Connect with us

Today News

وادیِ ایلا سے آبنائے ہرمز تک

Published

on


وادیِ ایلا کی وہ قدیم بازگشت آج مشرقِ وسطی کے تپتے ہوئے نقشوں پر ایک ایسے نئے پیراہن میں نمودار ہوئی ہے جہاں جالوت کی زرہ بکتر اب ڈالر کی چمک، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ میں بدل چکی ہے، مگر داؤد کی غلیل اب بھی اسی سادہ مگر مہلک بے نیازی سے لیس ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں بڑے بڑے برج الٹائے ہیں۔ ’’میلکم گلیڈویل‘‘ نے اپنی کتاب ’’ڈیوڈ اینڈ گولیتھ‘‘ میں جس ’’غیر روایتی برتری‘‘ کا ذکر کیا تھا، وہ آج کے عالمی تناظر میں محض ایک فلسفہ نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ ریاضیاتی حقیقت بن کر ابھری ہے جس نے طاقت کے مروجہ ترازو توڑ دیے ہیں۔ جب ہم اس تکون یعنی امریکا، اسرائیل اور ایران کے جنگی اخراجات کا تقابل کرتے ہیں تو ’’گلیڈویل‘‘کا وہ نکتہ خون کے چھینٹوں کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ بسا اوقات حجم ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکا، جس کا سالانہ دفاعی بجٹ نو سو ارب ڈالر کی ناقابلِ تصور حدوں کو چھو رہا ہے، آج ایک ایسے جالوت کی مانند ہے جو اپنے ہی بوجھ تلے ہانپ رہا ہے۔ اس کے مدمقابل اسرائیل ہے، جس کی جنگی مشینری کا پہیہ روزانہ کی بنیاد پر اربوں شیکل (کچھ تخمینوں کے مطابق تقریباً 250 ملین ڈالر روزانہ) ہڑپ کر رہا ہے اور حالیہ تنازعات کے نتیجے میں جس کا مجموعی جنگی تخمینہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اس مادی ہیبت کے سامنے ایران ہے، جس کا کل عسکری بجٹ شاید دس سے پندرہ ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے، مگر اس نے ’’خسارے کی اس جنگ‘‘ میں جالوت کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک پتھر کی قیمت ہیرے سے زیادہ پڑ رہی ہے۔

’’گلیڈویل‘‘ کے مطابق داؤد کی جیت کا راز یہ تھا کہ اس نے جالوت سے اس کے میدان میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا، اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی اسٹرٹیجک گہرائی نے امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو ’’اکانومیز آف اسکیل‘‘ کے بحران میں ڈال دیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی وہ ریاضی ہے جو جدید عسکری تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔

ایران کا ایک ’’شاہد ڈرون‘‘ جس کی تیاری پر محض بیس ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جب اسرائیل کی فضاؤں کی طرف بڑھتا ہے تو اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک ’’ایرو‘‘ یا ’’پیٹریاٹ‘‘ میزائل تیس سے پینتیس لاکھ ڈالر کا ہوتا ہے۔ یہ وہ تفاوت ہے جو بڑی طاقتوں کو معاشی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک رات کے ایرانی حملے کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا بارود فضا میں جھونکنا پڑا، جب کہ حملہ کرنے والے آلات کی کل مالیت اس کے دسویں حصے کے برابر بھی نہ تھی۔ یہ طاقت کا وہ زوال ہے جہاں آپ دشمن کو مارنے کے لیے جتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں، آپ اپنی ہی معیشت کے ماتھے پر شکست کا گھاؤ لگاتے جاتے ہیں۔

 گلیڈویل کے اسی مقدمے کو اگر عسکری پیراہن میں دیکھا جائے کہ ہم طاقت کو ہمیشہ اس کے ظاہری جاہ و جلال، مادی وسائل اور حجم سے ناپتے ہیں، حالاں کہ یہی حجم بسا اوقات انسان یا ریاست کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ایران نے ایک روایتی ایئر فورس بنانے کے بجائے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی پر توجہ دی، اس نے سمندروں میں بڑے بیڑے اتارنے کے بجائے چھوٹی، تیز رفتار کشتیوں اور پراکسی وارفیئر کا ایسا جال بنا دیا جسے امریکا جیسا ہاتھی اپنی بھاری بھرکم سونڈ سے پکڑنے میں ناکام ہے۔ایران کی ’’غلیل‘‘ اس کا وہ علاقائی اثر و رسوخ ہے جو لبنان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ براہِ راست سامنے آئے بغیر جالوت کو تھکا رہا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر ہے لیکن اسے گرانے والے ڈرون کی قیمت چند سو ڈالر، اور یہ ہی وہ عدم توازن ہے جو بڑے بڑے دفاعی بجٹ رکھنے والی ریاستوں کو دیوالیہ کر دیتا ہے۔

اس آگ کی تپش صرف محاذ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے دبئی اور متحدہ عرب امارات جیسے معاشی نخلستانوں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خونِ تجارت کو بھی منجمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ دبئی، جو اپنی شناخت ایک عالمی تجارتی مرکز اور ’’سیف ہیون‘‘ کے طور پر رکھتا ہے، اس جغرافیائی مناشقت کی براہِ راست زد میں ہے۔ خلیجِ فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی اثر و رسوخ کے نتیجے میں بحری جہازوں کی انشورنس پریمیم میں بعض رپورٹس کے مطابق دو سو سے تین سو فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے جبل علی جیسے دنیا کے مصروف ترین پورٹ کے لاجسٹک اخراجات کو پندرہ سے بیس فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

یو اے ای کی معیشت، جو سیاحت اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر کھڑی ہے، اس عدم استحکام کی وجہ سے سالانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کے سائے میں ہے۔ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار میں وہ نمو نہیں رہی، جو پچھلی دہائی کا خاصہ تھی۔ یہ وہ معاشی نقصان ہے جو بغیر گولی چلے سہنا پڑ رہا ہے۔ دبئی کے مالز اور ہوائی اڈوں کی رونقیں جب سیاسی تناؤ کے بادلوں تلے آتی ہیں، تو اس کا حساب صرف ڈالروں میں نہیں بلکہ اس اعتماد کے خاتمے کی صورت میں ہوتا ہے جسے بحال ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔

 ’’گلیڈویل‘‘ لکھتا ہے کہ جالوت کا قد جتنا لمبا ہوتا ہے، اس کے گرنے کی آواز اتنی ہی ہولناک ہوتی ہے۔ آج امریکا اور اسرائیل کا دفاعی اتحاد جس تکنیکی برتری پر نازاں ہے، وہ ہی ان کی معاشی زنجیر بنتی جا رہی ہے۔ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جہاں دشمن کو ایک بار گرانے کی قیمت خود ان کے اپنے پاؤں کاٹنے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ایران نے اپنی محرومی کو ایک ایسی ’’غیر روایتی فرادت‘‘ میں بدل لیا ہے جہاں اسے جیتنے کے لیے صرف ’’باقی رہنا‘‘ ہے، جب کہ جالوت کو اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ہر بار اربوں ڈالر کی قربانی دینی ہے۔

بین السطور میں یہ واضح ہے کہ آنے والا دور مادی وسائل کی کثرت کا نہیں بلکہ اس ’’اسٹرٹیجک صبر‘‘ کا ہے جو داؤد کی غلیل میں چھپا ہوا تھا۔ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو پھر ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ بصیرت کام آتی ہے جو یہ جانتی ہو کہ کب ایک معمولی کنکر سے پہاڑ جیسے دشمن کو زمین بوس کرنا ہے۔

تاریخ کے اس کلاسک موڑ پر، اعداد و شمار کی یہ گواہی بتا رہی ہے کہ وادیِ ایلا کا وہ چرواہا آج بھی مسکرا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جسامت کبھی بھی شجاعت اور حکمت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ جالوت اپنی ہی ڈھال کے بوجھ سے تھک رہا ہے۔ وادیِ ایلا کی دھول آبنائے ہرمز کے پانیوں پر تیر رہی ہے اور دنیا ایک بار پھر اس حقیقت کی گواہ بن رہی ہے کہ غلیل کا ایک چھوٹا سا پتھر ایٹمی آبدوزوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔جان لیجیے جب آپ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو، تو آپ کے اندر کا خوف ختم ہو کر بے خوفی کا وہ ہتھیاربن جاتا ہے جس کا توڑ کسی پینٹاگون کے پاس نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جائزہ لے رہے ہیں، جنگ بندی مذاکرات پر اپنے فیصلے سے جلد آگاہ کریں گے؛ ایران

Published

on


ایران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لارووف سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات اور متضاد بیانات سفارتکاری کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس کے جلد ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات پر کوئی فیصلہ کرے گا۔

روسی وزیر خارجہ نے بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو خطے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں موجود ہے اور ہر ایک فریق کو اس کی پاسداری کرنی چاہیئے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی  جس میں جنگ بندی اور خطے کی صورتحال پر بات ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی کی ثالثی کوششوں کو سراہا، تاہم امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا۔

ادھر امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بدھ کی شام تک ختم ہو سکتی ہے اور کسی معاہدے کے بغیر اس میں توسیع کا امکان کم ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

غزہ بورڈ آف پیس کے رکن حماس کیساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کیلیے پُر امید

Published

on


بورڈ آف پیس” کے نمائندہ خصوصی نے غزہ کے حوالے سے عالمی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس سے مذاکرات مشکل ضرور ہیں تاہم کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برسلز میں میڈیا سے گفتگو ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حماس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت ہوئی ہے، لیکن یہ عمل آسان نہیں۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جا سکتا ہے جو تمام فریقین خصوصاً غزہ کے عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔

ان کے بقول غزہ بحالی پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس میں غزہ کا نیا انتظامی ڈھانچہ، اسرائیلی انخلا اور سیکیورٹی انتظامات شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ حماس کے ساتھ یہ مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں۔ جس کا مقصد غزہ میں جنگ کی تباہی کت بعد تعمیر نو کا آغاز ہے۔

اس منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کا انخلا اور حماس سمیت دیگر مسلح گروہوں کی غیر مسلحی بنیادی نکات ہیں تاہم یہی معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مذاکرات ناگزیر کیوں؟ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی نظر آرہی ہے۔ ایران کی جنگ کے بعد ان کے مقبولیت کے گراف میں کافی کمی ہوئی ہے۔

اسی لیے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات ہار سکتی ہے۔ ان کے مخالفین نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ ڈیموکریٹ نے جلدی مہم شروع کر دی ہے تاکہ ٹرمپ کے گرتے ہوئے گراف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ نو کنگ مارچ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ویسے بھی ڈیموکریٹ اب ریلیوں میں نظر آرہے ہیں۔ ریپبلکن پریشان ہیں۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ ٹرمپ ایران سے جنگ بند کرنا چاہتے ہیں۔ سیز فائر اور جنگ بندی ان کی سیاسی ضرورت ہے، وہ ایران سے بات چیت پر مجبور ہیں، وہ دباؤ میں ہیں، اسی لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کی ایک مشکل نہیں ہے۔ انھیں جنگ بند کرنی ہے لیکن انھیں امریکا میں یہ تاثر بھی دینا ہے کہ انھیں فتح حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے ایران کو شکست دی ہے۔

اس لیے وہ ایسے مذاکرات چاہتے ہیں جس میں ایران کو جتنی رعائتیں دی جا سکتی ہیں دے دی جائیں لیکن فتح کا تاثر باقی رہ جائے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو جو فتح میدان جنگ میں نہیں ملی ہے آپ مذاکرات سے لین دین کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہی اصل صورتحال ہے۔ اس کو سمجھ کر ہی مذاکرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکا میں مڈٹرم انتخابات قریب نہ ہوتے تو سیز فائر اور امن مذاکرات کی اتنی ضرورت نہ محسوس کی جاتی۔ نہ جے ڈی وینس آتے ، نہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جاتے۔ ٹرمپ کی ضرورت کا سب کو احساس ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھیں کہ ایسا امن معاہدہ جس میں ٹرمپ کی ہار کا تاثر جاتا ہو، اس کا ٹرمپ کو فائدہ نہیں۔ پھر تباہی زیادہ قابل قبول ہے، پھر لمبی جنگ زیادہ قبول ہے۔ پھر جنگ کے ساتھ انتخابات میں جانا زیادہ بہتر حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ایسے مذاکرات جن میں ایران کی جیت کا تاثر بنتا ہو، جس سے امریکا کی ہار کا تاثر بنتا ہو ، وہ ٹرمپ کے لیے زیادہ زہر قاتل ہے۔

اس لیے ٹرمپ کی مشکلات عجیب ہیں۔ امن کی بھی ضرورت ہے، کچھ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایران کی شرائط ماننے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن صحیح فتح کا بگل چاہیے۔ ایسا کچھ چاہیے جس کو فتح کہا جا سکے۔ یہ آسان نہیں، یہ میڈیا کا دور ہے، بات نکل جاتی ہے۔ امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات نومبر میں ہیں لیکن انتخابی مہم شروع ہے۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں۔ جیسے ایران کی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کا اقتدار خطرہ میں ہے ایسے ہی اسرائیل میں نیتن یاہو بھی خطرہ میں ہیں۔ ان پر کرپشن کیسز ہیں، ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہے، وہاں بھی لوگ جنگوں سے تنگ ہیں۔ وہاں بھی ان کی اپوزیشن اقتدار میں آنے کے لیے بے تاب ہے۔

نیتن یاہو کی گیم بھی یہی تھی کہ ایران پر مکمل فتح ان کو انتخاب جیتنے میں مدد دے گی۔ وہ اسرائیل کے لوگوں کو بتائیں گے کہ میں نے ایران میں رجیم چینج کر دی، ایران کا خطرہ ختم کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ نیتن یاہو اس وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے، وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اب سیز فائر امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے زہر قاتل ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنے اقتدار کو دیکھیں یا نیتن یاہو کو دیکھیں ۔ وہ امریکی انتخابات کو دیکھیں یا نیتن یاہو کے مسائل دیکھیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان میں سیز فائر پر مجبور کیا گیا ہے۔

34سال بعد لبنان اسرائیل مذاکرات کروائے گئے ہیں۔ امن مذاکرات سے پہلے لبنان میں امن کی ایران کی شرط کو قبل کیا گیا کیونکہ امن ٹرمپ کی ضرورت ہے۔ انھیں 47سال بعد ایسا موقع مل رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر امریکا کے ساتھ بیٹھ کر کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایران کو مالی مفاد دیکھنا چاہیے انھیں اپنے اوپر سے پابندیاں اٹھانے پر توجہ رکھنی چاہیے۔ انھیں ٹرمپ کے بیانیہ پر توجہ نہیں رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ کے ٹوئٹ ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔ لیکن ابھی تک ایران کی توجہ ان ٹوئٹس کا جواب دینے پر ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے، ایران کی موجودہ رجیم کی بھی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتنی شہادتیں ہیں، اس کے بعد مالی مفاد پر صلح کیسے کر لی جائے۔ جنگ میں لوگ فاقے کاٹ لیتے ہیں، امن میں روٹی مانگتے ہیں۔ نوجوان نوکریاں مانگیں گے۔ اس لیے مالی فوائد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن نظریہ سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ 47سال سے امریکا اور اسرائیل سے جنگ کی تیاری کی گئی ہے۔ اب جنگ ہے تو جنگ لڑنی چاہیے، ساری تیاری اسی لیے تھی، ساری قربانیاں اسی لیے تھیں۔ اب جنگ سے فرار کیوں۔ یہ شہادتیں کس لیے تھیں، امن یا سیز فائر کے لیے تو نہیں تھیں۔ اس لیے امن چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ اور ایران دونوںمشکل میں ہیں۔

فتح دونوں کی ضرورت ہے، فتح دونوں کو نہیں مل سکی، دونوں ہارے بھی نہیں ہیں، میچ برابر ہو گیا ہے۔ جس کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں۔ اس لیے دونوں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں میچ برابر ہو گیا۔ یہ ٹرمپ کے لیے سیاسی موت ہے۔ یہ ایران کو پھر بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ لیکن وہاں قدامت پسند کہتے ہیں جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ برابر میچ قابل قبول نہیں۔ انھیں میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ امریکا کو ایران کے لیے فتح تلاش کرنی ہے اور ایران کو امریکا کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ تب ہی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کی مشکل کا احساس کرنا ہوگا جو نہیں ہو رہا ۔ یہ اصل مشکل ہے۔ مذاکرات کار اپنی فتح کی تلاش میں ہیں۔ انھیں دوسرے کی فتح کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending