Today News
Pakistan makes a great start at the South Asian Jujitsu Championship 2026
پاکستان نے جنوبی ایشیا جوجٹسُو چیمپئن شپ 2026 میں شاندار آغاز کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری لنکا کے شہر کولمبو کے ڈگانا اسپورٹس کمپلیکس میں شروع ہونے والی چیمپین شپ میں جنوبی ایشیائی ممالک کے نامور کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں، پہلے دن ڈو ایونٹس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کامیابیاں حاصل کیں،ڈو مین کلاسک کیٹیگری میں محمد علی راشد اور محمد یوسف علی نے گولڈ میڈل حاصل کیا، ڈو مکسڈ کیٹیگری میں محمد علی راشد اور اسرا وسیم نے بھی پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا۔
ڈو ویمن کیٹیگری میں کائنات عارف اور اسرا وسیم نے سلور میڈل حاصل کیاجبکہ ڈو مکسڈ کیٹیگری میں رشال خان اور محمد عبداللہ علی نے سلور میڈل جیتا۔فائٹنگ اور نیوازا کیٹیگریز میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔
کائنات عارف نے مائنس57 کلوگرام میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ وشال نے مائنس48 کلوگرام میں سلور میڈل جیتا۔ گرلز انڈر18 کیٹیگری میں زنیرہ ذوالفقار اور سندس علی نے ڈو ٹیم ایونٹ جیت کر گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ انڈر 16 ایونٹس میں سندس علی اور محمد عبداللہ علی نے پاکستان کے لیے سلور میڈل جیتا۔
پاکستان جوجٹسُو فیڈریشن کے چیئرمین خلیل احمد خان نےپاکستان ٹیم کی شاندار کامیابی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ 11 رکنی قومی دستے کے کھلاڑیوں نے پہلے ہی دن چیمپئن شپ میں غیر معمولی کھیل پیش کیا جو ان کی محنت، نظم و ضبط اور بہترین تیاری کا نتیجہ ہے۔محدود وسائل کے باوجود ایسی کامیابی حاصل کرنا قابل تعریف ہے۔
چیمپین شپ میں ذمہ داریاں ادا کرنے والے سیکریٹری جنرل اور ٹیم لیڈر طارق علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دن کی کارکردگی سے بہت حوصلہ افزا ہے، ہمارے کھلاڑیوں نے زبردست جذبہ اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ امید ہے کہ دوسرے دن کے نتائج مزید بہتر ہوں گے اور ٹیم پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔
Today News
پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جب مکالمے کا آغاز ہوتا ہے تو تاریخ رقم ہوتی ہے، اور پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نئی راہیں بھی کھلیں گی۔
اس سے قبل بھی شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا تھا کہ اسلام امن کا نام ہے اور پاکستان امن قائم کرنے والا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں ہو رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا امریکی وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جبکہ ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی گزشتہ رات اسلام آباد پہنچ گیا ہے جس کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
Source link
Today News
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلیے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مکالمے اور پرامن روابط کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے افغانستان تنازع کے دوران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوجی مداخلت سے پائیدار امن ممکن نہیں جبکہ دیرپا استحکام صرف مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں پر محیط افغانستان جنگ کے دوران عمران خان بارہا عالمی برادری سے “امن کو ایک موقع دیں” کی اپیل کرتے رہے اور خبردار کیا کہ جنگ صرف عدم استحکام میں اضافہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ نے عمران خان کے اس مؤقف کو درست ثابت کیا ہے، کیونکہ اس جنگ میں لاکھوں افغان جانوں کا ضیاع ہوا جن میں اکثریت شہریوں کی تھی، امریکہ کو 2.3 ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 2400 سے زائد امریکی فوجی جان بحق ہوئے اور بالآخر یہ جنگ ایک مذاکراتی انخلا پر ختم ہوئی جس نے عسکری طاقت کی حدود کو واضح کر دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس طویل جنگ کے اثرات آج بھی خطے میں انسانی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کی صورت میں موجود ہیںِ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی برادری اب اسی نظریے کی جانب بڑھ رہی ہے جس کی وکالت عمران خان نے بہت پہلے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر درست ثابت ہونے کے باوجود عمران خان کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت قید رکھا گیا ہے، صرف اس لیے کہ انہوں نے سچ بولا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں، جن میں سے کئی اس قدر غیر منطقی ہیں کہ انصاف کا مذاق بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی بروقت سماعت نہیں کی جا رہی، جو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کی قید کو طوالت دینے کی کوشش ہے، جو اب 950 دن سے تجاوز کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کو عام قیدیوں کو حاصل بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جن میں اہل خانہ، وکلاء، ذاتی معالجین اور بیٹوں سے ملاقات کا حق شامل ہے۔ انہوں نے ان کی تنہائی میں قید کو ذہنی تشدد اور دباؤ ڈالنے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پنجاب حکومت و اڈیالہ جیل انتظامیہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے گریز کر رہی ہے، جو آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنوں، پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کو ریاستی دباؤ تشدد اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کے لیے عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی، آئینی ترامیم اور ادارہ جاتی مداخلت جیسے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید ایک منظم سیاسی انتقام ہے جس کا مقصد ملک کی مقبول ترین سیاسی آواز کو خاموش کرنا ہے، اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، کو منظم انداز میں جمہوری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اسے جلسے جلوس، مہم چلانے اور اظہار رائے کی آزادی سے روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانا ایک معمول بن چکا ہے تاکہ جمہوری اختلاف رائے کو دبایا جا سکے۔
Source link
Today News
پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل شہید
پشاور کے نواحی علاقےحسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیس اہلکار کو شہید کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیس کانسٹیبل کو شہید کیا۔ پولیس کی جانب سے خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ مبینہ دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے۔
واقعے کی سی ٹی ڈی اور پولیس ٹیموں نے تفتیش شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ڈیوٹی پر تھا، فائرنگ کے وقت پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا اور اسپتال پہنچنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاسکا۔
واقعے کے بعد فورسز نے ملزمان کی گرفتاری کیلیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا،
بعد ازاں شہید مقتدر خان کی نمازجنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، کمانڈر 102 بریگیڈ بریگیڈیئر مبشر، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک فوج کے اعلیٰ حکام، ڈویژنل ایس پیز اور پولیس افسران سمیت جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدخاکی کو سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر خان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے عزم دہرایا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کو بہت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember