Connect with us

Today News

کچھ اپنے بارے میں – ایکسپریس اردو

Published

on


ایکسپریس میڈیا گروپ سے مجھے وابستہ ہوئے بیسواں سال شروع ہونے والا ہے ۔ ایڈیٹر ایڈیٹوریل لطیف چوہدری صاحب سے تعلق ابتداء میں ہی قائم ہو گیا تھا۔ ہم مختلف موضوعات پر اکثر گفتگو کرتے جس میں عالمی، مقامی اور خطے کی سیاست ، مذہبی اور سماجی معاملات زیر بحث آتے ۔

اُن میں سے کچھ معاملات انتہائی حساس ہوتے جن پر کھلے عام گفتگو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھی۔ لیکن ہم سب ان معاملات پر انتہائی آسانی اور مزے سے گفتگو کرتے، اس طرح ہمارا کتھارس ہو جاتا اور ذہنی و نفسیاتی بوجھ بھی ختم ہو جاتا ۔ ذہنی ہم آہنگی بہت کم لوگوں سے ہوپاتی ہے ، خاص طور پر نظریاتی ہم آہنگی۔ ہمارے معاشرے میں مسلسل اور بتدریج بڑھتی ہوئی سماجی و قانونی جکڑ بندیوں نے نظریاتی اور تھیالوجیکل مباحث مشکل بنا دیئے ہیں۔

مجھے پیش گوئیاں کرتے ہوئے 35واں برس شروع ہو گیا ہے ۔ پہلی پیشگوئی 6مارچ1992کو مرحوم منو بھائی صاحب کے کالم میں چھپی تھی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مال روڈ لاہور پر ایک جلوس نکلا ہوا تھا جس میں منو بھائی سمیت لاہور کے تقریباً سبھی ترقی پسند صحافی و اہل قلم شامل تھے ۔ میں منو بھائی کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا تھا اور وہ میرے پسندیدہ کالم نگار تھے ۔ دوسرے ایک ہی ایریا میں ہم رہتے تھے ۔

میں بھی جلوس میں شامل ہونے کے لیے لاہور کے مال روڈ پہنچ گیا،ساتھ ہی وہ کاغذ بھی لے گیا جس پر چند پیش گوئیاں لکھی ہوئی تھیں۔ منوبھائی سے ملاقات ہوئی، میں نے پیش گوئیوں والا کاغذ اُس ہجوم میں اُن کے حوالے کردیا ۔ ایک دو دن بعد میں نے دیکھا کہ انھوں نے میری تمام پیشگوئیاں اپنے کالم کی زینت بنا دیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اجمل خٹک مرحوم سے اگلے دن ملاقات ہوئی تو مجھ سے کہنے لگے، نقوی صاحب آج تو آپ پورے پاکستان میں مشہور ہو گئے ۔ بہرحال یہ ایک الگ کہانی ہے ۔

بہت ساری پیش گوئیوں میں مرتضیٰ بھٹو کے حوالے سے پشین گوئی بھی شامل تھی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب مرتضی بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کرکے پاکستان آئے تو لاہور آنے پر انھوں نے مجھے ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کیا آپ کے پاس ٹائم ہے ، میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ نہر کنارے اپنے پارٹی ساتھیوں کو بتایا کہ نقوی صاحب نے میری جلا وطنی کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی کہ اتنے سال ، اتنے مہینے اور اتنے دن بعد میری جلا وطنی ختم ہو جائے گی۔ میں نے اور میرے دوستوں نے بیٹھ کر حساب لگایا تو عین اُسی دن میں نے پاکستان میں قدم رکھا جس کی نقوی صاحب نے پیش گوئی کی تھی۔ اور اُس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی سب کو بتایا کہ یہ پیش گوئی لندن میں ایک اردو اخبار میں چھپی جسے میری والدہ نصرت بھٹو نے مجھے شام کے دارالحکومت دمشق بھیجا۔ بہرحال مرتضی بھٹو نے کراچی آنے کی دعوت دی ۔ ایک معروف ہوٹل جہاں میرا قیام کئی ماہ رہا، تفصیل پھر کبھی سہی۔

بہرحال مجھ گمنام کی شہرت کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے ۔ منو بھائی کے کالم میں چھپی ہوئی پیش گوئیوں کے بعد صبح سے رات گئے تک ٹیلی فون کا سلسلہ جاری رہتا ، بہرحال سرکار دربار تک رسائی بھی رہی ۔ یہ فن یا صلاحیت مجھے ورثے میں ملی ہے اور اس سے آگاہی مجھے عمر کے ایک خاص حصے میں اچانک حاصل ہوئی۔ یعنی مستقبل میں جھانکنا ۔ پہلے میں ملکی ، عالمی اور خطے کے معاملات کا تجزیہ کرتا ، پھر پیش گوئی کرتا ۔ دنیا میں بیشتر لوگ یا تو تجزیہ کرتے ہیں یا پیش گوئی کرتے ہیں ۔

دنیا میں شائد بہت کم لوگ ہیں جو تجزئیے اور پیش گوئی کو BLEND کر سکتے ہیں ۔ میں تجزئیے سے پیش گوئی کرتا ہوں اور پیش گوئی سے تجزیہ ۔ اگر تجزیہ غلط تو پیش گوئی بھی غلط ۔ درست تجزئیے کے لیے اپنے تعصبات، پسند نا پسند، عقائد سے اوپر اٹھنا ناگزیر ہے ۔ بے رحمانہ مثبت جائزہ، چاہے اپنے ہوں یا پرائے یا اپنی ذات ہوبہت ضروری ہے ۔

اس معاملے میں کوئی معافی نہیں ۔ ملکی سطح پر ایک بڑے سیاستدان اور سینئر قانون دان نے میرے تجزئیوں پر مجھے پروفیسر صاحب کا خطاب دے ڈالا۔ مرحوم پیر پگاڑا صاحب کا بھی دلچسپ واقعہ سن لیں ۔ لاہور میں اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے انھیں بتایا کہ بے نظیر صاحبہ جلد اقتدار میں آنے والی ہیں ۔ انھوں نے کہا، یار Common Senseکی بات کرو ۔ یعنی عقل سے کام لو ۔ جب بے نظیر اقتدار میں آگئیں تو پوچھنے لگے ، اب بتاؤ آگے کیا ہو گا۔ کراچی کنگری ہاؤس آنے کی دعوت دی ۔ سردی ہو یا گرمی ہم ہمیشہ کافی پیتے تھے ۔بہرحال منو بھائی ہوں یا عباس اطہر شاہ جی ۔ اﷲ ان کی مغفرت کرے ۔مجھ جیسے گمنام کو شہرت کے زینوں تک پہنچا دیا۔ یہ وہ شاندار لوگ تھے جو جہاں میرٹ دیکھتے تھے، اس کی انگلی پکڑ کر آگے لے جاتے تھے ۔ اب کہاں ایسے لوگ ۔ اب تو باجماعت میرٹ کا راستہ روکا جاتا ہے ۔

گذشتہ سال جون میں اسرائیل ایران جنگ ہو یا بھارت پاکستان جنگ ۔ تاریخوں کے حساب سے پشین گوئیاں پوری ہوئیں ۔ حالیہ جنگ سے ہفتوں پہلے میں نے اپنے کالم میں پیش گوئی کی تھی کہ امریکا ایران ڈیل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں مشرق وسطی کی ری برتھ ضرور ہو گی۔ اب میری 30مارچ کی تازہ ترین پشین گوئی ہی دیکھ لیں، میں نے لکھا تھا کہ اس جنگ کا مستقبل کیا ہے ، اس کا پتہ 8سے 12اپریل کے دوران چلے گا اور عین 8تاریخ کو جنگ بندی ہو گئی۔

اب جنگ بندی کے حوالے سے فوری اہم تاریخیں 12-13اپریل اور خاص طور پر 18-17 -16-15اپریل ہیں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کیا پی ٹی آئی کے اسیر رہنما اعجاز چوہدری کو اسپتال منتقل کیا گیا؟ جیل حکام نے تردید کردی

Published

on



کوٹ لکھپت جیل حکام نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کی تردید کی ہے کہ پاکستان تحریک اںصاف(پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر پرانی خبر اور ویڈیو گردش کر رہی ہے کہ رہنما تحریک انصاف اعجاز چوہدری کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

جیل حکام کی جانب سے اس خبر کی تردید کی جا رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا میں دعویٰ کیا گیا کہ اعجاز چوہدری کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جس میں انہیں اسپتال میں زیرعلاج دکھایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کو 9 مئی 2023 کو عمران خان کی القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے مختلف کیسز میں گرفتار کیا گیا تھا، انہیں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد اور سرفراز چیمہ سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ متعدد کیسز میں طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

اعجاز چوہدری کو اس سے قبل گزشتہ برس بھی جیل میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ان کے دل کی شریانوں کی پیوند کاری کی گئی اور اس کے بعد ان کی طبیعت بحال ہونے پر واپس جیل منتقل کردیا گیا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، ایس ایس پی ملیر کا سرپرائز دورہ، اسٹریٹ کرائمز کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا حکم

Published

on



کراچی:

شہرِ قائد میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں جہاں ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے تھانہ شرافی گوٹھ کی حدود میں اچانک سرپرائز دورہ کیا۔

دورے کے دوران انہوں نے شاہ فیصل برج، شارع بھٹو اور اطراف کے علاقوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور شرافی گوٹھ میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

ایس ایس پی ملیر نے موقع پر موجود ایس ایچ او سے سیکیورٹی صورتحال اور نفری کی تعیناتی پر تفصیلی بریفنگ لی اور پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا۔

انہوں نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس مقصد میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ڈاکٹر عبدالخالق نے واضح کیا کہ اسٹریٹ کرائمز میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے مؤثر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو چوکس اور مستعد رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فرائض میں غفلت یا لاپرواہی کی صورت میں سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، ناتھاخان پل کے نیچے پولیس مقابلہ، زخمی ڈاکو گرفتار

Published

on



کراچی:

شہرِ قائد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جہاں شاہراہِ فیصل پولیس نے ناتھاخان پل کے نیچے مبینہ مقابلے کے دوران ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے جناح منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت ارشد کے نام سے کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending