Today News
وزیراعلیٰ سندھ کا چین کے ساتھ معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اعادہ
وزیراعلیٰ سندھ نے چین کے ساتھ معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پاک چین دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء سمیت دیگر حکام نے شرکت کی، اجلاس میں صدر مملکت کے حالیہ دورہ چین میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کا مقصد مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کو تیز اور مربوط کوششوں کے ذریعے بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر مملکت کا حالیہ دورہ چین بڑی اہمیت کا حامل ہے، چین پاکستان کا نہ صرف ہمسایہ بلکہ برادر ملک ہے، چین کے ساتھ تعاون سندھ کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، صنعتی صلاحیت بڑھانے اور سماجی و معاشی ترقی کے فروغ کا ایک اہم موقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا چین کے ساتھ معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تمام محکموں کو رکاوٹیں دور کرکے عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔
Today News
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان کا ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار
پاکستان کے جید علمائے کرام مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کردیا۔
ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آج جو مذاکرات ہونے والے ہیں ان کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے، وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی اپیل کی ہے، اس لیے ہم سب کو دعا میں مصروف رہنا چاہیے۔
مفتی منیب الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی شبانہ روز کوششوں سے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے تیار ہوئے۔ ایران امریکہ مذاکرات پاکستان کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابی ہے، وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، چین اور سعودی عرب نے بھی پس پردہ کردار ادا کیا۔
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مودی اور نیتن یاہو کے سوا پوری دنیا خوش ہے، فریقین کے اعلیٰ سطحی وفود کو دیکھ کر امید کی کرن دکھائی دیتی ہے، مذاکرات کی کامیابی پاکستان کے لیے تاریخی اعزاز ہوگا، مسئلے کو تحمل، حکمت، تدبر اور مضبوط قوت ارادی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
Today News
اسلام آباد مذاکرات؛ امریکا اور ایران کے مؤقف اور مطالبات میں کتنا فرق ہے؟
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں آج امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہو رہے ہیں، جس میں پاکستان کی ثالثی میں فریقین کے وفود پیچیدہ اور حساس معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان کی طویل اور کامیاب سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہونے والی یہ بات چیت عارضی جنگ بندی کو مستقل کرنے اور کسی وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی بڑی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی بنیاد فریقین کی الگ الگ تجاویز پر رکھی گئی ہے، جن میں ایران نے 10 نکات پر مشتمل فریم ورک پیش کیا ہے جبکہ امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ سامنے رکھا ہے۔
اگرچہ دونوں جانب سے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے، لیکن کئی اہم امور پر اختلافات اب بھی واضح ہیں، جن میں سب سے نمایاں ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
امریکا اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرے گا اور یورینیم افزودگی کو محدود رکھا جائے گا، ساتھ ہی عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی سخت نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
اس کے برعکس ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق کو تسلیم کروانے پر زور دے رہا ہے اور یورینیم افزودگی کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اسی طرح اقتصادی پابندیاں بھی اسلام آباد مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد عالمی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور بیرون ملک موجود اس کے مالی اثاثے واپس کیے جائیں۔
دوسری طرف امریکا پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کو ایران کی جانب سے عملی اقدامات اور وعدوں کی تکمیل سے مشروط کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی ایران امریکا مذاکرات میں اہم موضوع کے طور پر شامل ہیں، جہاں تہران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے جبکہ امریکا اسے عالمی تجارت کے لیے مکمل طور پر کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
اسی طرح مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور سیکیورٹی معاملات بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا باعث ہیں۔
امریکا خطے میں بعض مسلح گروہوں کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔
ساتھ ہی ایران نے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانت کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم امریکا نے اپنے سیکیورٹی مفادات کے پیش نظر اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
اس کے علاوہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی ایک حساس معاملہ ہے، جسپر امریکا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاعی حق میں مداخلت قرار دے رہا ہے۔
علاوہ ازیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری سے شروع کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ جیسے اہم معاملات بھی زیر غور ہیں۔
Today News
صنعتی شعبے کو 24 گھنٹوں کیلئے گیس کی فراہمی معطل
سوئی سدرن گیس کمپنی نے صنعتی شعبے کو 24 گھنٹوں کیلئے گیس کی فراہمی معطل کردی۔
سوئی گیس کمپنی کے اعلامیہ کے مطابق سسٹم میں گیس کی کمی کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ نے تمام شعبوں کے درمیان گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور لائن پیک کو بہتر بنانے کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ تمام صنعتی صارفین (بشمول کیپٹو پاور پلانٹس) کو گیس کی فراہمی 24 گھنٹوں کے لیے معطل رہے گی۔
ایس ایس جی سی کے مطابق اتوار 12 اپریل 2026 صبح 8:00 بجے سے پیر 13 اپریل 2026 صبح 8:00 بجے تک گیس کی فراہمی بند رہے گی۔
سوئی سدرن گیس کمپنی اپنے صارفین کو بہتر گیس پریشر کی فراہمی کے لیے مسلسل پرعزم ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember