Today News
t20 wolrdcup2026 pak india match history create
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کو کولمبو کے آر پریما داسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے کے بعد جہاں سب سے زیادہ انتظار کیا جا رہا تھا، جس نے حسب توقع کئی ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سرکاری ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ پارٹنر جیو اسٹار نے اعلان کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے میچ نے ان کے پلیٹ فارم پر ریچ اور ناظرین کی تعداد کے حوالے سے تاریخ رقم کردی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس میچ نے ریکارڈ 163 ملین کی غیرمعمولی ڈیجیٹل ریچ حاصل کی، جو ٹی20 طرز کرکٹ میں کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کے کسی میچ میں سب سے زیادہ ریچ ہے جس نے بارباڈوس میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کے فائنل کی ویورشپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی 61 رنز کی فتح نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کےپاک-بھارت میچ کے مقابلے میں ریچ میں بھی 56 فیصد اضافہ یقینی بنایا۔
اسی طرح موبائل پر اس میچ نے کسی بھی آئی سی سی ٹی20 ایونٹ کے لیگ مرحلے میں سب سے زیادہ ریچ حاصل کی، جو ٹی20 ورلڈ کپ 2024 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے آخری میچ کے مقابلے میں 1.2 گنا زیادہ تھی۔
CRAZE OF PAKISTAN TEAM IN INDIA. 🤯
T20 World Cup 2026 – JioHotstar Viewership Rankings (Based on average views per match).
1) IND – 1200M (300M avg)
2) PAK – 627M (156.28M avg)
3) USA – 417M (104.2M avg)
4) NED – 347M (86.8M avg)
5) NAM – 327M (81.8M avg)
6) SA – 228M (57M… pic.twitter.com/hvNJ8rvCtA— Salman. (@TsMeSalman) February 20, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حریف ٹیموں کے درمیان اس میچ کوشائقین کی بڑی تعداد نے جیوہاٹ اسٹارکے ذریعے دیکھا اور سی ٹی وی پر بھی ناظرین کی تعداد 2024 میں ہونے والے بھارت-پاکستان میچ کے مقابلے میں2.4 گنا زیادہ رہی۔
مزید بتایا گیا کہ میچ نے مجموعی طور پر 20 ارب منٹس کا شان دار واچ ٹائم حاصل کیا، جس کے نتیجے میں پچھلے ایڈیشن کے میچ کے مقابلے میں ویورشپ میں 42 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جیو اسٹار کے سیلز ہیڈ اسپورٹس انوپ گووندن نے کہا کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاک-بھارت میچ سے قبل کی تیاری اور میچ میں ایک بڑے مقابلے کے تمام عناصر موجود تھے، ریکارڈ توڑ ریچ اور ویورشپ اس بات کی عکاسی ہے کہ دنیا بھر کے شائقین مختلف پلیٹ فارمز پر اس ٹورنامنٹ کے ساتھ کس پیمانے پر جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ اب تک دنیا بھر کے شائقین کو سنسنی خیز لمحات فراہم کر چکا ہے اور پاک-بھارت میچ پر ملنے والا ردعمل ایک شان دار ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کی بنیاد ہے۔
Today News
پاکستان نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان مینز کرکٹ ٹیم مارچ میں بنگلادیش کا دورہ کرے گی جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ شیڈول کے مطابق قومی ٹیم 9 مارچ کو بنگلادیش پہنچے گی جبکہ 10 مارچ کو کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے۔
تین میچوں کی سیریز کا پہلا ون ڈے 11 مارچ کو، دوسرا 13 مارچ جبکہ تیسرا اور آخری میچ 15 مارچ کو کھیلا جائے گا۔ سیریز کے تمام مقابلے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔
Pakistan to tour Bangladesh for 3️⃣-match ODI series next month 🇵🇰🇧🇩🏏
More details ➡️ https://t.co/8IrI3le4pn#BANvPAK | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/8HKgkvhs6Q
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 20, 2026
یہ گزشتہ برس جولائی کے بعد پاکستان ٹیم کا بنگلادیش کا دوسرا دورہ ہوگا۔ جولائی میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز میں میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی۔
اس سے قبل مئی اور جون میں بنگلادیشی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان نے تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز تین صفر سے اپنے نام کی تھی۔
آئندہ ون ڈے سیریز دونوں ٹیموں کے لیے اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے کیونکہ یہ مقابلے مستقبل کے بڑے ایونٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے۔
Today News
جمہوریت کا پہلا زینہ – ایکسپریس اردو
طلبہ یونین پر پابندی کو 42 سال گزر گئے۔ ایک آمر نے طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی لگائی۔ جمہوری حکومتیں اپنے منشور کے مطابق طلبہ یونین پر سے پابندی ختم نہ کرسکیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ اور پاکستانی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی کے 42 سال پورے ہونے کے موقع پر ایک بیان میں اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی سے لاکھوں طلبہ کے حقوق معطل ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر 23 کی خلاف ورزی ہے اور یہ اس منشور کی اظہارِ رائے سے متعلق شق 19 کی بھی خلاف ورزی ہے۔
جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو اقتدار سنبھالا اور 1973 کے آئین کو معطل کردیا، یوں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی غضب ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پیپلز پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ مزدور انجمن، طلبہ یونین اور صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کی سبھائیں تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ جب طلبہ یونین پر پابندی لگی تو دائیں اور بائیں بازو کی تمام طلبہ تنظیموں نے ایک مؤثر مہم چلائی۔ یہ تحریک عروج پر تھی کہ اس دوران اسلامی جمعیت تحریک سے علیحدہ ہوگئی۔
1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں قائم ہوئی مگر یہ حکومت اپنے منشور پر عملدرآمد نہیں کرسکی۔ اس دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رہنما نے سپریم کورٹ میں طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف عرضداشت دار کی۔مگر عدلیہ کے ایک عبوری حکم میں طلبہ یونین پر پابندی برقرار رکھی گئی۔ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت وفاق میں قائم ہوئی تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا مگر اس اعلان پر عملدرآمد کبھی نہیں ہوا۔
2013 میں پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ میر حاصل بزنجو نے طلبہ یونین پر پابندی کے خاتمے کی قرارداد پیش کی۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل طحہٰ کے طلبہ یونین پر پابندی کے بارے میں مفصل فیصلے کو ایوان میں پڑھ کر سنایا تو پتہ چلا کہ معزز عدالت نے 1990 میں طلبہ یونین پر پابندی بعض شرائط کے ساتھ ختم کردی تھی۔ سینیٹ نے حاصل بزنجو کی طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔
ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی ایکٹیوسٹ اور بائیں بازو کی تنظیم پرو گریسو فرنٹ کے رہنما بصیر نوید نے اس وقت کے صدر ممنون حسین کو ایک عرضداشت بھیجی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلبہ یونین پر پابندی ختم کی جائے۔ ایوانِ صدر نے یہ عرضداشت وزارت قانون کو بھجوا دی۔ وزارت قانون کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ فیصلہ دیا کہ طلبہ یونین پر پابندی مارشل لاء ریگولیشن کے تحت عائد کی گئی تھی۔ اب مارشل لاء ختم ہونے کے بعد طلبہ یونین پر پابندی ختم ہوچکی ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف تحریک مسلسل جاری رکھی۔
بائیں بازو کے طلبہ نے 2017 میں طلبہ کی ایک تنظیم پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کے بائیں بازو کی دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ ایک متحدہ محاذ قائم کیا۔ اس متحدہ محاذ نے پورے ملک میں طلبہ یونین کی سرگرمیوں کو بحال کرانے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ یکم مارچ 2018 کو ملتان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ایک پرامن مارچ کیا۔ یکم مارچ 2019 کو پورے پاکستان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا۔ یہ احتجاج اتنا پرزور تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں طلبہ یونین کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
بلاول بھٹو کے اس وعدہ کے تحت سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کا مسودہ پیش ہوا۔ سندھ اسمبلی میں تعلیم کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، اساتذہ اور صحافی نمائندوں کی مشاورت سے ایک جامع قانون تیار کیا۔ سندھ اسمبلی نے اس قانون کی منظوری دیدی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور دیگر تینوں صوبائی اسمبلیوں نے اس بارے میں کوئی قانون منظور نہیں کیا مگر سندھ میں قانون کے نفاذ ہونے کے باوجود ابھی تک کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتخابات منعقد نہیں ہوسکے۔ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان مقرر ہوئے تو وہ قائد اعظم یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے بلحاظِ عہدہ رکن بن گئے۔
ان کے ایماء پر قائد اعظم یونیورسٹی نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا، مگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) کے سابق رہنما اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور احسن نے سینیٹ میں بار بار طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کیا مگر حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہ ہوا۔ لاہور میں ترقی پسند طلبہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے زبردست مظاہرہ کیا۔انگریز حکومت نے جب ہندوستان میں یونیورسٹیاں قائم کیں تو ان یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنی یونین منتخب کرنے کا موقع دیا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوتے تھے۔
اس یونین کے عہدیداروں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پاکستان بنانے کے پیغام کو مسلمانوں میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کے باقاعدہ انتخابات ہوتے تھے۔ 1953 میں کراچی کے تعلیمی اداروں میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نامزد کردہ امیدوار کامیاب ہوئے، یوں ان طلبہ یونینز نے انٹرکالجیٹ باڈی کے پلیٹ فارم سے تعلیم کو عام کرنے اور فیسوں میں کمی کے لیے 8 جنوری 1953 کو تاریخی جدوجہد کی۔ خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے اس تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ، یوں کراچی میں نئے کالج قائم ہوئے، فیسوں میں کمی ہوئی اور طلبہ کو بسوں کے کرایہ میں رعایت ملی۔
یہ رعایت 80 کی دہائی تک جاری رہی۔ اس وقت طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ 1963 میں طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل ہوا۔ معروف صحافی حسین نقی کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے براہِ راست ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بلوچ طلبہ سے یکجہتی کرنے پر یونیورسٹی سے انھیں برطرف کیا۔
ابلاغیات کے استاد اور دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے سابق رہنما ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی کا کہنا ہے کہ نوجوان طلبہ کی تربیت کے لیے طلبہ یونین انتہائی ضروری ہے۔ طلبہ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طالب علم فتح اور شکست کو برداشت کرنے کے جذبہ سے آراستہ ہوتے ہیں اور انھیں قانون کے تحت پہلی دفعہ اپنی سرگرمیوں کو مرتب کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے، یوں طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہوتا ہے۔ طلبہ یونین جمہوری نظام کا پہلا زینہ ہے۔ ملک کی قیادت میں بہت سے رہنما آئے ہیں جو منتخب طلبہ یونین کے تجربہ سے گزرے ہیں۔ یہ رہنما زیادہ بہتر انداز میں جمہوری روایات کی پیروی کرتے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی سے جمہوری نظام مستحکم ہوگا۔
Today News
کراچی؛ ٹیپو سلطان بلوچ پاڑہ میں بھائیوں کے درمیان فائرنگ، ایک بھائی جاں بحق دوسرا زخمی
ٹیپو سلطان کے علاقے بلوچ پاڑہ کے قریب گھر میں فائرنگ کے واقعے میں ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، بلدیہ میں گھر کے اندر فائرنگ سے بھی ایک شخص زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی سٹی اسکول کے قریب گھر کے اندر فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا ، مقتول کی لاش اور زخمی کو جناح اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 45 بہاؤ الدین کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی بھائی 43 سالہ محی الدین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایس ایچ او ٹیپو سلطان اظہر خان نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ گھر میں بھائیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں پیش آیا ہے جس میں جلال الدین نامی بھائی نے فائرنگ کی تھی جو موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا بلدیہ حب ریور روڈ روٹ اے 25 اسٹاپ کے قریب گھر میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے ایدھی کے رضا کاروں نے طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کی شناخت 26 سالہ بلال ولد علی شیر کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ گھر میں اسلحہ صاف کرتے ہوئے اتفاقیہ گولی چلنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
Source link
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan