Connect with us

Today News

Fact check islamabad drone attack

Published

on


پاکستان نے افغان طالبان کی جانب اسلام آباد میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کا کچا چٹھا کھول دیا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان میڈیا کی جانب سے جاری خبروں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کے دعوے جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔

وزارت اطلاعات نے بتایا کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں کام کرنے والی شدت پسند دہشت گرد تنظیم کے 2 سادہ نوعیت کے ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز کی مدد سے ناکارہ بنائے۔

وزارت اطلاعات نے وضاحت کی کہ ڈرون حملوں میں کسی فوجی یا اہم تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا، البتہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے معمولی نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔

🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting

✅ Reality
◼️Two rudimentary drones of terrorist FAK,nurtured by Afghan Taliban regime, were successfully intercepted by the Pakistan security forces using electronic counter measures. No military or other infrastructure was… pic.twitter.com/aGfJEAq0XL

— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 13, 2026

وزارت اطلاعات نے کہا کہ طالبان حکومت کے دعوؤں کے کوئی شواہد نہیں تاہم یہ صورت حال ایک مرتبہ پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان حکومت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں کردار ادا کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں۔

مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کے سرکاری اکاؤنٹس، خصوصاً نام نہاد وزارتِ دفاع کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ماضی میں بھی متعدد بار غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلاتے رہے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان ایئر فورس کے طیارہ گرانے اور پائلٹس کو گرفتار کرنے کے دعوے بھی اسی نوعیت کے تھے، جنہیں بعد ازاں خاموشی سے حذف کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ادبی اداروں کی خود مختاری

Published

on


حکومت بلوچستان نے بلوچستان کی چاروں زبانوں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیزکی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان کی چار زبانوں کی اکیڈمیز میں اصلاحات کے لیے محکمہ کلچرل ٹوارزم اور آرکائیو کے سیکریٹری کی قیادت میں 21 جولائی 2026ء کو ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی۔

اس کمیٹی کی سفارشات کو بلوچستان کی کابینہ نے منظورکیا۔ ان سفارشات کے تحت Balochistan Regional Languages Academies and Literary Society Act 2025 کی منظوری دی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت ان اکیڈمیز کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس بورڈ کے سربراہ وزیر تعلیم ہونگے۔ بورڈ کے وائس چیئرمین سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ہونگے۔

اس بورڈ کے اراکین میں سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کی زبانوں بلوچی، براہوی، ہزارگی اور پشتو کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی بورڈ کے رکن ہونگے۔ اس بورڈ میں چاروں اکیڈمیز کے چیئرمینز کو بھی شامل کیا گیا۔ اس بورڈ میں ہر زبان کا ایک ایک ماہر بھی شامل ہوگا۔ اب یہ بورڈ ان اکیڈمیز کے انتظامات کے بارے میں تمام فیصلوں کا مجاز ہوگا۔ یوں چاروں زبانوں کی اکیڈمیز کی پہلے والی خود مختاری باقی نہیں رہے گی۔

بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے لسانی اور ثقافتی تنوع کی امین رہی ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبانیں، بلوچی، پشتو، براہوی، جدگالی اور ہزارہ کمیونٹی کی زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعورکی علامت ہیں۔ انھی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے قائم ادبی و تحقیقی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ’’ بلوچستان ریجنل لینگوئجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025‘‘ نے ادبی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔

حال ہی میں کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کے زیر اہتمام ادبی و لسانی اداروں کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین ہیبتان عمر نے کی۔ اجلاس میں پشتو اکیڈمی، براہوی اکیڈمی اور ہزارگی اکیڈمی سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ بل ادبی اداروں کی خود مختاری سلب کرکے انھیں محکمہ کلچر اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے زیرِ انتظام لانے کی کوشش ہے۔ ادبی ادارے صرف سرکاری دفاتر نہیں ہوتے، وہ فکری آزادی اور تخلیقی اظہار کے مراکز ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی اصل قوت ان کی خود مختاری میں مضمر ہے، جو انھیں سرکاری دباؤ یا بیوروکریٹک رکاوٹوں سے آزاد رکھتی ہے۔

یہی آزادی انھیں زبانوں کی تحقیق، لغت سازی، نصابی معاونت، کلاسیکی ادب کی اشاعت اور نئی نسل کی تربیت کے لیے فعال بناتی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ بل نہ صرف ادبی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کی روح کے بھی منافی ہے، جس کے تحت یہ ادارے بطور خود مختار تنظیمیں کام کر رہے ہیں۔ چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا آئین ہر قوم کو اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

ایسے میں بغیر مشاورت کوئی قانون سازی جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ اداروں کو سرکاری نظم و نسق میں لا کر مالی اور انتظامی شفافیت بہتر بنائی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کا تجربہ اس دعوے کی تائید کرتا ہے؟ محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بلوچستان آرٹ کونسل کی غیر فعالیت اور تعلیمی شعبے کی موجودہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ محض سرکاری تحویل مسائل کا حل نہیں۔ براہوی اکیڈمی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوی نے بجا طور پر کہا کہ جب محکمہ تعلیم اور ثقافت سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صوبے میں تعلیمی پسماندگی ختم نہ کر سکے تو ادبی اداروں کو سرکاری بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنا ان کی کارکردگی کو مزید سست کر سکتا ہے۔

 بلوچستان میں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں، ایسے میں زبانوں کی ترقی کا بوجھ بھی انھی محکموں پر ڈال دینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں زبان محض ثقافتی موضوع نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حساسیت بھی رکھتی ہے۔ یہاں کی زبانیں طویل عرصے تک قومی بیانیے میں حاشیے پر رہی ہیں۔ ادبی اداروں نے اسی خلا کو پُرکرنے کے لیے شبانہ روز محنت کی ہے۔

لغات کی تیاری،کلاسیکی شعرا کی تدوین، جدید ادب کی اشاعت اور نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی، یہ سب کام بیوروکریٹک فائلوں کے بجائے فکری جذبے سے ہوتے ہیں۔ بلوچستان مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ بدامنی کی صورتحال ختم ہوتی نظر نہیںآتی۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں۔ بلوچ طلبہ اپنے کیریئر کو بنانے کے لیے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی طرف بھی آتے ہیں۔ بلوچ طلبہ میں کیریئر بنانے کا رجحان بلوچستان کے مخصوص حالات میں ایک دیے کی روشنی کی طرح ہے۔ اربابِ اختیار ان طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کر کے امید کے اس دیے کو روشنی کے میناروں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ادبی اداروں میں تخلیقی علم اس وقت پروان چڑھا ہے جب ادارے ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔

ادبی اداروں کے ریاستی کنٹرول میں آنے کا مطلب تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے دورِ اقتدار میں رائٹرزگلڈ کا قیام عمل میں آیا مگر جب رائٹرز گلڈ مکمل طور پر سرکاری ہوئی تو اس ادارہ کا کردار ختم ہوگیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اردو اور اردو ڈکشنری بورڈ وغیرہ بیوروکریسی کے کنٹرول میں آنے کے بعد ایسے حقیقی خوف سے دور ہوگئے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ بلوچستان کے ادبی اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھا جائے جب کہ وفاقی اور بلوچستان کی حکومت ان اداروں کو مالیاتی امداد فراہم کرتی رہے، اگر ان اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تو خدشہ ہے کہ تخلیقی سرگرمیاں روایتی سرکاری طریقہ کارکی نذر ہو جائیں گی۔ فن اور ادب کی دنیا میں حکم نامے نہیں، مکالمہ اور تخلیقیت چلتی ہے۔

سرکاری ڈھانچے میں شامل ہونے کے بعد بجٹ، تقرریوں اور پالیسیوں پر سیاسی اثر و رسوخ کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جو ادبی آزادی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ادیبوں کے اس مشترکہ اجلاس کے شرکاء کا بنیادی اعتراض یہی تھا کہ بل کی تیاری میں متعلقہ اداروں سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک ایسا قانون جو براہ راست ادبی و لسانی تنظیموں کو متاثرکرے، اس کی تشکیل میں انھی اداروں کو شامل نہ کرنا، جمہوری روح کے منافی ہے۔ ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی زبانوں کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے اداروں کو مضبوط کرنے، مالی معاونت بڑھانے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کرنی چاہیے نہ کہ ان کی انتظامی ساخت بدل کر انھیں سرکاری تحویل میں لے آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت اور ادبی ادارے آمنے سامنے کھڑے ہوں۔

ایک متوازن حل یہ ہو سکتا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے مشترکہ مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیات اور ماہرینِ لسانیات شامل ہوں۔ اس طرح نہ صرف اداروں کی خود مختاری برقرار رہے گی بلکہ حکومتی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ علاوہ ازیں، زبانوں کو نصاب میں مؤثر طور پر شامل کرنا، ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا اور نوجوان نسل کو مقامی زبانوں کی تعلیم سے جوڑنا زیادہ سود مند اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ زبانوں کی ترقی کا اصل راستہ انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ تعلیمی اور سماجی شمولیت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کو واپس لے کر ادبی اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔

یہ مطالبہ صرف ادارہ جاتی مفاد کا نہیں بلکہ صوبے کی لسانی شناخت اور ثقافتی بقا کا سوال ہے۔ بلوچستان کی سیاسی اور ادبی امور کے ماہر اورکئی کتابوں کے مصنف عزیز سنگھور کے مطابق زبانیں قوموں کی روح ہوتی ہیں، اگر ان کے محافظ اداروں کی آزادی سلب کر لی جائے تو تخلیقی عمل ماند پڑ جاتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی عجلت کے بجائے فکری سنجیدگی سے دیکھے۔ بلوچستان کی لسانی وراثت ایک مشترکہ اثاثہ ہے، اسے مضبوط کرنے کا راستہ شراکت اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ سرکاری تحویل کے یک طرفہ فیصلوں سے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون سازی سے پہلے مکالمہ ہو، اختلاف کو سنا جائے، اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے واقعی معاون ثابت ہوں۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ ایک اچھے مقصد کے نام پر اٹھایا گیا قدم لسانی و ادبی زوال کا پیش خیمہ بن جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لکی مروت میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 6 خوارج ہلاک

Published

on



انسداد دہشت گردی فورس بنوں نے لگی مروت میں ایک کارروائی کے دوران 6 خوارجیوں کو ہلاک کر کے بھاری تعداد میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور ایمونیشن برآمد کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی بنوں ریجن  کا  ضلع لکی مروت تھانہ گمبیلا کی حدود شاگئی کے علاقے میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔

دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی سوات کی ٹیم کو دیکھتے ہی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی اور اس میں 6 خارجی ہلاک جبکہ دیگر فرار ہوگئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق آپریشن میں ہلاک ہونے والے خارجی علاقے میں خوف و ہراس کی علامت تھے جنہیں کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے 4 کلاشنکوفیں، 2 عدد 9 ایم ایم پستول، 8 گرینیڈز، آئی ای ڈی، میگزینیں اور کارتوس برآمد ہوئے۔

پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں اور خوارج کے درمیان 40 منٹ تک مقابلہ جاری رہا جس کے بعد سرچ آپریشن میں خوارج ہلاک ہوئے۔ جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

اندار اور بروقت کارراوئی پر آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکسٹس ٹیم کے جوانوں کو شاباش دی جبکہ آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ خارجیوں کا ان کے محفوظ ٹھکانوں تک پیچھا کر کے کیفرکردار تک پہنچائیں گے اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائیگا، امن دشمنوں کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ وطنِ عزیز کی مٹی کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر جوان ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی سفارتکاری

Published

on


ایران تنازع کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، خطے کے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پرکام جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران حملے جاری اورآبنائے ہرمزکو بند رکھے گا، جب کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے نفع بخش ہے۔

 ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، توانائی کی فراہمی اور عالمی سلامتی کے نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسے حساس اور نازک حالات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اس کے روابط خصوصی اہمیت اختیارکرگئے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشاورت اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تلاش تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگی کارروائیاں ایک وسیع شکل اختیارکرتی جا رہی ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے وسیع فضائی حملوں نے خطے میں شدید رد عمل کو جنم دیا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے مختلف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ لبنان میں موجود حزب اللہ نے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغے جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

 اطلاعات کے مطابق بعض امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ دبئی کے مرکزی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات نے خلیجی خطے میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ عراق کے شہر بصرہ میں بندرگاہ پر آئل ٹرمینلزکی بندش اور بحرین میں تیل کے ٹینکوں میں آتشزدگی جیسے واقعات نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں عید کی تقریبات اور مختلف عوامی پروگرام بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں جب کہ سیاحت اور فضائی سفر کے شعبے کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے۔

ان واقعات کے فوری اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ بڑی معیشتوں کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور معیشت کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سطح پر فوری تشویش کا باعث بنتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا جواب دیتا رہے گا اور آبنائے ہرمزکو بند رکھنے کے فیصلے پر قائم رہے گا۔

 موجودہ بحران صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ اس میں بڑی عالمی طاقتوں کے براہ راست ملوث ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکا پہلے ہی اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے جب کہ خطے میں اس کے متعدد فوجی اڈے موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے بھی عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات عالمی بحران کے دوران غیر ذمے دارانہ سمجھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں بعض اوقات معاشی مفادات کو انسانی جانوں اور عالمی امن پر ترجیح دیتی ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس صورتحال میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ بحران کے حوالے سے سفارتی مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اس صورتحال میں انتہائی متوازن اور ذمے دارانہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ اسی تناظر میں ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ بھی اچھے ہمسایہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری کا بنیادی مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا اور کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے تنازعات، جنگوں اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ ان تنازعات نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لی ہیں اور کروڑوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکے اور فوری طور پر سفارتی اقدامات کو تیز کرے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ جنگ بندی، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی وہ راستے ہیں جو اس خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتے ہیں۔دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔

موجودہ بحران دنیا کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اگر عالمی قیادت نے دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا تو اس بحران کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر طاقت کے استعمال اور جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع ایک بڑے اور خطرناک تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

لہٰذا وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تمام فریق فوری طور پر جنگ بندی کریں، مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران سے بچا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending