Today News
ایران کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہے، ٹرمپ کی امریکی اخبار کے مضمون پر تنقید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہے جبکہ ایران کی فضائی و دفاعی صلاحیتیں بھی تباہ چکی ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیاتی مضمون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت انہیں سادہ لوح سمجھتی ہے، تاہم ایران گزشتہ 47 سال سے میرے علاوہ باقی تمام امریکی صدور کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ میں نے انہیں کیا دیا؟ ایک تباہ حال ملک دیا ور میری پالیسیوں کے نتیجے میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، فضائیہ تباہ ہو گئی ہے جبکہ فضائی دفاعی نظام اور ریڈار مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، ایران کے جوہری لیبارٹریز اور ذخیرہ گاہیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی ایران کی عسکری صلاحیتوں کی تباہی سے متعلق متعدد دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اس دوران ایران کی جانب سے خطے میں کارروائیوں میں کشیدگی کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
Source link
Today News
Anne Hathaway named most beautiful actress of 2026
ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ این ہیتھوے کو عالمی شہرت یافتہ ’’پیپل میگزین‘‘ نے سال 2026 کی ’’دنیا کی سب سے خوبصورت اسٹار‘‘ قرار دے دیا ہے، جو ان کے طویل اور کامیاب کیریئر میں ایک اور بڑا سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
میگزین کے سرورق پر این ہیتھوے کی دلکش تصویر شائع کی گئی، جس میں وہ چاندی کی نفیس کڑھائی والے بیک لیس آف شولڈر لباس میں نہایت پُرکشش نظر آئیں۔ اس موقع پر اداکارہ نے اپنے فلمی سفر، یادگار کرداروں اور ہالی ووڈ میں خوبصورتی اور اداکاری کے بدلتے معیار پر کھل کر گفتگو بھی کی۔
این ہیتھوے نے اپنی مشہور فلم ’دی ڈیول ویئرز پراڈا‘ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شدید دباؤ کے باوجود یہ ان کے کیریئر کا ایک ناقابلِ فراموش تجربہ رہا۔ انہوں نے اپنے ساتھی فنکاروں کا ذکر کرتے ہوئے ایملی بلنٹ کو شاندار شخصیت قرار دیا، اسٹینلے ٹوسی کو بے حد مزاحیہ اور حاضر جواب کہا، جبکہ لیجنڈری اداکارہ میرل اسٹریپ کے بارے میں کہا کہ وہ نہایت قابلِ احترام ہیں اور ان کی بے حد عزت کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ اسی فلم کا سیکوئل یکم مئی کو ریلیز ہونے جا رہا ہے، جس کا مداحوں کو بے صبری سے انتظار ہے۔
این ہیتھوے کو اپنے کیریئر کے دوران متعدد بڑے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں اکیڈمی ایوارڈ، بافٹا، گولڈن گلوب اور پرائم ٹائم ایمی ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کی فلمیں عالمی باکس آفس پر 6.8 ارب ڈالر سے زائد کا بزنس کر چکی ہیں، جبکہ 2015 میں وہ دنیا کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں بھی شامل رہی ہیں۔ یہ نیا اعزاز نہ صرف ان کی خوبصورتی بلکہ ان کی اداکاری، محنت اور فلمی دنیا میں نمایاں مقام کا بھی اعتراف ہے۔
Today News
معرکہ حق، بھارتی فوج کی متعدد اگلی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا
معرکۂ حق کے دوران لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے مؤثر اور بروقت جوابی کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں بھارتی فوج کی متعدد اگلی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا جس پر بھارتی فوجی اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
تفصیلات کے مطابق معرکہ حق کے دوران دشمن کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد پاکستان آرمی نے دفاعی حکمت عملی کے تحت بھرپور ردعمل دیا۔
کارروائی کے دوران جدید آرٹلری کا استعمال کرتے ہوئے اُن مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا جہاں سے فائرنگ کی جا رہی تھی۔ ان کارروائیوں میں درجن کے قریب بھارتی پوسٹیں تباہ یا شدید متاثر ہوئیں جبکہ دشمن کو جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
فوجی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ شہری آبادی محفوظ رہے اور صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جائے جبکہ جدید نگرانی کے نظام، بشمول ڈرونز، کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی گئی۔
دوسری جانب سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے مسلسل نگرانی جاری ہے جبکہ مسلح افواج کو ہائی الرٹ رکھا گیا۔
معرکۂ حق کے دوران لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی پوزیشنز پر نمایاں دباؤ دیکھا گیا، ایک اہم پیش رفت میں بھارتی چیک پوسٹ پر سفید پرچم لہرائے گئے۔
شدید گولہ باری اور پاکستانی فورسز کی درست نشانہ بازی کے باعث مذکورہ بھارتی چوکی پر موجود اہلکاروں نے پسپائی اختیار کی اور چوکیوں کو خالی کر دیا۔ سفید پرچم لہرانا عام طور پر جنگی صورتحال میں ہتھیار ڈالنے یا مزاحمت ختم کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
فوجی حلقوں کے مطابق پاکستان آرمی کی کارروائیاں صرف اُن مقامات تک محدود رہیں جہاں سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جبکہ بھرپور کوشش کی گئی کہ غیر متعلقہ اہداف کو نقصان نہ پہنچے۔
تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران دشمن کو متعدد مقامات پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور کئی چوکیوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
پاکستانی مسلح افواج نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
Today News
جنگ بندی توسیع : عالمی استحکام کی کلید
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ مذاکرات کامیاب ہوئے تو میں بھی ایرانی قیادت سے ملوں گا ‘‘ دوسری جانب امریکی وفد کے پاکستان روانگی کی تصدیق کے فوری بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، ا یران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔
دوسری جانب چین کے صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ماہرین ِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر مزید دباؤ پڑے گا۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مہنگائی جلد کم نہیں ہوگی، جنگ کے اثرات اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے تو راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کو محض ایک سفارتی سرگرمی قرار دینا دراصل اس گہرے اور کثیرالجہتی بحران کی نوعیت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی و معاشی نظام کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب عسکری تناؤ، باہمی عدم اعتماد اور متضاد بیانات نے سفارتکاری کی گنجائش کو محدود کر دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات ایک نازک مگر فیصلہ کن موقع کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اس موقع کو اگر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ نظریاتی، تزویراتی اور جغرافیائی مفادات کے تصادم کی ایک طویل داستان ہے۔ اس تاریخ میں کشیدگی کے ادوار بھی آئے اور مذاکرات کے مرحلے بھی، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ حالیہ بحران نے اس بداعتمادی کو ایک نئی شدت دی ہے، جہاں ہر اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر بیان کے پیچھے ایک پوشیدہ مفاد تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس پیش رفت کو نتیجہ خیز بنانا ایک کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔
جنگ بندی کی اہمیت اس تمام صورتحال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ میدان جنگ میں خاموشی ہو اور فریقین کو یہ یقین ہو کہ بات چیت کے دوران ان کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جنگ بندی نہ صرف نازک ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی کے الزامات نے اسے مزید کمزور بنا دیا ہے۔ بحری تنازعات، جہازوں کی روک تھام اور عسکری نقل و حرکت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فریقین مکمل طور پر مذاکراتی راستے پر آمادہ نہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اسلام آباد میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کا کردار یہاں ایک اہم موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔
ایک ایسے ملک کے طور پر جو ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی سفارتی صلاحیتوں کو ایک بار پھر منوانے کا ہے۔ اسلام آباد کی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد نہ صرف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے بلکہ انھیں اس عمل کو جاری رکھنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کردار تسلیم کیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب عملی پیش رفت درکار ہوگی۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس بحران کے مرکز میں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے گزرنے والے تیل کی مقدار دنیا کی معیشت کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ راستہ کس قدر حساس ہے اور کس طرح ایک محدود بحری تنازع بھی عالمی سطح پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور زرعی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جو عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مہنگائی کا دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔امریکا کی اپنی معیشت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ مہنگائی میں اضافے کے خدشات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی لاگت میں بڑھوتری نے معاشی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی حساس ہے، کیونکہ معاشی مشکلات کا براہ راست اثر عوامی رائے پر پڑتا ہے۔ اسی طرح یورپ اور ایشیا کی معیشتیں بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مالیاتی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کی جانب سے امن کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ بحران ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دینا دراصل عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے ایک اہم مطالبہ ہے، جب کہ سعودی عرب جیسے ممالک بھی اس کشیدگی کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر عالمی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔سفارتکاری اس تمام صورتحال میں واحد قابل عمل راستہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔ یکطرفہ اقدامات، سخت بیانات اور عسکری سرگرمیاں اس عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، جن میں جنگ بندی کی پاسداری، اشتعال انگیزی سے گریز اور مثبت بیانیے کو فروغ دینا شامل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرے بلکہ ایک ذمے دار عالمی ریاست کے طور پر بھی اپنی ساکھ کو مضبوط کرے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھے اور کسی بھی ممکنہ دباؤ کے باوجود غیر جانبداری اور توازن کو برقرار رکھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک نئے بحران میں دھکیل دے گی۔ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جسے روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت مثال قائم کرے گا کہ پیچیدہ تنازعات بھی سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ امن کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ایک معاہدہ اس کی شروعات ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی اعتماد سازی، نگرانی اور عمل درآمد کے مراحل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات گہرے اور پیچیدہ ہیں، جنھیں حل کرنے کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم موجودہ موقع ایک ایسا دروازہ کھول سکتا ہے جو مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد رکھ سکے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک امید کی کرن ہیں، لیکن یہ امید اسی صورت میں حقیقت میں بدل سکتی ہے جب تمام فریقین اس موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اسے ضایع نہ ہونے دیں۔ پاکستان کی کوششیں اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سنجیدگی اور عالمی برادری کی حمایت پر ہے، اگر اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک بڑے تنازع کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Kusal Mendis ton, Babar’s 87 power Zalmi to record rout of Kings – Sport