Connect with us

Today News

Pakistan respond afghan Taliban attack

Published

on


افغان طالبان نے ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں بتایا کہ افغان طالبان رجیم نے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی کارروائی کا بھرپور جواب دیا ہے۔

Afghan Taliban regime unprovoked action along the Pakistan–Afghanistan border given an immediate, and effective response.

Afghan Taliban miscalculated and opened unprovoked fire on multiple locations across Pakistan Afghanistan border in KP which is being met with immediate, and…

— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 26, 2026

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا فوری اور موثرجواب دیا گیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کے پی کے مختلف سرحدی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر فوری اور موثر جواب دیا جا رہا ہے۔

وزارت اطلاعات افغان طالبان نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ میں سرحدی خلاف ورزی کی، پاکستان کے جواب پر افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا جبکہ متعدد چیک پوسٹیں تباہ ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلا اشتعال افغان جارحیت کا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دی رہی ہیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جبکہ ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر ، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال بھرپور جواب دیا گیا۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔ سیکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت اور کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان جانب سے جارحیت پر فوری ٹینکوں کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کی کئی پوسٹیں تباہ کردیں جبکہ متعدد ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

آرٹلری فائر سے ٹی ٹی اے کا سیکٹر ہیڈ کواٹر تباہ

سیکیورٹی فورسز نے آرٹلری فائر سے افغان طالبان رجیم کا سیکٹر ہیڈ کوارٹر تباہ کردیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جیسا جواب مشرقی سرحد پر بھارت کو دیا تھا اب ویساہی بھرپورجواب مغربی سرحد پردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسی ریاست ہے جو بچوں کوخودکش بمباربناکربھیجتی ہے، دہشت گردی کےعلاوہ ان کی کچھ اورکرنے کی جرات نہیں ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی کوپاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے، ہماری کوشش رہی ہے کہ معاملات بات چیت کےذریعےحل کیےجائیں۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عملی اقدامات کی ضرورت – ایکسپریس اردو

Published

on


سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ اسمبلی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک قرارداد کے ذریعے اپیل کی کہ وہ سندھ میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد جو مہاجر سندھ آئے سندھیوں نے انھیں خوش آمدید کہا مگر بعد میں صوبے میں لسانی تضادات ابھرے۔ برسرِ اقتدار حکومتوں میں سے کچھ نے ان تضادات سے اپنے مفادات پورے کیے اور کچھ حکومتوں نے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو پیدا ہونے والے تضادات کے اثرات اگلی صدی تک پڑیں گے۔

سندھ اسمبلی نے سندھ کو توڑنے کے خلاف قرارداد تو منظور کر لی مگر صوبے میں بدترین طرزِ حکومت اور عدم شفافیت کی جڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی شہر کی اونر شپ نہیں لی بلکہ یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے علاوہ دیگر جماعتیں برسر اقتدار آئیں تو انھوں نے بھی کراچی کی اونر شپ نہیں لی۔ کبھی کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں آگے تھا مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔

 پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر سندھ پر 28 سال حکومت کی ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر کو جدید شہر بنانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ سب سے پہلے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیچھے چلا گیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو اس شہر میں ڈبل ڈیکر بس، ٹرام اور سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ٹرام وے سروس کو بند کر دیا۔

جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ماس ٹرانزٹ پروگرام تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، جب پیپلز پارٹی نے 1988کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ماس ٹرانزٹ پروگرام کے بارے میں کچھ فائلوں میں کام ہوا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993 میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں تو فہیم الزماں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا مگر پھر فہیم الزماں پیپلز پارٹی کے نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے۔

ان کے رخصت ہونے کے بعد ماس ٹرانزٹ پروگرام کہیں کھو گیا، سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔ کراچی بد امنی کا شکار ہوا۔ نجی شعبہ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی۔ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی تیسری دفعہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت بنی تو شہری چین کے مال برداری کے لیے تیار کردہ چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ چند سال قبل شرجیل انعام میمن کو پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ دیا گیا۔ حکومت نے 300 بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر اپنا فریضہ پورا کر ڈالا۔ کراچی کو انڈر گراؤنڈ ٹرین، الیکٹرک ٹرام اور جدید بسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ 18 برسوں کے دوران کراچی والوں کے لیے پانی ایک نیا مسئلہ بن گیا۔ شہر کے بہت سے علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں آتا مگر شہر میں ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت ہوتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے میئر سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہائیڈرنٹ پر پانی آتا ہے تو پھر نلوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ حکومت پانی کی فراہمی کے نظام کو بجلی بند ہونے کی صورت میں آج تک متبادل نظام دینے میں ناکام رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی منصوبہ بندی کتنی اعلیٰ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10 سال قبل اربوں روپے سے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور مشکل سے یہ سڑک تیار ہوئی۔ سندھ حکومت کو ریڈ لائن بنانے کا خیال آیا اور اس نئی سڑک کو پھر توڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اب 7 سال ہونے کو ہیں مگر یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی اذیت سے گزرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اکابرین اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح مینا بازار کریم آباد انڈر پاس کا منصوبہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ سندھ میں ملازمتوں کا ہے۔ انگریز دور سے نافذ کردہ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع کے شہریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو بری طرح پامال کیا۔ اے جی سندھ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس قانون شکنی پر حکومت سندھ پر گرفت ہوسکتی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ اتنی بڑی خلاف ورزی ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جو موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ہے اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔

 سندھ پبلک سروس کمیشن کی بدحالی پر تو سندھ ہائی کورٹ مفصل فیصلہ دے چکا ہے۔ اس کمیشن میں شفافیت کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق جو صدر آصف زرداری کے بچپن کے دوست ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے کمیشن کا نظام کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی تو انھیں حقائق کا اندازہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ صوبے میں ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سیکڑوں افراد کی اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی اور پھر ان کی برطرفی اور ان افراد کے ملازمت کے لیے لاکھوں روپے بطور رشوت دینے کی داستانیں بہت سے حقائق کو اجاگر کرتی ہیں۔

کراچی میں عمارتوں کا گرنا عام سی بات ہے مگر ہر دو چار مہینے بعد کسی نہ کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو کبھی بھی احتساب کا عمل منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ گزشتہ سال لیاری میں ایک عمارت گری تھی۔ حکومت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کچھ افسروں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔ یہ افسر چند دن جیل میں مہمان رہے۔

ناقص چالان کی بناء پر باعزت بری کر دیے گئے۔ گل پلازہ کے حادثے کے بعد ٹریفک کے ناقص انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک کو معطل کر دیا گیا مگر وہ پھر بحال ہوگئے۔ سندھ میں قانون کی عملداری کا اندازہ ایک انگریزی اخبار میں کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بارے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک سابق رکن کی مرضی کے بغیر ضلع غربی میں کسی پولیس افسر کا تقرر نہیں ہوسکتا۔

 کراچی میں سیوریج کا نظام اور کوڑے کے ٹیلوں کا معاملہ امریکا کے اخبارات تک پہنچ گیا۔ واٹر بورڈ کے پاس سیوریج کی لائنوں کی تبدیلی کے لیے اگست کے مہینے میں فنڈز نہیں ہوتے۔ حکومت نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک کارپوریشن بنائی۔ اپنے چند افسروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا مگر شہر کا کون سا علاقہ ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ ہوں اور سڑک پر گندا پانی نہ بہہ رہا ہو۔ جب بارش ہوتی ہے تو شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے۔ اس گندگی کی بناء پر ایک طرف کتوں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور کراچی شہر میں سیکڑوں افراد ہر سال کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں شام کو رونق زیادہ ہوتی ہے، جو سرکاری ملازمین عمرہ، حج اور زیارتوں پر جاتا ہے اسے این او سی کے لیے ’’ ہدیہ‘‘ دینا پڑتا ہے۔

جو ملازم ریٹائر ہوجائے اور جو ملازم انتقال کرجائے تو اس کے لواحقین کو پنشن کی فائل مکمل کرنے کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کی حکومت میں اندرون سندھ کی پسماندگی کی بناء پر ملازمتوں اور پروفیشنل کالجوں میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ اب ہر شہر میں یونیورسٹی قائم ہے۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگیا ہے تو کوٹہ سسٹم کا جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔ تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اسی طرح ایک یا دو اضلاع میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔ اس بات کی تحقیقاتی ہونی چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے جب ایک ملاقات میں یہ سوال کیا گیا کہ کراچی میں روٹی کیوں مہنگی ہے تو انھوں نے کہا کہ سندھ کے افسروں میں کام کرنے کی اہلیت نہیں مگر یہ بیوروکریسی تو سب کوٹہ سسٹم کے تحت آئی ہے۔

بدترین طرزِ حکومت کا کیا جواز ہے؟ عجیب بات ہے کہ صدر ملک کے آئینی صدر ہیں مگر وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر کانفرنس کرتے ہیں۔ تمام گورنر اپنی جماعتوں کی سیاست کرتے ہیں۔ ۔ صدر اور گورنر صاحبان کو اپنی جماعت کی سیاست کے بجائے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ شہری مسائل کا حل دنیا کے جدید شہریوں کی طرح نچلی سطح کے اختیار تک کی کارپوریشن کے قیام میں ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور پورا کراچی اس کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ صوبائی وزراء کہتے ہیں کہ کراچی میں چھوٹا مسئلہ بڑا بن جاتا ہے۔ پہلے آمر ایوب خان کو بھی یہی شکایت تھی۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری سے یہ سازش ناکام نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

بنگلہ دیش میں نظام بدلنے کی تحریک

Published

on


بنگلہ دیش کے انتخابات اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)بی این پی (کی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بننے کے باوجود داخلی سیاسی بحران کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گا۔کیونکہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور حسینہ واجد کے خلاف جو سیاسی بغاوت ہوئی اور جس طرح سے انھیں ملک کو چھوڑ کر بھارت جانا پڑا اس کے پیچھے جہاں حسینہ واجد کی فسطائیت کے خلاف نفرت تھی وہیں وہاں کی نئی نسل جسے جنریشن ذی کہا جاتا ہے وہ ملک کے داخلی نظام جس میں انصاف ،سیاسی ،معاشی ،بے روزگاری اور دیگر بنیادی حقوق کی عدم موجودگی پر سخت نالاں تھے،یعنی ان کو ایک طرف حسینہ واجد کی پالیسیوں پر سخت تحفظات تھے کہ وہ ملک کی متبادل آوازوں کو طاقت کی بنیاد پر کچل رہی ہیں تو دوسری طرف ریاست کے نظام سے بھی ان کو گلہ تھا کہ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو بنیاد بنا کر شہری مفاد کو اہمیت نہیں دی جارہی۔اس لیے جب بنگلہ دیش کی سطح پر جو سیاسی بغاوت ہوئی تو لوگ اس کے نتیجے میں ملک کی داخلی سیاست میں ایک نمایاں اور بڑی تبدیلی دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی بنیاد پر ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بنے والی عبور ی یا نگران حکومت پر بھی بڑا دباو تھا کہ ہم انتخابات کی صورت میں پرامن سیاسی جمہوری تبدیلی بھی چاہتے ہیںمگر یہ تبدیلی بنگلہ دیش کی عوام کے مفاد میں داخلی سیاست اور معیشت میں ایک بڑی مثبت تبدیلی کی بنیاد بھی رکھ سکے۔

کیونکہ جمہوری نظام میں انتخابات کا عمل کا ہونا اور اس کے نتیجے میں حکومت بننا ایک بات جب کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل کا حل ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔لوگ بنیادی طور جمہوریت کے نظام میں آزاد عدلیہ ،داخلی ملکی خود مختاری، مضبوط معیشت، آزاد میڈیا سمیت انسانی بنیادی حقوق کو تسلیم کرنا،محروم طبقات کی مضبوط سیاست دیکھنا چاہتے ہیں ۔لیکن اگر انتخابات کے بعد جمہوریت کے نام پر حکومتیں بن جائیں مگر جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر جمہوری نظام کی داخلی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔کچھ اسی قسم کی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی ہے اور اسی بنیاد پر ان انتخابات میں لوگوں کا سیاسی نظام میں جوش قابل دید تھا اور جو ان انتخابات میں ووٹ کا ٹرن آوٹ59.09رہا جو ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ان انتخابات کی بنیاد پر بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔

اسی لیے اگر ہم نے بنگلہ دیش کے موجودہ انتخابات کا پس منظر دیکھنا ہے تو اسے ہمیں 2024کی حسینہ واجد کے خلاف طلبہ یا نئی نسل کی سیاسی یا عوامی بغاوت سے جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔اسی بنیاد پر جب ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت بنی تو ان پر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا دباؤ تھا اور اسی دباؤ کے تحت عبوری حکومت نے مختلف اداروں اور شعبہ جات کی سطح پر اصلاحاتی کمیشنز کی تشکیل کی اور کہا کہ بنگلہ دیش کا نظام ایک بڑی سیاسی ،انتظامی،معاشی،قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے گا۔

اس کمیشنز کی تشکیل نے نئی نسل کو حوصلہ دیا کہ سیاسی عمل میں درست سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پہلے ابتدا میں تمام اصلاحاتی سفارشات کو ’’ قومی اتفاق رائے کمیشن‘‘ کی سطح پر جمع کیا گیااور پھر اسے ’’ جولائی نیشنل چارٹر‘‘ کا نام دیا گیا جو 80سفارشات پر مشتمل ہے جو2025میں تیار کیا گیا۔ان میں آئین ،عدالت، پولیس،انتظامیہ ،انتخابی نظام،بدعنوانی و کرپشن کا خاتمہ جیسے امور شامل ہیں ۔ان پر بنگلہ دیش کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔

اہم بات عام انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہے جس میں لوگوں سے یہ رائے لی گئی کہ آپ انتخابات کے بعد نئی حکومت سے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں یا نہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انتخابی نتائج کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ریفرنڈم کی حمایت میں 65فیصد ووٹ ڈال کر ایک بڑے داخلی اصلاحات کی بنیاد پر تبدیلی کے ایجنڈے پر مہر لگائی ہے۔اس ریفرنڈم کا بنیادی مقصدملک کی حکمرانی کے نظام کو تشکیل دینا، جمہوریت کو مضبوط بنانا،سماجی انصاف کو فروغ دینااور اداروں میںاحتساب کو بڑھانا ،اداروں میں توازن قائم کرناجیسے امور پر کام کرنا نئی حکومت اور وزیر اعظم طارق رحمان کے لیے ابتدا ہی میں بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس لیے جولوگ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست کو محض انتخابی نتائج کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں وہ درست تجزیہ نہیں بلکہ حالات کو عام انتخابات کے نتائج اور ریفرنڈم کے نتائج اور اس کی باہمی کشمکش اور ٹکراو کی صورت میں دیکھ کر نتائج کو ترتیب دینا ہوگا۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ بھی انتخابات اور ریفرنڈم سے پہلے طے کرلیا گیا تھا کہ اگر لوگوں کی اکثریت نے ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالا تو نئی پارلیمنٹ یا حکومت پہلے چھ ماہ یعنی 180دن ’’دستوری اصلاحات کونسل‘‘ کے طورپر کام کرے گی۔یعنی اس پارلیمنٹ کا ایک بڑا مینڈیٹ بنیادی نوعیت کی تبدیلی کو ممکن بنانا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ ان آئینی ترامیم میں موجودہ وزیر اعظم ماضی کے طاقت ور یا یکطرفہ طاقت پر مبنی وزیر اعظم سے مختلف ہوگا اور آج کا صدر ماضی کے کمزور صدر کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا حامل ہوگا۔یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ وزیر اعظم اپنی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوگا اور وہ دو سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم بھی نہیں بن سکے گا۔سینیٹ جیسے ادارے کی تشکیل اور متناسب نمائندگی کا نظام بھی لاگو کیا جائے گا۔عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنا بھی نظام کا حصہ ہے۔یاد رہے کہ یہ جولائی چارٹر اور ریفرنڈم کا عمل صدارتی آرڈنینس کی مدد سے کیا گیا تھا تاکہ اس کی قانونی حیثیت بھی قائم رہے۔اس لیے طارق رحمان اور بی این پی کی حکومت اپنی سیاسی خود مختاری کو ریفرنڈم کے عملی نتائج کی بنیاد پر آئینی یاسیاسی یا قانونی اصلاحات کو آسانی سے تسلیم نہیں کرے گی اور وہ کہے گی کہ یہ عمل ہماری حکومت اور دو تہائی منتخب سطح کی پارلیمنٹ کی خود مختاری کو چیلنج کرے گا۔ایک طرف ریفرنڈم کے نتائج کے بعد آئینی اصلاحات اور دوسری طرف موجودہ بنگلہ دیش میں موجود حکومت کو جماعت اسلامی کے طور پر ایک مضبوط حزب اختلاف جو ان آئینی اصلاحات کی حامی ہے اور تیسری طرف بنگلہ دیش میں نئی نسل کی سطح پر موجود تبدیلی کی بڑی لہر نئی حکومت کو آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔

اسی بنیاد پر بی این پی کے لوگوں نے پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر تو حلف لیا ہے مگرآئینی اصلاحات کونسل کے طور پر حلف لینے سے انکار کیا ہے جو یقینی طور آنے والے دنوںمیں بنگلہ دیش کی سیاست میں نئے ٹکراو کے کھیل کو نمایاں کرے گا۔حالانکہ بی این پی نے بطور جماعت انتخابات سے پہلے اس اصلاحاتی ایجنڈے پر دستخط کیے تھے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بی این پی کے سیاسی تیور بدل گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاحات کی بنیاد پر مبنی ایجنڈا ان کو سیاسی طور پر بطور حکومت کنٹرول کرنے کا ہے اور ہم آزادانہ بنیاد پر دو تہائی اکثریت کے باوجود حکومت نہیں کرسکیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

برکت رمضاں … مگر کہاں؟

Published

on


ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔

پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔ اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔

پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔

برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔

جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔

اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…

ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending