Today News
Pakistan 1st lower price ev car will introduce in july 2026
پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں پہلی بار 100فیصد مقامی پرزوں سے میڈ ان پاکستان کار کی تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس الیکٹرک گاڑی ہوگی اور اس کی قیمت دیگر کے مقابلے میں انتہائی کم ہوگی۔
یہ بات انجینرئنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سی ای او حماد منصور نے جمعرات کو سمیڈا کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے منعقدہ افطار ڈنر کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک متعارف کرادی جائے گی۔ مقامی آٹوموٹیو مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی اور لوکلائزیشن کے فروغ کے لیے حکومت رواں سال کے وفاقی بجٹ میں گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کررہی ہے۔
حماد منصور کے مطابق میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی کا پلانٹ پہلی بار لاہور میں قائم کیا جائے گا، میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی کی قیمت دس لاکھ روپے سے کم ہوگی جس سے موٹر سائیکل سے کار کی جانب منتقل ہونے والے صارفین آسانی کے ساتھ منتقل ہوسکیں گے۔
حماد منصور کے مطابق 100فیصد مقامی پرزوں سے تیار ہونے والی ای وی گاڑی ایک چارجنگ پر 180 تا 200کلومیٹر مسافت طے کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ مقامی آٹو موٹیو پالیسی کے تحت وزیراعظم کی جانب سے لوکل آٹو مینوفیکچرز کو بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ میڈ ان پاکستان گاڑیوں کی 100فیصد لوکلائزیشن کرکے مستقبل میں انہیں سستی لاگت پر برآمد کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا گیا ہے۔
سی ای او، ای ڈی بی کے مطابق پاکستان میں بڑی آٹو کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے جسکا اندازہ انکی تیار شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے رحجان سے لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی دو سے تین کمپنیاں میڈ ان پاکستان گاڑیاں بنانا چاہتی ہیں، وزیر اعظم نے الیکٹرک موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی واضح کمی کرکے برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حماد منصور کا کہنا تھا کہ معیشت و جی ڈی پی نمو اور روزگار کے وسیع البنیاد مواقع کی فراہمی اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت نے نئی آٹوموٹیو پالیسی کے تحت آٹو پارٹس کی درآمدات کی حوصلہ شکنی اور مقامی سطح پر آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے ترغیبات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ایس ایم ایز جو آٹو پارٹس بنارہے ہیں انکا گاڑیوں میں استعمال ہونا ضروری ہے لہذا نئی آٹو پالیسی ان حقائق کو مدنظر رکھ کر بنائی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے پروگرام کے تحت لوکلائزیشن کے فروغ، الیکٹرک ٹو وھیلرز اور تھری وھیلرز کے لیے 100ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی جسکے تحت اگلے چار سالوں میں 22لاکھ الیکٹرک ٹو وہیلرز اور تھری وہیلرز پر مرحلہ وار سبسڈی فراہم کی جائے گی، پہلے مرحلے میں 40ہزار الیکٹرک ٹو وہیلرز اور تھری وھیلرز سبسڈی دی جارہی ہے۔
اُن کے مطابق الیکٹرک موٹر بائیک پر 80ہزار روپے جبکہ تھری وہیلر الیکٹرک رکشہ پر 4لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عیدالفطر کے بعد سبسڈی پروگرام میں مزید 77ہزار الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلرز کو شامل کرلیا جائے گا جبکہ جولائی کے بعد مزید ڈھائی لاکھ ٹو اور تھری وہیلرز کو شامل کیا جائے گا۔ اس طرح سے اگلے چار سالوں میں مرحلہ وار 22لاکھ الیکٹرخ ٹو اور تھری وھیلرز پر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں حماد منصور نے بتایا کہ مقامی سطح پر لیتھئیم بیٹریاں تیار کرنے کی 4صنعتیں قائم کی جارہی ہیں جس میں سے پہلی فیکٹری مئی 2026 میں اپنی تیار کردہ لیتھئیم بیٹری متعارف کرادے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ای وی (الیکٹرک گاڑیوں) میں تین اہم چیزیں لیتھیم بیٹری، چارجر اور کنٹرولر ہوتا ہے جو پاکستان میں تیار کیا جارہا ہے، اس کے علاوہ گاڑی ایک بار چارج میں 180 سے 200 کلومیٹر کا سفر طے کرسکے گی۔
Today News
انفاق فی سبیل اﷲ – ایکسپریس اردو
رمضان کی فضا میں ایک عجیب سی نرمی ہوتی ہے، دل خود بہ خود جھکنے لگتا ہے، آنکھیں رب تعالی کی بارگاہ میں بھیگ جاتی ہیں اور انسان کو پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی اصل دولت وہ نہیں جو ہاتھ میں ہے بلکہ وہ ہے جو اﷲ کی راہ میں دے دی جائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں انفاق فی سبیل اﷲ محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ ایمان کی دھڑکن بن جاتا ہے، دل یہ مان لیتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میرا نہیں بلکہ میرے رب کی امانت ہے، اور اسی امانت میں سے راہ خدا دینا ہی دراصل نجات کا راستہ ہے۔
قرآن مجید انفاق فی سبیل اﷲ کو ایمان کی پہچان قرار دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے مال اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں اور اﷲ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ انفاق کبھی گھاٹا نہیں بلکہ کئی گنا نفع ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضایع نہ کرو، یعنی خیرات اس وقت عبادت بنتی ہے جب اس میں عاجزی اور خلوص ہو۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک وہ چیز اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ آیت انسان کے نفس پر ضرب لگاتی اور بتاتی ہے کہ اصل انفاق وہ ہے جو دل پر بھاری ہو، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ خوش حالی اور تنگی دونوں حال میں خرچ کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔ یعنی انفاق حالات کا محتاج نہیں بلکہ یقین کا محتاج ہے، سورۃ حدید میں اﷲ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کون ہے جو اﷲ کو قرض حسن دے تاکہ اﷲ اسے کئی گنا بڑھا دے، یہاں ربِ کائنات بندے سے مانگ نہیں رہا بلکہ اسے عزت دے رہا ہے کہ اس کے نام پر دیا جائے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے اﷲ اسے جانتا ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اور یہ اعلان بھی ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے جب کہ اﷲ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، گویا مال روکنا فتنہ ہے اور خرچ کرنا حفاظت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ان آیات کو زندگی بنا کر دکھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اﷲ اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ ہر دن دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک دعا کرتا ہے کہ اے اﷲ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اﷲ! روکنے والے کے مال کو ہلاکت دے۔ رسول اﷲ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال حالاں کہ اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے کھا لیا، پہن لیا یا اﷲ کی راہ میں دے کر آگے بھیج دیا۔
آپ ﷺ نے بتایا کہ صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن صدقہ بندے کے لیے سایہ بنے گا۔ رمضان کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ زکوٰۃ کے بارے میں آپ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی وہ قیامت کے دن عذاب کا سبب بنے گا، جب کہ زکوٰۃ دینے والے کے مال کو پاکیزگی اور بڑھوتری عطا کی جاتی ہے۔ فطرہ کو آپ ﷺ نے روزوں کی لغزشوں کا کفارہ اور مسکینوں کے لیے عید کی خوشی قرار دیا۔ اور خیرات کو ہر مسلمان کے لیے ممکن عمل بتایا، چاہے وہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
صحابہ کرامؓ کی زندگی انفاق فی سبیل اﷲ کی زندہ تفسیر ہیں، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمانؓ نے اونٹوں، سامان اور مال کے ڈھیر لگا دیے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ اپنا سارا مال لے آئے اور پوچھنے پر عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اﷲ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ آدھا مال لے آئے مگر اس دن بھی سبقت حضرت ابوبکرؓ ہی لے گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ انھوں نے مسلسل تین دن اپنا افطار مسکین، یتیم اور قیدی کو دے دیا اور خود پانی پر گزارا کیا، جس پر قرآن میں ان کی تعریف نازل ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہم تمھیں صرف اﷲ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر، یہ وہ معیار ہے جو بتاتا ہے کہ انفاق کا اصل حسن اخلاص میں ہے، دکھاوے میں نہیں۔
قرآن و حدیث ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مال کا فتنہ بہت سخت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے، جب مال دل میں بیٹھ جائے تو انسان حق روک لیتا ہے، زکوٰۃ کو بوجھ سمجھتا ہے، خیرات میں حساب کتاب کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کم زور پڑنے لگتا ہے، اسی لیے اسلام نے زکوٰۃ کو فرض کیا تاکہ معاشرہ پاک رہے، دل صاف رہیں اور دولت چند ہاتھوں میں قید نہ ہو۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ تاکہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، فتنہ یہی ہے کہ ہم جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں، اور نجات یہی ہے کہ ہم دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں۔
آج اگر ہم رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، فطرہ حق دار تک پہنچاتے ہیں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات سے کسی کی بھوک مٹاتے ہیں، کسی بیٹی کے جہیز، کسی مریض کے علاج، کسی مجبور کے کرائے یا کسی بچے کی فیس میں آسانی بن جاتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی لیے آخرت کا سامان جمع کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا، اور یہی وہ تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔
رمضان کے آخری دنوں میں جب دل حساب کرنے لگے تو ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے رب کے نام پر دیا، شاید یہی چند لمحے، یہی چند روپے، یہی چند آنسو ہمارے اور جہنم کے درمیان حائل ہو جائیں، کیوں کہ اصل کام یابی یہی ہے کہ بندہ خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ نہ لوٹے، بلکہ دے کر لوٹے، جھک کر لوٹے، اور رب کی رضا لے کر لوٹے۔
Today News
یتامی ٰ کفالت کی فضیلت
یتیم کے حقوق پر دین اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ آیت قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی دیکھ بھال کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعیدات بیان کی گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)
افسوس! لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘ (النساء)
اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’اور یہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ بد نیّت اور نیک نیّت ہر ایک کو خوب جانتا ہے، اوراگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے۔ اَحادیث مبارکہ میں یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامْ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘
رسول اکرم ﷺ نے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘ (مسلم شریف)
امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔ بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اﷲ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میرا ساتھ اس طرح میسر ہوگا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ (مسند احمد)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
ہمارے نبی کریم ﷺ کو عام بچوں سے بھی پیار تھا لیکن یتیموں کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپؐ نے خود دور یتیمی دیکھا تھا اس لیے آپ ﷺ یتیم کو زیادہ توجہ دیتے اور دلاتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یتیم بچوں کے بے سہارا ہونے کی وجہ سے دین اسلام ان کی محبت، دیکھ بھال اور انھیں خوش رکھنے کی زیادہ تاکید کرتا ہے۔
Today News
ٹیکسٹائل مل کے ملازم کی برطرفی کا کیس، حق آنے والا فیصلہ تحریری حکم نامے میں کالعدم
کراچی کی ٹیکسٹائل مل کے ملازم نے ساڑھے چھ کروڑ روپے کی ڈگری کا فیصلہ اپنے میں آنے اور تحریری حکم میں اسے کالعدم قرار دینے کے خلاف محکمہ لیبر میں درخواست دائر کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لیبر کمشنرکی جانب سے ٹیکسٹائل مل ملازم کے حق میں ساڑھے چھ کروڑروپے کی ڈگری کا فیصلہ دے کر تحریری حکم میں فیصلہ کالعدم قراردینے کے معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کردیاگیا۔
فیکٹری ملازم نے فیصلہ سنانے والے کمشنرپرمبینہ کرپشن کا الزام لگا کراینٹی کرپشن کوبھی درخواست دے دی۔
کورنگی میں واقع ٹیکسٹائل مل کے ملازم محمد امجد اعوان نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے بعد 3 اکتوبر2024 کولیبرکمشنرکورٹ میں درخواست دی کہ اسے غیرقانونی طورپربرطرف کیا گیا، بونس کی ادائیگی، اوورٹائم اورچھٹیاں نہ کرنے کے واجبات بھی نہیں دئے۔
ملازم کی درخواست پر گریڈ انیس کے افسر،کمشنر عبدالصمد سومرونے کیس کی سماعت کی اورچوبیس دسمبر2025 کو ملازم کے حق میں فیکٹری مالک کو چھ کروڑ اٹھتالیس لاکھ ادا کرنے کی ڈگری کا فیصلہ دیا۔
درخواست گزارکا موقف ہے کہ اس دن تحریری حکم نہیں ملا جبہک کمشنر نے فیصلہ زبانی سنایاگیا، مجھے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پیش کارچھٹی پرہے ایک ہفتے بعد حکم کی تصدیق شدہ کاپی لے جانا تاہم تحریری حکم جب ملاتو وہ فیصلے سے بالکل مختلف تھا۔
درخواست گزار کے مطابق تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ میری درخواست خارج ہوچکی ہے جبکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں لہذا ملازم شخص کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتا۔
امجد اعوان نے اس معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کیا جبکہ ڈی جی لیبرکے نام درخواست میں فیکٹری ملازم نے الزام لگایا کہ فیصلہ ٹائپ کرکے کمپنی کے مالک کوواٹس ایپ پربھیجا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے مالک نے وہی آرڈرمجھے واٹس ایپ کیا، کال پرمجھے دھمکیاں دیں اورکال پریہ بھی کہا کہ عبدالصمد سومروصاحب کہہ چکے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو،میں تمہارا راضی نامہ کرادوں گا، کیا حکم بدعنوانی کے ذریعے تبدیل کیاگیا؟
فیکٹری ملازم نے اس سلسلے میں انکوائری کے لئے اینٹی کرپشن بھی تحریری درخواست دے دی۔
اس معاملے پرجوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومروکا موقف ہے کہ امجد اعوان کی شکایت پر ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا جو متفرق درخواست پر ان کے حق میں تھا تاہم شکایت کنندہ کیس کے ابتدائی مرحلے پر ہی بہت بڑی رقم کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
Source link
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade