Connect with us

Today News

’گریٹر اسرائیل‘ منصوبہ کیا ہے؟

Published

on



ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف صیہونی طاقتیں ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ آخر یہ گریٹر اسرائیل ہے کیا؟

دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔

صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔

اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔

امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان فٹبال لیگ اور ڈریم اسپورٹس گروپ کے درمیان پاکستان میں فٹبال کی بحالی کے لیے شراکت قائم

Published

on



پاکستان فٹبال لیگ (پی ایف ایل) نے ڈریم اسپورٹس گروپ (ڈی ایس جی) کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا ہے جو پاکستان فٹبال کی تاریخ میں ایک سنگ میل  کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کا مقصد پورے پاکستان فٹبال کے جدید اسٹیڈیمز کی تعمیر کی قیادت کرنا ہے۔ یہ شراکت  ملک میں فٹبال کے سب سے بڑے مسئلے یعنی فیفاکے معیار کے مطابق میدانوں کی کمی کو براہِ راست حل کرتی ہے۔

کئی دہائیوں سے، پاکستان میں فٹبال کو ناکافی انفراسٹرکچر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ملک میں صرف چند اسٹیڈیم موجود ہیں لیکن  بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

پاکستان فٹبال لیگ اور ڈریم اسپورٹس گروپ  کے درمیان یہ شراکت اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے، جس کے تحت پورے ملک میں مختلف اسپورٹس وینیوزتعمیر کیے جائیں گے یا انہیں بہتر بنایا جائے گا، تاکہ فٹبال کے لیے ایک مضبوط کلچر کی بنیاد رکھی جا سکے اور پاکستان میں اس کھیل کی بحالی ممکن ہو سکے۔

اس شراکت کو ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیتے ہوئے پی ایف ایل کے چیئرمین فرحان احمد جونیجو نے کہا کہ 2024 میں پاکستان فٹبال لیگ کے آغاز سے ہی ہمارا مشن لاکھوں پُرجوش شائقین اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے خوابوں کی تکمیل میں مدد کرنا رہا ہے۔ پی ایف ایل کا مشن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر سے محروم نہ رہیں اور مقامی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔

پاکستان کی پہلی فٹبال لیگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرچہ ہر شخص پاکستان کی پہلی فٹبال لیگ کے آغاز کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے۔ تاہم، تاخیر کی بنیادی وجہ انفراسٹرکچر اور فٹبال اسٹیڈیمز کی کمی رہی ہے۔ اسی لیے پی ایف ایل نے ڈی ایس جی کے ساتھ مل کر یہ اقدام اٹھایا ہے تاکہ پاکستان میں فٹبال کے موجودہ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جا سکے۔ چنانچہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں فٹبال کی بحالی اب دور کا خواب نہیں رہی، اچھی خبر سامنے ہے اور ہمارے شائقین اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بس قریب ہی ہے۔

پورے پاکستان میں جدید ترین اسپورٹس انفراسٹرکچر کی فراہمی کے حوالے سے اپنے خواب کا ذکر کرتے ہوئے ڈریم اسپورٹس گروپ کے چیئرمین، قیصر بریار نے اس شراکت داری کو گیم چینجر“ قرار دیا اور کہا: ”پاکستان فٹبال لیگ کے ساتھ اشتراک ہمارے اس مشن میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں فٹبال کی بحالی ہے۔ یہ شراکت صرف اسٹیڈیمز بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ خوابوں کی تعمیر کے بارے میں ہے۔ ہم مل  جل کر پورے ملک میں عالمی معیار کے ایک سو وینیوز قائم کریں گے اور اپنے نوجوانوں کو وہ سہولیات فراہم کریں گے جن کے وہ حقدار ہیں، اور قومی سطح پر فٹبال کے جذبے کو دوبارہ زندہ کریں گے۔“

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں جلد ہی جدید ترین فٹبال اسٹیڈیمز اور اکیڈمیز کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہ سہولیات ابھرتے ہوئے اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک بہترین آغاز ثابت ہوں گی، جو ملک کے اسپورٹس سفر میں ایک نئے باب کا آغاز کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ فٹبال کی بحالی کا خواب ایک پائیدار حقیقت میں تبدیل ہو جائے۔

پاکستان فٹبال لیگ آئندہ ہفتوں میں قیادت کے حوالے  نئے اور اہم اضافہ کا اعلان کرنے کے لیے بھی تیار ہے جس کے ساتھ لیگ کے لیے ایک انقلابی اعلان بھی متوقع ہے جو اس کی ترقی میں ایک اور سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہ تقرریاں جدیدمہارت اور اسٹریٹجک سمت فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان میں فٹبال کی بحالی کے  لیے پی ایف ایل کے مشن کو مضبوط بنایا جا سکے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لیگ کا وژن مضبوط قیادت اور عالمی بہترین طریقۂ کار کی مدد سے آگے بڑھے۔



Source link

Continue Reading

Today News

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے زرعی ٹیکس کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا

Published

on



اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایگزیکٹیو آرڈر کا استعمال کرتے ہوئے زرعی ٹیکس جمع کرنے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ایگزیکیٹو آرڈر کے تحت زرعی ٹیکس کا نوٹیفکشن کالعدم قرار دیدیا اور رولنگ پڑھ کر سنا دی۔

ملک احمد خان نے کہا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف اسمبلی کے پاس ہی ہے، پنجاب اسمبلی کایہ اختیار سرکاری افسر استعمال نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیت کوئی بھی ایگزیکٹیو اتھارٹی کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگا سکتی، ایسے نوٹی فکیشن سے پنجاب اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا۔

ملک احمد خان نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی ایگزیکٹو اتھارٹی کے لگائے گئے ٹیکسز کا جائزہ لے جبکہ قانونی کمیٹی 15 دن میں اپنی رپورٹ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کرے۔

رولنگ پڑھنے کے بعد ارکان پنجاب اسمبلی کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے ڈیسک بجائے گئے جبکہ اپوزیشن کے اراکین نے بھی اس اقدام کی تعریف کی۔



Source link

Continue Reading

Today News

کروڑوں کے جانوروں میں خاص کیا؟

Published

on



کراچی کے ایکسپریس سینٹر میں منعقد ہونے والی ملک کی سب سے بڑی مویشی نمائش اپنے تمام تر رنگوں اور رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔

اس نمائش میں پاکستان کے 250 سے زائد فارمز نے اپنے نایاب اور قیمتی ترین جانور پیش کیے، جنہیں دیکھنے کے لیے شہریوں کا سمندر امڈ آیا۔

نمائش کے دوران ’وی آئی پی‘ (VIP) بلاک مرکزِ نگاہ رہا، جہاں گلابی چولستانی اور ملکہ نسل کے وزنی بیلوں نے سب کو حیران کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹر عائشہ خان سے بات کرتے ہوئے فارم مالکان نے بتایا کہ اس بار خریداروں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ نمائش میں جہاں ’قربانی لوور‘ نامی بیل 25 لاکھ روپے میں فروخت ہوا، وہیں 1 کروڑ اور ساڑھے 3 کروڑ روپے مالیت کے جانوروں کے سودے بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

اس میلے کا سب سے بڑا شاہکار وہ سیاہ رنگ کا بھاری بھرکم بیل تھا جس کی قیمت 4 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ شہریوں نے نہ صرف ان جانوروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں بلکہ ’پٹھان‘ نامی غصیلے مگر خوبصورت بیل کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہیں۔

نمائش کے آخری روز شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ہمراہ شرکت کی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایسے فیسٹیولز سے جہاں بچوں کو قربانی کے جانوروں کے بارے میں معلومات ملتی ہے، وہیں یہ کراچی کی رونقوں میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق نمائش کی کامیابی اور شہریوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں اسے مزید بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

میلہ ختم ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر ان نایاب جانوروں کے چرچے اب بھی جاری ہیں، جو اس ایونٹ کی غیر معمولی کامیابی کا ثبوت ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Trending