Connect with us

Today News

پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے 101 بہترین پاسپورٹ میں شامل

Published

on



پاکستان دنیا میں امن کی پہچان اور روشن مثال بن گیا، پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے ایک سو ایک بہترین پاسپورٹ میں شامل ہوگیا۔

 تفصیلات کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں ایک سو ایک بہترین پاسپورٹس میں شامل ہوگیا ، عالمی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ملکوں کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بن کر تناؤ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، سفارتی فتح کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا کوئی معجزہ نہیں بلکہ سفارتکاری کا نتیجہ ہے، پاکستانی سفیر

Published

on



امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر  لانا کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل سفارتی عمل کا نتیجہ ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے پیچھے ثابت قدمی، صبر اور تمام فریقین کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی سفارتی سرگرمیوں میں یہی عناصر کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔

رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو تمام متعلقہ فریقین نے مثبت انداز میں لیا اور ایک تعمیری جذبے کے تحت جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد کی راہ ہموار کی گئی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان اس بات کے لیے تیار ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے جو بھی کردار ادا کرنا پڑے، وہ طویل عرصے تک نبھایا جائے گا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

اے ڈی پی کی پاکستان کو وارننگ، آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر

Published

on



ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کیلیے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط کے اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر کی بڑی وجہ مالیاتی بے ضابطگیاں تھیں، تاہم وزارتِ خزانہ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے انھیں محض شماریاتی فرق قرار دیا ہے۔

اے ڈی پی کی جانب سے جاری ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال میں 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو حکومتی ہدف سے کم ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ساختی مسائل حل کیے بغیر تیز رفتار ترقی کی کوشش معیشت کیلیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق 413 ارب روپے کا فرق دراصل کیش اور سول اکاؤنٹنگ کے درمیان فرق ہے جسے پہلے ہی آئی ایم ایف کو رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خاص طور پر طویل تنازع، عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ آئے گا۔

اے ڈی پی نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اصلاحات نہ کیں تو معاشی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ادارے نے نجکاری، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آئندہ مہینوں میں مہنگائی بڑھ کر مرکزی بینک کے ہدف( 5 سے 7 فیصد) کی حد سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ اوسط مہنگائی 6.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

کنٹری ڈائریکٹر فین ایما کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے، اصلاحات کے باعث بہتری کے آثار ہیں، تاہم عالمی خطرات کے پیش نظر محتاط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

معیشت کی شرح نمو ، جب معیشت نے کروٹ لی

Published

on


پاکستان کی معیشت کے حوالے سے وفاقی حکومت نے جو تازہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ محض خشک ہندسوں کا مجموعہ نہیں بلکہ گرد آلود کھیتوں، دھواں چھوڑتی چمنیوں ، گندم کی بالیوں، کپاس کی روپہلی ریشوں کا وہ فسانہ ہے جو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیاگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.89 فی صد رہی۔ گزشتہ برس کی دوسری سہ ماہی کا آخری دن تھا اور جب رات ڈھلنے لگی اور نئے سال نے اپنے نرم قدموں سے پاکستانی معیشت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 3 ماہ کا حساب کتاب طلب کیا تو حکومتی اعداد و شمار نے3.89 فی صد کی فخریہ شرح نمو کی سانس لی۔

یہ نمو ایسے تھی جیسے یکم جنوری کی سرد صبح میں سورج کی پہلی کرن۔ جسے چند روز قبل حکومتی بیانے کا روپ دیا گیا تو ماہرین حیران تو تھے، ایسے میں میرے قلم نے اس حیرانگی کو امید کی دعا دیتے ہوئے یوں لکھا کہ ان اعداد و شمار میں ہر فیصد ایک خواب بھی ہے اور ہر اعشاریہ ایک دعا بھی۔ دعا ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے۔

اس رپورٹ کا سب سے طاقتور کردار صنعت ہے اور صنعتی شعبے نے 7.4فی صد کی جو شرح نمو دکھائی ہے اب اسے معیشت کی دنیا میں دیکھنا ہوگا جب مارچ میں فروری کے مقابلے میں برآمدات میں 14 فی صد کی کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی گیس کے شعبے میں 15.11فی صد کا غیر معمولی اضافہ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بجلی کے تاروں میں دوڑتی ہوئی توانائی، کارخانوں کے بوائلرز میں جلتی ہوئی گیس نے پیداواری عمل کو جلا بخشی ہے۔ تعمیراتی شعبے کی بلندیاں بیان کرتے ہوئے رپورٹ کا خیال ہے اس شعبے میں 10.53 فی صد کی نمو یہ بتا رہی ہے کہ شہروں کے افق پر نئی دیواریں کھڑی ہورہی ہیں۔

اینٹوں، بلاک، سیمنٹ، ریتی، بجری اور سریوں نے مل کر مستری کے ہاتھوں میں ہنر جگا دیا جو دیرپا استحکام اور مضبوطی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت نے 5.71 فی صد کی ترقی حاصل کی ہے۔ خدمات کا شعبہ جس کی باگ ڈور آئی ٹی کے ہاتھ میں ہے جس کو ملک کے نوجوان چلاتے ہیں۔ اس بار 3.69 فی صد کی نمو کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں 4.5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں 4.9 فی صد اور 5.7 فی صد بالترتیب اضافہ یہ بتاتی ہے کہ ریاست اب اپنے طالب علموں پر سرمایہ کاری کی طرف مائل ہورہی ہے۔ یہ نمو اس بوڑھے استاد کی طرح ہے جو خاموشی سے نئی نسل کی آبیاری کرتا ہے یا اس معالج کی طرح ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑتا ہے یا اس سرجن کی طرح ہے جو ڈوبتے ہوئے دلوں کو تیرا کر ہی چھوڑتا ہے۔

 زراعت کا شعبہ ان تین ماہ میں کچھ رنجیدہ سا نظر آرہا ہے محض 1.76 فی صد کی مجموعی نمو میں وہ جوش و خروش نہیں تھا جو گزشتہ برسوں میں دیکھاگیا تھا یہ تو معلوم ہورہا تھا کہ کپاس کی فصل میں کمی ہوئی ہے لیکن گندم کی فصل کے بارے میں محکمہ شماریات کے حکام سے بار بار سوالات کیے گئے لیکن وہ مکمل اعداد و شمار آخر کس طرح سے پیش کرسکتے ہیں۔ جب بعض علاقوں میں ابھی کھیتوں میں گندم کی سنہری بالیوں نے درانتی کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔ جب فصل نے اپنی آخری سانس لے کر زمین سے رشتہ نہ توڑا ہو۔ یہ سوالات شاید حقیقت سے ناواقفیت تھی۔

کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پی بی ایس کے وہ گمنام سپاہی دشوار گزار راستوں کا سفر کرکے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ان کو اپنی جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی کچی سڑکیں، کبھی سیلاب کے پانی سے گزر کر، کبھی ایسے کھیت جہاں تک پہنچنا ہی ایک امتحان ہو لیکن وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں تاکہ قوم کو درست تصویر دکھا سکیں، لہٰذا جب فصل ابھی کٹی نہیں تو حساب کتاب کس بات کا۔ ابھی چکوال، تلہ گنگ، اکوال ، تھوہا محرم خان کے علاقوں میں ژالہ باری کے باعث گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے لہٰذا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ہی محکمہ درست تصویر دکھا سکتا ہے۔

معیشت کی یہ 3.9 فی صد کی نمو کوئی حتمی منزل نہیں بلکہ ایک طویل سفر کا ایک سنگ میل ہوسکتا ہے قطع نظر اس کے کہ عالمی ادارے اور بلومبرگ کیا کہتے ہیں مگر اصل حقیقت ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپے ہوئے ان کروڑوں غریب انسانوں کی ہے جن کی زندگی میں یہ نمو روٹی ،کپڑے برسرروزگار ہونے کی صورت میں ڈھلنی چاہیے اب جو چیلنجز ہماری معیشت کے سر پر سوار ہیں ان میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی ، پٹرول کی قیمت مہنگی سے مہنگی تر ہوئے چلی جارہی ہے۔ مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے لہٰذا میرا خیال ہے کہ معیشت کی شرح نمو 3.9 فی صد سے مزید کم بھی ہوسکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending