Connect with us

Today News

اعلیٰ تعلیم… چیلنجزاور ممکنہ حل

Published

on


پاکستان میں اعلی تعلیم سے جڑے معاملات، مسائل یا مشکلات کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ایک بڑا تضاد تعلیمی پالیسیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اول پالیسیوں میں جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلیوں کے عمل کا نہ ہونا،دوئم مالی وسائل کی کمی یا بجٹ کو کم مختص کرنا،سوئم تعلیم ،تحقیق اور تعلیمی معیارات کی کمی ، چہارم سیاسی مداخلت ،پنجم تعلیمی معاملات پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا بیوروکریسی کا کنٹرول،ششم سماجی علوم کو اپنی ترجیحات میں نظرانداز کرنا،ہفتم جامعات کی سطح پر گورننس کے نظام کے مسائل،ہشتم جامعات کی داخلی سطح پر خود مختاری کو چیلنج کرنا،نہم جامعات کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلوں کا اختیار نہ دینا،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کا نظام کا غیر موثر ہونا،دہم وائس چانسلرز کی تقرری میں سیاسی مداخلت یا سرچ کمیٹیوں میں تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کے کنٹرول کی موجودگی جیسے مسائل میں اعلی تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی خواہش یا توقعات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔

 وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن،وفاقی اور صوبائی وزراتوں کا ہونا، بیوروکریسی جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اعلیم تعلیم سے جڑے مسائل کم نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جہاں بڑھ رہے ہیں وہیں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اعلی تعلیم کی ترجیحات میں کمزوری کے کئی پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعلی تعلیم سے جڑے ماہرین اور اعلی دماغ نہیں ہیں یا ان میں کام کرنے کا تجربہ اور صلاحیت کی کمی ہے یا ان کو عالمی سطح میں اعلی تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان اعلی تعلیمی ماہرین اور اعلی دماغوں کی ریاست اور حکومت کے نظام میں رسائی اور قبولیت کی ہے۔کیونکہ ہم مجموعی طور پرپاکستان میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک ایسا سازگار ماحول قائم نہیں کرسکے جہاں لوگ آزادانہ بنیادوں پر یا کسی ڈر اور خوف کے اعلی تعلیم کے بارے میں کوئی بڑے فیصلے کرسکیں یا کوئی متبادل سوچ،فکر اور نظام کو سامنے لایا جاسکے یا اس کی قبولیت کو تسلیم کیا جاسکے۔سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ جب اعلی تعلیم کے بڑے بڑے ماہرین اور اعلی دماغ کو ہم ملکی سطح پر بیوروکریسی کے سامنے بے بس دیکھتے ہیں تو اس سے انداز ہوجاتا ہے کہ اعلی تعلیم آزادانہ بنیادوں پر کہاں کھڑی ہے۔

پچھلے دنوں ’’لاہور فورم فار گورننس‘‘ جس کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں، ان کی سربراہی میں ایک علمی اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست کے مہمان خاص پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے تفصیلی گفتگو اور سوال جواب کی نشست تھی۔ اس کا مقصد اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر ان کا موقف سننا اور مستقبل کے امکانات کودیکھنا تھا۔ ہمارے ہاں اعلی تعلیم کے معاملات میں آج کل کئی فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ان کے بقول آج سب ہی جامعات کی سطح پر سوشل سائنسز کے مقابلے میں کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے جڑی تعلیم کی بات کررہا ہے اور ہم پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ سوشل سائنسز کی تعلیم کو بند کریا جائے ۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بقول جامعات کا حقیقی حسن ہی سماجی علوم ، ادب،آرٹ،کلچر،شاعری، ادب ، فلسفہ،تاریخ،ڈرامہ ہوتا ہے۔

ان کا سوال یہ تھا کہ کیا دنیا کی اعلی بڑی جامعات میں ان موضوعات پر تعلیم بند ہے تو ایسا ممکن نہیں۔اصولی طور پر جامعات کا کردار نئی نسل میں مکالمہ، سیاسی، سماجی،علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی ان میں صلاحیت پیدا کرنا،تجزیہ اور جائزہ کی صلاحیت پیدا کرنا،تحقیق کی مختلف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا،آزادانہ بحث و مباحثہ کا طلبہ و طالبات میں ماحول پیدا کرنا،ایک دوسرے میں رواداری اور اہم اہنگی کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے یہ جو تصور دیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی سطح پر سماجی علوم کی ضرورت نہیں غلط ہے بلکہ اس سوچ اور فکر میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔انھوں نے چین کی مثال دی او رکہا کہ اس برس چین سے 25کے قریب طالب علموں نے ڈاکٹر محبوب حسین کے شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو ظاہر کرتا ہے کے چین کی اپنی ترقی میں بھی سماجی علوم کی اہمیت ہے۔سماجی علوم کی ترقی اور تعلیم کو نظر انداز کرکے ہم سماج کو ایک مہذہب اور اعلی روایات پر مبنی سماج کی شکل نہیں دے سکیں گے۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آج کل شدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ جامعات بے روزگار پیدا کرنے کے ادارے بن گئے ہیںیا ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ان کے بقول روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہوتا ہے ۔ جب تک ملک کے نظام کو موثر اور شفاف نہیں بنایا جاتا، نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ جامعات کو صلاحیت پر مبنی نوجوان پیدا کرنے ہیں۔ اس میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے مگر سارا بوجھ جامعات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔کیونکہ یہ ہی نوجوان جب پاکستان سے اعلی تعلیم حاصل کرکے باہر کے ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں تو ان کو اچھا روزگار بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا کام نئی نسل کے معاشی معاملات کے حل میں جہاں چھوٹی اور بڑی صنعتوںکا فروغ ہوتا ہے وہیں ایسے معاشی حالات بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں جو لوگوں کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر سکے۔اسی طرح ان کے بقول آج کل مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر سب کچھ اسی کے تناظر میں بات ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایک ڈیجیٹل ٹول ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور ہم دیکھیں گے جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھے گا نئی نسل اسے سیکھ لیں گے۔اس پر بہت زیادہ توجہ یا علیحدہ سے ڈگریاں بنانے کی بجائے ہمیں اس علم کو مجموعی علم کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ہمیں اپنی توجہ علمی ،فکری،نفسیاتی انٹیلی جنس پر دینی چاہیے تاکہ ہم ان سے بہت کچھ عملی طور پر سیکھ کر اپنے لیے نئے امکانات اور نئی دنیا پیدا کرسکیں۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ یہاں موجود ماہرین ہماری اعلی تعلیم کا مقابلہ باہر کی اعلی تعلیم اور معیارات سے کرنا چاہتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے۔لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے اور اعلی تعلیم سے جڑے اداروں اور ممالک کا اعلی تعلیم کا بجٹ کیا ہے اور وہ کیا سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ہم کتنی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کے بقول ہم تو تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہیں ۔

ایسے میں جامعات اور بالخصوص پبلک سیکٹر جامعات کا چلنا ایک معجزہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نجی یونیورسٹیوں سے کیا جاتا ہے لیکن جو فیس ہم طلبہ سے لے رہے ہیں اور جو نجی یونیورسٹی لے رہی ہیں اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔اس لیے جب اعلی تعلیم کا تجزیہ کریں تو ان حقایق کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم عملا مستقبل کی طرف بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔ہمیں اعلی تعلیم کے معاملات میں جو غیر معمولی حالات ہیں اس میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی بنیادپر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران نے جنگ بندی میں توسیع کو فوجی کارروائی کیلیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا

Published

on



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مہدی محمدی کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا اور محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب فوجی انداز میں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق تیار کرنے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیارکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینے کی تجویز ہے اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے سپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔

وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ مالی سال2026-27ء کے بجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا۔

سپیشل اکنامک زونزکو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔ ایکسپورٹ زونزمیں تیارمصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پرپابندی ہوگی،بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قراردیاجائے گا۔

آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پربھی زوردیا ہے،بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھے چودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی، ایف بی آر کے آڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئے اکنامک زونز بنانے پرفی الحال پابندی عائد رہے گی۔

 بجٹ میں زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وارنرمی کی جائے گی جبکہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری2027 تک قائم کی جائے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

سندھ حکومت اور احتساب – ایکسپریس اردو

Published

on


کراچی کے معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں 17 جنوری 2026کو لگنے والی بدترین آتشزدگی کی رپورٹ شائع نہیں کی جارہی ہے۔اس سانحے میں 80 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے۔ بلدیہ کراچی اور دیگر اداروں کے فائر بریگیڈ 48 گھنٹوں تک اس آگ پر قابو نہیں پاسکے تھے۔ پہلے تو اس سانحے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے تو نزلہ صرف میونسپل کمشنر پر گرا اور وہ اس عہدے سے ہٹادیے گئے، بعدازاں کمشنر کراچی کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ایک ماتحت افسر کی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس پر صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس سے درخواست کی کہ جیوڈیشل ٹریبونل بنایا جائے جو اس سانحہ کی تحقیقات کرے۔ یوں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل کو اس ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ٹریبونل نے عرق ریزی سے تحقیقات کیں۔

سرکاری افسران، گل پلازہ کے دکاندار اور گل پلازہ کی انتظامیہ کے علاوہ اس سانحہ میں مرنے والے افراد کے لواحقین ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ اس ٹریبونل نے گزشتہ ہفتے سندھ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ حکومت سندھ اس بات کی پابند ہے کہ رپورٹ عوام کے لیے افشاء کی جائے مگر بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر تاحال رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے معاونین پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے۔ اس کمیٹی کا کنوینر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء النجار کو مقرر کیا گیا۔ بلدیات کے وزیر ناصر شاہ اور صنعتوں کے وزیر اکرم دھاریجو کو اس کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا۔ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اقبال میمن کو کمیٹی کا سیکریٹری مقر کر دیا گیا۔

سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ٹریبونل کی رپورٹ میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، یہ کمیٹی ان خامیوں کے تدارک کے لیے اقدامات کا جائزہ لے گی اور کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ ضیاء النجار کا مؤقف ہے کہ اس کمیٹی کے قیام سے اس سانحے کے بارے میں حکومت سندھ کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ ٹربیونل کے سامنے انتظامی و پولیس افسران اور امدادی اداروں کے افسران کے علاوہ گل پلازہ کی انتظامیہ کے اہلکار ، دکاندار ،مرنے والے افراد کے لواحقین اور سول سوسائٹی کے ایکٹیوسٹ بھی پیش ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اپنے وکیل کے ساتھ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تاہم ٹریبونل نے انھیں ہدایت کی کہ وہ بذریعہ ای میل اپنی معروضات پیش کریں۔

فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ جس کا بنیادی کام آگ بجھانا ہے، اس کے چیف فائر افسر نے ٹریبونل کو بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس خطرناک آگ پر قابو پانے کی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔ ایک اور افسر کا کہنا تھا کہ دن میں کئی دفعہ لوڈ شیڈنگ کی بناء پر فائر بریگیڈ اسٹیشن کی بجلی چلی جاتی ہے، یوں سارا کام رک جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ اسٹیشن کی پانی کی لائن میں پہلے گندا پانی آتا ہے اور پھر جب صاف پانی آتا ہے تو یہ پانی فائر ٹینڈرز کو ملتا ہے۔ پانی کے ہائیڈرنٹ سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 20 میل دور صفورا اور نارتھ ناظم آباد کے ہائیڈرنٹ سے پانی لایا جاتا تھا۔ یوں اس آپریشن کے دوران کئی کئی گھنٹے پانی میسر نہیں تھا۔ تحقیقات کے دوران ٹریبونل کے سامنے یہ شہادت بھی پیش کی گئی کہ گل پلازہ کی انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 900 کے قریب دکانیں بنائی تھیں جس سے عمارت میں چلنے پھرنے کی جگہ بہت محدود ہوگئی اور اس عمارت میں آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے۔

مرنے والے افراد کے لواحقین نے ٹریبونل کے سامنے یہ بھی بتایا کہ آگ لگنے کے کئی گھنٹوں بعد تک موبائل فون پر ان کا اپنے عزیزوں سے رابطہ تھا مگر پلازہ کے تمام دروازے بند تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے 24گھنٹوں تک پلازہ میں داخل ہونے کے لیے کوئی دیوار نہیں توڑی تھی، اگر آگ لگنے کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران ایک مربوط آپریشن کے ذریعے عمارت میں جانے کے راستے بنادیے جاتے تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں مگر ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس دیوار توڑنے کے آلات نہیں ہیں۔ مرنے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ٹریبونل کے سامنے پیش کی گئی تو پتہ چلا کہ بیشتر افراد کی اموات دھواں پھیلنے اور دم گھٹنے سے ہوئی۔

اس ٹریبونل میں دو تین افراد وہ پیش ہوئے جنھوں نے مسجد کا دروازہ توڑ کر اپنی جان بچائی۔ فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے ،ٹریفک جام اور غیر منظم ہجوم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے بارے میں بھی شہادتیں پیش کی گئیں۔ ٹریبونل کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سندھ حکومت کا الیکٹڈ اسپیکٹر فعال نہیں ہے جس کا بنیادی کام ہر عمارت میں بجلی کے نظام کے معیار کا جائزہ لینا ہے۔ ٹریبونل کی کارروائی کا جائزہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے داری محکمہ بلدیہ اور اس کے ذیلی اداروں بلدیہ کراچی کے فائر بریگیڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ پولیس اور سول و ڈیفنس کے محکموں پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ نتائج اخذ کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ متعلقہ اداروں کے افسروں کی نااہلی، سرکاری عملے کا تربیت یافتہ نہ ہونا، ان اداروں میں کرپشن اور صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس اس سانحہ کی براہِ راست ذمے دار ہے۔

 جدید ممالک اس طرح کے سانحہ کے بعد سب سے پہلے احتساب کا عمل شروع کرتے ہیں۔ اس سانحہ کے ذمے دار اداروں میں سے بیشتر کا تعلق محکمہ بلدیات اور اس کے ذیلی اداروں سے ہے۔ اگرچہ کسی حادثے پر متعلقہ وزیر کے مستعفی ہونے کی روایت تو اس ملک میں ہے ہی نہیں مگر یہ کیسی منطق ہے کہ جس محکمہ کے افسروںکا سب سے زیادہ احتساب ہونا چاہیے، اس محکمہ کے وزیر کو ہی ٹریبونل کی رپورٹ پر عملدرآمد کی نگرانی پر مامور کردیا گیا۔ اس وقت مسئلہ صرف گل پلازہ کا نہیں ،وہاں جو جانی اور مالی نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا، اب کراچی سمیت اندرون سندھ شہریوں کے تحفظ کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب 10 سال قبل بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی تو اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج جسٹس علوی کی قیادت میں ٹریبونل بنایا تھا مگر اس ٹریبونل کی رپورٹ کو بھی عام نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس رپورٹ پر عملدرآمد کیا گیا۔ ایک تجربہ کار صحافی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت احتساب پر یقین نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین حکمراں جماعت یعنی پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ہیں۔ ایک اور صحافی کا کہنا ہے کہ ’’سسٹم‘‘ سے منسلک افسروں کے خلاف سندھ میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ گل پلازہ کے بعد کئی مقامات پر آگ لگی مگر معاملات کنٹرول میں رہے۔ جب متعلقہ افراد کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر خدانخواستہ اگلے چند مہینوں میں کوئی نیا حادثہ متوقع ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending