Connect with us

Today News

کروڑوں کے جانوروں میں خاص کیا؟

Published

on



کراچی کے ایکسپریس سینٹر میں منعقد ہونے والی ملک کی سب سے بڑی مویشی نمائش اپنے تمام تر رنگوں اور رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔

اس نمائش میں پاکستان کے 250 سے زائد فارمز نے اپنے نایاب اور قیمتی ترین جانور پیش کیے، جنہیں دیکھنے کے لیے شہریوں کا سمندر امڈ آیا۔

نمائش کے دوران ’وی آئی پی‘ (VIP) بلاک مرکزِ نگاہ رہا، جہاں گلابی چولستانی اور ملکہ نسل کے وزنی بیلوں نے سب کو حیران کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹر عائشہ خان سے بات کرتے ہوئے فارم مالکان نے بتایا کہ اس بار خریداروں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ نمائش میں جہاں ’قربانی لوور‘ نامی بیل 25 لاکھ روپے میں فروخت ہوا، وہیں 1 کروڑ اور ساڑھے 3 کروڑ روپے مالیت کے جانوروں کے سودے بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

اس میلے کا سب سے بڑا شاہکار وہ سیاہ رنگ کا بھاری بھرکم بیل تھا جس کی قیمت 4 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ شہریوں نے نہ صرف ان جانوروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں بلکہ ’پٹھان‘ نامی غصیلے مگر خوبصورت بیل کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہیں۔

نمائش کے آخری روز شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ہمراہ شرکت کی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایسے فیسٹیولز سے جہاں بچوں کو قربانی کے جانوروں کے بارے میں معلومات ملتی ہے، وہیں یہ کراچی کی رونقوں میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق نمائش کی کامیابی اور شہریوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں اسے مزید بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

میلہ ختم ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر ان نایاب جانوروں کے چرچے اب بھی جاری ہیں، جو اس ایونٹ کی غیر معمولی کامیابی کا ثبوت ہیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران دھمکیوں کیساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف

Published

on



ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے ساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا جبکہ ایران نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئی عسکری صلاحیتوں کی تیاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایران پر دباؤ بڑھا کر مذاکراتی عمل کو اپنی خواہش کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی میزمیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگی کارروائیوں کا جواز پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان جنگ میں ئنے کارڈز سامنے لانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

ادھر ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد  ایران نے مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کردیے جبکہ ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

   ایرانی ڈرونز ٹیکنالوجی نے دنیا میں طاقت کا تصور بدل دیا

Published

on



ایرانی ڈرونز کا پہلا تذکرہ برسوں قبل اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں سے متعلق فوجی رپورٹس میں سامنے آیا،بعدازاں عسکری ماہرین نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز کا سِرا بھی ایرانی صنعت سے جوڑا،تاہم ستمبر 2022 میں دنیا اْس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے،اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 (شاہد-136) نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کئیو کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ 40 برس سے پابندیوں کا شکار ملک بین الاقوامی تنازعات میں کھیل کے اصول کیسے بدلنے میں کامیاب ہو گیا؟ کون سی بنیادی قدریں اور عوامل تھے جنھوں نے اسے ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابی دلائی؟یہ دراصل 1979 کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ہی تھیں جنھوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک میں دستیاب امکانات پر غور کرنے، مشکلات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے اور درست فیصلے کرنے پر مجبور کیا انہی پابندیوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک کے انجینیئروں پر اعتماد کرنے پر آمادہ کیا،پابندیوں کے باعث ایران نے بیرونِ ملک سپلائی نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ضروری ساز و سامان اور پرزہ جات حاصل کیے جا سکیں۔

جنوری 1979ء میں جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی،ایرانی فضائیہ اس وقت ایف 14 ٹام کیٹ، ایف 4 فینٹم اور ایف 5 ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی،اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔

شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی قیادت یا تو ملک چھوڑ گئی، قتل کر دی گئی یا قید میں ڈال دی گئی، ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہایت خونریز جنگ شروع ہوئی،جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے،جنگ کے ابتدائی مراحل میں عراقی افواج کو فضائی برتری حاصل رہی۔

دوسری جانب ایرانی افواج ایک ایسی جنگ لڑ رہی تھیں جس کے لیے ان کے پاس نہ واضح وژن تھا اور نہ ہی ضروری عسکری صلاحیت،ایران کو ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی تھی لیکن معاشی پابندیوں نے اسے عالمی منڈی سے یہ ٹیکنالوجی خریدنے کے قابل نہ رہنے دیا۔

چنانچہ ایرانیوں نے 1981 کے اوائل ہی میں ان چھوٹے آلات پر کام شروع کر دیا،ان پر کیمروں کی تنصیب کا خیال زیرِ غور آیا۔ اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی،برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں یہ نوجوان ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے،ان میں ایک سویلین پائلٹ جس کا نام فرشید تھا، دوسرا سعید نامی فزکس کا طالبعلم اور تیسرا مسعود زاہدی نامی پیشہ ور سنار تھا۔

جب پہلی مرتبہ انھوں نے اپنا ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا،یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا،اس کا فیول ٹینک ایک طبی آئی وی بیگ تھا، جبکہ اس کا ’فین‘ یا پنکھا مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا، 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا۔

 یہ طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے،یہ پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک طالب علمانہ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر مزید  11 نئی شرائط عائد

Published

on



پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت مزید 11 نئی شرائط شامل کردی گئی ہیں، جس کے بعد گزشتہ دو برس میں مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی سے اسی پروگرام کے اہداف کے مطابق منظور کروایا جائے گا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ بجٹ کی منظوری آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت دی جا رہی ہے،حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں مالیاتی خسارے کوکم رکھاجائے گا اور زیادہ معاشی ترقی کا ہدف مقرر نہیں کیاجائے گا۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پاکستان کو 2027 تک اسپیشل اکنامک زونز  اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونزسے متعلق قوانین میں ترمیم کرنا ہوگی،جس کے ذریعے موجودہ ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرکے لاگت کی بنیاد پرمراعات دی جائیں گی، تمام مراعات 2035 تک مکمل طور پر ختم کرنے کاہدف مقررکیاگیا ۔

مزید برآں، حکومت ایکسپورٹ پروسیسنگ زونزکومقامی مارکیٹ میں مصنوعات فروخت کرنے سے روک دے گی، تاکہ ٹیکس چوری کو روکاجاسکے،توانائی کے شعبے میں بھی نئی شرائط کے تحت بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدگی سے اضافہ کیاجائیگا،جبکہ سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ لازمی ہوگی۔

کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلیے حکومت جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کرے گی،جبکہ فیڈرل بورڈآف ریونیوکاآڈٹ نظام مزید مؤثر اور مرکزی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اسی طرح پبلک پروکیورمنٹ کے قوانین میں ترمیم کر کے سرکاری اداروں کو بغیر مقابلے کے ٹھیکے دینے کی سہولت ختم کی جائے گی،عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلیے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم کو 14,500 روپے سے بڑھاکر 19,500 روپے کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کااطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف اب تک اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 3 ارب ڈالرفراہم کر چکاہے، اگلی قسط ایک ارب ڈالر مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending