Today News
داخلی سیاسی استحکام کو مستحکم کرنا ہوگا
پاکستان کے جمہوری سیاسی استحکام کے تناظر میں ہماری داخلی سیاست میں کافی مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی عملی نوعیت گہری بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہر جمہوری دور میں سیاسی محاذآرائی یا سیاسی ٹکراؤ نے ملک کی سیاست کو غیر مستحکم بھی کیا اور سیاسی عمل کے مقابلے میں غیر سیاسی نظام کو مضبوط بھی بنایا۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اورکمزور بنیادوں پر موجود رہی ہے۔
آج بھی پاکستان کی سیاست نہ صرف کمزور بنیادوں پر موجود ہے بلکہ اب تو اس جمہوری نظام کو ہائبرڈ جمہوری نظام کا نیا نام دیا جارہا ہے۔بہت سے سکہ بند دانشور اور سیاسی حضرات اس ہائبرڈ نظام کا سیاسی جواز بھی پیش کرکے جمہوری نظام کو مزید کمزور بنیادوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ہمارے جمہوری نظام کی ساکھ بھی کمزور ہے اور اس نظام پر کئی طرح کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہماری جمہوری درجہ بندی کو مختلف تناظر میں چیلنج کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی،علاقائی اور داخلی سیاست کے تناظر میں اپنی سفارت کاری کی بنیاد پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے ۔ہمارے دشمن بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے سفارتی کارڈ کی بنیاد پر بہت اچھا کھیلی اور اس کھیل سے پاکستان کا تشخص کافی مثبت ابھرا ہے۔
ہمارے مقابلے میں بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا جو ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس پر یقیناً ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں اور ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ یا ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے درمیان ہم نے اب تک جنگ بندی ،تنازعات کے خاتمے اور پرامن ماحول کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ اس پر قومی سطح پر کوئی بڑی گہری تقسیم بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ حکومت ،حزب اختلاف،میڈیا اور سول سوسائٹی سب نے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک ذمے دار ریاست اور معاشرے کی عکاسی کی ہے اور اس پر سب کی تعریف ہونا چاہیے،کیونکہ ہمارے یہاں جو سیاسی تقسیم ہے اس میں اس طرز کے اتفاق رائے کا پیدا ہونا معمولی بات نہیں۔حزب اختلاف کا اس ماحول میں اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنا بھی حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اسے بھی ایک ذمے دارانہ کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اب یہ سیاسی مثبت ماحول آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں حکومت ،حزب اختلاف اور دیگر فریقوں کی سطح پر جو داخلی اختلافات ہیں یا جو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراو یا سیاسی دشمنی کا ماحول ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔حزب اختلاف کی سیاست عملی طور پرجمہوریت کے نظام کا حسن ہوتی ہے اور اس کے سیاسی وجود کو قبول کرکے ہی جمہوری راستے کو آگے کی طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے اختلافات کی سیاسی نوعیت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس وقت ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات نے سیاسی دشمنی کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی اور جمہوری داخلی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔سیاست ہی نہیں عدلیہ،میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی بہت سے چیلنجز ہیں مگر ان کو درست حکمت عملی کے تحت حل نہیں کیا جا رہا۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی استحکام ہے درست بات نہیں۔مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاست کے تناظر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی عملی طورپر مثبت نہیں اور وہاں کے سیاسی حالات وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کے نظام سے بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر نالاں ہیں جس میں گورننس کا بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
ایک بات جو پاکستان کی سیاست میںغلط ہو رہی ہے وہ ایک طرف سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا رجحان ہے جو سیاسی ماحول میں اور زیادہ تلخیاں پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے سے موجود سیاسی تقسیم جہاں اور زیادہ گہری ہو رہی ہے وہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں بھی بڑھ رہی ہیں جو سیاسی استحکام کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔سیاسی عدم استحکام معاشی اور سیکیورٹی کے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
ہماری معیشت اور سیکیورٹی کے مسائل کا براہ راست تعلق بھی ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں سیاسی عدم استحکام یا سیاسی تلخیوں کی سیاست کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے حل کے لیے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میںاتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم سیاسی محاذ پر سب مل کرایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کوممکن بنائیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن کی بنیاد پر دیکھنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ سیاسی رواداری کے کلچرکو مستحکم کرنا ہوگا۔ گورننس سے جڑے مسائل کا حل بھی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ہی عمل ہماری حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
یقیناً اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جہاں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں اب ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرکے ایک دوسرے کی قبولیت کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔سیاسی دشمنیوں کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں اور حزب اختلاف کو بھی سوچنا ہوگا کہ سیاست میں عملی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اہم ہوتا ہے اور جو سیاسی ڈیڈ لاک ہے اسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا ۔لیکن کیونکہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ہوتے ہیں تو ان کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی لچک کا مظاہرہ کرکے درمیانی راستہ نکالے جو سب کو بحران کی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکے ۔
لیکن اگر حکومت داخلی مسائل کو غیر اہم سمجھتی ہے یا اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ممکن ہے کہ حکومت کو وقتی طور پر کامیابی مل سکے اور وہ سیاسی مسائل کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال سکے ۔لیکن یہ حکومت کا مستقل حل نہیں ہوگا اور جب ہماری پالیسی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول تک محدود رہے گی تو مستقبل کی بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجائیں گے۔اس وقت جو بھی عالمی صورتحال ہمارے حق میں ہے اس کا ہمیں اپنی داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بڑے فریم ورک میں حل تلاش کرنا چاہیے،مسئلہ کسی کی جیت اور ہار کا نہیں بلکہ ریاست اور پاکستان کے مفاد کا ہے کیونکہ ہم جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں ہم مزید محاذ آرائی کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
ہمیں سیاسی ضد اور انا کا راستہ چھوڑنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام کا پیدا ہونا اس وقت ریاست کے بڑے مفاد میں ہے ۔لیکن اگر ہم اس کے مقابلے میں خوش فہمی کی سیاست میں زندہ رہنا اور سب اچھے کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو عملا ہم اپنے پہلے سے موجود مسائل کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔اس لیے جو سفارت کاری کی بنیاد حکومت نے عالمی معاملات پر ڈالی ہے اسی طرز کی سفارت کاری کی ہمیں داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے حل پر بھی دینی ہوگی ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو پاکستان میں سیاسی تقسیم ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم ان مسائل پر توجہ دیں جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں جن کا براہ راست تعلق ریاست کے مفاد سے ہے ۔
Today News
ایران دھمکیوں کیساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے ساتھ کسی صورت مذاکرات قبول نہیں کرے گا جبکہ ایران نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئی عسکری صلاحیتوں کی تیاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایران پر دباؤ بڑھا کر مذاکراتی عمل کو اپنی خواہش کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی میزمیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگی کارروائیوں کا جواز پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان جنگ میں ئنے کارڈز سامنے لانے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
ادھر ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد ایران نے مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کردیے جبکہ ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔
Source link
Today News
ایرانی ڈرونز ٹیکنالوجی نے دنیا میں طاقت کا تصور بدل دیا
ایرانی ڈرونز کا پہلا تذکرہ برسوں قبل اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں سے متعلق فوجی رپورٹس میں سامنے آیا،بعدازاں عسکری ماہرین نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز کا سِرا بھی ایرانی صنعت سے جوڑا،تاہم ستمبر 2022 میں دنیا اْس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے،اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 (شاہد-136) نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کئیو کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ 40 برس سے پابندیوں کا شکار ملک بین الاقوامی تنازعات میں کھیل کے اصول کیسے بدلنے میں کامیاب ہو گیا؟ کون سی بنیادی قدریں اور عوامل تھے جنھوں نے اسے ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابی دلائی؟یہ دراصل 1979 کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ہی تھیں جنھوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک میں دستیاب امکانات پر غور کرنے، مشکلات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے اور درست فیصلے کرنے پر مجبور کیا انہی پابندیوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک کے انجینیئروں پر اعتماد کرنے پر آمادہ کیا،پابندیوں کے باعث ایران نے بیرونِ ملک سپلائی نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ضروری ساز و سامان اور پرزہ جات حاصل کیے جا سکیں۔
جنوری 1979ء میں جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی،ایرانی فضائیہ اس وقت ایف 14 ٹام کیٹ، ایف 4 فینٹم اور ایف 5 ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی،اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔
شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی قیادت یا تو ملک چھوڑ گئی، قتل کر دی گئی یا قید میں ڈال دی گئی، ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہایت خونریز جنگ شروع ہوئی،جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے،جنگ کے ابتدائی مراحل میں عراقی افواج کو فضائی برتری حاصل رہی۔
دوسری جانب ایرانی افواج ایک ایسی جنگ لڑ رہی تھیں جس کے لیے ان کے پاس نہ واضح وژن تھا اور نہ ہی ضروری عسکری صلاحیت،ایران کو ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی تھی لیکن معاشی پابندیوں نے اسے عالمی منڈی سے یہ ٹیکنالوجی خریدنے کے قابل نہ رہنے دیا۔
چنانچہ ایرانیوں نے 1981 کے اوائل ہی میں ان چھوٹے آلات پر کام شروع کر دیا،ان پر کیمروں کی تنصیب کا خیال زیرِ غور آیا۔ اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی،برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں یہ نوجوان ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے،ان میں ایک سویلین پائلٹ جس کا نام فرشید تھا، دوسرا سعید نامی فزکس کا طالبعلم اور تیسرا مسعود زاہدی نامی پیشہ ور سنار تھا۔
جب پہلی مرتبہ انھوں نے اپنا ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا،یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا،اس کا فیول ٹینک ایک طبی آئی وی بیگ تھا، جبکہ اس کا ’فین‘ یا پنکھا مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا، 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا۔
یہ طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے،یہ پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک طالب علمانہ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔
Source link
Today News
آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر مزید 11 نئی شرائط عائد
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت مزید 11 نئی شرائط شامل کردی گئی ہیں، جس کے بعد گزشتہ دو برس میں مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی سے اسی پروگرام کے اہداف کے مطابق منظور کروایا جائے گا۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ بجٹ کی منظوری آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت دی جا رہی ہے،حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں مالیاتی خسارے کوکم رکھاجائے گا اور زیادہ معاشی ترقی کا ہدف مقرر نہیں کیاجائے گا۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پاکستان کو 2027 تک اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونزسے متعلق قوانین میں ترمیم کرنا ہوگی،جس کے ذریعے موجودہ ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرکے لاگت کی بنیاد پرمراعات دی جائیں گی، تمام مراعات 2035 تک مکمل طور پر ختم کرنے کاہدف مقررکیاگیا ۔
مزید برآں، حکومت ایکسپورٹ پروسیسنگ زونزکومقامی مارکیٹ میں مصنوعات فروخت کرنے سے روک دے گی، تاکہ ٹیکس چوری کو روکاجاسکے،توانائی کے شعبے میں بھی نئی شرائط کے تحت بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدگی سے اضافہ کیاجائیگا،جبکہ سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ لازمی ہوگی۔
کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلیے حکومت جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کرے گی،جبکہ فیڈرل بورڈآف ریونیوکاآڈٹ نظام مزید مؤثر اور مرکزی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسی طرح پبلک پروکیورمنٹ کے قوانین میں ترمیم کر کے سرکاری اداروں کو بغیر مقابلے کے ٹھیکے دینے کی سہولت ختم کی جائے گی،عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلیے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم کو 14,500 روپے سے بڑھاکر 19,500 روپے کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کااطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف اب تک اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 3 ارب ڈالرفراہم کر چکاہے، اگلی قسط ایک ارب ڈالر مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران جنگ اور ملکی نقصان