Today News
Fact check islamabad drone attack
پاکستان نے افغان طالبان کی جانب اسلام آباد میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کا کچا چٹھا کھول دیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان میڈیا کی جانب سے جاری خبروں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کے دعوے جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔
وزارت اطلاعات نے بتایا کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں کام کرنے والی شدت پسند دہشت گرد تنظیم کے 2 سادہ نوعیت کے ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز کی مدد سے ناکارہ بنائے۔
وزارت اطلاعات نے وضاحت کی کہ ڈرون حملوں میں کسی فوجی یا اہم تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا، البتہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے معمولی نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
✅ Reality
◼️Two rudimentary drones of terrorist FAK,nurtured by Afghan Taliban regime, were successfully intercepted by the Pakistan security forces using electronic counter measures. No military or other infrastructure was… pic.twitter.com/aGfJEAq0XL— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 13, 2026
وزارت اطلاعات نے کہا کہ طالبان حکومت کے دعوؤں کے کوئی شواہد نہیں تاہم یہ صورت حال ایک مرتبہ پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان حکومت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں کردار ادا کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں۔
مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کے سرکاری اکاؤنٹس، خصوصاً نام نہاد وزارتِ دفاع کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ماضی میں بھی متعدد بار غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلاتے رہے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان ایئر فورس کے طیارہ گرانے اور پائلٹس کو گرفتار کرنے کے دعوے بھی اسی نوعیت کے تھے، جنہیں بعد ازاں خاموشی سے حذف کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔
Today News
جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے
جنگ و جدل سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ جنگ و جدل سے فقط مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جنگ و جدل نام ہے جوانوں کی موت کا اور وسائل کے ضیاع کا۔ پھر یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ جنگ میں کسی فریق کی جیت نہیں ہوتی اور جنگ کا آغاز ہوتا ہے جوش و غضب سے اور انجام ہوتا ہے افسوس، رنج و الم سے۔ معلوم انسانی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان نے دوسرے کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا بلکہ جنگ و جدل سے بسا اوقات ایک ہی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ زیادہ دور کی بات نہیں،گزشتہ صدی میں دو عالمگیر جنگیں لڑی گئیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان عالمگیر جنگوں میں کم ازکم پانچ کروڑ لوگ موت کی وادیوں میں جا بسے۔ یہ تذکرہ ضروری ہے کہ اولین عالمگیر جنگ 1914 سے 1917 تک جاری رہی جب کہ دوسری عالمگیر جنگ 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ البتہ 1950-51 میں کوریا کی جنگ میں بتایا جاتا ہے کہ 20 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے، دیگر چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہیں لیکن 6 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ ہو گئی۔
اس جنگ میں دونوں ممالک کا انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ اس جنگ میں پاک بھارت دونوں کی جانب سے کامیابی و فتح کے دعوے کیے گئے، البتہ 1967-68 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، اس جنگ میں امریکی مدد و تعاون سے اسرائیل نے عربوں کے بہت سارے علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ تاحال قائم ہے جب کہ 1971 میں نومبر کی 21 تاریخ کو پاک بھارت جنگ پھر شروع ہوگئی۔ نتیجہ میں مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ بھارت اس جنگ میں فتح مند ہونے کا دعویدار ضرور ہے مگر حقیقت میں ہمارے اپنوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ 1979 کے آخری ایام تھے، خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں سوویت یونین ایک سے ڈیڑھ لاکھ فوجی لے کر داخل ہو گیا۔
سوویت یونین کے وسائل و افغانستان کا جانی نقصان بے حد ہوا۔ یہ جنگ 1988 کو اختتام پذیر ہوئی جب کہ 1980 میں عراق و ایران کے درمیان ایک بے مقصد جنگ چھیڑ دی گئی اس جنگ کے مقاصد آج تک سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ جنگ بھی 1988 کو ختم ہوئی مگر لاحاصل۔ ایک اور جنگ کا تذکرہ بھی کرتے چلیں یہ جنگ 1983 میں لڑی گئی۔ یہ جنگ تھی ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان۔ یہ جنگ برطانیہ نے پانچ ہزار کلومیٹر دور جا کر لڑی۔ یہ جنگ برطانیہ نے ایک جزیرے کے حصول کے لیے لڑی اور برطانیہ اپنے جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ البتہ 1990 میں صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا نتیجۃً سعودی عرب کی درخواست پر امریکا اپنے اتحادیوں سمیت جنوری 1991 میں عراق پر حملہ آور ہوا اور عراق کے پانچ لاکھ لوگ خواتین، بچوں و بزرگوں سمیت جاں بحق ہوگئے اور کویت پر عراقی قبضہ ختم ہو گیا۔
1999 کا زمانہ تھا جب پاک بھارت معرکہ کارگل ہوا، مزید ذکر نہ کریں تو مناسب ہوگا۔ البتہ 2001 میں پاکستان و بھارت کے درمیان مکمل جنگی فضا قائم ہو گئی لیکن اس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر کہ جنگ کرنی ہے تو یہ جنگ چند گھنٹے کی جنگ ہوگی آؤ جنگ کر لو۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کی فوجیں اپنے اپنے سابقہ مقام پر واپس منتقل ہو گئیں۔ ایک جنگ کا تھوڑا ذکر کر لیں بلکہ جارحیت کا۔ 11 ستمبر 2001 کے دن سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینیٹر پیش آیا امریکا نے اس سانحہ کا ذمے دار افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ آور ہوا، لاکھوں افغان شہری جاں بحق ہوئے مگر بالآخر امریکا کا حشر وہی ہوا جو ویت نام میں ہوا تھا کہ آخری فوجی ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جان بچا کر نکلا جب کہ مارچ 2003 میں امریکا نے عراق پر جارحیت کی مگر اس بار عراقیوں نے بھرپور مزاحمت کی اور گوریلا جنگ لڑی، البتہ عراقی صدر اس موقع پر جاں بحق ہوئے۔
تھوڑا ماضی میں جاتے ہیں تو پچاس کی دہائی میں امریکا نے ویت نام پر جارحیت کی اور 24 برس تک خوب اسلحے کا استعمال کیا اور آخر کار راہ فرار اختیار کی۔ 2010 میں امریکا نے لیبیا میں خانہ جنگی کروائی اور قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ چند برس قبل ملک شام میں خانہ جنگی ہوئی وہاں کے حکمران بشارالاسد کی حکومت ختم ہوئی اور وہاں رجیم چینج ہوا۔ پس پردہ امریکا تھا لیکن 2023 اکتوبر کی 7 تاریخ کو اسرائیل مکمل امریکی مدد و تعاون کے غزہ پر حملہ آور ہوگیا، یہ کھلی جارحیت تھی۔ بے دریغ قتل عام ہوتا رہا۔ 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے، ایک لاکھ مجروح ہوئے۔ یہ سب عام شہری تھے۔ یہ جارحیت جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری ہے جب کہ چار برس سے روس یوکرین بے مقصد جنگ بھی ہنوز جاری ہے۔
البتہ 7 مئی 2025 کو جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ 3 یوم بھارتی جارحیت جاری رہی، البتہ 10 مئی کو جب پاکستان نے دندان شکن جوابی حملہ کیا تو نریندر مودی کا سارا غرور خاک ہوا۔ چند گھنٹوں میں بھارت نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ البتہ ماہ جون 2025 میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ ایران کو تر نوالہ جان کر حملہ آور ہوا۔ ایران نے منہ توڑ جواب دیا تو امریکا نے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ جنگ بند کروائی جب کہ پاکستان افغانستان تنازع ابھی جاری تھا کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل و امریکا ایران پر حملہ آور ہوئے۔ اس حملے میں ابتدا میں ایران کا شدید جانی نقصان ہوا۔ ایران کا جوابی حملہ بڑا شدید تھا۔ اگرچہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای دیگر قیادت کے ساتھ شہید ہو گئے۔
اس کے باوجود ایران نہ صرف پوری قوت کے ساتھ اسرائیل کے شہروں پر میزائل حملے کر رہا ہے، اگرچہ اسرائیل نے سخت رویہ اپناتے یہ پابندی عائد کر رکھی ہے پھر بھی موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کا جانی نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایران مختلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے بلکہ امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے اسرائیل و امریکا کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جب کہ امریکی صدر کو ایران پر حملے کرنے و اسرائیلی جنگ میں کودنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بالخصوص ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنانے پر جس میں 168 معصوم طالبات شہید ہوگئیں، جن کی عمریں 7 برس سے 12 برس تک تھیں جب کہ امریکی ایوان بالا کے رکن مسٹر شومر نے امریکی صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکا کے 193 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جب کہ جنگ ابھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ایران جنگ سے فراغت کے بعد وہ کیوبا پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرچکے ہیں، وہ اگر کیوبا پر حملہ کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ شمالی کوریا کیوبا کا ساتھ دیتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہو جائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ کا دائرہ مزید ملکوں تک پھیل جائے گا، گویا تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہو جائے گا، چنانچہ لازمی بات ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایران اسرائیل و امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن بنائی جائے یہی دنیا کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ جنگ مسائل پیدا کرتی ہے مسائل حل نہیں کرتی۔
Today News
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.0 ریکارڈ
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق لانڈھی اور کورنگی کے مختلف علاقوں میں اچانک جھٹکے محسوس ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شہر کے جنوب میں 4.0 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں سمندر میں تھا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ یہ زلزلہ 1 بج کر 27 منٹ پر ریکارڈ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔
Today News
جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا (آخری حصہ)
دنیا کی معیشت کی ایک عجیب عادت ہے جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف دوڑنے لگتی ہیں اور آبنائے ہرمز تو ایک شعلہ بنتا ہے جیسے ہی اس کے گرد جنگی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو لندن اور نیویارک کی تیل کی منڈیوں میں آگ لگ جاتی ہے،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ 20 ملین بیرل سے بھی زائد تیل اسی تنگ گزرگاہ سے گزر کر مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس بحری راستے کی سانس جیسے ہی تنگ ہونے لگتی ہے، پاکستانی معیشت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ ان لمحات میں حکومت کا یہ فیصلہ خوش آیند ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے پٹرول کو آدھا کردیا جائے۔
پٹرول کے خرچے میں نصف کٹوتی دراصل ایک انتظامی فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے جو ہرمز کی لہروں نے ہمیں دیا ہے کہ جب عالمی معیشت کے طوفان تیز ہو جائیں تو قوموں کو اپنی کشتی کا وزن کم کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی غیر ضروری سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی ہے اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔
پاکستان کی برآمدات سے دگنی مالیت اب درآمدات کی ہو کر رہ گئیں جس کے باعث اب تک8 ماہ میں برآمدات سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ ہو چکا ہے، اگر حکومت اس قسم کے اقدامات نہ اٹھاتی تو تجارتی خسارہ برآمدات سے دگنا ہو سکتا تھا، کیونکہ تجارتی خسارے کی کہانی میں اگر کسی ایک کردار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ تیل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پاکستان کے درآمدی بل کا اب تک تقریباً چوتھائی حصہ بنتا ہے، لیکن اب یہ 35 سے 40 فی صد تک جا سکتا ہے۔
جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت کی لاگت، خوراک سمیت مکانوں کے کرائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تیل ہی اس کا مرکزی کردار نظر آتا ہے۔ جب 1973 میں تیل کا بحران آیا تو مغربی معیشتیں ہل کر رہ گئیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے کنویں جلتے رہے اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اس کی تپش جھلساتی رہی۔ اب جب کہ امریکا، ایران جنگ میں جیسے جیسے تیزی آ رہی ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال ہمیشہ امتحان بن جاتی ہے کیونکہ معیشت کے بڑے حصے کا دار و مدار درآمدی توانائی پر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی فیصلے کرنے کے بجائے پاکستان کو ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پاس سورج کی روشنی کا پورے سال کا خزانہ موجود ہے، سولر سسٹم کے ذریعے اس خزانے سے بڑی مقدار میں بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ بڑے بڑے بہتے دریاؤں پر بند باندھے جا سکتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح الیکٹرک ٹرانسپورٹ بھی پٹرول کی بچت کا اہم ذریعہ ہے، اگر بڑے شہروں میں الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو پٹرول کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں اب بھی کراچی کے ساحل سے ٹکرا رہی ہیں، ان لہروں کے شور میں ایک خاموش پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ قومیں اپنی معیشت کو مضبوط نہ کریں تو ایک دن توانائی کی قیمتیں ہی ان کے بجٹ کا فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے قبل کہ وہ وقت آ جائے حکومت نے خوش آئند اعلان کر دیا کہ پٹرول آدھا کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی یہ ایک عارضی حل ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان کا توانائی پر درآمدی انحصار ہے۔ جب تک پاکستان ملک میں موجود تیل اور گیس کے کنوؤں کی پیداوار نہیں بڑھاتا، نئے نئے ذخائر تلاش نہیں کرتا، قابل تجدید توانائی کو فروغ نہیں دیتا، پاکستان عالمی توانائی کے بحران سے نمٹتے نمٹتے مافیاز کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کس طرح ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوکر رہے گا، لہٰذا وہ ہر مال سے اپنے گوداموں، ذخیرہ گاہوں کو بھر لیتے ہیں۔ پہلے ہی قیمت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب ہر شے کی قلت پیدا کر کے اس کے دام دگنے سے تگنے کر دیے جاتے ہیں اور اربوں روپے منافع کما کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی جائے۔ اس فیصلے کو کئی سالوں کے لیے کیا جانا ضروری ہے کیونکہ کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جس کے پاس گاڑیوں کی طویل قطار نہ ہو۔ کئی اچھی گاڑیاں معمولی خرابی کی بنا پر ایک طرف کھڑی کر دی جاتی ہیں اور بہت جلد ان کو نیلام کرنے کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ نیلام کرنے والوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ یہ گاڑی کتنی اچھی ہے اور خریدار بھی جانتا ہے کہ بس معمولی خرابی ہے۔
چند لاکھ خرچ کیے گاڑی خرید کر چند ہزار میں معمولی نقص دور کرا دیا اور کروڑوں کی گاڑی ہاتھ لگ جاتی ہے، لہٰذا انھی معمولی یا زیادہ خراب گاڑیوں کو درست کرایا جائے تاوقت یہ کہ انتہائی ضرورت کے عالم میں نئی گاڑی بشرطیکہ زیادہ قیمتی نہ ہو وہ خرید لی جائے۔ وزیر اعظم کے اعلانات کے تحت جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ ایک مثبت قدم ہے۔ خاص طور پر پٹرول کے خرچ کو آدھا کر دینے کے مثبت اثرات توانائی کے اخراجات پر مرتب ہوں گے جس سے ملک کے بڑھتے ہوئے ہوش ربا تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person