Connect with us

Today News

سیاسی ،سماجی اور علمی زوال کی کہانی

Published

on


معروف دانشور اور علمی و فکری شخصیت خورشید ندیم کے بقول’’ جب قومی سطح پر بڑوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کو بڑا کردیا جائے تو معاشرے زوال کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔‘‘یہ اس سماج اور سرکاری نظام کا کڑوا سچ ہے اور اسی سچ کے درمیان ہماری سچائی کی تلخ حقیقیں موجود ہیں ۔اس بات کو یقینا سمجھنا ہوگا کہ سماج میں سماجی ،عملی ،سیاسی اور فکری وزال کیسے آتا ہے اور اس کھیل میں خود ریاست اور طاقت ور حکمران طبقات کا اپنا کردار کیا ہوتا ہے ۔

کیونکہ سماج کو کمزور رکھنا اور لوگوں کو علمی ، فکری ،سیاسی اور سماجی شعور نہ دینے کے پیچھے خود ریاست اور حکمرانوں کے اپنے مفادات وابستہ ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کمزور یا لاعلم رکھ کر ہی ان کے اپنے سیاسی مفادات پورے ہوتے ہیں۔ایک خاص سوچ اور اور فکر کی بنیاد پر طاقت ور طبقات نے معاشرے میں علمی اور سماجی زوال کو پھیلایا ہے اور آج بھی یہ کھیل ہماری مجموعی سیاست، مذہب، سماج اور دیگر اداروں پر بالادست نظر آتا ہے ۔

یہ جو سیاست کے بگاڑ کی کہانی ہے، وہ محض اسٹیبلیشمنٹ تک محدود نہیں لیکن خود تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور ان کی قیادت نے اپنے طرز عمل اور فیصلوں سے اپنی جماعتوں میں آمریت کو قائم کیا ہوا ہے، وہ بھی قابل گرفت ہے ۔ یہ قیادت اپنی ارٹی کے اندر متبادل آوازوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور خود ان کا سیاسی و جمہوری مقدمہ ایک نمائشی کھیل کا حصہ ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کی سہولت کاری تک محدود ہے ۔ ہمارے اہل سیاست کو اپنی بقا کے لیے درباری کلچر کی ضرورت ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ایسے میں سماج کیسے حقیقی جمہوریت کے قریب آسکتا ہے اس پر ایک بڑی بحث درکار ہے ۔

ایک منطق دی جاتی ہے کہ اگر سیاسی عمل آگے بڑھتا رہے تو وہ اپناجمہوری راستہ اختیار کرلیتا ہے۔یہ بات عملا تو درست لگتی ہے لیکن عملی طور پر اگر سیاست اور جمہوریت کی کوئی سمت نہ ہو یا اس میں کوئی شفافیت یا جوابدہی یا داخلی جمہوری نظام کا نہ ہونا بھی جمہوری نظام کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ہماری سیاست ،جمہوریت اور اقتدار کے کھیل کی کہانی طاقت کے مراکز کے ارد گرد ہی گھوم رہی ہوتی ہے۔اس کا کوئی براہ راست تعلق سماج اور سماجی یا سیاسی رویوں کی تبدیلی سے نہیں ہوتا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اس میدان کوئی عملی کام کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کو اپنی جماعتوںمیں ایک ایسا ہجوم درکار ہے جو ان کی بادشاہت کو چیلنج نہ کرے اور اسی بنیاد پر ہماری مجموعی سیاست زوال پزیری کا شکار ہے ۔

سیاست،جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی یا اداروں کی بالادستی کی جنگ میں ایک بڑا کردار رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں کا ہوتا ہے ۔یہ افراد اور ادارے ریاست اور حکومت کی سمت کو درست رکھنے میں اپنی جہاں فکری جدوجہد کرتے ہیں وہیں ان پر ایک علمی اور فکری دباو ڈال کر ان کو درست سمت پر لانے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس دو سطحوں پر اس طرح کے فکری دانشور موجود ہیں ۔اول وہ جو اپنی آزاد رائے رکھتے ہیں اور حکومت کی کاردکردگی پر ایک تنقیدی رائے رکھ کر دباؤ کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن ان کی نظام میں کوئی رسائی نہیں ہے اور یہ نظام ان کی اہل دانش کو اپنے سیاسی نظام کی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔جب کہ اس کے مقابلے میں ریاست اور حکمرانوں کے اپنے سیاسی ،علمی ،دفاعی اور مذہبی یا قانونی اہل دانش ہیں جن کو ریاست کے نظام تک خوب رسائی ہوتی ہے اور ان کو مختلف فورمز پر نمایاں طور پر ریاست اور حکومت کی ترجمانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اوراس کے عوض یہ افراد اور ادارے حکومتی نظام سے مختلف نوعیت کی مراعات بھی حاصل کرتے ہیں۔اس کے بدلے جب بھی جہاں بھی نظام کو اپنی بقا کے لیے سیاسی اور مذہبی فتوے درکار ہوتے ہیں تو یہ لوگ اس کھیل میں پیش پیش ہوتے ہیں۔تعلیمی اداروں سے علمی اور فکری مباحث یا عملی تحقیق کا خاتمہ یا جو ریاست اور حکومت کو سماج میں مختلف نوعیت کے اہم اور حساس مسائل درپیش ہیں اس کا حل علمی اور فکری یا تحقیقی اداروں سے نہ آنا یاان کی حیثیت کو قبول نہ کرنا بھی ہماری مجموعی ناکامی کے کھیل کا حصہ ہے۔

سماج کی سطح پر اگر آپ کسی آئین اور قانون یا سیاسی اور جمہوری یا اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ رہے یا ایک دوسرے کی حیثیت کو قبول کرنے کی بجائے ان میں مداخلت یا ان پر اپنی سیاسی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب میں جو ٹکراو اور تناو یا دشمنی پیدا ہوگی اس کا ایک بڑا نقصان سماج میں انتشار اور زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اسی طرح جب ہم منصفانہ معاشرہ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ہر نظام میں موجود شفافیت،نگرانی، جوابدہی اور احتسابی نظام کی موجودگی پرور دیتے ہیں یا لوگوں میں سیاسی،سماجی، معاشی اور قانونی انصاف پر زور دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے ترقی کی بنیاد پر جدید معاشروں کا قیام اور زوال پزیر معاشرے یا اداروں سے لاتعلقی ہوتا ہے ۔یہ جو کہا جاتا تھا کہ معاشرے کے پڑھے لکھے افراد لوگوں کی سوچ اور فکر میں مثبت پہلو پیدا کرتے ہیں لیکن یہاں کے پڑھے لکھے افراد کی شاہی دربار کی سطح پر رسائی اور طاقت ور طبقات کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ بن جائے تو پھر سماج کے عملی طور پر آگے بڑھنے کا سفر پیچھے کی طرف چلاجاتا ہے۔یہ جو مذہب کی اعلی روایات کے مقابلے میں ہم نے انتہاپسندی اور عدم برداشت کی جو شکلیں دیکھیں یا دیکھ رہے ہیں اس نے بھی پورے سماجی، سیاسی اور مذہبی ڈھانچے کو خراب کردیا ہے۔انتہا پسندی کا عمل اب محض مذہبی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس نے پوری سیاست کو بھی انتہا پسند سیاست اور سیاسی تقسیم کا شکار کردیا ہے ۔اس کے مقابلے میں ریاست اور حکومت کا عملی بیانیہ برے طریقے سے ناکامی سے دوچار ہے۔

ویسے بھی جب سماج میں علم و فکر کی اہمیت کم ہوجائے اور اس کے مقابلے میں دولت مند افراد بالادست ہوں تو پھر علم کے میدان کا پیچھا رہنا فطری امر ہوتا ہے۔اس لیے جب ریاست اور حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم،کتاب، تحقیق، کتاب گھر،علمی و فکری مباحث،ان کی فکری سطح کی پذیرائی کا عمل پیچھے رہ جائے یا ریاست اور حکومت کے نظام میں ان کے لیے مالی طور پر مالیاتی وسائل نہ ہوں یا وہ ان کی ترجیحات کا ہی حصہ نہ ہوں تو سماج میں بہتری کا عمل کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔اس کا اندازہ ہم حکومتی سطح پر تعلیم اور تحقیق کے مختص مالیاتی بجٹ کی بنیاد پر پرکھ سکتے ہیں کہ حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں۔مسئلہ معاشے کے بانجھ پن یا فکری انحصاط کا نہیںہے بلکہ ریاست اور حکمران طبقات کی سطح پر ہمیں بانجھ پن کی صورت میں نظر آتا ہے جو نہ تو خود تبدیل ہونا چاہتا ہے اور نہ تبدیل کرنے والوں کو پزیرائی دینے کے لیے تیار ہے۔ان کی سطح پر اسٹیٹس کو کی موجودگی ہی ان کی سیاسی طاقت کے زمرے میں آتا ہے اور وہ اسی نظام کو تحفظ دے کر اپنی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب یہ ہی حکمران طبقات سماجی علوم اور سماجکی کلچر سمیت ادب اور تھیٹریا فلسفے پر پابندی لگادیں اور طاقت ور طبقات اپنا نظام جبر کی بنیاد پر دوسروں پر لاگو کرنا شروع کردیں تو پھر اس نتیجہ مزید انتہا پسندی یا پر تشدد رجحانات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ جو ہم نے اپنے ادارہ جاتی نظام میں سیاسی مداخلتوں ااور اقربا پروری کے کھیل کو پروان چڑھایا ہے اس سے سماج کسی بھی طور پر آگے نہیں بڑھ سکیں گے بلکہ یہ ادارے عملی سطح پر سیاسی اور انتظامی جمود کا شکار ہوںگے۔

دانشور خورشید ندیم صحافت کے کردار پر بھی بات کرتے ہیں، ان کا سوال ہے کہ یہ کن ہاتھوں میں چلا گیا ہے،عرض کرنا ہے کہ یہ ان ہی ہاتھوں میں ہے جہاں طاقت ور طبقات اسے لے کرجانا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اس میڈیم کے ذریعے طاقت ور طبقات کی باہمی کشمکش کا کھیل کھیلاجاتا ہے،یہ عملی اور فکری میدان نہیں اور نہ ہی سنجیدہ مباحث کا مرکز۔ موجودہ حالات میں پرنٹ میڈیا غنیمت ہے کیونکہ وہ آج بھی سنجیدہ مباحث، آراء اور تحقیقی خبر کا قابل اعتماد فورم ہے وگرنہ الیکڑانک وسوشل اور ڈیجٹل فورمز تو کھیل تماشہ کی حد تک محدود ہوچکا ہے ۔ البتہ اس نے معاشرے کے مجموعی مزاج میں تشدد اور مخالفت برائے مخالفت کے رجحان کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اگر ہم نے سماج کو اعلی علمی یا فکری بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے تو بہت کچھ تبدیل کرنا پڑے گا مگرکیا کوئی تبدیلی کے لیے تیار ہے، اس پر غور ہونا چاہیے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

2 سال قبل 15 سالہ لڑکے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا معمہ حل، بہنوئی قاتل نکلا

Published

on



پنجاب کے شہر پاکپتن کے علاقے عارف والہ میں دو سال قبل 15 سالہ لڑکے کے قتل میں ملوث شاطر ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق دو سال قبل عارف والہ میں 15 سالہ لڑکے علی رضا کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

واقعے کے بعد ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے نوٹس لے کر ایس پی سٹی انویسٹی گیشن فرحت عباس کی سربراہی میں ملزمان کی گرفتاری کیلیے ٹیم تشکیل دی تھی۔

انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شفیق آباد نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا، جو مقتول علی رضا کا بہنوئی ہے۔

ملزم کی نشاندہی پر مقتول کی نعش کو برآمد بھی کرلیا گیا۔ انویسٹی گیشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم 2024 میں فیکٹری میں کام کروانے کے بہانے مقتول کو عارف والہ ضلع پاکپتن سے لاہور لے آیا اور پھر شیخوپورہ کے علاقے میں لےجا کر گلے میں پھندا ڈال کر بے دردی سےقتل کر دیا تھا۔

ملزم نے قتل کرنے کے بعد نعش کو بوری میں ڈال کر نہر میں پھینک دیا تھا۔ ملزم نے گھریلو رنجش کی بناء پر علی رضا کو قتل کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کو جدید ٹیکنالوجی سمیت ہیومین انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے، ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہے مضبوط چالان مرتب کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائےگی۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر سے آہنی ہاتھوں کےساتھ نمٹاجائےگا۔  ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے ملزم کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لئے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی این ایس حنین کی امدادی کارروائی، آتشزدگی سے دوچار جہاز سے 18 غیرملکیوں کو بچالیا

Published

on



کراچی:

شمالی بحیرہ عرب میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارروائی کے دوران پاک بحریہ نے تجارتی بحری جہاز ایم وی گولڈ آٹم سے موصول ہونے والے ہنگامی سگنل کے بعد 18 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاکستانی ساحل سے تقریباً 200 ناٹیکل میل (تقریباً 370 کلومیٹر) جنوب میں موجود اس تجارتی بحری جہاز سے ریسکیو کیے گئے افراد میں چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں۔

ہنگامی اطلاع موصول ہونے پر پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے اپنے میری ٹائم ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کیا۔ فوری طور پر مناسب حکمت عملی اپناتے ہوئے پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین، جو کہ سمندری حدود کی نگرانی پر مامور تھا،  اسے امدادی کارروائی کے لیے روانہ کیا گیا۔

پی این ایس حنین نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیتے ہوئے پیشہ وارانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاک بحریہ کی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے تجارتی بحری جہاز پر لگی آگ بجھانے میں معاونت اورمتاثرہ افراد کوطبی امداد فراہم کرنے کے علاوہ عملے کو بحفاظت ریسکیو کیا اور تجارتی بحری جہاز کےنقصانات کا جائزہ لیا۔

ریسکیو کیے گئے افراد کو مزید طبی امداد اور بعد ازاں اپنے ممالک واپسی کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا۔

پاکستان کی وسیع سمندری حدود میں پاک بحریہ کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائی اس عزم کی عکاس ہے کہ پاک بحریہ اپنی ذمہ داری کے دائرہ کار میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہمیشہ بروقت، مؤثر اور سب سے پہلے مدد کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں گھمسان کا رن پڑ گیا، پی پی اور جماعت کے اراکین گتھم گتھا

Published

on


بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب اراکین گتھم گتھا ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت سٹی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ کی تقریر کے بعد جب پی پی کے رکن نجمی عالم نے تقریر کی تو ایوان میں شدید کشیدگی ہوئی۔

اس کے بعد جماعت اسلامی کے اراکین نے میئر کی ڈائس کے سامنے احتجاج اور نعرے بازی کی تو پیپلزپارٹی کے اراکین بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر دونوں جماعتوں کے اراکین میں دھکم پیل اور ہاتھا پائی ہوئی۔

جماعت اسلامی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تاہم میئر نے اجلاس کو جاری رکھا اور جھگڑے کے بعد بھی ایک گھنٹے تک اجلاس چلتا رہا۔

جماعت اسلامی کے واک آؤٹ کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں ن لیگ، پی پی اور دیگر کے اراکین اجلاس میں بیٹھے رہے۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں جب اراکین ایوان میں واپس آئے تو انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا جس پر ایک بار پھر احتجاج ہوا۔

بعد ازاں میئر کراچی نے اجلاس کو غیرمعینہ مدت کیلیے ملتوی کردیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ لوگ بلدیہ عظمیٰ کے ایوان میں پہنچے ہیں ورنہ ان کو موقع ہی نہیں ملتا۔ 

انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے 2001 میں ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا اور پھر 2023 میں کیا تو اس کا فائدہ جماعت اسلامی کو ہوا۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا کہ میئر کراچی کے اشارے پر اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں جبکہ ایوان میں باہر سے لوگ لاکر بٹھائے گئے جنہوں نے ہمارے کونسل کی کرسی چھینی اور تشدد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ملکی حالات کے پیش نظر اجلاس اچھے ماحول میں ہو مگر پیپلزپارٹی کا ایجنڈا کچھ اور تھا، باہر سے آئے ہوئے لوگ ہی کرپشن میں ملوث ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Trending