Today News
ملک عنبر سے کچھ تو سیکھ لیجیے!
شہنشاہ جہانگیر دربار میں جلوہ افروز تھا۔ وزراء ‘ امراء اور سپہ سالار ‘ شاہی خلعتوں میں ملبوس موجود تھے۔ 1615ء کا سن تھا۔ بادشاہ‘ پورے برصغیر پر شان و شوکت سے حکومت کر رہا تھا۔ دربار میں سب کو معلوم تھا کہ آج شہنشاہ ‘ حد درجہ طیش میں ہے ۔تمام لوگ مکمل طور پر بت بنے کھڑے ہوئے تھے۔
جہانگیرکے تاج میں بیش قیمت ہیرے جڑے تھے۔ لباس اتنا قیمتی تھا کہ آج کے ماحول میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ بادشاہ اس قدر غصہ میں تھا کہ مونہہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔تالی بجائی اور حکم دیا کہ ابوالحسن کو تصویر سمیت پیش کیا جائے۔ ابوالحسن‘ دربار میں شاہی مصور تھا۔ تعمیل ِحکم ہوئی۔ مصور‘ ایک تصویر لے کر بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ صاحبان! تصویر ایک حبشی کے کٹے ہوئے سر کی تھی۔
اس کے سر پر تیر پیوست ہوئے دکھائے گئے تھے۔ تصویر دیکھ کر شہنشاہ آپے سے باہر ہو گیا۔ زبان سے اس حبشی کے لیے تبرے سنائی دینے لگے۔ بدقسمت ‘ سیاہ پوش اور ادنیٰ جانور کوئی ایسا برا لفظ نہیں تھا جو زبان سے جاری نہ تھا۔ درباری ساکت کھڑے تھے۔ کیونکہ جانتے تھے کہ یہ سر بریدہ تصویر کس کی ہے۔ اس کی بادشاہ سے کیا دشمنی ہے۔ دراصل ابوالحسن نے‘ ملک عنبر کی تصویر کشی کی تھی جو دکن کی ایک سلطنت کا سپہ سالار اور وزیراعظم تھا۔ اس امیر نے ‘ مغلوں کی دکن فتح کرنے کی ہر مہم ‘ کو شکست فاش دی تھی۔ مغلوں کے عسکری تکبر کو خاک میں ملا ڈالاتھا۔ دکن میں پیہم رسوائی‘ بادشاہ کے لیے جگ ہنسائی کا سبب بن چکی تھی۔ نفرت کی انتہا دیکھئے کہ جہانگیر نے حکم دیا‘ کہ اس تصویر کو تیر اندازوں کے سامنے رکھا جائے۔ اسے مہلک تیروں سے چھلنی کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ جہانگیر کا رعب و دبدبہ اپنی جگہ۔ مگر ملک عنبر کے ہاتھوں ‘ اس کی اور ریاست کی فوج کی بربادی سکہ بند مقام پر تھی۔
عنبر کا اصل نام چاپو تھا۔ 1548ء میں ایتھوپیا کے ’’مایا‘‘ قبیلے میں پیدا ہوا۔ والدین اس قدر مفلس تھے کہ اپنے بچے کی کفالت کرنے سے مجبور تھے۔ انھوں نے بیٹے کو غلاموں کے ایک سوداگر کو فروخت کر ڈالا۔کمسن بچہ یمن سے ہوتا ہوا‘ بغداد پہنچ گیا۔ جہاں بیس سکوں کے عوض‘ میر قاسم الابغدادی نے اسے خرید لیا۔ چاپو سے اس کا نام بدل کر عنبر رکھا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ میر قاسم نے اس کی صلاحیت کو جانچ لیا۔ اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ۔ پھر بذات خود دکن منتقل ہو گیا۔ عنبر اس طرح‘ افریقہ سے ایک حد درجہ متضاد علاقہ میں پہنچ گیا۔ یہاں قسمت کی دیوی‘ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دکن میں ‘ اسے چنگیز خان نے خرید لیا جو احمد نگر کی سلطنت کا پیشوا یا وزیراعظم تھا۔ اس علاقہ میں ایک جنگ مسلسل جاری و ساری رہتی تھی۔
بہامائی سلطنت جو اپنے آپ کو ’’دکنی‘‘ کہتے تھے۔ ان کے برعکس فارس سے آئے ہوئے لوگ تھے۔ جن کے اپنے لشکر بھی تھے۔ طویل عرصے سے دکنی اور فارسی لوگوں کی جنگ ہو رہی تھی۔ ملک عنبر‘ دکنی فوج میں شامل ہو گیا۔ ا پنے مالک کی موت کے بعد علاقائی قوانین کے تحت آزاد قرار دیا گیا۔ عنبر ایک قابل فوجی لیڈر ثابت ہوا۔ ابتدا میں بیجا پور کے سلطان کے پاس کام کرتا رہا۔ مگر 1595ء میں احمد نگر کی نظام شاہی فوج کا حصہ بن گیا۔ اسے بادشاہ کا اعتماد حاصل ہوگیا۔ بہت قلیل عرصے میں اس نے نظام شاہی فوج کی ترتیب بدل ڈالی۔ اس میں دس ہزار حبشی بھرتی کیے۔ چالیس ہزار دکنی اس کے علاوہ تھے۔اصل نکتہ یہ تھا کہ اس نے اپنی طاقت ور فوج کو روایتی جنگ کے لیے بالکل تیار نہیں کیا۔ بلکہ برصغیر میں وہ پہلا سپہ سالار تھا جس نے اپنے سپاہیوں کو ’’گوریلا جنگ‘‘ کا ماہر بنا دیا۔اپنی فوج کو تربیت دی‘ کہ وہ کسی بھی وقت ‘ اچانک مغل لشکر پر حملہ کرے اور انھیں بھرپور نقصان پہنچائے ۔ پھر یک دم واپس چلی جائے۔ مغل فوج آمنے سامنے لشکر کشی کی عادی تھی۔ انھیں گوریلا جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ملک عنبرکی تربیت مغلوں کے لیے عذاب بن گئی۔عنبر‘ انھیں ہر جگہ برباد کرتا چلا گیا۔
بات یہاں نہیں رکتی۔متعدد مرہٹہ سردار‘ اس کے ساتھ تھے۔ جن میں لاکھو جی یادو راؤ‘ مولو جی بھوسلے‘ رالوجی واہلے‘ شاہا جی بھوسلے جیسے نامور لوگ بھی تھے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ملک عنبرکی جنگی ترتیب نے برصغیر میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ مرہٹوں کی سلطنت کی بنیاد انھیں مرہٹہ سرداروں نے رکھی‘ جو نظام شاہی فوج میں گوریلا جنگ کے ماہر بن چکے تھے۔ اسی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’مراٹھا سرکار‘‘قائم ہوئی ۔ جس نے بعدازاں دہلی کے تخت پر بھی قبضہ کر لیا۔ مغل سردار‘ عبدالرحیم خان خاناں کو ملک عنبر نے متعدد بار شکست دی اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا۔ ستتر (77) برس کی عمر میں مغلوں نے اسے دھوکہ سے مار وڑ میں قتل کر دیا۔ اور اس طرح‘ افریقہ کے ایک گمنام قبیلہ سے منسلک بچہ‘ ایک ایسے علاقے میں بہادری کی تاریخ رقم کر گیا جس سے اس کا کوئی جغرافیائی تعلق نہیں تھا۔ وہ حد درجہ ذہین انسان تھا۔ اس نے کئی نئے شہر تعمیر کیے۔ اورنگ آباد میں‘ برصغیر کا پہلا نہری نظام قائم کیا‘ جو ایک مشینی چرخی کے ذریعے کام کرتا تھا۔
ملک عنبر نے جنگ کے حد درجہ نئے اسلوب قائم کیے۔ پرکھا جائے ‘ تو اس کا جوہری نکتہ کیا تھا؟ غور فرمایئے۔ اس کے نزدیک ‘ دشمن کو اچانک نقصان پہنچانا‘ بہترین حکمت عملی تھی۔ مغل فوج کی تعداد لاکھوں میں ہوتی تھی۔ ان کے پاس ہزاروں توپیں‘ لاکھوں گھڑ سوار‘ ان گنت ہاتھی اور پیادے موجود ہوتے تھے۔ مگر انھیں یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان کی دشمن کی طاقت ‘ کس وقت اور کہاں حملہ کرے گی۔ وقت اور میدان کا انتخاب‘ ملک عنبر کرتا تھا۔ اس میں نیا پن موجود تھا۔ یہ بھی طے ہے کہ عنبر آمنے سامنے کی روایتی جنگ مغل طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا اس نے ہمیشہ گوریلا جنگ کے طرز عمل کو ترویج دی۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج کے پاکستان میں جہاں کامیاب سفارت کاری کے علاوہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جہاں‘ ایران اور امریکا جیسے ازلی دشمنوں کے درمیان امن قائم کرنے کی جے جے کار ہو رہی ہے۔ ایسے معلوم ہورہا ہے کہ حکمران طبقہ دنیا میں طاقت کاتوازن تبدیل کرنے کی داغ بیل ڈال رہاہے۔وہاں ماضی کے ایک حکمت کار کی حکمت عملی کا کیوں ذکر کر رہا ہوں۔ آپ بالکل صحیح ہیں۔ موجودہ حالات کا دکن کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ۔ مگر دوبارہ سوچیے۔ کیا ملک عنبر نے برصغیر میں یہ کلیہ نہیں سکھایا کہ اگر آپ کامخالف مضبوط ہو تو اسے میدان جنگ میں للکارنا صرف اور صرف بے وقوفی ہے۔ اس تدبیر کا اطلاق ‘ زندگی کے ہر شعبہ میں کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی میدان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں سیاست کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ صنعت‘ تجارت‘ زراعت اور نظام عدل تو کب کا زوال پذیر ہے۔
اب تو قرضے اور سود ہی سود رہ گئے ہیں۔اس حقیقت کے برعکس ایک ایسی ترقی کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے‘ جو کسی کو بھی نظر نہیں آ رہی۔ گھسے پٹے سیاسی الزامات سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سنجیدگی سے دیکھئے‘ تو سیاست میں دو ہی فریق ہیں۔ ہائیبرڈ حکومت اور اڈیالہ میں مقید سیاسی قوت۔ان دونوں کے درمیان گھمسان کا رن ہے۔ لازم ہے کہ طاقت کا توازن‘ اقتدار کی طرف ہے۔فی الحال اسے ہرانا کافی مشکل ہے۔ بلکہ اب تو ایسے نظر آ رہاہے کہ ناممکن ہے۔ تو مقید سیاسی قوت کیا کرے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دانشمندی سے تلاش کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں ملک کی سالمیت پوشیدہ ہے۔ جی ہاں! میں عدم استحکام نہیں‘ سالمیت کی بابت گزارش کر رہا ہوں۔
مقید سیاسی قیادت‘ ابھی تک دھرنوں اور جلوسوں کے جال سے باہر نہیں نکل پائی۔حالانکہ یہ وقت کا تقاضا بالکل نہیں ہے۔ پھر سیاسی چال کیا ہونی چاہیے؟ برسراقتدار قیادت نے جو کچھ کرنا تھا ‘ جو نقصان پہنچانا تھا‘ پیہم پہنچا دیا۔سیاست و اقتدار میں جو چہرے ہیں‘ کچھ عرصہ رہیں گے توپھر قفس میں پھنسی ہوئی سیاسی قیادت کیا کرے؟اسے اپنی حکمت عملی کو بالکل تبدیل کرنا چاہیے! سیدھی سیدھی لشکر کشی صرف خودکشی ہے۔ اور بدقسمتی سے جیل سے اسی طرز کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں۔ جس میں ٹکراؤ اور باہمی نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ پابند سلاسل لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ کہ عام کارکن کو خطرے میں ڈالنا کسی قسم کی عقلمندی نہیں ہے۔ ابھی کچھ بھی حتمی نتیجہ نظر نہیں آ رہا۔ مگرمقید لوگوں کو ملک عنبر کی حکمت عملی سے ضرور سیکھنا چاہیے۔ مناسب وقت کا انتظار کر کے ‘ درست سیاسی چال چلنے میں ہی کامیابی ہے۔ انتظار کیجیے ۔ ہو سکتا ہے کہ طاقت کی بساط پرکھیلنے کیلیے آپ کے پاس حکم کا یکہ آ جائے؟ملک عنبر سے کچھ تو سیکھ لیجیے؟
Today News
بھارت کی ڈالر کے بجائے ایران سے تیل چینی کرنسی یوآن میں خریداری؛ رائٹرز کا دعویٰ
بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے بجائے ادائیگیاں اب چینی کرنسی یوآن میں کی جا رہی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے امریکی پابندیوں کے تحت دی گئی عارضی رعایت کے دوران ایرانی تیل خریدا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے لیے بھارتی آئل ریفائنریز نے ادائیگیاں ممبئی میں قائم ICICI Bank کے ذریعے چینی یوآن میں شروع کر دی ہے۔
رائٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے گزشتہ ماہ روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 روزہ عارضی رعایت دی تھی جس کا مقصد جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر طویل عرصے سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کے نظام میں مشکلات کے باعث کئی خریدار ممالک ایرانی تیل سے گریز کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس نئی ادائیگی اسکیم کے ذریعے ان رکاوٹوں کو جزوی طور پر کم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر مالیت کے قریب 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خریدا جو گزشتہ 7 سال بعد بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی پہلی باضابطہ خریداری قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی نجی ریفائنری ریلائنس ریفائنری کے لیے ایرانی تیل لے جانے والے چار جہازوں کو بھی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریفائنریز کی جانب سے ادائیگیوں کے لیے ICICI بینک استعمال کیا جا رہا ہے جو اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے چینی یوآن میں رقوم ایرانی فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر رہا ہے۔
تاہم ان فروخت کنندگان کی حتمی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
Today News
عثمان طارق کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے متعلق بڑا بیان!
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق نے کہا ہے کہ ان کی بولنگ عیاں نہیں ہوئی بلکہ اب بیٹرز ہوشیار ہوگئے ہیں۔ عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی بھارتی کرکٹ ٹیم نے ان کی بولنگ سے نمٹنے کے لیے خاص منصوبہ بندی کی تھی۔
پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز کے خلاف کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے عثمان طارق نے کہا کہ اگر اچھی گیندیں کرائی جائیں تو وکٹ ضرور ملتی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ بیٹرز ان کی بولنگ کو سمجھ چکے ہیں،دراصل اب بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی عقل استعمال کرتے ہیں اس لیے وکٹ ملنے میں دقت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جانب سے بہترین بالنگ کرتے ہیں، صورتحال کے مطابق گیندیں کراتے ہیں لیکن نتائج ان کے ہاتھ میں نہیں۔
اسپنر کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ پر لاہور کے مقابلے میں زیادہ مشکلات ہیں، یہاں پر اسپنرز کامیاب ہیں۔
کسی بھی میچ میں تاخیر سے بولنگ دیے جانے کے سوال پر عثمان طارق نے کہا کہ جب کپتان صورتحال کے مطابق ضرورت محسوس کرتا ہے وہ انہیں بولنگ دیتا ہے۔
Source link
Today News
پاکستان کی ثالثی اور بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کررہے ہیں۔ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے، اگر ایران سے ڈیل ہوگئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔ ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کی شام اپنے دورہ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سرکاری دورہ ایران کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ہمیشہ ایک پیچیدہ معمہ رہی ہے جہاں طاقت، مفاد، نظریہ اور جغرافیہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک عنصر کو الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی محض علاقائی نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
موجودہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، تاہم اس میں ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ایران اور امریکا جیسے دیرینہ حریف ایک بار پھر مذاکرات کی دہلیز پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف پاکستان نے ایک فعال، مربوط اور بامقصد سفارتی کردار کے ذریعے خود کو اس ممکنہ مفاہمتی عمل کا ایک اہم فریق بنا لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غیر متوقع ہے بلکہ اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے تسلسل، حکمت اور توازن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کو اگر محض ایک رسمی یا روایتی سفارتی سرگرمی سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا، کیونکہ اس ملاقات کے پس منظر میں جو علاقائی اور عالمی حرکیات کارفرما ہیں، وہ اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ قطر گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر منوانے میں کامیاب رہا ہے جو نہ صرف متحارب فریقین کے درمیان مکالمے کا پل بن سکتا ہے بلکہ پیچیدہ تنازعات میں قابلِ عمل راستے بھی تجویز کر سکتا ہے۔ پاکستان کا قطر کے ساتھ سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دراصل ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد خطے میں ایک ایسے اتحاد کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔دوحا کے بعد انطالیہ کا سفر اس سفارتی تسلسل کو مزید واضح کرتا ہے۔
ترکیہ کی خارجہ پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت مغرب اور مشرق دونوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے اور کئی مواقع پر ایک توازن ساز کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعلقات اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل ترتیب دے سکیں جو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرے بلکہ وسیع تر خطے میں ایک نئے توازن کی بنیاد بھی رکھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورے محض دوطرفہ تعلقات کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی نقشے کا حصہ ہیں جس میں مختلف ریاستیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت قریب آ رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ اس پورے عمل کو ایک اور جہت فراہم کرتا ہے، جو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ سیکیورٹی اور تزویراتی نوعیت کے بھی ہیں۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں جس انداز سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران،امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر بات کی گئی، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور ہمہ جہتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عسکری مرکز کا دورہ ایک علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایران کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور اعتماد سازی کی کوششوں کا مظہر ہے۔
یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جاتا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان محض ایک رسمی تعریف نہیں بلکہ اس میں ایک عملی امکان پوشیدہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ابھر سکتا ہے جہاں ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ طے پا سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ذمے داری کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا کہ وہ اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔تاہم اس امید افزا منظرنامے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات نہایت گہرے اور پیچیدہ ہیں۔
ان اختلافات کی جڑیں محض حالیہ برسوں تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سیاسی عدم اعتماد، نظریاتی تصادم اور تزویراتی رقابت شامل ہیں۔ جوہری پروگرام اس تنازع کا مرکزی نکتہ ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کا کردار، اور مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایسے مسائل ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی ناکامی اور ان کی خلاف ورزیاں اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر چکی ہیں، جس کے باعث کسی بھی نئی پیش رفت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے حالیہ بیانات، جن میں مذاکرات کی خواہش اور لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم شامل ہے، ایک محتاط لچک کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس لچک کو کمزوری یا مکمل آمادگی سمجھنا غلط ہوگا۔ ایران اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مسلسل کشیدگی اس کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتا ہے مگر ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی اور خوراک کا بحران اس صورتحال کو مزید نازک بنا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تیل، گیس اور کھاد کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے، جو بالآخر خوراک کے عالمی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری کیے گئے انتباہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ مسئلہ محض علاقائی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔
یہاں پاکستان کی سفارت کاری ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک کڑا امتحان بھی ہے۔ پاکستان کو نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے بلکہ اسے اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو وسعت دے اور ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھائے۔اگر اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے اتحاد اور روایتی طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
اب وہ وقت نہیں رہا جب چند بڑی طاقتیں دنیا کے فیصلے طے کرتی تھیں، اب درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کریں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی تجربے اور علاقائی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ہمیشہ ان اقوام کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں اور امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موقع سے دوچار ہے جہاں وہ نہ صرف ایک علاقائی بلکہ ایک عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو منوا سکتا ہے۔
شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی بصیرت کو عملی حکمت عملی میں ڈھالے، توازن کو برقرار رکھے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کرے جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا باعث بنے۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper