Connect with us

Today News

Ayeza Khan’s Bold Photoshoot Fails to Impress Fans

Published

on


نامور پاکستانی اداکارہ عائزہ خان کا بولڈ فوٹو شوٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جو مداحوں کو متاثر نہ کر سکا۔ 

اداکارہ عائزہ خان پاکستان کی مقبول ٹی وی اداکارہ ہیں، جن کے انسٹاگرام پر تقریباً 14.9 ملین فالوورز ہیں۔

ان کے مشہور ڈراموں میں چاند تارا، مہرپوش، چوہدری اینڈ سنز، میرے پاس تم ہو، محبت تم سے نفرت ہے، پیارے افضل، لاپتا اور جانِ جہاں شامل ہیں۔

حال ہی میں مداحوں نے نجی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ہمراز میں ان کی شاندار اداکاری کو بھی سراہا۔

اس عیدالفطر پر عائزہ خان نے اپنے بولڈ انداز کے باعث خبروں میں جگہ بنائی، جب انہوں نے عید لک کی تصاویر شیئر کیں، جو کہ ماضی میں ان کی ذاتی پسند کے خلاف تھا کیونکہ وہ پہلے ایسے لباس نہیں پہنتی تھیں۔

آج عائزہ خان نے ایک اور بولڈ عید فوٹو شوٹ شیئر کیا، جس میں وہ سفید سلکی بغیر آستین والے لباس میں نظر آئیں۔

انہوں نے لکھا ’عید پر فوٹو شوٹ کیا تھا مگر پوسٹ کرنا بھول گئی۔ اس بار عید واقعی بہت مصروف گزری لیکن ہر لمحہ بہت اچھا لگا!

تاہم عائزہ خان کے پرانے مداح ان کے بدلتے ہوئے ڈریسنگ اسٹائل سے خاصے مایوس نظر آئے۔

ایک صارف نے لکھا کہ مجھے یاد ہے آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آپ بغیر آستین والے کپڑے نہیں پہنتیں اور مکمل باوقار لباس کو ترجیح دیتی ہیں۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ شاید انہیں بولڈ انداز کی وجہ سے زیادہ شہرت مل رہی ہے، اسی لیے وہ اب ایسا کر رہی ہیں۔

ایک مداح نے تنقید کرتے ہوئے کہا ’عائزہ، ہمارے کمنٹس پڑھیں، یہ لباس اچھا نہیں لگ رہا، یہ بہت زیادہ ریویلنگ ہے‘۔ 

کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ اداکار شہرت اور پیسے کے لیے ایسے انداز اپناتے ہیں، جب کہ ایک نے لکھا کہ صرف ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کرنا سمجھ سے باہر ہے۔

یہ فوٹو شوٹ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں مداحوں کی ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

درآمدی سرگرمیوں کی معطلی، روئی کی قیمت میں فی من 1500 روپے کا ریکارڈ اضافہ

Published

on



کراچی:

خلیج میں جاری جنگ کے باعث درآمدی سرگرمیوں کی معطلی سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت ایک ہزار 500 روپے کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح 19 ہزار 500روپے جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت ایک ہزار روپے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 300روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہیں اور رواں ہفتے بھی روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔

کاٹن سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ مقامی روئی بڑھتی ہوئی طلب کھ پیش نظر کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران کپاس کی کاشت میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے، بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے، ملک بھر کے کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں غیر متوقع کمی اور ہلکی پھلکی بارشوں کے باعث کپاس کی کاشت معطل ہونے سے پاکستان میں گذشتہ دو ہفتوں سے روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے فی من روئی کی قیمت میں ایک ہزار 500روپے اور گزشتہ دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 3ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ رواں سال کی نئی بلند ترین سطح 19ہزار 500روپے جبکہ ایک ماہ کی مؤخر ادائیگی پر 20ہزار روپے فی من کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

رواں ہفتے بھی روئی اور ہھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روئی کی عالمی قیمتیں بھی مئی وعدہ روئی کے سودے ریکارڈ 3.20فیصد اضافے کے ساتھ 69.46سینٹ فی پاؤنڈ کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

پھٹی کی قیمتوں میں بھی تیزی کے رحجان اور کاٹن ایئر2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی کاشت میں بھی خاطر خواہ اضافہ بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں جس سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی واقع ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں دیگر بڑے زرعی ممالک کے مقابلے میں کسانوں کی جانب سے فصلوں کے تصدیق شدہ بیج استعمال کرنے کی شرح پہلے ہی کافی کم ہے تاہم پچھلے سالوں سے یہ شرح بہتر ہو رہی تھی، لیکن اب اتھارٹیز کی جانب نافذ کئے گئے نئے قوانین جن کے تحت کپاس، گندم اور چاول سمیت تمام بڑی فصلوں کے تصدیق شدہ بیجوں کے رائٹس فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ان بیجوں کی مختلف ورائٹیز کے رائٹس خریدنے والی سیڈ کمپنی ہی یہ بیج فروخت کر سکے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کو توانائی شعبے میں تحفظ حاصل

Published

on



اسلام آباد:

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی  کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی  کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔

اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔

مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔

تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی  کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور توانائی بچت اقدامات کے ذریعے نہ صرف درآمدی بل کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ارضی پلیٹیں ٹکرانے سے آبنائے جبل الطارق ماضی بن جائے گی

Published

on



لاہور:

افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے علاوہ بحیرہ روم اور بحراوقیانوس کو باہم ملاتی 36 میل چوڑی آبنائے جبل الطارق تاریخی و اہم بحری گذرگاہ ہے اسی کو عبور کرکے نامور مسلم جرنیل، طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا تھا۔

اب لزبن یونیورسٹی پرتگال اورجوہانس گٹن برگ یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین ارضیات نے مشترکہ تحقیق سے دریافت کیا ہے اس آبنائے کی تہہ میں افریقی اور یورشیائی ارضی پلیٹیں ٹکرا رہی ہیں۔

اسی تصادم کے باعث مستقبل میں دونوں پلیٹیں آپس میں مل جائیں گی یہ عمل جنم لیتے ہی آبنائے جبل الطارق ماضی کا حصہ بن جائیگی۔





Source link

Continue Reading

Trending