Today News
حکمران اور ظلم – ایکسپریس اردو
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنگ کے علم بردار دکھاوا کرتے ہیں انھیں معلوم نہیں کہ تباہی میں صرف ایک لمحہ لگتا ہے، تعمیر نو میں پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ پوپ لیو کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے ۔
ہمارے ہاں تو ماضی کے ایسے فاتحین جھنوں نے خون کی ندیاں بہائیں، انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ کہ ایسا پوری دنیا میں ہے۔ جو جتنا ظالم حکمران ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے، آج بھی یہی کھیل کھیلا جارہاہے ۔ امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کے خلاف خود ان کے عوام کو سڑکوں پر احتجاج اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنا پڑا۔ دونوں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے مگر دونوں اپنی جنگی پالیسی سے باز نہیں آئے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے دس جنگیں رکوائی ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر نے خود امریکا اور اسرائیل سے ایران پر حملے کرائے اور مزید تباہی کی دھمکیاں ابھی جاری ہیں۔
دنیا میں امریکا واحد سپر پاور ہے جس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر نے جنگوںکا نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں امریکی کمانڈوز وینزویلا بھیج کر وہاں کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرایا اور کئی ماہ سے امریکا میں قید کر رکھا ہے اور اب کیوبا کو دھمکایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد حکمران ہیں جو خود کو رحم دل بھی کہتے ہیں اور جنگ تھوپ کر خود ہی جنگ بندی بھی کر لیتے ہیں مگر اسرائیل میں صرف بربریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کے مظالم رکنے میں نہیں آ رہے جس نے لاکھوں فلسطینی شہید کیے جن میں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہیں اور اب لبنان اس کی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنی جدید ٹیکنالوجی سے ایران کے سپریم لیڈر و دیگر اہم رہنماؤں کو شہید کیا ہے۔
امریکا کے حکمرانوں نے جھوٹے الزامات لگا کر پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لیبیا اور عراق پر حملے کرکے وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل ویت نام میں شکست کھائی تھی اور اب ایران سے جنگ میں امریکی صدر اپنی فتح پر شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ امریکی حکمران ایک طرف مذاکرات کرنے پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے اپنی ساکھ برباد کر چکے ہیں وہ صبح کچھ رات کو کچھ اعلان کرکے ناقابل اعتماد بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو دنیا میں بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے لیکن جو خود تو مر گئے مگر تباہی و بربادی کی مثالیں چھوڑ گئے۔ امریکی صدر و اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ تو مجبور ہے مگر دونوں ملکوں کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت بھی خاموش ہے جس کا تازہ ثبوت امریکی سینیٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے جس نے اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہونے دی۔
روحانی پیشواپوپ لیو نے درست کہا ہے کہ تباہی و بربادی لمحوں میں پھیلا دی جاتی ہے مگر جنگوں میں ہونے والی تباہیاں سالوں میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں جب کہ دوبارہ تعمیر کے لیے بہت زیادہمالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا و اسرائیل نے اربوں ڈالروں کے ہتھیاروں سے ایران میں تباہی پھیلائی اور اس رقم سے زیادہ رقم اب ایران کو تعمیر و ترقی اور تباہی کی بحالی کے لیے درکار ہے۔
اپنی ذاتی انا کی تسکین اور من مانی کے لیے امریکا و اسرائیل کے حکمرانوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے جو بھاری رقم خرچ کی، وہ رقم وہ اپنے عوام کی خوشحالی و ترقی اور دنیا میں پھیلی بے انتہا غربت کے خاتمے پر خرچ کرتے تو لبنان، فلسطین اور ایران کا ناقابل تلافی جانی اور بہت بڑا مالی نقصان ہوتا نہ دنیا میں ان حکمرانوں کے خلاف بڑے احتجاج نہ ہوتے نہ انھیں ظالم گردانا جاتا۔
Today News
اعلیٰ تعلیم… چیلنجزاور ممکنہ حل
پاکستان میں اعلی تعلیم سے جڑے معاملات، مسائل یا مشکلات کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ایک بڑا تضاد تعلیمی پالیسیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اول پالیسیوں میں جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلیوں کے عمل کا نہ ہونا،دوئم مالی وسائل کی کمی یا بجٹ کو کم مختص کرنا،سوئم تعلیم ،تحقیق اور تعلیمی معیارات کی کمی ، چہارم سیاسی مداخلت ،پنجم تعلیمی معاملات پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا بیوروکریسی کا کنٹرول،ششم سماجی علوم کو اپنی ترجیحات میں نظرانداز کرنا،ہفتم جامعات کی سطح پر گورننس کے نظام کے مسائل،ہشتم جامعات کی داخلی سطح پر خود مختاری کو چیلنج کرنا،نہم جامعات کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلوں کا اختیار نہ دینا،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کا نظام کا غیر موثر ہونا،دہم وائس چانسلرز کی تقرری میں سیاسی مداخلت یا سرچ کمیٹیوں میں تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کے کنٹرول کی موجودگی جیسے مسائل میں اعلی تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی خواہش یا توقعات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن،وفاقی اور صوبائی وزراتوں کا ہونا، بیوروکریسی جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اعلیم تعلیم سے جڑے مسائل کم نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جہاں بڑھ رہے ہیں وہیں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اعلی تعلیم کی ترجیحات میں کمزوری کے کئی پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعلی تعلیم سے جڑے ماہرین اور اعلی دماغ نہیں ہیں یا ان میں کام کرنے کا تجربہ اور صلاحیت کی کمی ہے یا ان کو عالمی سطح میں اعلی تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی نہیں ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ان اعلی تعلیمی ماہرین اور اعلی دماغوں کی ریاست اور حکومت کے نظام میں رسائی اور قبولیت کی ہے۔کیونکہ ہم مجموعی طور پرپاکستان میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک ایسا سازگار ماحول قائم نہیں کرسکے جہاں لوگ آزادانہ بنیادوں پر یا کسی ڈر اور خوف کے اعلی تعلیم کے بارے میں کوئی بڑے فیصلے کرسکیں یا کوئی متبادل سوچ،فکر اور نظام کو سامنے لایا جاسکے یا اس کی قبولیت کو تسلیم کیا جاسکے۔سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ جب اعلی تعلیم کے بڑے بڑے ماہرین اور اعلی دماغ کو ہم ملکی سطح پر بیوروکریسی کے سامنے بے بس دیکھتے ہیں تو اس سے انداز ہوجاتا ہے کہ اعلی تعلیم آزادانہ بنیادوں پر کہاں کھڑی ہے۔
پچھلے دنوں ’’لاہور فورم فار گورننس‘‘ جس کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں، ان کی سربراہی میں ایک علمی اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست کے مہمان خاص پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے تفصیلی گفتگو اور سوال جواب کی نشست تھی۔ اس کا مقصد اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر ان کا موقف سننا اور مستقبل کے امکانات کودیکھنا تھا۔ ہمارے ہاں اعلی تعلیم کے معاملات میں آج کل کئی فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ان کے بقول آج سب ہی جامعات کی سطح پر سوشل سائنسز کے مقابلے میں کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے جڑی تعلیم کی بات کررہا ہے اور ہم پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ سوشل سائنسز کی تعلیم کو بند کریا جائے ۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بقول جامعات کا حقیقی حسن ہی سماجی علوم ، ادب،آرٹ،کلچر،شاعری، ادب ، فلسفہ،تاریخ،ڈرامہ ہوتا ہے۔
ان کا سوال یہ تھا کہ کیا دنیا کی اعلی بڑی جامعات میں ان موضوعات پر تعلیم بند ہے تو ایسا ممکن نہیں۔اصولی طور پر جامعات کا کردار نئی نسل میں مکالمہ، سیاسی، سماجی،علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی ان میں صلاحیت پیدا کرنا،تجزیہ اور جائزہ کی صلاحیت پیدا کرنا،تحقیق کی مختلف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا،آزادانہ بحث و مباحثہ کا طلبہ و طالبات میں ماحول پیدا کرنا،ایک دوسرے میں رواداری اور اہم اہنگی کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے یہ جو تصور دیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی سطح پر سماجی علوم کی ضرورت نہیں غلط ہے بلکہ اس سوچ اور فکر میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔انھوں نے چین کی مثال دی او رکہا کہ اس برس چین سے 25کے قریب طالب علموں نے ڈاکٹر محبوب حسین کے شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو ظاہر کرتا ہے کے چین کی اپنی ترقی میں بھی سماجی علوم کی اہمیت ہے۔سماجی علوم کی ترقی اور تعلیم کو نظر انداز کرکے ہم سماج کو ایک مہذہب اور اعلی روایات پر مبنی سماج کی شکل نہیں دے سکیں گے۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آج کل شدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ جامعات بے روزگار پیدا کرنے کے ادارے بن گئے ہیںیا ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ان کے بقول روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہوتا ہے ۔ جب تک ملک کے نظام کو موثر اور شفاف نہیں بنایا جاتا، نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ جامعات کو صلاحیت پر مبنی نوجوان پیدا کرنے ہیں۔ اس میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے مگر سارا بوجھ جامعات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔کیونکہ یہ ہی نوجوان جب پاکستان سے اعلی تعلیم حاصل کرکے باہر کے ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں تو ان کو اچھا روزگار بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا کام نئی نسل کے معاشی معاملات کے حل میں جہاں چھوٹی اور بڑی صنعتوںکا فروغ ہوتا ہے وہیں ایسے معاشی حالات بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں جو لوگوں کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر سکے۔اسی طرح ان کے بقول آج کل مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر سب کچھ اسی کے تناظر میں بات ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایک ڈیجیٹل ٹول ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور ہم دیکھیں گے جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھے گا نئی نسل اسے سیکھ لیں گے۔اس پر بہت زیادہ توجہ یا علیحدہ سے ڈگریاں بنانے کی بجائے ہمیں اس علم کو مجموعی علم کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ہمیں اپنی توجہ علمی ،فکری،نفسیاتی انٹیلی جنس پر دینی چاہیے تاکہ ہم ان سے بہت کچھ عملی طور پر سیکھ کر اپنے لیے نئے امکانات اور نئی دنیا پیدا کرسکیں۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ یہاں موجود ماہرین ہماری اعلی تعلیم کا مقابلہ باہر کی اعلی تعلیم اور معیارات سے کرنا چاہتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے۔لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے اور اعلی تعلیم سے جڑے اداروں اور ممالک کا اعلی تعلیم کا بجٹ کیا ہے اور وہ کیا سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ہم کتنی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کے بقول ہم تو تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہیں ۔
ایسے میں جامعات اور بالخصوص پبلک سیکٹر جامعات کا چلنا ایک معجزہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نجی یونیورسٹیوں سے کیا جاتا ہے لیکن جو فیس ہم طلبہ سے لے رہے ہیں اور جو نجی یونیورسٹی لے رہی ہیں اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔اس لیے جب اعلی تعلیم کا تجزیہ کریں تو ان حقایق کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم عملا مستقبل کی طرف بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔ہمیں اعلی تعلیم کے معاملات میں جو غیر معمولی حالات ہیں اس میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی بنیادپر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔
Today News
ایران نے جنگ بندی میں توسیع کو فوجی کارروائی کیلیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مہدی محمدی کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا اور محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب فوجی انداز میں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
Source link
Today News
آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق تیار کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیارکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینے کی تجویز ہے اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے سپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ مالی سال2026-27ء کے بجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا۔
سپیشل اکنامک زونزکو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔ ایکسپورٹ زونزمیں تیارمصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پرپابندی ہوگی،بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قراردیاجائے گا۔
آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پربھی زوردیا ہے،بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھے چودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی، ایف بی آر کے آڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئے اکنامک زونز بنانے پرفی الحال پابندی عائد رہے گی۔
بجٹ میں زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وارنرمی کی جائے گی جبکہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری2027 تک قائم کی جائے گی۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Sports4 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport