Today News
امریکی فوج کے 2 جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے کا کام شروع کردیا
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نے مزید کہا کہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔
امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی اتفاق ہوا تھا لیکن اب بھی کئی بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے سے قاصر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں کے علاوہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کا خطرہ بھی ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔
Today News
ابھی کافی میچز ہیں خامیاں دور کر کے کامیابی کی کوشش کریں گے، اسامہ میر
پی ایس ایل 11 میں اپنے پانچویں میچ میں تیسری شکست سے ہمکنار ہونے والی دفاعی چیمپین لاہور قلندرز کے اسامہ میر نے کہا ہے کہ ٹیم کمبینیشن تبدیل ہونے سے کارکردگی پر اثر پڑا ہے،اگلے میچز میں خامیاں دور کر کے کامیابی کی کوشش کریں گے۔
ہفتہ کو نیشنل اسٹیڈیم میں پشاور زلمی کے ہاتھوں 76 رنز سے شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 30 سالہ انٹرنیشنل اسامہ امیر نے کہا کہ غلطیاں کرنے سے ہمیں شکست کا سامنا رہا ، کوشش ہوگی کہ اگلے میچز میں کم بیک کریں، کمبینیشن بدلنے سے بھی ٹیم پر اثر پڑا،لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے مرحلے میں فاسٹ بولنگ پر توجہ رہی ۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے مقابلے میں کراچی کی کنڈیشنز قدرے مختلف ہیں، کراچی میں اسپن بولنگ کو کنڈیشن کے مطابق استعمال کیا، اب تک ہم نے ڈے میچز کھیلے ،ابھی نائٹ میچَز کھیلنا ہیں،غلطیوں سے ہمیں سیکھنا ہے اور یہ اگلے میچ میں نظر بھی آئے گا۔
دوسری جانب میچ میں کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے پشاور زلمی کے31 سالہ بیٹر کوشل مینڈس کا کہنا تھا کہ پاور پلے کو درست انداز میں استعمال کرنے سے اچھی بیٹنگ رہی،گزشتہ میچ کی طرح ہفتہ کو لاہور قلندرز کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے بھی دوسرے اینڈ سے بابر اعظم کی بہترین سپورٹ ملی ،48 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 74 رنز کی اننگ کھیلنے والے کوشل مینڈس نے کہا کہ وہ مقامی کنڈیشنز کو اچھا سمجھ چکے ہیں۔
گزشتہ میچ میں کراچی کنگز کے خلاف سینچری جڑنے والے کوشل مینڈس کا کہنا تھا کہ 52 گیندوں پر 109 رنز کی اننگز سےان کے اعتماد میں اضافہ ہوا تھا، بابر اعظم کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ فارم میں آگئے ہیں،بابر اعظم کھیلے ہوئے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے، پیر کواگلے میچ میں پوائنٹس ٹیبل پر سر فہرست ملتان سلطانز کو قابو پا کرفتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان میں کھیلنا اچھا لگتا ہے،یہاں کی وکٹ بہت اچھی اور بیٹرز کو سپورٹ کرتی ہیں،فاسٹ بولرز کو اس طرز کی وکٹ پر کھیلنا زیادہ مشکل نہیں لگتا۔
Source link
Today News
ایران اور اسکی پراکسیز کیخلاف ہماری فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے؛ اسرائیل
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کے خلاف ہماری فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے عوام سے خطاب میں کیا۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اسرائیل کی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔
نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تاریخی نتائج حاصل کیے ہیں، ایرانی قیادت کو ختم کیا، فوجی طاقت تباہ کی لیکن یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو یا تو کسی معاہدے کے ذریعے ختم کیا جائے گا یا پھر دیگر طریقے استعمال کیے جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی کے لیے بے چین ہے اور اس کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی منظوری دے دی ہے جو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع ہیں۔
تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو دور رس ہونا چاہیئے جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا سب سے اوّل ایجنڈا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں جاری ہیں۔
Today News
امریکی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ جھوٹا ہے؛ ایرانی فوج
ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔
ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن کو شروع کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی اتفاق ہوا تھا لیکن اب بھی کئی بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے سے قاصر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں کے علاوہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کا خطرہ بھی ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember