Today News
زینہ – ایکسپریس اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تضاد بیانی سے ایک دنیا واقف ہے۔ حالیہ امریکا ایران جنگ کے دوران ان کے آئے دن بدلتے بیانات سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا خاصا مشکل رہا ہے۔ جمعرات کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں اور اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہمارے حوالے کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے۔
دونوں فریق جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے قریب ہیں۔ انھوں نے یہ کہا کہ اگر امریکا ایران معاہدہ طے پا گیا تو وہ اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں 20 برس کی کسی حد کو نہیں مانتا اور اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اسی نشست میں انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو زبردست شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے لیے بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔
ہم ایران کے ساتھ ڈیل کے بہت قریب ہیں۔ ادھر ایک سینئر ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بریک تھرو ہو گیا ہے تاہم جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے اور ایرانی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے پر آمادہ ہے تاہم تہران مستقل جنگ بندی اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے مذاکرات میں ہر دو جانب سے دی گئی تجاویز پر 21 گھنٹے طویل بات چیت کے دوران بیش تر امور پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ مذاکرات کی تان جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ٹوٹی تھی۔ بعدازاں امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ماحول کو اور کشیدہ کر دیا لیکن پاکستان کی جانب سے ثالثی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مخلصانہ کوششیں جاری ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفود کے ہمراہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور ایران کے دورے کرکے دو طرفہ تجاویز کے تبادلے اور ایران و خلیجی ممالک کی قیادت سے مفید بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں یہ امید ہو چلی ہے کہ امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پر امریکا ایران اور خلیجی ممالک سب کو کامل اعتماد ہے۔ بالخصوص صدر ٹرمپ دونوں شخصیات کی قائدانہ صلاحیتوں کے خاصے معترف ہیں اور امریکا ایران جنگ سے قبل بھی وہ مختلف مواقعوں پر ان کی اعلانیہ تعریف کرتے رہے ہیں۔ غالب امکان، امید اور توقع یہی ہے کہ پاکستانی قیادت کی مخلصانہ سفارتی کاوشیں رنگ لائیں گی اور امریکا ایران دوسرے مرحلے کے مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور ہر دو فریق کے درمیان اعتماد کے ساتھ قابل قبول معاہدہ طے پا جائے گا اور ہر دو جانب سے اس پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔
امریکا ایران کے درمیان بنیادی اختلاف یورینیم کی افزودگی اور جوہری توانائی کے حصول پر پابندیوں کا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے دنوں صدر ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر گزشتہ سال امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا کر امریکا اور اسرائیل پر حملہ کر دیتا، لیکن صدر ٹرمپ کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایسی کوئی شہادت نہیں دی کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، یہ محض صدر ٹرمپ کی خام خیالی ہے۔
ایران اپنے اس موقف پر تادم تحریر قائم ہے کہ عالمی قوانین کے تحت سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا پورا اختیار حاصل ہے۔ باخبر ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اس بات پر بھی آمادہ ہو گیا تھا کہ وہ پانچ سال تک یورینیم افزودہ نہیں کرے گا، لیکن امریکا نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور اسی باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ صدر ٹرمپ کے اس دعوے میں وزن نظر نہیں آتا کہ ایران تمام افزودہ یورینیم کو امریکا کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔
البتہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر جوہری سرگرمیوں پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے سخت گیر موقف میں لچک پیدا کریں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے پر ایران میں اعلیٰ ایرانی قیادت سے بات چیت کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرکے ایک صائب فیصلہ کیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 12 فی صد تک کم ہو گئیں۔ ادھر صدر ٹرمپ کی کاوشوں سے لبنان اسرائیل جنگ بندی سے کشیدگی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اسرائیل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مستقل قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اسرائیل اور ایران طے پانے والے معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کی ثالثی قیام امن کا زینہ ثابت ہوگی۔
Today News
آبنائے ہرمز بحران، مذاکرات ہی واحد راستہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جب کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، ہمارے پاس اچھی خبر ہے، کل تک سرپرائز ہو سکتا ہے،ایک ذہین شخص وائٹ ہاوس آئے گا، انھوں نے دھمکی دی کہ بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم کردی جائے گی۔ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ فریم ورک معاہدے تک امریکا کے ساتھ مزید براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔
امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کے خلاف ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جب کہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جب کہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف دو ، دن باقی رہ گئے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی لغزش بھی وسیع پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جنگ بندی کے دن گنے جا رہے ہیں، بیانات کی شدت بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے اعصاب کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں سفارت کاری کی ہر کوشش، ہر رابطہ اور ہر مصالحتی قدم غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
اس پیچیدہ اور خطرناک منظرنامے میں پاکستان کا کردار ایک سنجیدہ، متوازن اور ذمے دار ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو زندہ رکھا بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ باور کرایا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط بداعتمادی، جغرافیائی سیاست اور مفادات کے ٹکراؤ کا عکاس ہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں اطراف سے سخت بیانات نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایران کا یہ مؤقف کہ جب تک اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان اور دباؤ کو مسترد کرنے کی پالیسی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں جنگ بندی کا خاتمہ محض ایک سفارتی ناکامی نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک ایسے تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کو محض ایک علاقائی معاملہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی، یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہے، جس کے ذریعے دنیا کی معیشت کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی پیدا کی بلکہ عالمی تجارت کے دھارے کو بھی متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک کے جہازوں کو واپس لوٹنے کی ہدایات، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور عسکری موجودگی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اس پس منظر میں ایران کی جانب سے مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھولنے کی پیشکش ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر یہ اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک اعتماد کی فضا بحال نہ ہو۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خود امریکا کے اندر سے بھی اس جنگی ماحول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سابق امریکی قیادت کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی غیر مقبول اور غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا بیانیہ کمزور ہو رہا ہے جب کہ سفارت کاری کی ضرورت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر قائم ہیںاور یہی ہٹ دھرمی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی کوششیں امید کی ایک کرن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت حکمت، بردباری اور سنجیدگی کے ساتھ اس نازک معاملے میں کردار ادا کیا ہے۔ تہران میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں، مسلسل رابطے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نہ صرف خطے کے امن میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایسے حساس اور پیچیدہ تنازعے میں دونوں فریق پاکستان کی ثالثی پر آمادہ ہوئے۔پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو محض وقتی پیش رفت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو جنگ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں قیادت سے ملاقاتوں میں جس انداز سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے تسلسل پر زور دیا گیا، وہ ایک ذمے دار عسکری قیادت کی عکاسی کرتا ہے جو صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی امن کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سفارتی محاذ پر جو سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک متوازن اور فعال رخ کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے۔ ایران فریم ورک معاہدے کے بغیر براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، جب کہ امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں دکھائی دیتا۔ ایران کی قیادت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔ دوسری طرف امریکا یہ مؤقف رکھتا ہے کہ خطے میں اپنی سیکیورٹی اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس تضاد نے مذاکرات کو ایک مشکل امتحان بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے اور وہ ہے خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست۔ ایران کا یہ دعویٰ کہ وہ جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے اور اسی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کسی کمزور فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی نگرانی جاری رکھنے اور اس سے گزرنے والے جہازوں پر شرائط عائد کرنے پر مصر ہے۔ اس طرز عمل کو بعض حلقے دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جب کہ ایران اسے اپنے دفاع کا حق سمجھتا ہے۔دوسری جانب امریکا کے اندر بھی پالیسی کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ بعض حلقے جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دے رہے ہیں اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔
یہ داخلی دباؤ بھی مذاکرات کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہیں تو حکومت کے لیے طویل عرصے تک سخت مؤقف پر قائم رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ایسے پیچیدہ حالات میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک بااثر ملک بھی ہے جس کے ایران سمیت کئی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں، جو اسے ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک مؤثر ثالث بناتا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا طویل المدتی طور پر اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے، جب کہ امریکا کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ دباؤ کی پالیسی ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتی۔ فریقین کو اپنی پوزیشن میں لچک دکھانی ہوگی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی ثالثی ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ خطے کے عوام، جو پہلے ہی عدم استحکام، مہنگائی اور غیر یقینی کا شکار ہیں، کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہر بم، ہر میزائل اور ہر عسکری کارروائی دراصل انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے، جن کا ازالہ دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، اور نفرت کی نئی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قیادتیں اپنی ذمے داری کا احساس کریں اور ایسے فیصلے کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بن سکیں۔اسلام آباد میں متوقع مذاکرات اس تناظر میں امید کی ایک اہم کرن ہیں۔ یہ نہ صرف ایک جغرافیائی مقام ہے بلکہ ایک علامت بھی بن چکا ہے کہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین اگر ایک بڑے تنازعے کے حل کا ذریعہ بنتی ہے تو یہ نہ صرف اس ملک بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت مثال ہوگی۔
Today News
شادی کی تقریب سے چند لمحے قبل دلہن پر بھابھی نے سیاہ پینٹ پھینک دیا
برطانیہ میں ایک دلہن کی شادی اس وقت خوفناک واقعے کا شکار ہو گئی جب اس کی بھابھی نے تقریب سے چند لمحے قبل اس پر سیاہ پینٹ پھینک دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے مطابق یہ واقعہ ایک طویل خاندانی تنازع کے نتیجے میں پیش آیا۔ 35 سالہ جیما مونک اپنے بچپن کے ساتھی سے شادی کے لیے بے حد پرجوش تھیں۔
سفید لباس میں ملبوس، وہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے خوشی خوشی شادی ہال کی جانب بڑھ رہی تھیں کہ اچانک کسی نے ان کا نام پکارا۔ وہ رکیں اور اگلے ہی لمحے سیاہ پینٹ ان کے چہرے اور لباس پر بہہ رہا تھا۔
یہ حملہ کسی اجنبی نے نہیں بلکہ جیما مونک کی اپنی بھابھی نے کیا جس کے ساتھ خاندانی تنازع کافی عرصے سے جاری تھا۔
Source link
Today News
’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘
شاید یہ ورلڈ کپ کے دنوں کی بات ہے ، کیمرہ پاکستانی ڈگ آئوٹ میں بیٹھے بابر اعظم کی جانب گیا جو مایوسی سے سر جھکائے بیٹھے تھے، ناقص فارم اس کی وجہ تھی، مجھے انھیں ایسے دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، میں نے اس پر ایک کالم بھی لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’بابر اعظم کا اداس چہرہ‘‘ البتہ پھر اسے مکمل کیے بغیر ڈلیٹ کر دیا،اس امید کے ساتھ کہ وہ جلد فارم میں واپس آئیں گے تو لکھوں گا کہ ’’بابر اعظم کا ہنستا مسکراتا چہرہ‘‘ ، شکر ہے یہ وقت چند ماہ بعد ہی آ گیا۔
جب کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم نہ کر سکے اور میڈیا خامیوں پر بات کرے تو اس کے پرستار سمجھتے ہیں کہ صحافی اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی، بابر کسی ایک شہر نہیں پورے ملک کے اسٹار ہیں، ان کا جب نام لیا جائے تو لاہور نہیں بلکہ پاکستان ساتھ لکھا ہوتا ہے۔
انھوں نے متواتر عمدہ کارکردگی سے اپنے لیے ایسا معیار سیٹ کر لیا کہ ففٹی کریں تو بھی لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کیا، پھر ان سے فارم روٹھ گئی اور برسوں یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران بابر سے کئی غلطیاں بھی ہوئیں، سب سے بڑی غلطی ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری تھی، اس سے انھیں جلد فارم بحال کرنے کا موقع نہ ملا۔
جب انسان کچھ بن جائے تو پھر اس کی ایگو سینئرز کے ساتھ مشاورت سے بھی روکتی ہے کہ میں اتنا بڑا اسٹار مجھے کوئی کیا سکھائے گا، بابر نے بھی خامیاں دور کرنے کیلیے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں سے زیادہ رابطہ نہ کیا،اس کا نقصان ہوا، اب بھی ان کی فارم ڈومیسٹک لیگ (پی ایس ایل ) سے ہی واپس آئی ہے ناں، پشاور زلمی کی جانب سے وہ ماضی والے بابر ہی نظر آ رہے ہیں جو میدان میں اپنے کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے،وہ نہ صرف خود پرفارم کر رہے ہیں بلکہ دیگر کو بھی اچھی کارکردگی کی تحریک دلائی ہے۔
اسی لیے ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ گئی، بابر کے مداحوں کو برا تو لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، چھوٹی بائونڈریز، ڈیڈ پچز، کمزور بولنگ یہ عوامل کسی بھی بیٹر کو بریڈ مین بنا سکتے ہیں، البتہ بابر کی اپنی کلاس ہے، طویل عرصے بعد پاکستان کو اتنا اچھا کوئی کھلاڑی ملا، مسئلہ اعتماد کا بھی تھا جو اگر آپ میں نہ ہو تو سڑک بھی پار نہیں کر سکتے۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں بابر کی حالیہ ناکامیوں کا بڑا سبب خود اعتمادی کا فقدان بنا، البتہ اب لگتا ہے کہ یہ ایشو حل ہو جائے گا، البتہ انھیں بھی اب احتیاط سے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہیے، برے دور میں بابر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جس گروپ کے ’’زیرسایہ‘‘ ہیں اس نے انھیں فائدے سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا، وہ لوگ ان کا نام استعمال کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
اب اس حوالے سے ان کو احتیاط برتنی چاہیے، ساتھ ’’کنگ‘‘ جیسے ٹائٹلز کو سر پر سوار نہ کریں، کوہلی سے موازنے جیسی باتیں بھی بھلا دیں، ایسا پرفارم کریں کہ بھارتی کرکٹرز کا موازنہ بابر کے ساتھ ہو، مشکل وقت میں وہی لوگ انھیں برا بھلا کہتے رہے جو کامیابی کے دنوں میں خوشامدیں کرتے تھے، خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں،سوشل میڈیا سے جتنا دور رہیں گے اتنا اچھا ہے، ابھی ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگلے سال ون ڈے ورلڈکپ ہونا ہے، اس میں فتح کیلیے ہمیں اصل بابر اعظم درکار ہوگا۔
بھارت کیخلاف وہ عمدہ پرفارم نہیں کر پاتے اس جمود کا خاتمہ کریں، بڑی ٹیموں سے میچز میں پاکستان کو فتح دلائیں تب ہی مزا آئے گا، ابھی بابر نے پی ایس ایل میں چند اچھی اننگز ہی کھیلی ہیں کہ ان کے دوست نما دشمن سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے اور دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کا قومی کپتان بنوانے کی مہم شروع کر دی، درحقیقت کپتانی نے بھی بابر کو بڑا نقصان پہنچایا، قومی ٹیم میں ان کے گہرے دوست بھی پرائے ہو گئے، اپنی کارکردگی پر توجہ کم ہوئی تو فارم بھی متاثر ہونے لگی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کپتانی کے ساتھ ٹیم میں جگہ بھی گنوا بیٹھے، اب خاموشی سے اپنے کھیل پر توجہ دیں، کپتانی کا بالکل نہ سوچیں، سلمان علی آغا کی فارم خراب ہے، ان کو قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، پھر نیا کپتان لانا پڑے گا۔
یہ سب باتیں بورڈ کے سوچنے کی ہیں، بابر کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے انھیں اس سے ہی پرفارم کرنا چاہیے، وہ کئی ریکارڈز توڑ سکتے ہیں، اگر پھر انھیں کپتانی، کنگ یا اس جیسی باتوں میں لگایا تو پھر شاید دوسرا موقع نہ ملے، ایک وقت تھا جب ہم یہی سوچتے تھے کہ نئی نسل کا کوئی کرکٹر ایسا نہیں جو دوسروں کو کرکٹ کی جانب راغب کر سکے، اشتہارات میں بھی سابق اسٹارز کو ہی لینا پڑتا تھا پھر ہمیں بابر اعظم ملے جنھوں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا، میدان میں آمد پر ’’بابر بابر‘‘ کے نعرے لگتے، پھر زوال آیا لیکن اب پھر عروج کا دور آتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بابر کے سامنے چاہے حریف بولر جہانداد خان ہو یا ابرار وہ جسپریت بمرا کا سامنا کریں یا راشد خان کا ان کی کلاس وہی رہے گی، ساری دنیا اس بات کو جانتی ہے، جو مسائل تھے انھیں دور کرنے کا موقع مل گیا جس سے فائدہ بھی اٹھایا،اب ہمیں وہی بابر اعظم دیکھنا ہے جس کے کور ڈرائیو کی دنیا دیوانی ہے۔
اگر وہ170 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائیں گے تو کون بے وقوف انھیں باہر کرنے کا کہے گا،سب کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ پاور پلے کا بہترین استعمال کر کے اسکور بنائیں، ہاں اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئے پھر تنقید تو ہو گی، وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے، شاید بابر بھی یہ جان چکے، لگتا ہے پرانا بابر واپس آ چکا، آپ کا کیا خیال ہے؟
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports1 week ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان
-
Sports2 weeks ago
Injured Naseem Shah out of action – Newspaper
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Today News2 weeks ago
Unusually Strong Winds in Karachi: What Will the Weather Be Like Over the Next 3 Days?