Connect with us

Today News

Sania Ashfaq exposes cricketer Imad Wasim’s hypocrisy

Published

on


پاکستانی کرکٹ اور شوبز سے جڑی ایک اور کہانی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہے، جہاں عماد وسیم اور ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ایک بار پھر وائرل ہو رہا ہے۔

معروف کرکٹر عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے چھ سالہ ازدواجی زندگی کے بعد حال ہی میں علیحدگی اختیار کی۔ رپورٹس کے مطابق علیحدگی کی وجہ عماد وسیم کا انفلوئنسر نائلہ راجا سے تعلق اور نکاح بتایا جا رہا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے ان کے ساتھ تھیں۔

ثانیہ اشفاق اس وقت اپنے تین بچوں کی تنہا پرورش کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو والد کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں عماد وسیم نے اپنی بیٹی عنایا عماد کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی اینجل، بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘

تاہم اس پوسٹ کے جواب میں ثانیہ اشفاق نے بھی اپنی بیٹی کے نام پیغام جاری کیا جو خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا: 

’’میری خوبصورت بیٹی کو پانچویں سالگرہ مبارک ہو۔ تم ایک ایسے بچپن کی مستحق ہو جو محبت، تحفظ اور استحکام سے بھرپور ہو۔ یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کہ عوامی سطح پر ’بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں‘ جیسے پیغامات دیے جا رہے ہیں، جبکہ نجی طور پر اداروں کو بتایا جا رہا ہے کہ ماں اور بچوں کو بے گھر پناہ گاہ میں بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ مالی معاونت بند کی جا رہی ہے۔ بچے صرف سوشل میڈیا پر لکھے گئے الفاظ کے نہیں، بلکہ حقیقی زندگی میں تحفظ، دیانت اور حفاظت کے حق دار ہوتے ہیں۔ جو بھی ہو، ماں ہمیشہ تمہارا تحفظ کرے گی اور ہر دن تمہیں محفوظ اور پیار کا احساس دلائے گی۔‘‘

ثانیہ کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔ بیشتر افراد ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور ننھی عنایا کو ڈھیروں دعاؤں اور نیک تمناؤں سے نوازا۔ کئی خواتین صارفین نے بھی ثانیہ کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کھل کر بات کر کے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مشہور باڈی بلڈر مسٹر سرحد گولی لگنے سے جاں بحق

Published

on



خیبرپختونخوا کے مشہور باڈی بلڈر اور مسٹر سرحد کا اعزاز حاصل کرنے والے امین اللہ صافی دوگروپس کی لڑائی کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد دوران علاج جاں بحق ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق امین اللہ صافی گزشتہ روز افطاری کے بعد علاقے حیدار کالونی میں دو فریقین کے درمیان لڑائی کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

انہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ایک روز زیرعلاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔

امین اللہ صافی نوجوان تن ساز تھے، جنہوں نے مسٹر سرحد کا اعزاز بھی حاصل کرر کھا تھا، ان کی نماز جنازہ جمعے کو 11 بجے چونا بھٹی حیدر کالونی میں ادا کی جائے گی۔

امین اللہ صافی کے بڑے بھائی ندیم صافی بھی باڈی بلڈنگ کوچ ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

یونیورسٹیوں میں اے آئی کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی قرار دیا جا رہا ہے، چیئرمین ایچ ای سی

Published

on



چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور جامعات کو قومی ضروریات اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ سطح پر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ سطح پر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کو ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی تعلیم کو مؤثراورنتیجہ خیز بنانے کے لیے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو نصاب، تعلیمی نتائج اور امتحانی نظام میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق ریسرچ، انوویشن اور کمرشلائزیشن دفاتر کو مضبوط بنانے کے لیے بھی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور تحقیق کو تجارتی شکل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے ڈگری اور دستاویزات کی تصدیق کا نظام مکمل طور پر آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد طلبہ کو تصدیق کے لیے ایچ ای سی دفاتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے رینکنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو یونیورسٹیوں کو عالمی رینکنگ میں بہتری کے لیے حکمت عملی فراہم کرے گی، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے صوبائی سطح پر بھی خصوصی کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں جن میں وائس چانسلرز، صوبائی ایچ ای سیز اور ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹس کے نمائندے شامل ہوں گے۔

پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ایچ ای سی انجینئرنگ، میڈیکل ایجوکیشن اور زراعت کے ڈگری پروگرامز کے معیار کا بھی جائزہ لے گا تاکہ عالمی معیار کے مطابق تعلیمی پروگرامز میں بہتری لائی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈرگریجویٹ داخلوں کے لیے ٹیسٹنگ سسٹم کو مزید شفاف اور معیاری بنانے پر بھی کام جاری ہے کیونکہ کسی بھی یونیورسٹی کے گریجویٹس کا معیار اس کے داخلہ لینے والے طلبہ کے معیار سے جڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی جامعات کے قیام کے لیے قانون سازی سے قبل ایچ ای سی سے این او سی حاصل کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ خالی انتظامی عہدے فوری طور پر پر کیے جائیں تاکہ تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چل سکے۔

چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق حکومتی لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک 65 ہزار لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی لیپ ٹاپ بھی جلد طلبہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات میں اطلاقی تحقیق اور انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ تحقیقی منصوبوں کو عملی حل، نئی مصنوعات اور معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

عراق؛ بارود سے بھری کشتی کا تیل بردار جہاز پر خودکش حملہ؛ خوفناک دھماکا

Published

on


خلیج کے پانیوں میں ایک سنگین بحری واقعے میں بارودی مواد سے بھری ایک چھوٹی کشتی عراقی ساحل کے قریب لنگر انداز تیل بردار جہاز سے ٹکرا گئی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ عراقی سمندری حدود میں پیش آیا جہاں بہاماس کے جھنڈے والا خام تیل بردار ٹینکر سونانگول نامیبی لنگر انداز تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی استعمال کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق چھوٹی کشتی تیز رفتاری سے ٹینکر کی جانب بڑھی اور اس سے ٹکرانے کے فوراً بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔

دھماکے کے نتیجے میں جہاز کے ایک حصے کو نقصان پہنچا جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عملے کے ارکان محفوظ رہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بارود بھری کشتی کس مقصد کے لیے آئل ٹینکر سے ٹکرائی گئی اور کس نے ایسا کیا۔ کسی گروپ تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشتی ایرانی ساختہ یا ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے استعمال کی گئی ہوسکتی ہے تاہم ابھی تک باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بحری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Trending