشہ ’’نر‘‘ کٹڑے دیتی ہیں اوراس کے پیچھے حکایت یہ ہے، جوہرکہاوت کے پیچھے ہوتی ہے ۔ اس حکایت اور کہاوت کا ہر کاشتکار اور زمیندار کو پتہ ہے ۔
یعنی جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے ، سے مراد یہ ہے کہ جو سست اور کاہل لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی چراتے ہیں اور سارا دن سونے میں گزار دیتے ہیں، یوں وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایسے ہی جو سوتاہے، اس کی بھینسیں یا گائیں ہمیشہ کٹڑا یا بچھڑا دیتی ہیں، سیدھی سی بات ہے کہ اگر بچھیایا کٹڑی ہوگی تو وہ آگے چل کر گائے یا بھینس بن جائے گی ، یوں کسان یا زمیندار کے گھر میں تازہ دودھ، مکھن، گھی اور دہی وافر ہوگا، گوبر سے اوپلے بنیں گے جو بطور ایندھن استعمال ہوں یا کھیتوں میں بطور کھاد لیکن کٹڑوں یا بچھڑوں کی منزل قصائی ہوگا جو اسے ذبح کرکے بطور گوشت انسانوں کو کھلا دے گا۔
آپ تو جانتے ہیں اورآپ سے زیادہ اورکون جان سکتا ہے کہ پاکستان ’’موجدوں‘‘ کی سرزمین ہے، یہاں وہ وہ ایجادیں ہوتی ہیں کہ اگر آئن سٹائن زندہ ہوتا تو وہ بھی آکر ان کے آگے ’’زنوائے تلمذ‘‘ تہہ کردیتا اورگزارش کرتا کہ اساتذہ کرام مجھے اپنی شاگردی میں قبول کرلیئجے۔یہ چیز تو آپ نے پڑھ لی ہوگی، اگر نہیں پڑھی تو ہم سنائے دیتے ہیں قند مکرر کے طورپر کہ
پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو ’’چھوٹا گوشت‘‘ بنا کر بیجنے والے دوکان دار قصاب گرفتار۔ پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو بکرے کا گوشت بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جب کہ مختلف کڑاہی گوشت رستورانوں اور ہوٹلوں کو بھی سپلائی ہوتا ہے ، خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پہلے بھی کئی بار ایسے لوگ پکڑے جاچکے ہیں لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ یہاں لوگ تو پکڑے جاتے ہیں لیکن ’’کاروبار‘‘ ہمیشہ جاری رہتے ہیں بلکہ پکڑ دھکڑ سے کاروبار میں اورتیزی آجاتی ہے کہ ’’ساجھے دار‘‘ بڑھ جاتے ہیں ۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
اشرف المخلوقات، حیوان اعلیٰ، خلیفۃ الارض عرف حضرت انسان اورنہ جانے کیا کچھ کرتا ہے ۔ اب پتہ نہیں کہ ان جانوروں کو باقاعدہ ’’ذبح‘‘ بھی کیا جاتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ جانور درست طریقے سے ذبح کرنے کے لیے عام طورکچھ خاص الفاظ اداکیے جاتے ہیں، مثلاً بسم اللہ ، اللہ اکبر۔ رب جلیل نے فرمایا ہے کہ تم ہرکام شروع کرتے ہوئے میرا نام یعنی بسم اللہ پڑھاکرو ،اگر صرف اس بسم اللہ پر انسان کاربند ہوجائے تو پورا دین مکمل ہوجاتا ہے ، اس کوزے میں سمندر یہ ہے کہ جب ہم کوئی کام شروع کریں گے اوربسم اللہ سے ابتداء کریں گے تو لازم ہے کہ اس کام پر ہماری توجہ ہوگی کہ یہ کام کیا ہے ۔ کیا وہ کام کہیں ایسا تو نہیں ہے جس کی ممانعت ہو، جو گناہ ہو، یااللہ کا ناپسندیدہ ہو ۔اب اگر ایک کام کی بنیاد جھوٹ پر ہے یعنی گوشت بڑا ہے اور اسے چھوٹا بنا کر یا کہہ کر فروخت یا سپلائی کیا جاتا ہے تو اس پر اگر تکبیر پڑھ بھی لی تو کیا فروخت کرنے والے ، ذبح کرنے والے اور سپلائی کرنے والے کا کام جائز ہوجائے گا؟اس لیے ہمارے ذہن میں فوراً یہ آئے گا کہ یہ کام غلط ہے ، جرم ہے۔ اب ذرا دھونڈیئے ! سوتا کون ہے اور کھوتا کون ہے؟
Today News
دو ہفتے کی جنگ بندی دو طرفہ ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے پر تیار ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah