Today News
T20 World Cup: New viewership record set, ICC Chairman’s important statement revealed
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 نے بھارت میں سب سے زیادہ ٹی وی اور ڈیجیٹل ناظرین کا 50 ملین سے زائد ہدف عبور کر کے تاریخ میں سب سے زیادہ ویورشپ ریکارڈ قائم کر دیا۔
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق اس نئے اعزاز پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ نے کہا کہ یہ کامیابی دنیا بھر میں کرکٹ کے بڑھتے ہوئے شوق اور محبت کا ثبوت ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ورلڈ کپ 2026 کا مقصد اسے سب سے زیادہ قابلِ رسائی ایونٹ بنانا تھا اور بھارت میں ریکارڈ 500 ملین سے زائد ناظرین نے اسے دیکھ کر یہ امید بڑھائی ہے کہ فائنل اور سیمی فائنلز میں یہ تعداد مزید بڑھے گی۔
The journey of the @ICC #T20WorldCup 2026 began with the ambition to make it the most #global & #accessible Cricket event ever. I am humbled that viewership for the event in India has crossed 500 million, the highest ever for any T20 World Cup in history. It was also heartening…
— Jay Shah (@JayShah) March 4, 2026
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ویورشپ بھی بے مثال ہے، ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر ایک ساتھ سب سے زیادہ دیکھنے کا ریکارڈ بھی ٹوٹا جہاں ایک وقت میں60.5 ملین ناظرین نے ایک ساتھ میچ کی لائیو کوریج دیکھی۔کرکٹ شائقین کے بڑھتے ہوئے رجحان اور موبائل یا آن لائن ویورشپ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو ڈیجیٹل دور کے سب سے بڑے ایونٹس میں شامل کر دیا۔
ایونٹ اب ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے فائنل میں جگہ بنا لی جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں کل بھارت اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوں گی۔
ان اہم میچوں کے ساتھ توقع کی جا رہی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی ناظرین کی تعداد مزید بڑھ جائے گی اور نیا عالمی ریکارڈ بنے گا۔
Today News
صیہونی دسترخوان پر پڑے مسلمان
پاک افغان کشیدگی کی ابتداء سے لکھ رہا ہوں کہ اس جنگ میں ہار افغانستان اور پاکستان کی جب کہ فتح مشرکین اور یہود و ہنود کی ہوگی، عقل کے ترازو پر تول کر یہ اظہر من الشمس ہے یہ جنگ صرف افغانستان اور پاکستان نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے مفاد میں نہیں اور اس سے خیر برآمد نہیں ہوگی، مگر افسوس کہ افغانستان کے حکمرانوں نے حالات کی نزاکت کا ادراک نہیں کیا اور ان کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جو جنگ شروع ہوئی اس کا اختتام سب کے لیے خصوصاً ان کے لیے ہولناک، اندوہناک اوراذیت ناک ہوگا۔ بوجھل دل اور قلم کی وجہ سے پاک افغان جنگ پر جو لکھنا بنتا تھا وہ لکھ نہیں پاتا اور خانہ پری کے لیے لکھنے کی ہمت نہیں تھی مگر امریکی سرپرستی میں ایران پر صہیونی بربریت نے تن بدن میں آگ لگا دی تو قلم اٹھایا۔ امریکی اور اسرائیلی صہیونیوں کے مشترکہ حملوں نے مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کے اضطراب میں کئی گنا اضافہ اور دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے کنارے پر لا کھڑا کردیا، صہیونی درندوں نے 86 سالہ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو سرکردہ شخصیات، اہل خانہ اور تین سالہ کَلی جیسی پوتی سمیت شہید کرکے ناصرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام خصوصاً اس خطے کو آتش فشاں اور بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
آگ اگلتے میزائلوں کے شعلے صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے، ایران صرف اسرائیل پر نہیں متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن، سعودی عرب، ترکیہ اور کویت بھی ڈرون اور میزائل برسا رہا جس نے پورے خطے کی سلامتی اور طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے، مذکورہ ممالک تو حالت جنگ میں ہیں مگر ایران نے امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ سفارتخانوں اور قونصل خانوں پر بھی حملے شروع کردیئے لہٰذا ا ب تو اس خطے کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہا ،ریجن کی فضائی حدود میں کمرشل و نان کمرشل پروازیں مکمل طور پر بند، جنگی طیاروں اور میزائلوں کی گونج نے خوف و غم کا سماں باندھ دیا ہے۔ امریکی بحری بیڑے پر آگ لگی ہے اور لگتا ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو شہدا کے خون میں ڈوب جائیں گے۔
اس وقت آدھا عالم اسلام یہود و نصاریٰ اور ہنود کی مسلط کردہ بلاواسطہ اور بالواسطہ جنگوں کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ فلسطین سے ایران ،ایران سے افعانستان، افعانستان سے پاکستان اور خطے کے تمام اسلامی ممالک میں خونِ مسلم بہایا جا رہا ہے۔ ہم پر ناصرف عالم کفر براہ راست حملہ آور ہے بلکہ انکی سازشوں کا شکار ہو کر مسلمان، مسلمان کا خون بہا رہے ہیں۔ میں نے اپنی 60 سالہ زندگی میں امت پر ایسا کڑا وقت پہلے کبھی دیکھا نہ بزرگوں سے سنا۔
میں تو بحیثیت مسلمان پاکستان، افغانستان، ایران سمیت تمام مسلمان ممالک سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے خلاف تلوار نکالنے کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یعنی احادیت کے آئینے میں دیکھ کر ہوش کے ناخن لیں اور ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر امریکی سرپرستی میں صہیونی یلغار کا مل کر مقابلہ کریں ورنہ دین و دنیا کی بربادی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ امریکی سرپرستی میں صہیونی و مشرکین کی یلغار اور مسلمانوں کی بے بسی دیکھ کر یہ حدیث رولا دیتی ہے۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “قریب ہے کہ عالم کفر تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑے گا جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں”۔ ایک صحابی نے پوچھا “کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟” آپ ﷺ نے فرمایا”نہیں،بلکہ تم اس وقت بہت ہوں گے ، لیکن سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا”پھر پوچھا گیا ” اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے”۔ (ابوداود حدیث نمبر 4297) آج امت مسلمہ پر عالم کفر ایسا ٹوٹ پڑا ہے جیسے بھوکے دسترخوان پر پڑے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بے حس حکمرانوں کی وجہ سے امت مسلمہ کا ہر ملک ان بھوکوں کے لیے تر نوالہ بن چکا ہے۔ یہ بھوکے عراق کو نگل گئے، شام کو کھا گئے، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، لیبیا میں اودھم مچایا، آٹھ دہائیوں سے کشمیر و فلسطین کو بھوکے کتوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ روئے زمین پر موجود 57 اسلامی ممالک اورڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان بے بسی و لاچاری کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور حکمران اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مصلحتوں کا شکار ہیں‘ افسوس کہ پہلے عالم کفر صرف ہمارے ہی وسائل سے ہم پر حملہ آور تھا اور اب ہمیں ایک دوسرے کے ذریعے کاٹ رہے ہیں مگر پوری امت پر سکوت طاری ہے۔ آخر کیوں؟ تاریخ کے جھرکوں میں جھانک کر دیکھا تو نگینوں سے مزین ہال تلواریں تھامے سپاہیوں کے درمیان سونے سے جڑی تخت پر بیٹھے قیصرِ روم کے سامنے بیڑیوں میں جکڑا ایک قیدی نبی رحمت ﷺ کا تربیت یافتہ غلام عبداللہ بن حذیفہؓ کو پیش کیا جاتا ہے۔
قیصر روم نے کہا عیسائیت قبول کرلو، آزادی اور عزت پاؤ گے۔ جواب آیا موت قبول ہے، ایمان کا سودا نہیں۔ نصف سلطنت کی پیشکش ہوئی۔ جواب آیا، اللہ کی قسم پوری سلطنت بھی دے دو تو لمحہ بھر کے لیے بھی دینِ محمد ﷺ سے نہ ہٹوں گا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت کے ایوان لرزے اور ایک قیدی کی استقامت کے سامنے دنگ رہ گیا۔ ابلتے تیل کی دیگ منگوائی گئی اور انکے سامنے دو قیدی جلائے گئے۔ مقصد حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ پر دباؤ ڈالنا اور ڈرانا تھا لیکن رسولِ کریمﷺ کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا عبداللہ بن حذیفہؓ جن کا یقین تھا کہ “آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی (اللہ) کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے”۔ (سورۃ الحدید: آیت2)
وہ کیسے اس دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے عارضی بادشاہ قیصر روم کے ساتھ ایمان کا سودا کرتے؟ دو آدمیوں کو زندہ جلا کر مار دینے سے حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کی آنکھوں میں آنسو آئے تو قیصر روم سمجھے کہ شاید ڈر گئے، پھر اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کی آفر دی گئی، پھر انکار ہوا۔ قیصر نے کہا پھر رو کیوں رہے ہو؟ جواب سن کر دربار ساکت ہوگیا۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ رو اِس لیے رہا ہوں کہ صرف ایک جان ہے، کاش میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں اور سب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔ یہ ہے وہ ایمان جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے”آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوچکے، ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو”۔ (المائدہ: 3)
یہ سن کر قیصرِ روم ان کی بہادری اور جرآت مندی پر بہت حیران ہوا اور کہنے لگا اگر تم میرے سر کا بوسہ لے لو تو میں تمہیں آزاد کردوں گا۔
حضرت ابوحذیفہؓ نے پوچھا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو بھی رہا کردوگے؟ اس نے کہا، ہاں! میں تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردوں گا۔ تو آپؓ اس کے قریب آئے اور اس کے سر کا بوسہ لیا۔ قیصر روم نے حسب وعدہ حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کو تمام مسلمان قیدیوں کے ساتھ رہا کردیا۔ جب یہ لشکر واپس مدینہ پہنچا اورامیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو سیدنا عمر ؓ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے”ہر مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ عبداللہ بن حذیفہؓ کے سر کا بوسہ لے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں جابر و ظالم کے سامنے جبل استقامت بن کھڑے رہنے کی ہماری تاریخ اور ورثہ ہے، آج 57 اسلامی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان وسائل سے مالا مال، طاقتور افواج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے لیس ہیں لیکن نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ہماری حیثیت جھاگ سے زیادہ نہیں، ہمارا کوئی وزن نہیں اسی لیے عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے تر نوالہ ثابت ہورہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہن(دنیا کی محبت اور موت کا ڈر )دلوں میں اتر آیا ہے۔ مفاد پرست حکمران اپنی ناک سے آگے دیکھنے سے معذور اور حق کی قیمت پر بھی مفاد چاہتے ہیں اور موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے وہ انجام نہیں، فنا ہو۔ قرآن کہتا ہے”اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (الرعد: 11)
ہمیں اپنی حالت بدلنا ہوگی تاکہ ہم جھاگ سے سنگلاخ چٹان بن جائیں اور عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے ترنوالے ثابت ہو رہے ہیں۔
Today News
خود مختاری کا احترام لیکن امریکا کو جواب دینا ضروری تھا؛ ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگی صورت حال پر ہمسایہ خلیجی ممالک کے نام ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں نے ایران کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہاں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام صرف علاقائی ریاستوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اہم ترین دفاعی شخصیات کو شہید کردیا تھا۔
جس کے جاب میں ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈّے اور مفادات تھے۔
ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں پر ایرانی حملے میں 4 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں۔
تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی صدر کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
Today News
عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت
عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔
عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔
وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کی بندش کی تاحال کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے البتہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔
دوسری جانب بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ طریقے سے عراق سے نکل جائیں۔
امریکی سفارتخانے نے مزید کہا کہ جب تک عراق سے نکلنے کے لیے حالات سازگار نہ ملیں اُس وقت تک کسی محفوظ جگہ پر پناہ لے لیں۔
خیال رہے کہ امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد دنیا بھر اور بالخصوص خلیجی عرب ممالک سے امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں اور مفادات کو نشانہ بنایا ہے جس میں 4 امریکیوں کی ہلاکت تصدیق پینٹاگون نے بھی کی ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report