Today News
مذاکرات کا اگلا دور جلد ممکن ہے
ایران ماضی کی ایک بڑی سپر پاور اور امریکا حالیہ غالب قوت ہے۔ماضی کی سپر پاور ایران کی ریاستی زندگی کو اتنا لمبا عرصہ ہو گیا ہے کہ ایرانی معاشرت کئی ابتدائی مراحل سے گزر کر ایرانی تہذیب میں ڈھل گئی ہے۔جب کسی کلچر کو ایک لمبے عرصے کے لیے امن، سکون،پھلنا پھولنا اور ٹھہراؤ نصیب ہو جائے تو معاشرتی ثقافت ( کلچر) معاشرتی تہذیب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایران مسلمانوں کے ہاتھوں میں آیا تو ایرانی معاشرت دھیرے دھیرے ایک اسلامی معاشرت کا منظر پیش کرنے لگی۔جب صفوی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلکی بنیادوں پر استوار کیا تو ماضی کی یہ غالب قوت اولادِ رسول کی قربانیوں سے سبق لے کر مزاحمت کا استعارہ بننے لگی۔یوں مزاحمتی شعور نے تہذیبی شعور کو مہمیز کیا۔ہزاروں سال پر محیط ایرانی تہذیب نے جہاں ایرانیوں میں تفاخر کا جذبہ پیدا کیا وہیں اولادِ رسول کی قربانیوں سے نمو پانے والے معاشرے نے قربانی دینے کو اعلیٰ ترین انجام قرار دیا۔یہی سبب ہے کہ ایرانیوں میں ایک Decencyایک رکھ رکھاؤ کے ساتھ مرمٹنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔
اس کے برخلاف چند سو سالہ تاریخ رکھنے والی امریکی معاشرت مار دھاڑ ،لوٹ مار اور دوسروں کے حقوق چھیننے پر پروان چڑھی ہے۔امریکا بنیادی طور پر جبراً بنائے گئے غلاموں کے آقاؤں کا ملک ہے جس نے غلاموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، امریکا کے اصلی باشندوں سے زبردستی زمینیں چھینیں اور آس پاس کی ریاستوں پر غیر قانونی قبضہ کر کے امریکا میں شامل کیا۔پوری امریکی تاریخ میں کوئی ایسی اچھی مثال نہیں ملتی جسے نیکی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔امریکی معاشرہ ابھی شائستگی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ سے دور ہے۔جناب ٹرمپ کی زبان اسی کی چغلی کھاتی ہے۔
28فروری 2026کو نتن یاہو کے ایماء پر امریکا نے اسرائیل کی مدعیت میں ایران پر بالکل ناجائز حملہ کر دیا۔اس حملے کی امریکی ایوانِ نمائندگان یا اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ایسے میں یہ حملہ صرف ایک فرد یعنی امریکی صدر کا ذاتی فعل کہا جا سکتا ہے۔ماضی میں کسی امریکی صدر نے اتنی دیدہ دلیری سے ایوانِ نمائندگان اور اقوامِ متحدہ کو بے وقعت نہیں کیا۔امریکا دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر ایک سپر پاور کے طور پر اور برطانوی سلطنت کے جانشین کے طور پر سامنے آیا۔ایران پر حملہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے سامنے کوئی واضح اہداف نہیں تھے اور یہ کنفیوژن اس لیے تھی کیونکہ امریکا صرف نتن یاہو کی خواہش پر جنگ میں کود پڑا تھا۔
نتن یاہو نے امریکی صدر کو یہ سبز باغ دکھایا تھا کہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو ٹھکانے لگاتے ہی موجودہ ایرانی حکومت گر جائے گی۔ایران امریکا کے پاؤں پڑ جائے گا اور صدر ٹرمپ کی واہ واہ ہو جائے گی۔ادھر اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ جنگ کے پہلے دس دنوں میں ہی یہ صاف نظر آنے لگا کہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ فیل ہو چکا ہے اور جنگ ان کی مرضی کے مطابق نہیں جا رہی۔امریکا نے ایران کو دو دن کی جنگ بندی کی تجویز دی جس کو ایران نے منظور نہ کیا۔کئی اور تجاویزبشمول جی سی سی ممالک کی تجویز بھی آئی۔ایران نے اکثر تجاویز کو مسترد کر دیا لیکن جی سی سی ممالک کی تجویز کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا۔ پاکستان نے اس صورتحال میں دونوں فریقین سے رابطہ استوار رکھا۔انقرہ،قاہرہ اور ریاض کی input لی۔
اس کے فوراً بعد عوامی جمہوریہ چین سے مشاورت کی۔ پاکستان کی دن رات محنت رنگ لائی اور فریقین 15روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔امریکا جنگ بندی کے لیے بے تاب تھا۔طے پایا کہ امریکا اور ایران، اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچا،جب کہ جناب باقر قالیباف اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کی قیادت میں ایرانی وفد ہریالی میں لپٹے پاکستانی دار الخلافہ آیا۔دونوں وفود کے درمیان 21گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔1979میں ایرانی انقلاب اور امریکیHostages crises کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا۔ پاکستان نے اپنی محنت، ساکھ اور کوششوں سے انہونی کو ہونی کر دکھایا۔مذاکرات میں دونوں جانب سے خاصی پیش رفت ہوئی لیکن چند معاملات حل طلب رہے اور اس وجہ سے دنیا کو بڑی خوش خبری نہ مل سکی۔
مذاکرات اسلام آباد اکارڈ پر تو منتج نہ ہو سکے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ بقول صدر ٹرمپ جنگ بندی برقرار ہے۔ بے نتیجہ رہنے والے مذاکرات کے فوراً بعد مایوسی کی جو فضا چھا رہی تھی اس میں اب خاصی کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ امریکا اور ایران دونوں اطراف سے یہ عندیہ ملا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے پہلے اپنی مختصر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اپنی بات ایران کو کھول کر بتا دی ہے۔اب یہ ایران کی صوابدید پر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ایران نے ہماری شرائط پر راضی ہونا قبول نہیں کیا۔ جے ڈی وینس کے واپس واشنگٹن پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے بھی کچھ ایسی گفتگو کی جس سے بظاہر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں ایک وقفہ آیا ہے اور یہ کسی لمحے بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔چونکہ جنگ بندی ختم ہونے کی تاریخ 22اپریل ہے اس لیے یا تو جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا یہ مذاکرات 22اپریل سے پہلے منعقد ہوں گے۔دراصل امریکیوں کو مذاکرات کرنے کی عادت نہیں۔وہ اپنی Brute forceکی وجہ سے ہر مذاکراتی ٹیبل پر من مانی کرتے رہے ہیں۔
امریکی و اسرائیلی حملے سے صرف چند دن پہلے ایرانی وزیرِخارجہ نے جی سی سی ممالک کا دورہ کرکے وہاں کے حکمرانوں کو خبردار کر دیا تھاکہ اگر امریکا و اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران مجبور ہو گا کہ خلیج میں قائم امریکی اڈوں و رہائش گاہوں کو نشانہ بنائے۔ جی سی سی ممالک کی درخواستوں اور امریکا کو دی گئی بے تحاشہ دولت کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان کی ایک نہیں سنی اور حملہ کر دیا۔حملے کے ابتدائی چند دنوں کے بعد امریکی افواج کی اعلیٰ ترین قیادت نے جرات کر کے صدر ٹرمپ پر جیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کر دیا۔ہر کوئی توقع رکھتا تھا کہ ایران مزاحمت کرے گا لیکن ایران نے جو کمال کر دکھایا وہ حیران کن اور لاجواب ہے۔
گیارہ اپریل کے مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ مل گئی تھی لیکن صدر ٹرمپ نتن یاہو کے دباؤ کے آگے پھر ڈھیر ہو گئے۔ صدر ٹرمپ نے بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں بندشیں لگا کر ایران کو جھکانے کی کوشش کی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کی کوئی بندرگاہ بھی فنکشنل نہیں رہے گی۔ ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو مشکل بنا سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو دنیا تیل ،گیس اور کھاد کے بہت بڑے بحران سے دوچار ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ کے بلاکیڈ کو کہیں سے بھی مدد ملتی نظر نہیں آرہی۔ نیٹو، چین، برطانیہ،آسٹریلیا سب اس بلاکیڈ سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے پوری دنیا بشمول امریکا کو مہنگائی کے طوفان میں جھونک کر امریکی ری پبلکن پارٹی کو غیر مقبول بنا دیا ہے۔ مشہور جریدے دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اب ایران پر حملہ نہیں کرے گا،جنگ ختم ہو گئی ہے۔ امن معاہدے کی تکمیل کے لیے بدھ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک وفد لے کر تہران پہنچے جہاں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ خدا کرے کہ امریکی قیادت نتن یاہو کی خواہشات کے اسیر ہونے کے بجائے اپنے ہوشمند افراد کی سن کر ایسے حکیمانہ فیصلے کرے جس سے انسانیت کا بھلاہو۔
Today News
آکسفورڈ سمیت 12 برطانوی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حامی طلبہ کی جاسوسی کا انکشاف
برطانیہ کی معروف جامعات سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق آکسفورڈ سمیت برطانیہ کی 12 یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ اور اساتذہ کی جاسوسی کے لیے ایک نجی سکیورٹی فرم کو لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق دستیاب شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے، جس کا مقصد کیمپس میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں اور خاص طور پر فلسطین کے حامی افراد کی خفیہ نگرانی تھا۔
دستاویزات کے مطابق اس نگرانی میں نہ صرف طلبہ بلکہ ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہیں جنہیں مانچسٹر یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں مبینہ طور پر کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نام پر کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تعلیمی آزادی کے حامی افراد کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور تحقیق کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے اس حوالے سے شفافیت بھی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔
Today News
میرا نے شان شاہد کو شاہ رخ خان سے بڑا اداکار قرار دے دیا
پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا اپنی نئی فلم ’سائیکو‘ کے ساتھ بڑے پردے پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔
ماضی میں کئی کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ میرا کی نئی فلم عیدالاضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی۔
حال ہی میں میرا نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی آنے والی فلم کی تشہیر کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا شاہ رخ خان کون ہے جس پر انہوں نے بے دھڑک جواب دیتے ہوئے شان شاہد کو شاہ رخ خان سے بھی بڑا اداکار قرار دے دیا۔
میرا کا کہنا تھا کہ شان شاہد نہ صرف ایک بہترین اداکار ہیں بلکہ ایک قابل ہدایتکار اور شاندار لکھاری بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شان اداکاروں کی بہترین رہنمائی کرتے ہیں اور ان کی توجہ اور مہارت بے مثال ہے۔
میرا کا مزید کہنا تھا کہ اگر انہیں شاہ رخ خان اور شان شاہد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ بلا جھجھک شان کو ترجیح دیں گی۔
Today News
فضا علی کی نئی ویڈیو وائرل، شوہر کی قلابازیوں نے سب کو حیران کر دیا
اداکارہ و میزبان فضا علی نے شوہر کے ساتھ نئی ویڈیو شیئر کردی جس میں انکے شوہر کی قلابازیوں نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا۔
رپورٹس کے مطابق فضا علی اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ مختلف رومانوی ویڈیوز شیئر کر رہی ہیں۔
ایک ویڈیو میں ان کے شوہر کو ان کے گرد پارک میں الٹ پلٹ اور دلچسپ انداز میں کرتب دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جسے پر بعض صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ فضا علی نے اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ اسکی ہر کوشش ۔۔۔ بس میری محبت کیلئے۔
اس سے قبل بھی ایک لائیو شو کے دوران شوہر کی جانب سے فضا علی کو اٹھانے کا منظر وائرل ہوا تھا، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نئی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں کچھ لوگ اسے جوڑے کی محبت قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے مسخرہ پن قرار دے رہے ہیں۔
-
Magazines1 week ago
Story time: A lesson in caution – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Atletico punish 10-man Barca as red-hot PSG beat Liverpool in CL – Sport
-
Today News1 week ago
British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks
-
Sports2 weeks ago
Zalmi edge spirited Kingsmen by four wickets in PSL thriller – Sport
-
Sports1 week ago
Pakistan ready for Mauritania clash after record-breaking win, says Nadia Khan – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: Phantom of my loneliness – Newspaper
-
Sports3 days ago
Pakistan end FIFA Series with defeat to hosts Ivory Coast – Sport
-
Magazines1 week ago
ARTSPEAK: UNRAVELLING THE FAIRY TALE – Newspaper