Connect with us

Today News

foreign debt interest 2025 3.59 billion dollar federal finance ministry

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں جبکہ مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر جبکہ 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی ہے، مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں، جس میں بیرونی حکومتی قرض کا حجم تقریباً 92 ارب ڈالر اور بیرونی عوامی قرض کا 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ رعایتی ذرائع سے حاصل کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر اوسطاً تقریباً 4 فیصد سود ادا کر رہا ہے اور اس حوالے سے 8 فیصد کا دعویٰ گمراہ کن ہے، مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر جبکہ 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد اضافے کی رپورٹ درست نہیں ہے جبکہ اصل اضافہ 80.4 فیصد ہے، جس میں آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادائیگی سمیت 580 ملین ڈالر سود شامل ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کو 1.54 ارب ڈالر، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر اور 94 ملین ڈالر سود کی مد میں ادائیگی کی گئی ہے، بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادائیگی، 327 ملین ڈالر سود شامل ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ نے بتایا کہ سود میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے،  2022-23 میں زرمبادلہ ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے کم ہو گئے تھے تاہم آئی ایم ایف ای ایف ایف پروگرام اور کثیرالجہتی فنڈنگ سے ذخائر کی بحالی ممکن ہوئی۔

مزید بتایا گیا کہ عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا، امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5.25 تا 5.50 فیصد تک بڑھائی تھی تاہم حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے، صدرمملکت

Published

on



صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے لیے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے شہریوں کی دہشت گردی کے خلاف تحفظ کے لیے ہیں۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے لوگوں کے تحفظ کے حق کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور یہ کارروائیاں بارہا خبردار کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر کی گئی ہیں۔

انہوں نے اپنے گزشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو جگہ فراہم کی جائے گی، سہولت یا سرحد سے ماورا استثنیٰ دیا جائے گا تو اس کے نتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنے پڑتے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کی صورت حال پر انتہائی تشویش ہے جہاں طالبان حکومت نے نائن الیون جیسی یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کیے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے کہ کابل کی عبوری انتظامیہ، جس کو اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے، نے دہشت گرد عناصر کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کی سرحد کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حال ہی میں آنے والی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی رکن ممالک نے بارہا رپورٹ کیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان موومنٹ، جماعت انصاراللہ، اتحادالمجاہدین پاکستان اور دیگر تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور چند گروپس بیرونی حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتی ہیں۔

صدرمملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان گروپس کی موجودگی اور سرگرمیاں پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے انتہائی شدید خطرات کا باعث ہیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ واضح طور پر خبردار کرنے اور بارہا رابطوں کے باوجود افغان حکام مذکورہ عناصر کے خلاف قابل قبول اور مصدقہ کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک وقت تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنا ردعمل سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا لیکن پاکستان کو مکمل معلومات ہیں کہ دہشت گردی کے مںصوبہ ساز، سہولت کار اور سربراہ کہاں موجود ہیں، اگر پاکستان کے اندر خون ریزی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داران محفوظ نہیں رہیں گے۔

آصف علی زرداری نے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، امن انکار، دوغلاپن یا دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

صدرمملکت نے کہا کہ پاکستانیوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح اور ناقابل سمجھوتہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پشین: سیکیورٹی فورسز نے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، 5 دہشتگرد ہلاک

Published

on



بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور 5 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے اور آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد، دستی بم اور نقشے بھی قبضے میں لیے گئے۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے پشین میں پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے، اس اطلاع کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے پشین کیڈٹ کالج کے قریب ایک مکان کا گھیراؤ کیا جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا تو دہشت گردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی، سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں جواب دیا اور فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اس شدید جھڑپ کے نتیجے میں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل ہونے کے بعد مکان کی تلاشی لی تو وہاں سے جدید اسلحہ، دھماکا خیز مواد کی بھاری مقدار، دستی بم اور اہم مقامات کے نقشے برآمد ہوئے جو دہشت گردوں کے مذموم منصوبوں کی غمازی کر رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

سیکورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گری (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں پر ماضی میں ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث تھے، ان کی ہلاکت سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر سیکیورٹی اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکے، مزید بتایا گیا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے تاکہ کوئی باقی ماندہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل 11: لاہور قلندرز نے اہم جنوبی افریقی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کر لیا

Published

on



پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن سے قبل لاہور قلندرز نے اہم جنوبی افریقی کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔

لاہور قلندرز نے جنوبی افریقی وِکٹ کیپر بیٹر رُوبن ہیرمن کو براہِ راست سائن کیا۔ قلندرز نے اسے باضابطہ طور پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گلووز ہاتھ میں، بیٹ تیار، جنوبی افریقی رُوبن ہیرمن لاہور قلندرز کے لیے براہِ راست سائن کیے جاتے ہیں۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

رُوبن ہیرمن 29 سال کے ہیں اورسات ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں جنوبی افریقا کی نمائندگی کرچکے ہیں جن میں انہوں نے 153 رنز بنائے ہیں اور ایک نصف سنچری بھی اسکور کی ہے۔

ڈومیسٹک اور فرنچائز لیول پر بھی ہیرمن کا تجربہ قابلِ ذکر ہے،   ٹی ٹوئنٹی 65 میچوں میں انہوں نے مجموعی طور پر 1,497 رنز بنائے ہیں، جن میں ایک سنچری اور آٹھ نصف سنچریاں شامل ہیں۔

انہوں نے جنوبی افریقا کی SA20  لیگ میں پیرل رویالز کے لیے بھی کھیلا ہے،جہاں انہوں نے 21 میچوں میں 559 رنز بنائے۔

پی ایس ایل 11 26مارچ سے 3 مئی تک منعقد ہو رہا ہے اور ہیرمن کا شامل ہونا قلندرز کے بیٹنگ آرڈر کو مزید مضبوط بنائے گا۔

لاہور قلندرز کی فائنل ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، عبداللہ شفیق، سکندر رضا، ممتازور رحمان، فخر زمان اور دیگر کے ساتھ رُوبن ہیرمن بھی شامل ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending