Connect with us

Today News

پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچالیا

Published

on


مشرق وسطیٰ کی خوفناک جنگ سے دنیا کے تمام ہی ممالک متاثر ہوئے ہیں ۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پوری دنیا کو توانائی کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا۔ کچھ ممالک جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر زور دے رہے تھے۔

ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے حفظ ماتقدم کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ نہ ایران پر حملہ ہوتا نہ یہ راستہ بند ہوتا۔ صدر ٹرمپ حالاں کہ پہلے خود کو عالمی جنگیں ختم کرانے کا چیمپئن قرار دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے آٹھ جنگیں رکواکر دنیا کو تباہی اور بربادی سے بچالیا ہے۔ وہ اس سلسلے میں پاک بھارت جنگ کو رکوانے کا بھی بطور خاص ذکر کیا کرتے تھے مگر یہ کیا ہوا کہ امن کی باتیں کرتے کرتے وہ خود ایران پر حملہ آور ہوگئے اور اپنے ساتھ اپنے بغل بچہ اسرائیل کو بھی جارحیت میں شامل کرلیا۔

اس حملے سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کے ایٹمی مرکز پر خوفناک حملے کرائے تھے اور پوری دنیا کو خبر دے دی تھی کہ انھوں نے ایران کے نہ صرف ایٹمی مرکز کو تباہ کردیا ہے بلکہ اس کی ایٹمی ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت بھی ختم کردی ہے، پھر وہ ایران سے امن مذاکرات کرنے لگے اور ان ہی مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ آور ہوگئے، ان کی اس حرکت کو تمام ہی ممالک نے نوٹ کیا تھا وہ ایران پر جنگ مسلط کرکے اسے ہی پہلے جنگ روکنے کا حکم دے رہے تھے جیسے کہ جنگ ایران نے شروع کی تھی۔

لگتا ہے وہ محض اسرائیل کی بقا کے خاطر پوری دنیا سے لڑ سکتے ہیں۔ وہ ایران کو کمزور سمجھ رہے تھے مگر ایران ایک مہینے سے بھی زیادہ عرصے سے نہ صرف ان کا بلکہ ان کے ناجائز دوست اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرتا رہا اور اپنی برتری قائم کرلی تھی۔

ایران کی استقامت سے وہ انتہائی گھبرا گئے تھے اور بدحواسی میں عجیب و غریب حرکتیں کررہے تھے، انھوں نے اپنے جنرلز کو فارغ کردیا حتیٰ کہ امریکی فوج کے کمانڈر انچیف کو بھی فارغ کردیا۔

اس کے علاوہ اپنے اسٹاف کے کئی ممبران کو فارغ کرچکے ہیں کیوں کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ادھر عوام نے ان کے خلاف مورچہ کھول لیا تھا۔ پورے امریکا میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے کہ یہ جنگ امریکا کی نہیں اسرائیل کی ہے جسے امریکا کیوں بھگت رہا ہے۔

اسرائیل کے برسوں سے عرب ممالک سے تعلقات ہیں مگر وہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے کیوں کہ ایران اس کے مشرقی وسطیٰ پر غالب آنے یا اس کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا سب سے بڑا مخالف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔

اس وقت ایران نے امریکا اور اسرائیل کی اس پر مسلط کردہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے جس سے امریکی حکومت نہ صرف حیرت زدہ ہے بلکہ پریشان بھی ہے۔ اب یہ خبر صغیۂ راز میں نہیں رہی ہے بلکہ طشت از بام ہوچکی ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران سے آسان جنگ کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اسرائیل جو مشرق وسطیٰ میں ہوس ملک گیری اور دہشت گردی کی وجہ سے خلیجی وعرب ممالک پر ضرور حاوی ہے مگر ایران اس کے لیے ایک مشکل ٹارگٹ بنا ہوا ہے اور جسے شکست دیے بغیر وہ نہ تو خلیجی ممالک کو اپنا تابع کرسکتا ہے نہ ہی اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو حقیقت کی شکل دے سکتا ہے۔

اس نے ٹرمپ سے پہلے صدور کو بھی ایران کے خلاف حتمی جنگ کرنے کے لیے ور غلایا تھا مگر کسی بھی صدر نے اس کے سازشی منصوبے پر کان نہیں دھرے تھے حتیٰ کہ بائیڈن جو یہودیوں کے بہت قریب تھے اور اسرائیل پر بہت مہربان تھے انھوں نے بھی نیتن یاہو کے ایران کے خلاف جنگ کے منصوبے کو قبول نہیں کیا تھا مگر ٹرمپ نیتن یاہو کے جال میں پھنس گئے۔

حالاں کہ ٹرمپ خود کو بہت ذہین اور چالاک سمجھتے ہیں، وہ نیتن یاہو سے خوش نہیں تھے کیوں کہ بائیڈن حکومت کا وہ بہت طرف دار تھا اور پچھلے امریکی انتخابات کے وقت وہ ٹرمپ کے بجائے بائیڈن کی جیت چاہتا تھا اور جب ٹرمپ جیت گئے تو ٹرمپ نے کافی دنوں تک نیتن یاہو سے بات نہیں کی مگر خیر اب تو ٹرمپ نیتن یاہو کے سازشی جال میں پھنس چکے تھے کیوں کہ نیتن یاہو انھیں یقین دلایا تھا کہ بس دو یا تین دن کی جنگ کے بعد ایران گھٹنے ٹیک دے گا اور ایرانی عوام کی ایرانی حکومت سے ناراضگی اور ان کے سابق شاہ کے بیٹے سے محبت کرنے کا یقین بھی دلایا تھا مگر یہاں تو حالات الٹ ہی ثابت ہوئے۔

ایرانی حکومت نہیں جھکی بلکہ ایک مہینے سے زیادہ وقت سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کررہی تھی اور منہ توڑ جواب دے رہی تھی اور ایرانی عوام حکومت کے ساتھ کھڑے تھے بہرحال نیتن یاہو نے صرف ٹرمپ کو دلدل میں نہیں پھنسایا تھا بلکہ پوری دنیا کو مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔

ٹرمپ ایران کی استقامت دیکھ کر بہت پریشان بھی تھے اور اسرائیل پر ناراض بھی کہ نیتن یاہو نے اپنے فائدے کے لیے انھیں مشکل میں ڈال دیا تھا بہرحال انھوں نے نہ صرف اپنی بہت بے عزتی کرالی ہے بلکہ امریکا کی ساکھ کو بے حد نقصان پہنچادیا ہے جو اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیا تھا۔

شاید اسی لیے امریکی سینیٹ کے ایک سینئر رکن مسٹربرنی سینڈر نے تمام سینیٹ ممبران سے کہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم 25کی بروئے کار لاتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوراً برخاست کریں ۔ امریکی عوام ہی نہیں امریکی فوج کے بعض اہم کمانڈر اسے پرائی جنگ قرار دے کر اسے فوراً روکنے کا کہہ رہے تھے۔

ملکی سطح پر تو ٹرمپ کے خلاف بیانات آ ہی رہے تھے۔ دنیا کے اہم اداروں کے رہنما بھی ٹرمپ کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔ یورپی کونسل کے صدر مسٹر انتونیوکوسٹا نے ٹرمپ کو نشانے پر لے کر الزام لگایا تھا کہ وہ دنیا کا امن تباہ برباد کرنے کے بعد اب ایران میں شہری سہولیات اسکول، اسپتال، کالجوں اور پانی کے ذخائر اور بجلی کی تنصیبات کو تباہ کررہے ہیں۔

ان کا یہ حکم سراسر عالمی قوانین کے خلاف ہے۔ یہ امریکا جیسے اہم ملک کے لیے باعث بدنامی کا باعث ہے کہ اس کا صدر اتنا بے رحم ہوگیا ہے کہ کھلے عام جنگ کو خوفناک بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے ،ایسی صورت حال میں ایک ایسے ملک کو کیا اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

ٹرمپ سے پہلے امریکا نے ویت نام ، کوریا، عراق اور افغانستان میں جنگیں لڑی ہیں گو کہ وہاں ناکام ہی رہا مگر اس وقت کے صدور نے ٹرمپ کی طرح کے بے رحمانہ احکامات نہیں دیے تھے اور نہ ہی کسی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی تھی۔

ٹرمپ دراصل بہت جذباتی ہوگئے تھے اور لگتا تھا وہ کہیں ایران کے خلاف ایٹم بم کا استعمال ضروری نہ سمجھ لیں۔

اس میں شک نہیں کہ امریکا کی انسان دوستی صرف دکھاوے کی ہی ہے، وہ تو ماضی میں خود کو انسانیت کا قاتل ثابت کرچکا ہے۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر برسائے گئے ان کے ایٹم بموں کی تباہی کو ابھی تک دنیا نہیں بھول پائی ہے۔

ٹرمپ کی ویسے تو دھمکیاں چل ہی رہی تھیں مگر جب انھوں نے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دی تو لوگ سمجھ گئے یہ ناممکن ہے اس سے یہ بھی لگا کہ بس اب انتہا ہوگئی ہے وہ اپنی ہی شروع کی گئی جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور جلد ہی جنگ کو روکنے والے ہیں۔ انھوں نے ایران کو جو 8 اپریل تک کی مہلت یا الٹی میٹم دیا تھا وہ دراصل جنگ کو روکنے کی تاریخ تھی اور پھر وہی کہ جنگ رک گئی مگر اس میں پاکستان کی ثالثی کامیاب ہوئی ہے جو ہم پاکستانیوں کے لیے باعث فخر ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بُری خبر ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہیں ہوا، جے ڈی وینس امریکا روانہ

Published

on


اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک مختصر پریس بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں مختلف اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران بھرپور لچک اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ ایران کے سامنے اپنی ریڈ لائنز بھی واضح کر دیں۔

ان کے مطابق امریکی وفد نے ایرانی حکام کو ایک بہترین پیشکش دی تاہم معاہدے تک نہ پہنچنا ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ کن نکات پر اتفاق ممکن ہے اور کن پر نہیں اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرے۔

امریکی نائب صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا جو اس پورے مذاکراتی عمل کا ایک مرکزی نکتہ رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پریس بریفنگ کے فوری بعد امریکا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ایئرپورٹ پر انہیں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے رخصت کیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کے بعد – ایکسپریس اردو

Published

on


اسرائیل ،گریٹر اسرائیل نہ بن سکا، اس کا سہرا ایران کے غیرت مند لوگوں کو جاتا ہے۔ وہ سامراجی قہر کے سامنے ڈٹے رہے، سینہ تان کے ۔ بلاشبہ پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں، طویل عرصے بعد ہماری قیادت نے اس ملک کے مفادات کی درست طور پر ترجمانی کی ۔

اکثر ہم امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے تھے۔ اس بار ہمیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں۔ امریکا اور کئی ممالک کی خواہش تھی کہ پاکستان جنگ میں کود پڑے۔ ہم سنبھل کر چلے، ہم دفاعی حوالے سے مضبوط تو ہیں مگر مقروض بہت ہیں، ایک ایسی پگڈنڈی تھی جس پر ہرقدم سنبھل کر رکھنا تھا۔

بھروسہ اور ٹرمپ دونوں متضاد حقیقتیں ہیں۔ یہ سب مہربانیاں مودی صاحب کی ہیں، وہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں ہمارے ساتھ جنگ کرنے میں پہل کر بیٹھے، ہمارے پاس اس بار بھروسہ والی چینی ٹیکنالوجی تھی، ہم نے ایک ہی جھٹکے میں دشمن کے سات رافیل جہاز گرادیے۔

دنیا حیرت میں پڑ گئی۔ ابھی تو جنگ چلنی تھی مگر مودی نے ٹرمپ کو بار بار فون کیا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ سیز فائر کروا دو۔وہاں سے ہم نے اپنا کھویا وقار بحال کیا جو ابھی نندن پر گنوایا تھا۔

کس طرح سے ڈپلومیسی کی جاتی ہے شاید جنگ سے بھی زیادہ حساس معاملہ ہے۔ جنگ تو آمنے سامنے ہونے کا نام ہے، سفارتکاری تو پیوندکاری ہے، باریکیاں اور پیچیدگیاں ہیں، الجھی ڈوریوں کو سلجھانا ہے۔ اس بار وہ کام کیا پاکستان نے، دنیا حیران رہ گئی۔

سعودی عرب کو بھی ایران سے بچائے رکھا، تاکہ دفاعی معاہدے کا بھرم رہ جائے اور ایران کو بھی بات چیت میں مصروف رکھا، پاکستان نے اس بار کوئی اڈے نہیں دیے، ایران کو یہ بات اچھی لگی۔ چین نے بھی ایران کو بتایا کہ پاکستان پر بھروسہ کرنا ہوگا۔

امریکا ہمارے ساتھ یاری نبھاتا رہا اور ہندوستان اسرائیل کے ساتھ یاری نبھانے میں سب حدیں پار کرگیا اور اچانک جس کا ہمیں شک تھا وہی ہوا ،اسرائیل اور ہندوستان نے مل کر افغانستان میں طالبان کی حکومت کی حمایت کردی۔ ہم نے بھی ایک دن ضایع کیے بغیر افغانستان کے اندر گھس کر اس کو ’’سمجھایا‘‘ کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے طالبان کو افغانستان میں پناہ نہ دے۔

ہندوستان افغانستان کو بچانے کے لیے بیچ میں نہیں آیا۔ اسے کہیں سے اشارہ تھا کہ پہلے ایران سے نپٹ لیں ۔ایران در اصل ہماری جنگ لڑ رہا تھا، خلیج میں امریکا کے اڈے ہیں، ایران کہتا ہے کہ وہ اڈے اس کے خلاف استعمال ہورہے تھے۔ امریکا اور اسرائیل گریٹر اسرائیل بنا نے جارہے تھے ، لیکن بساط الٹ گئی ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے دفاعی معاہدہ کیا ہے ہندوستان کے ساتھ۔ سب سے زیادہ اسرائیل کے بعد کسی اور ملکوں کو ایران نے نشانے پر رکھا وہ تھے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات۔

اس جنگ میں جو ہمارے سامنے آبنائے ہارمز بند ہونے پر عیاں ہوا کہ ہماری تینوں بندر گاہیں ، ویسٹ وہارف اور ایسٹ وہارف کراچی اور گوادر کی بندرگاہ اتنی مصروف رہیں جس کا ہمیں اندازہ نہ تھا۔ ہمارا کراچی کا ایئرپورٹ بھی پھر ابھر کے سامنے آیا۔

یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ایران سے تیل نہیں لے سکتے ، اس سے گیس نہیں لے سکتے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم خود ہند وستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے اور ایرانی گیس پائپ لائن یہاں سے ہندوستان نہیں جاسکتی، جب کہ یورپ کے تمام ممالک ایسی سرحدیں کھول کر بیٹھے ہیں، یہ سب گریٹر اسرائیل کی ایک شکل تھی۔

یہ جو ہمارے اوپر اتنے قرضے ہیں اورپھر ہم پر قرضے اس لیے بھی ہیں کہ ہم ایران اور ہندوستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے۔ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہم سینٹرل ایشیا نہیں جاسکتے، انگریزی میں اس کو competitive advantage  کہا جاتا ہے۔

یعنی جو سستا ہے وہ لو اور جہاںمنافع زیادہ ہے وہاں بیچو، ہم اس کے برعکس چلتے رہے۔ اب ہندوستان میں بھی ایک سوچ ابھر رہی ہے کہ وہ چین سے دوستی بڑھائے، روس سے تجارت پاکستان کے ذریعے راہ داری بناکر کرے۔ یہ پورا region امیر ہوسکتا ہے ،اگر ہم اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر کریں۔

بلاشبہ ہمیں تین چار ارب ڈالر دبئی سے آتے ہیں وہاں تار کین وطن جو کام کرتے ہیں وہ ہم بھیجتے ہیں۔ ہم نہیں چاہیں گے کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات یہ خراب کرنا چاہے گا۔

اس جنگ کے بعد بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ امریکا اب سپر طاقت نہیںرہا۔ ایران کے ساتھ روس ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا تھا اور چین بھی۔ ہند وستان جو اسرائیل کی ٹیکنالوجی لے کر ہم سے لڑا اور ہم چین سے جہاز لے کر اس سے لڑے۔ دنیا اب multilateral ہوگئی ہے۔ ہم پر امریکا کا دباؤ کم ہوا ہے۔ یہ جنگ بھی چین کی مداخلت پر ختم ہوتی ہے۔ ایران کو چین نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھروسہ کرے۔

ٹرمپ کے لیے امریکا کے اندر اس بار بڑی مخالفت کا سامنا ہے، وہ اب طاقتور نہیں رہا، اس سے پاور شفٹ ہوگئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس، نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات ٹرمپ ہارے گا۔ اب تیزی سے یہ بیانیہ مضبوط ہورہا ہے کہ ٹرمپ ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔

جنگ عظیم دوم کے موقع پر روس میں سائبیریا کی نومبر ودسمبرکی سردی جس طرح جرمنی کے ہٹلر کی شکست کا سبب بنی تھی ،بالکل اسی طرح امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایران کا ایک ایسا مہلک ہتھیار ثابت ہوا کہ جس کی وجہ سے امریکا کو ہتھیار پھینک کر جنگ بندی کرنا پڑی۔ اتنا سبق تو ٹرمپ کو مل گیا ہوگا ، اگلی بار جنگ کرنے سے پہلے کسی جوتشی سے فال ضرور نکلوائے گا۔

اب ہم جنگ کے بعد کے زمانے یا عہد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ طاقت کا سر چشمہ اب ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا ہے سینٹرل ایشیا اور رشیا ہے۔ پاکستان اندر سے اپنے ہاوس کو آرڈر میں لائے ۔ ہمیں فوکس کر نا ہو گا معاشی حوالے سے یہ ہماری جغرافیائی حیثیت تھی ،جس نے ہمیں سر خرو کیا ۔ ہمیں کراچی او ر گوادر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی میڈیا مذاکرات کی کامیابی پر شکوک وشبہات پیدا کرنے میں مگن

Published

on


پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے مابین اسلام آباد مذاکرات پر جہاں دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، وہیں بھارتی میڈیا اور اس کے منہ پھٹ اینکرز اسلام آباد کی مثبت کاوش کو نقصان اور مذاکرات کی کامیابی پر شک وشبہات پیدا کرنے میں مگن ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان عالمی امن کے مرکز بن کر ابھرنا معمول پیش رفت نہیں، ایک حقیقی سفارتی لمحہ ہے جس نے پاکستان کو مغرب اور مشرق کے مابین پل کا کردار دیا ہے۔

40 سے زائد عالمی میڈیا اداروں نے مذاکرات کی کوریج کیلئے ویزوں کے درخواستیں دے چکے، معروف بھارتی نیوز چینلز  پرائم ٹائم مباحثوں میں پاکستان کے مشرق اور مغرب کے مابین سفارتی پل کے کردار پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا. 

بھارتی اینکر ارناب گوسوامی نے پوری پیش رفت اور جنگ بندی کا ایک مذاق قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کیسے ایران امریکا ثالثی کرا سکتا ہے۔

جے ڈی وینس کی سکیورٹی کے  سوال پر سابق امریکی سفیر جیفیری گنٹر  سخت برہمی کا اظہار کیا۔

انڈیا ٹوڈے نے لائیو براڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ نائب صدر وینس پاکستان کا رخ نہیں کریں گے، طیارہ راستے میں موڑ کر واپس جا سکتے ہیں۔

اس کی برعکس جے ڈی وینس کا طیارہ اسلام آباد اترا جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔ اسی براڈکاسٹ میں دعوے ہوئے کہ کوئی بھی پاکستان کو امن مذاکرات کا کریڈٹ دینا نہیں چاہتا۔ 

ایک اینکر نے دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر کا طیارے اسلام آباد پہنچنے سے قبل لاپتا ہونے کی پراتھنا کی جا رہی ہیں۔

یہ پرارتھنا پدمناتھ سوامی مندر میں ہوئیں جہاں مقامی پنڈتوں کو وزیراعظم مودی نے پرارتھنا کیلئے 3000 روپے فی کس دیئے، یہ یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ طیارہ پاکستان نہیں پہنچنے گا۔

بھارتی میڈیا کا لہجہ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول  کے ’’دوول ڈاکٹرئن‘‘ کے تحت بیانیہ کا عکاس ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار بنانا اور  اس کے تحت کئی سال سے بھارت پاکستان کو دہشت گردی برآمد کرنیوالی فیکٹری قراردے رہا ہے۔

سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے فورم پر کہا کہ بھارت سکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز پیدا کرتا ہے، پاکستان صرف دہشت گرد۔

اس بیانیہ نے مغربی پارٹنرز کیساتھ اتحاد بنانے اور عالمی تاثر تشکیل دینے میں بھارت کی معاونت کی۔

تاہم 2020 میں یورپی یونین کی ڈس انفولیب نے 15سالہ بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورک  بے نقاب اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں 100 کے قریب ملکوں میں 750 جعلی میڈیا اداروں اور 265 بھارت نواز ویب سائٹ کے ڈس انفارمیشن میں ملوث ہونے کا نشاندہی کی، اقوام متحدہ کی منظورشدہ 10 این جی اوزاور متعدد تنظیموں کو بھی مبینہ طور پر ملوث قرار دیا۔

تفتیش کاروں کے مطابق ڈس انفارمیشن کا مقصد عالمی پلیٹ فارمز استعمال کرکے پاکستان کے خلاف وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ 

تاہم سینئر رہنما کانگریس ششتی تھرور نے اس پیش رفت پر کہا کہ امن کاوشوں میں پاکستان کا کردار مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، جغرافیہ وعلاقائی حقائق اسلام آباد کو کشیدگی کے خاتمہ میں براہ راست فریق بناتے ہیں،کشیدگی کے خاتمے کی کسی بھی حقیقی کاوش پر ہمیں خوش ہونا چاہیے، کیونکہ استحکام سے سب کے مفادات جڑے ہیں، جن میں توانائی، سلامتی اور معاشی استحکام شامل ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending