Today News
Sanjay Leela Bhansali suffers heart attack Team informed about the situation
بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کی طبیعت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، تاہم ان کی ٹیم نے تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے صورتحال واضح کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپنے 63 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہدایتکار کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ممبئی کے این ایچ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں تیزی سے پھیلنے لگیں۔
تاہم بعد ازاں ہدایتکار کی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں ان اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سنجے لیلا بھنسالی بالکل خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے پھیلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
سنجے لیلا بھنسالی بالی ووڈ کے ان ہدایتکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فلم سازی کے ذریعے ایک الگ شناخت بنائی۔ انہوں نے بطور ہدایتکار اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’’خاموشی‘‘ سے کیا، جبکہ ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ اور ’’دیوداس‘‘ جیسی فلموں نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔
دوسری جانب معروف موسیقار اسماعیل دربار نے بھی حالیہ انٹرویو میں بھنسالی کے ساتھ اپنے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ماضی کے اختلافات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک ان کے ساتھ کام کرتے رہے، تاہم ویب سیریز ’’ہیرامنڈی‘‘ میں انہیں تبدیل کیے جانے پر انہیں شدید دکھ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیڑھ سال تک اس پروجیکٹ پر کام کرتے رہے لیکن بعد میں انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر بدل دیا گیا۔ اسماعیل دربار کے مطابق ماضی میں فلموں کے گانوں کے حوالے سے اختلافات کے باوجود ان کے اور بھنسالی کے تعلقات قریبی رہے، تاہم اس واقعے نے انہیں مایوس کیا۔
بھنسالی کی صحت سے متعلق افواہوں کی تردید کے بعد مداحوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Today News
لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری کر دی جس کے مطابق 96فیصد اسکولوں میں پختہ عمارتیں، 92 فیصد میں بیت الخلا اور 82 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔
غذائی قلت سے بچوں کے قد اور وزن میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پرائمری ، مکمل کرنے والی لڑکیوں کی شرح 75فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی، ہر سال لڑکیوں کی تعلیم میں سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔
جمعرات کو پی آئی ای میں گرلز ایجوکیشن سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 2023/24 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔یہ رپورٹ پی آئی ای ،ملالہ فنڈ ،پی اے جی ای اور وفاقی وزارت تعلیم کے اشتراک سے تیار کی گئی۔
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجہیہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز سینیٹر فوزیہ،ڈجی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا،شراکتداروں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے رپورٹ کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہماری پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہوں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا، بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔
ہمیں بھی اعداد و شمار کے بعد اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دنیا نے انہی کے ذریعے کامیاب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم سے ‘ڈراپ آؤٹ’ ہونے کا راستہ ہم صرف اپنے رویوں کو تبدیل اور اپنے دماغوں کو وسیع کر کے ہی روک سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 14 کروڑ نوجوان ہیں،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس یوتھ کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا انہیں مواقع فراہم کر کے اپنا اثاثہ بنا رہے ہیں۔ہمیں جہالت کے خلاف جہاد اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔
ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری یا ہنر تھما دیتی ہے، اس کا حق ہے کہ اسے آگے بڑھنے دیا جائے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو گھریلو ذمہ داریاں ضرور دیں ، لیکن انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھنے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔ ہنرمند خواتین کو گھروں تک محدود رکھنا انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔
وفاقی وزیر نے اختتام پر کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں اور حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک ایکشن پلان ترتیب دینا ہے ، اس میں سامنے آنے والی کامیابیاں اور چیلنجز دونوں ہمارے لئے ایک نئی راہ متعین کریں گے۔
ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں تعلیمی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں لڑکوں سے بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ ہمارا مقصد اعداد و شمار کے زریعے ان خلیجوں کو نشاندہی کرنا ہے جو ہماری بچیوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں تا کہ پالیسی سازی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں اپنی فوقیت ثابت کر دی ہے۔
نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (NAT) 2023 کے مطابق، لڑکیوں نے انگریزی، اردو ، سندھی اور ریاضی میں لڑکوں سے بہتر اسکور حاصل کیے۔ آٹھویں جماعت میں بھی وہ سائنس اور ریاضی میں آگے رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے فی ہزار بچوں اور سکولوں کا تناسب کم ریکارڈ ہوا ہے ۔
تعلیمی اداروں میں معذروں کے سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ23 فیصد سکولوں میں ریمپ (Ramps) موجود ہیں تاہم کم تعلیمی ادارے ہیں جس میں خصوصی تدریسی مواد یا امدادی آلات دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں بتا یا گیا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں 23 فیصد اساتذہ بنیاد تربیت یافتہ ہیں ۔ 19فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی بجٹ کا حصہ 13فیصد سے کم ہو کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی فنڈز کا 94فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی تعداد مردوں کے برابر آ رہی ہے، لیکن روزگار میں ان کی شرکت صرف 24فیصد ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی سرمایہ کا ضیاع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب بھی ملک میں مجموعی طور پر 2.62 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے 1.34 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اگرچہ لڑکیوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، لیکن نظام کی کمزوریاں ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکیاں باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں منزل تک پہنچانے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی جدید تربیت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی ہوگی۔
Today News
امریکا کے سابق وزیر خزانہ ایپسٹین جنسی اسکینڈل میں نام آنے پر مستعفی
امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر ہارورڈ یونیورسٹی میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لارنس ہنری سمرز امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے اپنے تعلیمی عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ سمرز اپنی پروفیسر شپ اور تمام اکیڈمک عہدوں سے اس تعلیمی سال کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے۔
وہ نو نومر مورساوار-رحمانی سنٹر فار بزنس اینڈ گورنمنٹ میں اپنے لیڈرشپ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے متعلق سامنے آنے والے دستاویزات کے بعد سامنے آیا ہے۔
سمرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ تھا اور انھوں نے اپنی 50 سال سے زیادہ کی تعلیمی خدمات کے دوران طالب علموں اور ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی قدردانی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ تحقیق، تجزیے اور عالمی اقتصادی مسائل پر تبصرے کے ذریعے مستقبل میں اپنی شراکت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ سمرز نے کلنٹن انتظامیہ کے دوران امریکا کے وزیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب کہ بعد میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے طور پر پانچ سال کام کیا۔
ان کا نام ایپسٹین فائلز میں اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ ایپسٹین نے ہارورڈ کو بڑی رقم کے عطیات دیے تھے، جس کے بعد سمرز اور ایپسٹین کے درمیان متعدد خط و کتابت ظاہر ہوئی۔
اس سے قبل سمرز نے OpenAI کے بورڈ سے بھی استعفیٰ دیا تھا جبکہ انہیں امریکی اکنامک ایسوسی ایشن نے عمر بھر کے لیے پابندی عائد کی تھی جس کا تعلق بھی ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات سے تھا۔
Today News
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ ہلیری کلنٹن کی ایوانِ نمائندگان کے پینل کے سامنے پیشی
امریکا کی سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گی جو بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلیری کلنٹن نے حال ہی میں اپنے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ مل کر ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل دونوں میاں بیوی ان طلبیوں کی مخالفت کرتے رہے تھے اور انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے تھے تاہم بیان دینے پر آمادگی کے بعد ان کے خلاف کانگریس کی توہین کی ممکنہ کارروائی ٹل گئی۔
کلنٹن جوڑے نے کمیٹی کے ری پبلکن سربراہ جیمز کومر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس معاملے کو جماعتی سیاست کے تحت چلا رہے ہیں۔
کلنٹن خاندان کا مؤقف تھا کہ یہ سمن محض سیاسی مخالفین کو شرمندہ کرنے کی کوشش ہیں اور انھوں نے پہلے ہی ایپسٹین سے متعلق محدود معلومات پر مبنی حلفیہ بیانات جمع کرا دیے تھے۔
اس کے برعکس جیمز کومر کا کہنا ہے کہ کلنٹن جوڑے سے بیان لینا ایک دو جماعتی کوشش ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ انھیں جنسی ریکٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین سے ملاقات یا گفتگو یاد نہیں ہے تاہم بل کلنٹن تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایپسٹین کو جانتے تھے البتہ انھوں نے کسی بھی غیر قانونی عمل یا ایپسٹین کے جرائم سے آگاہی کی تردید کی۔
بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو دہائیاں قبل ہی ایپسٹین سے تعلقات ختم کر دیے تھے اور اب اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ کبھی ان سے وابستگی رہی۔
بل کلنٹن سے علیحدہ طور پر جمعہ کے روز بیان ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق تحقیقات میں سامنے آنے والے دستاویزات مرحلہ وار جاری کیے ہیں۔
ان فائلوں میں کئی معروف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔
تاہم حکام کے مطابق ان دستاویزات میں نام آنا کسی بھی فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion