Today News
کیریبین پریمیئر لیگ کے میچز آٹھ ممالک میں کھیلے جائیں گے
کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال ٹورنامنٹ کا آغاز 7 اگست سے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پہلی بار سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز کے آرنوس ویل اسٹیڈیم میں بھی سی پی ایل کے میچز کھیلے جائیں گے۔
لیگ اس بار ریکارڈ برابر کرتے ہوئے آٹھ ممالک میں منعقد ہوگی جن میں انٹیگوا، بارباڈوس، گیانا، جمیکا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو شامل ہیں۔
لیگ کے چیف ایگزیکٹو پیٹ رسل کے مطابق نئی جگہوں تک توسیع لیگ کے وژن کا حصہ ہے جبکہ آرنوس ویل کو ایک تاریخی اور شاندار وینیو قرار دیا گیا ہے۔
اس اسٹیڈیم میں ماضی میں کئی انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے جا چکے ہیں۔
ٹورنامنٹ 20 ستمبر تک جاری رہے گا اور پہلی بار ساتویں ٹیم جمیکا کنگزمین بھی شامل ہوگی۔
پلے آف مرحلہ 16 سے 20 ستمبر تک بارباڈوس کے کینسنگٹن اوول میں ہوگا۔
Today News
ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے) ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اے نے اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے ممکنہ موسمی صورتحال اور ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش اور برف باری کا الرٹ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشترعلاقوں میں تیز ہواؤں اور آندھی جھکڑ کے ساتھ مزید بارش اور متعدد مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔
الرٹ میں کہا گیا کہ اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا بھی امکان ہے، خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول چترال، دیر، سوات، کالام، مالاکنڈ، کوہستان، مینگورہ، بٹگرام، ہری پور، پشاور اور مانسہرہ میں اگلے 12 سے 24گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور آندھی کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایبٹ آباد، مردان، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی آندھی، جھکڑ کے ساتھ بارش متوقع ہے، اسی طرح اسلام آباد سمیت پنجاب کے شہروں بشمول راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوا ل، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین میں اگلے 12 سے24 گھنٹوں میں آندھی جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
مزید بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے، استور، دیامر، کھرمنگ، شگر، غذر، نگر، مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، حویلی، پونچھ،کوٹلی اور وادی نیلم میں بھی بارش کا امکان ہے، بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین، بارکھان اور کوہلو میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران آندھی اور تیز ہواؤ ں سمیت بارش کا امکان ہے۔
شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں تیز ہوائیں، آسمانی بجلی اور ژالہ باری کمزور تعمیرات، درختوں، کھڑی فصلوں اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور بارش کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں برف باری سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ لہٰذا مسافر احتیاط کریں۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پہاڑی علاقو ں میں مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گاڑی احتیاط سے چلائیں اور موسمی ہدایات پر عمل کریں۔
Source link
Today News
غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیوں کی رجسٹریشن
پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس سال جنوری سے مارچ کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہونے والی 220 کمپنیاں غیر ملکی ڈائریکٹرز نے رجسٹر کراوئیں، جن کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیاں رجسٹر کروانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں (جنوری تا مارچ 2026) کے اعدادوشمارکے مطابق غیر ملکی ڈائریکٹرز رکھنے والی زیادہ تر کمپنیاں ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ کے شعبوں میں رجسٹر ہوئیں ہیں، جو معیشت کے روایتی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایس ای سی پی کے ڈیٹا کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں ہیں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں تھیں جو کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں بقیہ 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخواہ اورگلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئی ہیں۔
شعبوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ کمپنیاں آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر ہوئیں، جن کی تعداد دو ہزار 65 ہے، ٹریڈنگ 1687 اور سروسز 1288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اسی طرح رئیل اسٹیٹ اور کنسٹریکشن میں 934 کمپنیاں، سیاحت میں 581، فوڈ اور بیورجز میں497 اور تعلیم میں 363 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ ان تین ماہ کے دوران 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز پراسیس کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زائد ہیں، اس سہ ماہی میں پوسٹ انکارپوریشن فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بہتر کمپلائنس اور ایک مستحکم کارپوریٹ گورننس کی عکاسی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں ان تین ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد فنانسنگ اسٹیٹمنٹس فائل کی گئیں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 5 ہزار سے زائد سرچز کی گئیں، جو ملک میں مالیاتی سورسز کی فراہمی میں اضافے اور بڑھتی ہوئی مالیا تی شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔
Source link
Today News
علی اصغر نے کپل شرما شو میں ’دادی‘ کا کردار کیوں چھوڑا؟
بھارتی کامیڈین اور اداکار علی اصغر نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ انہوں نے مقبول پروگرام ’دی کپل شرما شو‘ میں اپنے شہرۂ آفاق ’’دادی‘‘ کے کردار کو خیرباد کیوں کہا۔
علی اصغر کا کہنا ہے کہ اس کردار نے انہیں بے پناہ شہرت دی اور وہ گھر گھر میں ’’دادی‘‘‘ کے نام سے پہچانے جانے لگے، لیکن وقت کے ساتھ یہی پہچان ان کے لیے ایک محدود دائرہ بنتی چلی گئی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلہ ایسا آیا جب وہ ٹی وی پر بار بار خواتین کے کردار ہی ادا کر رہے تھے، جس سے ان کی بطور اداکار وسعت متاثر ہو رہی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس دور میں وہ ایک سے زیادہ شوز میں خواتین کے روپ میں نظر آ رہے تھے، جس کے باعث ان کی ایک خاص امیج بن گئی تھی۔ ان کے مطابق لکھاریوں اور پروڈیوسرز کے لیے بھی یہ آسان ہو گیا تھا کہ انہیں بار بار ایسے ہی کردار دیے جائیں، جبکہ وہ خود مختلف کردار آزمانا چاہتے تھے۔
علی اصغر نے کہا کہ بعض اوقات انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل صلاحیتوں کا مکمل اظہار نہیں کر پا رہا۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں دیگر کرداروں میں بھی موقع دیا جائے، لیکن انڈسٹری کی روایتی سوچ کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود وہ ان کرداروں کو اپنے کیریئر کا اہم حصہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج بھی انہی کی بدولت انہیں کئی بڑے شوز اور مواقع ملتے ہیں۔
اداکار نے ایک دلچسپ مگر معنی خیز بات بھی شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ خدشہ بھی رہتا تھا کہ کہیں ان کے بچوں کو اسکول میں اس بنیاد پر چھیڑا نہ جائے کہ ان کے والد ہمیشہ خواتین کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فلم ’’دیوار‘‘ کا مشہور جملہ یاد دلایا اور کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بیٹے کے ہاتھ پر کوئی لکھ دے ’’میرا باپ عورت ہے‘‘۔
علی اصغر کا یہ فیصلہ محض ایک کردار چھوڑنے کا نہیں بلکہ اپنی پہچان کو وسیع کرنے اور بطور اداکار نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش تھا، جس نے ان کے کیریئر کو ایک نیا موڑ دیا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی