Connect with us

Today News

ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، وزیراعظم

Published

on


وزیراعظم کی سعودی عرب کے وزیرخزانہ سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ولی عہد کی سرپرستی میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط رشتہ مزید مستحکم ہوگا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ  محمد بن عبداللہ الجدعان سے شہباز شریف نے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔

وزیرِاعظم نے سعودی مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وزیرِاعظم نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اپنی حالیہ گرمجوش اور خوشگوار ٹیلیفونک گفتگو کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے ولی عہد کی گہری محبت اور مملکت کی جانب سے پاکستان کو برسوں سے جاری اقتصادی و مالی معاونت کو سراہا اور کہا کہ اس محبت نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِاعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر مشکل وقت میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان یہ مضبوط رشتہ ولی عہد کی سرپرستی میں مزید مستحکم ہوگا۔

وزیرِاعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

سعودی وزیرِ خزانہ نے وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو ولی عہد کے وژن کے مطابق مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران جنگ؛ امریکا میں مہنگائی کا طوفان؛ معیشت غیر یقینی کا شکار

Published

on


ایران کے ساتھ جنگ اور تیل بحران نے جہاں دنیا میں معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہیں وہیں خود مارچ کے مہینے میں امریکا کو بھی مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور توانائی بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (CPI) میں ماہانہ بنیاد پر 0.9 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 3.3 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً دو برسوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

علاوہ ازیں توانائی کی قیمتوں میں مارچ کے دوران 10.9 فیصد، پیٹرول (گیسولین) کی قیمتوں میں 21.2 فیصد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اسی طرح فضائی کرایوں میں بھی 2.7 فیصد ماہانہ جبکہ 14.9 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیوں کہ جیٹ فیول کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے باعث عالمی تیل و گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔

یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں مہنگائی جون 2022 میں 9.1 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور اپریل 2025 میں یہ 2.3 فیصد تک آگئی تھی۔ 

اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی، اور ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضامندی ظاہر کی۔

تاہم اس کے باوجود خام تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ اور سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد بلند ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز بند رہی تو 3 ہفتوں میں جیٹ فیول کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے

Published

on


گزشتہ ہفتے یورپی جیٹ فیول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 1,838 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی جبکہ جنگ سے قبل یہ قیمت 831 ڈالر فی ٹن تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ہوائی اڈوں کی تنظیم اے سی آئی یورپ نے یورپی کمشنرز برائے توانائی اور سیاحت کو اہم خط لکھا ہے۔

جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز آئندہ 3 ہفتوں میں دوبارہ نہ کھلی تو ہوائی جہازوں کے ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور ایندھن کی ترسیل جلد معمول پر نہ آئی تو اس کا براہِ راست اثر ہوائی اڈوں کی کارروائیوں اور فضائی رابطوں پر پڑے گا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ یورپی ایئرپورٹس کے درمیان ایندھن کی دستیابی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جس سے متاثرہ علاقوں اور یورپ کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اگر آئندہ تین ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمد و رفت بحال نہ ہوئی تو یورپی یونین میں نظامی نوعیت کی جیٹ فیول کی کمی حقیقت بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی خطہ یورپ کے لیے ہوائی ایندھن کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور تقریباً 50 فیصد درآمدات اسی خطے سے ہوتی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث کئی ایئرلائنز نے پروازیں کم کر دی ہیں اور ممکنہ قلت کے پیش نظر ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

جہازوں پر جدید ہتھیار رکھ رہے ہیں، معاہدہ نہ ہوا تو اس کا بھرپور استعمال کریں گے؛ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے پر ایران کو دوبارہ حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دیدی۔

نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کو دنیا کے بہترین ہتھیاروں سے دوبارہ جدید اور طاقتور ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے دھمکی دی کہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو امریکا ان ہتھیاروں کا استعمال ایران پر کرے گا اور انتہائی مؤثر طریقے سے کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ صورتحال آئندہ 24 گھنٹوں میں واضح ہوجائے گی اور جلد معلوم ہوجائے گا کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

 

اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو یہ سمجھ نہیں کہ اس کے پاس زیادہ آپشنز نہیں بچے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس کوئی کارڈز نہیں سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں کے ذریعے دنیا کو وقتی طور پر بلیک میل کرے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے ذریعے دنیا پر وقتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول ایران کی موجودہ حیثیت اور بقا ہی اس وجہ سے ہے کہ وہ اب بھی مذاکرات کر رہا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending