Connect with us

Today News

میرپورخاص؛ میڈیکل کی طالبہ کی پراسرار موت، ہراسانی کے الزامات پر کالج سے ریکارڈ طلب

Published

on



میرپورخاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی پراسرار موت کے واقعے سے متعلق پی ایم اینڈ ڈی سی نے متعلقہ میڈیکل کالج سے ریکارڈ طلب کرلیا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے صوبائی حکومت سے انکوائری رپورٹ بھی مانگ لی۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق طالبات کی ہراسانی سے متعلق زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار ہے، قصور وار ثابت ہونے پر فیکلٹی اور ادارے کے خلاف کارروائی ہوگی۔

صدر کونسل پروفیسر رضوان تاج نے اعلان کیا کہ ڈسپلنری کمیٹی میں کارروائی کی جائے گی، طلبہ براہِ راست ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ محفوظ تعلیمی ماحول کی عدم فراہمی قوائد کی خلاف ورزی ہے۔ طلبہ کو ہراسانی، دھمکی یا بدسلوکی پر سخت کارروائی ہوگی۔ طلبہ کی سلامتی اور ذہنی صحت اولین ترجیح ہے۔

تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں لازمی قرار دی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ میرپور خاص کے نجی میڈیکل میں تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ورثا کا الزام ہے کہ طالبہ کو کالج ٹیچر کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اوکاڑہ؛ بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کرنے والے شوہر کو 80 کوڑوں کی سزا کا حکم

Published

on



ڈسٹرکٹ کورٹ نے بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کرنے والے ملزم شوہر کو کوڑوں کی سزا کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج رانا خلیل احمد خان کی عدالت نے ملزم کو 80 کوڑے مارنے کا حکم سنایا۔

عدالت نے ملزم محمد بوٹا کو 80 کوڑے مارنے کی شرعی سزا سنائی جبکہ ملزم عدالت کا فیصلہ سنتے ہی فرار ہوگیا۔ استغاثہ کی پیروی سینیئر قانون دان نیر اقبال لکھوی نے کی۔

ملزم نے اپنی بیوی پر بدکرداری کا الزام لگایا تھا جبکہ پیدا ہونے والی اپنی بیٹی کو بھی ناجائز قرار دیا۔

متاثرہ خاتون نے اپنی مدعیت میں شوہر محمد بوٹا کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت قذف کا استغاثہ عدالت میں دائر کیا۔

دوران سماعت ملزم اپنی بچی کو ناجائز ثابت نہ کر سکا جبکہ اپنی طرف سے عائد کیے گئے الزامات سے مکر گیا اور بچی کو جائز تسلیم کر لیا۔

عدالت کے اس فیصلے کو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ جھلسی ہوئی نوجوان کی لاش کی شناخت کرلی گئی، تحقیقات شروع

Published

on



ناردرن بائی پاس سہراب رندھ گوٹھ کے قریب جھلسی ہوئی ملنے والی نوجوان کی لاش کی شناخت کر لی گئی، مقتول نوجوان سعید آباد کا رہائشی اور ایک بیٹی کا باپ تھا، جو گڈز ٹرانسپورٹ لیبر اسکوائر سائٹ ایریا میں بحیثیت منشی کا کام کرتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق جعمرات کو موچکو تھانے کے علاقے ناردرن بائی پاس سہراب رندھ گوٹھ کے قریب نوجوان کی ایک سے دو روز پرانی جھلسی ہوئی ناقابل شناخت لاش ملی تھی۔ گزشتہ روز مقتول نوجوان کی شناخت 29 سالہ فیضان ستی عرف فیضی ولد شیراز اختر کے نام سے کی گئی، مقتول نوجوان مکان نمبر 6/5 سیکٹر فور جی سعید آباد کا رہائشی تھا، مقتول نوجوان ایک بیٹی کا باپ اور گڈز ٹرانسپورٹ لیبر اسکوائر سائٹ ایریا میں بحیثیت منشی کا کام کرتا تھا۔

مقتول کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا دو روز قبل 8 اپریل رات ساڑھے 8 بجے کے قریب اپنی بیوی کو سسرال گلشن غازی چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن بیوی کو سسرال چھوڑ کر دوبارہ گھر واپس نہیں آیا اور اس کے بعد جب کافی رات گزر گئی تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فون پر متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن بیٹے کے چاروں نمبر بند تھے۔

والد کے مطابق بیٹے کو تلاش کرتے ہوئے سعید آباد تھانے پہنچے تو معلوم ہوا کہ موچکو تھانے کی حدود سے ایک نوجوان کی لاش ملی ہے جس پر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سول اسپتال پہنچا تو ان کے بیٹے کی لاش اسٹیچر پر پڑی ہوئی تھی جسے انہوں نے شناخت کیا۔

ایس ایچ او موچکو فیصل لطیف کے مطابق شبہ ہے نامعلوم ملزمان نے مقتول نوجوان فیضان فیضی کو اغواء کے بعد قتل کیا اور مقتول کی شناخت چھپانے کے لیے ملزمان نے لاش کو جلا دیا۔

پولیس کے مطابق بظاہر واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس نے مقتول نوجوان کے قتل کا مقدمہ اس کے والد شیراز اختر کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے واقعے کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Published

on



گزشتہ سال جون میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ نے کہا ہے کہ بیٹی کے قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود ہم اب تک انتظار کے منتظر ہیں اور میں نے اس دوران کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔ 

اسلام آباد میں 17 سالہ انفلوئنسر ثناء یوسف کے افسوسناک قتل کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔

ثناء یوسف کو جون 2025 میں ان کے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا اور یہ واقعہ ملک بھر میں غم و غصے کا باعث بنا تھا۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی والدہ نے اپنے غم کی شدت بیان کی اور بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا، مگر اپنی بیٹی کی یاد نے انہیں حوصلہ دیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ان کا کہنا تھا کہ میں روز مرتی ہوں اور روز جیتی ہوں، کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، میں نے بیٹی کے بغیر نہیں رہنا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ نہیں بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو انصاف اس لیے بھی دلانا ہے تاکہ باقی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ ثنا کے ساتھ انصاف ہوا تھا تو ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔

ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ میری ایک ہی بیٹی تھی اور وہ بہت بہادر تھی اور میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتی تھی جب کہ میری بیٹی کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اب تک مجھے انصاف نہیں ملا، میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے انصاف مل جائے اور مجرم کو کڑی سے کڑی سزا مل جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے انکار کردیا تھا جو ملزم سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے قتل کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے لیکن ملزم کی جانب سے ہائی کورٹ میں کوئی درخواست دی گئی ہے جس کی وجہ سے اتنا وقت گزرگیا ۔ 

 



Source link

Continue Reading

Trending