Connect with us

Today News

PM Shahbaz Sharif address nation

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم برادر مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت میں ملک دیوالیہ ہونے والا تھا مگر ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معشیت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے
ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا، حکومت کی کوشش ہوگی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس حوالے سے دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں اور انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں، اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھا، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلیے آگے بڑھ کر قربانی دی، اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔

حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔

  1. آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
  2. ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے۔
  3. دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
  4. وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی۔
  5. تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
  6. وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی۔
  7. سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی۔
  8. سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد
  9. سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی

ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں

  • انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی۔
  • بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
  • وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لیتھوینیا نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو اپنی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دے دیا

Published

on


یورپی ملک لیتھوینیا نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو اپنی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔

افغان دی خامہ پریس کے مطابق افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں افغانستان میں پنپتی دہشتگردی مختلف ممالک کیلئے خطرہ بن گئی۔ یورپی ملک  لیتھوینیا نے ملک میں دہشتگردی کے فروغ اور داعش خراسان کی جانب سے بھرتی کے خطرے کی وارننگ دیدی۔ لیتھوینیا نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا۔

لیتھوینیا کے حکام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد تنظیم داعش نے لیتھوینیا میں شہریوں کو ورغلانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، افغانستان میں موجوددہشت گرد تنظیمیں وسطی ایشیا کے نوجوانوں کو ہدف بنا کر پروپیگنڈا اور انتہا پسندانہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کرغزستان بھی سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو دہشتگردی کیلئے ورغلانے پر کالعدم داعش پر شدید تشویش کا اظہار کر چکا ہے، افغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان فتنہ الخوارج، داعش، القاعدہ سمیت دیگر خطرناک دہشت گرد تنظیمیوں کیلئے جنت بن چکا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق دہشت گردی کا فروغ اور انتہاپسندانہ  اقدامات افغان طالبان رجیم کو دنیا بھر میں  تنہا کر رہی ہیں، افغان طالبان رجیم  وار اکانومی، منشیات اور دہشت گردی سے حاصل  آمدن سے اپنے قابض اقتدار کو طول دینے میں مصروف ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

مودی کے شائننگ انڈیا کےدعوے حقیقت سے کوسوں دور، بھارتی معیشت زوال پذیر

Published

on


بڑے بڑے انتخابی نعروں کے برعکس مودی کی ناقص معاشی کارکردگی کھل کرسامنے آگئی۔
 
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔

برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئے اعداد و شمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے  مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا۔

معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننےکا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےزمین بوس ہوچکا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

فاریور کیمیکلز کا شہد کی مکھیوں پر تشویشناک اثر، نئی تحقیق میں انکشاف

Published

on



آسٹریلوی سائنس دانوں نے ایک تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ زہریلے ’فارایور کیمیکلز‘ شہد کی مکھیوں کے چھتے میں جمع ہو کر شہد کو متاثر کر کے انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

پی ایف اوز کے نام سے پہچانے جانے والے یہ کیمیکلز داغ کی مذاحمت کرنے والے کپڑے، نان اسٹک برتن، آگ بجھانے والے فوم اور برقی آلات میں بڑی مقدار میں استعمال ہوتے ہیں اور یہ تحلیل نہ ہونے کی وجہ سے ماحول میں طویل مدت تک رہتے ہیں

ماضی میں ہونے والے مطالعات یہ بتا چکے ہیں کہ پی ایف اوز صحت کے خطرات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن میں ہائی کالیسٹرول اور جگر کے انزائمز میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

تازہ ترین مطالعے میں محققین نے آسٹریلیا میں یورپی شہد کی مکھیوں کی کالونیوں پر پی ایف او ایس کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ دریافت کیا کہ اس مادے کے طویل عرصے تک سامنے رہنے سے شہد کی مکھیوں کے خلیات کے افعال کو کنٹرول کرنے والے چند اہم پروٹینز کے ایکسپریشن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

مطالعے کی مصنفہ کیرولین سونٹر نے بتایا کہ نئی نسل کی کم عمر شہد کی مکھیوں کے جسمانی بافتوں میں پی ایف او ایس کی موجودگی پائی گئی اور ان مکھیوں کا جسمانی وزن اُن مکھیوں کے مقابلے میں کم تھا جو پی ایف اوز کے اثر سے محفوظ (کنٹرول گروپ) تھیں۔

یہ تحقیق جرنل انوائرنمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع کی گئی۔



Source link

Continue Reading

Trending