Today News
ترقی کا فریب – ایکسپریس اردو
یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے،اتنا ہی اپنے اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے؟ یہ کیسا زمانہ ہے جہاں مشینیں بولنے لگی ہیں اور انسان خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے صدیوں کا سفر تو طے کر لیا مگر اپنے ہی دل تک پہنچنے کا راستہ کھو دیا۔آج جب ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور تیز رفتار ٹیکنالوجی کے عروج کا جشن منا رہے ہیں،تو کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچا ہے کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس چمکتے ہوئے منظرنامے کے پیچھے اندھیرے میں کھڑے ہیں؟ وہ مزدور، وہ کسان، وہ چھوٹے ہنر مند جن کی محنت اس ترقی کی بنیاد ہے مگر جن کا ذکر کسی رپورٹ ،کسی سیمینار،کسی تقریر میں نہیں آتا۔
یہ ترقی ہمیں سہولت تو دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی۔ ہم ایک بٹن دباکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بات کر سکتے ہیں مگر اپنے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کی فرصت نہیں رکھتے۔ ہم ہزاروں میل دور کے لوگوں کے دکھ سن لیتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی نہیں سن پاتے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے مگر اس گاؤں میں رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ کیوں ایک ماں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اس کے موبائل کا انتظار کرتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر اس کی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ترقی دراصل ایک فریب ہے، ایسا فریب جس میں روشنی زیادہ ہے اور بصیرت کم۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ اب انسان کی خوشی نہیں بلکہ اس کی پیداوار اس کی رفتار اور اس کی کارکردگی بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ترقی کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، اس کے دکھ کم ہوں اس کے خواب پورے ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تیز رفتاری ہی کامیابی نہیں بلکہ ٹھہراؤ بھی ایک نعمت ہے، اگر ہم ہر وقت دوڑتے رہیں گے تو شاید ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو محسوس ہی نہ کر پائیں۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، بزرگوں کی باتیں سننی ہوں گی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا یہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو انسان کو مکمل بناتی ہیں اور یہی اصل ترقی کی بنیاد ہے، مگر اب ترقی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ مشینیں زیادہ تیز ہو جائیں منافع زیادہ بڑھ جائے اور وقت کو اس حد تک نچوڑ لیا جائے کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ جائے۔
ہماری دنیا میں اب سب کچھ ڈیٹا ہے انسان بھی، اس کے جذبات بھی، اس کے خواب بھی۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے احساسات کو بھی گراف اور چارٹس میں بدل دیتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ہماری بہتری کے لیے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کے تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔اب اسی مصنوعی ذہانت نے ایک اور خوفناک راستہ بھی اختیار کر لیا ہے، جنگوں کا راستہ۔ کبھی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں جہاں سپاہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے جہاں انسانی آنکھوں میں خوف اور ہمت دونوں نظر آتے تھے، مگر آج جنگیں اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، بٹن دبانے والے ہاتھ دور بیٹھے ہوتے ہیں اور مرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ڈرونز خودکار ہتھیار اوراسمارٹ میزائل یہ سب اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ فیصلے انسان کم اور الگورتھم زیادہ کر رہے ہیں۔ ایک مشین طے کرتی ہے کہ کون ہدف ہے اور کون نہیں۔ مگر کیا ایک مشین انسان کی جان کی قیمت سمجھ سکتی ہے؟ کیا وہ یہ جان سکتی ہے کہ جس گھر کو وہ نشانہ بنا رہی ہے وہاں ایک ماں اپنے بچے کو کہانی سنا رہی ہے، اس نے اپنے بچے کے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ مشین نہیں جان سکتی کہ اولاد کو کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں چاہے وہ غزہ ہو یا یوکرین جنگوں کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب یہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ڈیٹا نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے۔ چہرے پہچاننے والے نظام نگرانی کے کیمرے اور ڈیجیٹل نقشے یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان ہر وقت ایک ٹارگٹ بن سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی جنگوں میں اہداف کو آسان بناتی ہے اور اس سے غلطی کی گنجائش کم سے کم ہو جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب قتل کا عمل آسان ہو جائے جب فیصلہ کرنے والا میدان میں موجود نہ ہو تو جنگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاصلے انسان کے ضمیر کو کمزور کر دیتے ہیں۔یہ ترقی ہمیں تیز تو بنا رہی ہے مگر گہرا نہیں بنا رہی۔ ہم معلومات کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر حکمت کے ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر ایک ایسا جال بُن لیا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے مشینیں بنائیں اور اب وہی مشینیں ہمیں اپنی رفتار پر چلنے پر مجبور کر رہی ہیں حتیٰ کہ جنگ جیسے فیصلے بھی اب ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔مگر کیا اس کا کوئی متبادل نہیں؟ کیا ہم اس دوڑ کو تھام نہیں سکتے ،کیا ہم ترقی کی تعریف کو بدل نہیں سکتے۔ شاید ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا یہ صرف زیادہ پیداوار زیادہ منافع اور زیادہ رفتار ہے یا یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں ہر انسان کو عزت ملے جہاں ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہو جہاں ہر مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر یہ اسے اس کی جڑوں سے کاٹ دے، اگر یہ اسے ایک عدد ایک ڈیٹا پوائنٹ یا ایک ٹارگٹ بنا دے تو ایسی ترقی دراصل تنزلی ہے نہ کہ عروج۔ آج ہمیں مشینوں سے نہیں اپنے دل سے سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کیا کھویا ہے نہ کہ صرف یہ کہ ہم نے کیا پایا ہے، کیونکہ آخر میں، ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان کتنا انسان رہا اور اگر اس تمام ترقی کے باوجود انسان ہی کھو جائے تو پھر یہ سارا سفر ساری محنت ساری چمک سب کچھ ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔
Today News
یہ کیا ہے؟ – ایکسپریس اردو
ایک اردو یا اردو، پنجابی مکس کہاوت تو یہ ہے کہ جو ’’سوتے ‘‘ ہیں، وہ کھوتے ہیں لیکن پشتو کہاوت یہ ہے کہ جو سوتے ہیں، ان کی بھینسیں ہمیشہ ’’نر‘‘ کٹڑے دیتی ہیں اوراس کے پیچھے حکایت یہ ہے، جوہرکہاوت کے پیچھے ہوتی ہے ۔ اس حکایت اور کہاوت کا ہر کاشتکار اور زمیندار کو پتہ ہے ۔
یعنی جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے ، سے مراد یہ ہے کہ جو سست اور کاہل لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی چراتے ہیں اور سارا دن سونے میں گزار دیتے ہیں، یوں وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایسے ہی جو سوتاہے، اس کی بھینسیں یا گائیں ہمیشہ کٹڑا یا بچھڑا دیتی ہیں، سیدھی سی بات ہے کہ اگر بچھیایا کٹڑی ہوگی تو وہ آگے چل کر گائے یا بھینس بن جائے گی ، یوں کسان یا زمیندار کے گھر میں تازہ دودھ، مکھن، گھی اور دہی وافر ہوگا، گوبر سے اوپلے بنیں گے جو بطور ایندھن استعمال ہوں یا کھیتوں میں بطور کھاد لیکن کٹڑوں یا بچھڑوں کی منزل قصائی ہوگا جو اسے ذبح کرکے بطور گوشت انسانوں کو کھلا دے گا۔
آپ تو جانتے ہیں اورآپ سے زیادہ اورکون جان سکتا ہے کہ پاکستان ’’موجدوں‘‘ کی سرزمین ہے، یہاں وہ وہ ایجادیں ہوتی ہیں کہ اگر آئن سٹائن زندہ ہوتا تو وہ بھی آکر ان کے آگے ’’زنوائے تلمذ‘‘ تہہ کردیتا اورگزارش کرتا کہ اساتذہ کرام مجھے اپنی شاگردی میں قبول کرلیئجے۔یہ چیز تو آپ نے پڑھ لی ہوگی، اگر نہیں پڑھی تو ہم سنائے دیتے ہیں قند مکرر کے طورپر کہ
پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو ’’چھوٹا گوشت‘‘ بنا کر بیجنے والے دوکان دار قصاب گرفتار۔ پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو بکرے کا گوشت بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جب کہ مختلف کڑاہی گوشت رستورانوں اور ہوٹلوں کو بھی سپلائی ہوتا ہے ، خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پہلے بھی کئی بار ایسے لوگ پکڑے جاچکے ہیں لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ یہاں لوگ تو پکڑے جاتے ہیں لیکن ’’کاروبار‘‘ ہمیشہ جاری رہتے ہیں بلکہ پکڑ دھکڑ سے کاروبار میں اورتیزی آجاتی ہے کہ ’’ساجھے دار‘‘ بڑھ جاتے ہیں ۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
اشرف المخلوقات، حیوان اعلیٰ، خلیفۃ الارض عرف حضرت انسان اورنہ جانے کیا کچھ کرتا ہے ۔ اب پتہ نہیں کہ ان جانوروں کو باقاعدہ ’’ذبح‘‘ بھی کیا جاتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ جانور درست طریقے سے ذبح کرنے کے لیے عام طورکچھ خاص الفاظ اداکیے جاتے ہیں، مثلاً بسم اللہ ، اللہ اکبر۔ رب جلیل نے فرمایا ہے کہ تم ہرکام شروع کرتے ہوئے میرا نام یعنی بسم اللہ پڑھاکرو ،اگر صرف اس بسم اللہ پر انسان کاربند ہوجائے تو پورا دین مکمل ہوجاتا ہے ، اس کوزے میں سمندر یہ ہے کہ جب ہم کوئی کام شروع کریں گے اوربسم اللہ سے ابتداء کریں گے تو لازم ہے کہ اس کام پر ہماری توجہ ہوگی کہ یہ کام کیا ہے ۔ کیا وہ کام کہیں ایسا تو نہیں ہے جس کی ممانعت ہو، جو گناہ ہو، یااللہ کا ناپسندیدہ ہو ۔اب اگر ایک کام کی بنیاد جھوٹ پر ہے یعنی گوشت بڑا ہے اور اسے چھوٹا بنا کر یا کہہ کر فروخت یا سپلائی کیا جاتا ہے تو اس پر اگر تکبیر پڑھ بھی لی تو کیا فروخت کرنے والے ، ذبح کرنے والے اور سپلائی کرنے والے کا کام جائز ہوجائے گا؟اس لیے ہمارے ذہن میں فوراً یہ آئے گا کہ یہ کام غلط ہے ، جرم ہے۔ اب ذرا دھونڈیئے ! سوتا کون ہے اور کھوتا کون ہے؟
Today News
دو ہفتے کی جنگ بندی دو طرفہ ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے پر تیار ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔
Today News
ویلفیئر اسٹیٹ کا نعرہ لاپتہ ہوگیا
وزرات پیٹرولیم کے وزیر مملکت علی پرویز ملک نے ایک مشکل تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ اب حکومت عوام کو پیٹرول کی قیمت میں بلینکٹ کور نہیں دے سکتی۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کا خاتمہ نہ ہونے کی بناء پر حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں کا اضافی بوجھ عوام پر ڈال دیا۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے 458 روپے مقرر کی تھی مگر عوام کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے اس کی قیمت پھر 378 روپے کردی، مگر یہ رقم بھی بہت زیادہ ہے۔ ا س کے ساتھ ہی حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ سولر پینل کی بجلی پر ریلیف ختم کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت اضافی بجلی سسٹم میں شامل تو ہوجائے گی مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کے تحت بجلی صفر یونٹ تصور کی جائے گی، حکومت اس پر ریلیف فراہم نہیں کرے گی، یوں ویلفیئر اسٹیٹ بنانے کا نعرہ خلیج سے اٹھنے والے دھویں کے بادل میں کھوگیا۔
وفاقی حکومت نے ایران، اسرائیل و امریکا جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دراصل منی بجٹ نافذ کردیا ہے۔ پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ پورے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا جب کہ گڈز ٹراسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ جب نئے مالیاتی سال کا بجٹ تیار ہوگا تو وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یوں آئی ایم ایف کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان کی معیشت پر کچھ مثبت اثرات تو پڑیں گے مگر مجموعی طور پر اس فیصلے کے منفی نتائج برآمد ہوںگے۔
گزشتہ دو برسوں سے یہ بیانیہ اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دور ہے۔ پاکستان کا امریکا، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سے معمول کے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو ہمیشہ ادھار پیٹرول فراہم کرتا رہا ہے۔ ادھر ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور سرکاری ذرائع بار بار یہ بات بتاتے ہیں کہ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مسلسل غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں مگر اس صورتحال میں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس جعفری نے گزشتہ دنوں سینیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سستا تیل ایران میں دستیاب ہے۔
ایران سڑک کے راستہ تیل فراہم کرسکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی معقول تجویز ہے مگر پاکستان ایران پر عائد عالمی اور امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل خرید نہیں سکتا۔ اگرچہ دنیا بھر کے 85 کے قریب ممالک تیل کے بحران کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں بھارت بھی شامل ہے ، بھارت کی حکومت نے پیٹرول اور گیس کے سلنڈر کی راشننگ کردی۔ اگرچہ بھارت میں راشننگ کے نظام میں خرابیوں کی بناء پر بھارت کی بعض ریاستوں میں پیٹرول اور گیس کی قلت کا سامنا ہے ، بھارت کے عوام سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں مگر وہاں مہنگائی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔
بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے تھے۔ بھارت میں پنڈت جواہر لعل نہرو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد جیسا اگلی صدی تک دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والا سیاست دان تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فورا بعد زرعی اصلاحات کیں۔ سوویت یونین، برطانیہ اور امریکا سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے۔ پنڈت جی سوشل ازم سے متاثر تھے تو انھوں نے معیشت کو سوشلسٹ طرز پر استوار کرنے کی پالیسی اختیار کی، یوں بھارت کی معیشت ٹھوس بنیادوں پر کھڑی ہوئی۔ پنڈت نہرو کے بعد ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی نے بھی یہی پالیسی اختیار کی۔ انھوں نے بھی ہر سطح پر سادگی کے کلچر کو تقویت دی۔
80ء کی دہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب شروع ہوچکا تھا۔ اندرا گاندھی کے صاحبزادے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے نچلی سطح تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کی پالیسی کو تقویت دی، ان کے دور میں خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ بھارت کا عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر انحصار بڑھ گیا مگر پھر وزیر اعظم نرسیما راؤ کو من موہن سنگھ جیسا وزیر خزانہ مل گیا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھارت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کھول دیا اور ریاستی ڈھانچہ کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ نرسیما راؤ ایک کمزور وزیر اعظم کے طور پر تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں مگر انھوں نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، یوں بھارت میں ایک خوشحال متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔
موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔ ان پر بڑے سرمایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ان پر اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کی سرپرستی کی الزام ہے، مگر وزیر اعظم مودی کی جانب سے غیر ممالک سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کرانے اور توشہ خانہ سے کوئی ذاتی فائدہ نہ لینے کے کسی فیصلے کی ہمارے ملک میں تو ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صرف بھارت کی پارلیمنٹ کی کارروائی پر نظر ڈالی جائے تو کوئی رکن غیر ملکی سوٹ پہنا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کفایت شعاری کی کئی مثالیں قائم کی تھیں اور 11 ، اگست 1947ء کی آئین ساز اسمبلی کے دوسرے دن کے اجلاس میں کرپشن کے عفریت کو مہلک مرض قرار دیا تھا مگر بعد میں آنے والے حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں ، پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی بیوروکریسی نے ساری توجہ اپنے اثاثے بنانے پر دی۔ 80ء کی دہائی کا جائزہ لیا جائے تو جب بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پہلی ترجیح قرار دی گئی تھی اس وقت جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء، افغانستان کی امریکا نوازشہری اشرافیہ اور افغان جہادی قیادت ، افغانستان کے پروجیکٹ کے لیے امریکا اور اتحادی ممالک سے آنے والے ڈالروں سے مستفید ہورہے تھے۔
کسی بھی حکومت کی ذمے داری عوام کی نگہبانی کرنا ہے، آج پاکستان کی بات کریں تو خلیجی بحران میں حکومت نے عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے بعض اقدامات ناکافی ہیں۔ سندھ حکومت کو پنجاب کی طرح 500 بسوں کے فریٹ کے ٹکٹ معاف کردینے چاہیے تھے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
ا س بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی لاکھ پاکستانی شہریوں کے یورپی ممالک میں اثاثے ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کے گلف، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں وسیع کاروبار ہیں، یہ لوگ پاکستان سے یہ دولت لے کر گئے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جرات کا مظاہرہ کریں۔ غیر ممالک میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کے لیے قانون سازی کرے، یوں کھربوں ڈالر ملک میں واپس آجائیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم، صحت، پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کے علاوہ تمام غیر پیداواری منصوبے بند کیے جائیں۔ حکومت تمام بڑی گاڑیوں پر پابندی لگادے اور ان بڑی گاڑیوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
وفاق اور صوبوں میں موجود بڑی گاڑیوں کو نیلام کردیا جائے۔ صدر اور وزیر اعظم چھوٹی گاڑیوں پر سفر کریں۔ تمام سرکاری اداروں میں ایئرکنڈیشنز بند کردیے جائیں۔ صدر، وزیر اعظم اور وزراء خود ذاتی طور پر سادگی کے کلچر کو اپنائیں۔ ملک میں تمام بازار سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بند ہونے چاہئیں۔ صرف ریسٹورنٹس اور میڈیکل اسٹورز کو آدھی رات کے بعد کھلا رہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلہ کو فوراً منسوخ کرنا چاہیے، دوسری صورت میں ملک میں ایک بدامنی کا دور آجائے گا۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News1 week ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو