Connect with us

Today News

پانامہ کینال نے ہی امریکا کو سپر پاور بنایا

Published

on


گذشتہ مضامین میں ہم آبنائے ہرمز ، باب المندب ، نہر سویز ، آبنائے باسفورس اور آبنائے جبرالٹر کی اہمیت پر بات کر چکے ہیں۔ بحر اوقیانوس کو بحرالکاہل سے جوڑنے والی اکیاون کیلومیٹر طویل اور دو سو بائیس میٹر ( سات سو تیس فٹ ) چوڑی پانامہ کینال بھی اتنی ہی اہم بین الاقوامی اقتصادی شاہ رگ ہے۔

نہر پانامہ کی تعمیر سے قبل بحرالکاہل سے بحراوقیانوس آنے جانے والی ٹریفک کو براعظم جنوبی امریکا کا ہزاروں کیلومیٹر طویل ساحلی چکر کاٹنا پڑتا تھا۔چنانچہ سوچا گیا کہ اگر شمالی و جنوبی امریکا کو جوڑنے والی تنگ زمینی پٹی کے آرپار نہر نکالی جائے تو امریکا کے مشرقی و مغربی ساحل کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ مہینوں کے بجائے ہفتوں میں طے ہو سکتا ہے۔

چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کو ایک سو بارہ برس قبل علاقائی اور پھر عالمی سپر پاور بنانے میں نہر پانامہ کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔اس نہر سے سالانہ چودہ ہزار چھوٹے بڑے مال بردار جہاز گذرتے ہیں۔چالیس فیصد امریکی کنٹینر ٹریفک ، ایشیا کو برآمد کی جانے والی پچانوے فیصد امریکی ایل پی جی اور دو سے تین ملین بیرل تیل روزانہ یہاں سے گذرتا ہے ۔ٹرانزٹ فیس کی مد میں پانامہ کینال اتھارٹی کو ساڑھے پانچ سے چھ ارب ڈالر سالانہ آمدنی ہوتی ہے گویا سات فیصد قومی آمدنی اس نہر سے حاصل ہوتی ہے۔

مگر اس نہر کی تعمیر میں نہر سویز کی تعمیر سے زیادہ تکنیکی مشکلات پیش آئیں۔اسی لیے پانامہ کینال کو انسانی ہمت اور انجینئرنگ کے اشتراک کا جدید تعمیراتی معجزہ کہا جاتا ہے۔

 نہر کی کہانی سن پندرہ سو تیرہ سے شروع ہوتی ہے جب ایک ہسپانوی مہم جو واسکوڈی نونیز کو جنوبی سے شمالی امریکا کے سفر میں پانامہ سے گذرتے ہوئے یہ اچھوتا خیال آیا کہ دو سمندروں کو جدا کرنے والی اس زمینی پٹی کے بیچوں بیچ کوئی راستہ نکل آئے تو سمندری تجارت اور عسکری تقاضوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔اس خیال کی بھنک جب اسپین کے شاہ چارلس اول کو پڑی تو اس نے اٹھارہ سو چونتیس میں ہسپانوی مقبوضہ کولمبیا کے نوآبادیاتی گورنر کو پانامہ صوبے کے زمینی سروے کا حکم دیا۔سروے مکمل تو ہو گیا مگر گورنر نے فائل پر لکھا کہ نہر کا منصوبہ شدید جغرافیائی پیچیدگیوں کے سبب ناقابلِ عمل ہے۔

اس قصے کے لگ بھگ سوا تین سو برس بعد ریاستہائے متحدہ امریکا کے اٹھارویں صدر یولیسس گرانٹ نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ایک سروے کمیشن قائم کیا۔صدر گرانٹ کے بعد آنے والے صدر ولیم مکینلے نے ایک نیا کمیشن تشکیل دیا۔دونوں کمیشنوں کی رائے تھی کہ پانامہ کے بجائے نکاراگوا کے آر پار نہر نکالنا زیادہ آسان رہے گا۔

عین اسی وقت براعظم کی ایک اور نوآبادیاتی طاقت فرانس بھی کچھ اسی طرح سوچ رہی تھی۔ فرانسیسیوں نے امریکیوں کے مقابلے میں پھرتی دکھائی اور فرڈیننڈ ڈی لیسپس کی تعمیراتی کمپنی اور کولمبیا حکومت کے درمیان نہر کی کھدائی کا معاہدہ ہوگیا۔ فرڈیننڈ ڈی لیپس وہی صاحب تھے جن کے سرمائے سے نہر سویز کی تعمیر ممکن ہوئی اور اب وہ ایسا ہی ایک اور چمتکار دکھانے کے لیے بے تاب تھے۔

مگر مصر کے اسپاٹ صحرائی جغرافیہ کے برعکس پانامہ کی سخت چٹانی زمین ، بے لگام دریاِئے چگریس کی وحشیانہ طغیانی اور ایمیزون کی طرح کے گھنے جنگلات اور پھر ملیریا اور زرد بخار جیسی استوائی موذی  بیماریوں کے سبب فرانسیسیوں نے بیچ تعمیراتی سفر میں ہی ان قدرتی رکاوٹوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

ستمبر انیس سو ایک میں صدر ولیم میکنلے کے قتل کے بعد تھیوڈور روز ویلٹ امریکا کے صدر بنے۔  روز ویلٹ کے ذہن میں وہ واقعہ نقش تھا جب فروری اٹھارہ سو اٹھانوے میں ہسپانوی نوآبادی کیوبا میں ہوانا کی بندرگاہ پر لنگرانداز امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس مین میں دھماکے کے نتیجے میں دو سو ساٹھ امریکی ملاح ہلاک ہوئے تھے۔میکنلے حکومت نے اس واردات کا ذمے دار اسپین کو قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو کیوبا پر دھاوا بولنے کا حکم دیا۔

مگر مشکل یہ تھی کہ بحریہ امریکا کے مشرقی اور مغربی ساحل پر منقسم تھی اور مغرب سے مشرق میں کیوبا تک پہنچنے کی راہ میں لگ بھگ بارہ ہزار میل کا طویل بحری سفر حائل تھا۔تب احساس ہوا کہ کسی بھی بڑی جنگ میں امریکا کا سب سے بڑا دشمن دراصل جغرافیہ ہے۔چنانچہ دفاعی معذوری سے نجات کے لیے تھیوڈور روزویلٹ نے صدارت سنبھالتے ہی حکومتِ کولمبیا سے پانامہ کینال بنانے کی اجازت طلب کی۔ کولمبیا نے چونکہ فرانسیسی کمپنی کو پہلے سے اس نہر کی تعمیر کا ٹھیکہ دے رکھا تھا اور کام میں تعطل کے باوجود معاہدہ برقرار تھا لہذا روز ویلٹ انتظامیہ کو انکار ہو گیا۔

اس انکار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انیس جون انیس سو دو کو امریکی سینیٹ نے آٹھ ووٹوں کی اکثریت سے پانامہ کینال منصوبے کی منظوری دے دی۔

امریکا نے کولمبیا کے انکار کی توہین کا بدلہ لینے کا طریقہ یہ نکالا کہ پانامہ صوبے میں ایک مسلح علیحدگی پسند تحریک کو ہوا دینا شروع کی۔تین نومبر انیس سو تین کو پانامہ نے کولمبیا سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔امریکا نے نئی حکومت کو فوراً تسلیم کر لیا اور کٹھ پتلی حکومت نے نہ صرف امریکا کو کینال کی تعمیر کا ٹھیکہ دے دیا بلکہ مجوزہ نہر کے دائیں بائیں دس میل کی پٹی پر امریکا کا مکمل اقتدارِ اعلی بھی تسلیم کر لیا۔

 اس معاہدے کے عوض کٹھ پتلی حکومت کو اراضی کی مد میں ایک کروڑ ڈالر ادا کیے گیے۔امریکا نے فرانسیسی تعمیراتی کمپنی کا سامان چار کروڑ ڈالر میں خرید کر اس ٹھیکیدار کو بھی چلتا کیا۔ چار مئی انیس سو چار کو نہر کی کھدائی کا کام زور شور سے شروع ہوا۔تعمیراتی ساز و سامان کی مسلسل سپلائی کے لیے مجوزہ نہر کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن بچھائی گئی۔ تربیت یافتہ افرادی قوت امریکا سے اور مزدور بحیرہ کیریبین کے جزائر سے درآمد کیے گئے۔ بیک وقت پچیس ہزار لیبر اس منصوبے پر جٹی رہی۔ملیریا اور زرد بخار کی روک تھام کے لیے طبی ماہرین کی ایک ٹیم کو تحقیق پر لگایا گیا۔نومبر انیس سو پانچ تک تعمیراتی زون سے زرد بخار کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور انیس سو تیرہ تک ملیریا بھی بہت حد تک قابو میں آ گیا۔

تین امریکی صدور ( تھیوڈور روز ویلٹ ، ولیم ٹافٹ اور وڈرو ولسن ) نے تب تک کی امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے تعمیراتی منصوبے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

بحر اوقیانوس چونکہ مد و جزر کے فرق کے سبب بحرالکاہل کی نسبت آٹھ انچ نیچے ہے لہذا نہر سویز کی طرز پر ایک اور قدرتی آبی بہاؤ والی نہر کی تعمیر کے بجائے انجینیرز نے پانامہ کینال میں بڑے بڑے آہنی دروازوں والا لاک سسٹم لگایا ۔یعنی جہاز کو ایک آہنی حوض نما لاک کے ذریعے آبی سطح پر اوپر نیچے کر کے آرام سے تیراتے ہوئے ایک جانب سے دوسرے طرف اتارا جا سکے۔

پندرہ اگست انیس سو چودہ کو نہر کا باضابطہ افتتاح ہوا۔اس منصوبے پر ساڑھے سینتیس کروڑ ڈالر لاگت آئی ( آج کے حساب سے بارہ ارب چالیس کروڑ ڈالر) مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برسوں پر پھیلے اس تعمیراتی منصوبے میں پچیس ہزار سے زائد کارکنوں کا خون بھی شامل ہے۔یہ مزدور بیماریوں اور تعمیراتی و صنعتی حادثات میں رزق کی خاطر رزقِ خاک ہوئے۔

انیس سو ننانوے میں بل کلنٹن انتظامیہ نے نہر کا انتظام پانامہ حکومت کے حوالے کر دیا۔مگر اس شرط کے ساتھ کہ حسبِ ضرورت اور ہنگامی حالات میں امریکی ٹریفک کو یہاں سے گذرنے میں ترجیح دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے نہر کو مکمل طور پر ریاست پانامہ کے حوالے کرنے کے فیصلے کو ایک اسٹرٹیجک غلطی قرار دیا ۔مگر اس بابت ان کے عزائم دراصل کیا ہیں ؟ یہ راز بس ٹرمپ ہی جانتے ہیں اور ٹرمپ کو بھلا ٹھیک سے کون جانتا ہے ؟

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عثمان طارق کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے متعلق بڑا بیان!

Published

on



کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق نے کہا ہے کہ ان کی بولنگ عیاں نہیں ہوئی بلکہ اب بیٹرز ہوشیار ہوگئے ہیں۔ عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی بھارتی کرکٹ ٹیم نے ان کی بولنگ سے نمٹنے کے لیے خاص منصوبہ بندی کی تھی۔

پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز کے خلاف کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے عثمان طارق نے کہا کہ اگر اچھی گیندیں کرائی جائیں تو وکٹ ضرور ملتی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ بیٹرز ان کی بولنگ کو سمجھ چکے ہیں،دراصل اب بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی عقل استعمال کرتے ہیں اس لیے وکٹ ملنے میں دقت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جانب سے بہترین بالنگ کرتے ہیں، صورتحال کے مطابق گیندیں کراتے ہیں لیکن نتائج ان کے ہاتھ میں نہیں۔

اسپنر کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ پر لاہور کے مقابلے میں زیادہ مشکلات ہیں، یہاں پر اسپنرز کامیاب ہیں۔

کسی بھی میچ میں تاخیر سے بولنگ دیے جانے کے سوال پر عثمان طارق نے کہا کہ جب  کپتان صورتحال کے مطابق ضرورت محسوس کرتا ہے وہ انہیں بولنگ دیتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی ثالثی اور بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ

Published

on


امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کررہے ہیں۔ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے، اگر ایران سے ڈیل ہوگئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔ ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کی شام اپنے دورہ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سرکاری دورہ ایران کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ہمیشہ ایک پیچیدہ معمہ رہی ہے جہاں طاقت، مفاد، نظریہ اور جغرافیہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک عنصر کو الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی محض علاقائی نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

موجودہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، تاہم اس میں ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ایران اور امریکا جیسے دیرینہ حریف ایک بار پھر مذاکرات کی دہلیز پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف پاکستان نے ایک فعال، مربوط اور بامقصد سفارتی کردار کے ذریعے خود کو اس ممکنہ مفاہمتی عمل کا ایک اہم فریق بنا لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غیر متوقع ہے بلکہ اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے تسلسل، حکمت اور توازن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کو اگر محض ایک رسمی یا روایتی سفارتی سرگرمی سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا، کیونکہ اس ملاقات کے پس منظر میں جو علاقائی اور عالمی حرکیات کارفرما ہیں، وہ اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ قطر گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر منوانے میں کامیاب رہا ہے جو نہ صرف متحارب فریقین کے درمیان مکالمے کا پل بن سکتا ہے بلکہ پیچیدہ تنازعات میں قابلِ عمل راستے بھی تجویز کر سکتا ہے۔ پاکستان کا قطر کے ساتھ سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دراصل ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد خطے میں ایک ایسے اتحاد کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔دوحا کے بعد انطالیہ کا سفر اس سفارتی تسلسل کو مزید واضح کرتا ہے۔

ترکیہ کی خارجہ پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت مغرب اور مشرق دونوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے اور کئی مواقع پر ایک توازن ساز کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعلقات اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل ترتیب دے سکیں جو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرے بلکہ وسیع تر خطے میں ایک نئے توازن کی بنیاد بھی رکھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورے محض دوطرفہ تعلقات کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی نقشے کا حصہ ہیں جس میں مختلف ریاستیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت قریب آ رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ اس پورے عمل کو ایک اور جہت فراہم کرتا ہے، جو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ سیکیورٹی اور تزویراتی نوعیت کے بھی ہیں۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں جس انداز سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران،امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر بات کی گئی، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور ہمہ جہتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عسکری مرکز کا دورہ ایک علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایران کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور اعتماد سازی کی کوششوں کا مظہر ہے۔

یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جاتا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان محض ایک رسمی تعریف نہیں بلکہ اس میں ایک عملی امکان پوشیدہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ابھر سکتا ہے جہاں ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ طے پا سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ذمے داری کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا کہ وہ اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔تاہم اس امید افزا منظرنامے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات نہایت گہرے اور پیچیدہ ہیں۔

ان اختلافات کی جڑیں محض حالیہ برسوں تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سیاسی عدم اعتماد، نظریاتی تصادم اور تزویراتی رقابت شامل ہیں۔ جوہری پروگرام اس تنازع کا مرکزی نکتہ ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کا کردار، اور مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایسے مسائل ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی ناکامی اور ان کی خلاف ورزیاں اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر چکی ہیں، جس کے باعث کسی بھی نئی پیش رفت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے حالیہ بیانات، جن میں مذاکرات کی خواہش اور لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم شامل ہے، ایک محتاط لچک کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس لچک کو کمزوری یا مکمل آمادگی سمجھنا غلط ہوگا۔ ایران اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مسلسل کشیدگی اس کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتا ہے مگر ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی اور خوراک کا بحران اس صورتحال کو مزید نازک بنا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تیل، گیس اور کھاد کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے، جو بالآخر خوراک کے عالمی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری کیے گئے انتباہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ مسئلہ محض علاقائی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

یہاں پاکستان کی سفارت کاری ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک کڑا امتحان بھی ہے۔ پاکستان کو نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے بلکہ اسے اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو وسعت دے اور ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھائے۔اگر اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے اتحاد اور روایتی طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

اب وہ وقت نہیں رہا جب چند بڑی طاقتیں دنیا کے فیصلے طے کرتی تھیں، اب درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کریں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی تجربے اور علاقائی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ہمیشہ ان اقوام کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں اور امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موقع سے دوچار ہے جہاں وہ نہ صرف ایک علاقائی بلکہ ایک عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو منوا سکتا ہے۔

شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی بصیرت کو عملی حکمت عملی میں ڈھالے، توازن کو برقرار رکھے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کرے جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا باعث بنے۔





Source link

Continue Reading

Today News

زندگی کے مختلف ’’گولز‘‘ اور ناکامیاں

Published

on


جامعہ کراچی سے ایک نوجوان ایم اے انگلش کر کے نکلا اور بجائے کہیں لیکچرار لگنے کے وہ نام کمانے کے لیے ایک نئی دنیا میں داخل ہو گیا ،جہاں اس قدر مشہور ہو گیا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جب دوران سفر اس کی وائٹ کار ٹریفک سگنل پر رکھی تو قریب ہی کھڑی کالج کی لڑکیوں نے اسے پہچان لیا اور اس کی کار کو چومنا شروع کر دیا، دیکھتے ہی دیکھتے کالج کی اور لڑکیاں بھی آ گئیں اور ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا، جب ہجوم ایک طرف ہوا تو اس کی کار لڑکیوں کی سرخی کے کلر سے رنگین ہو چکی تھی۔

یہ پاکستان کی ایک ایسی نامور شخصیت تھی کہ جس کے ہیئر اسٹائل کو پاکستان کے نوجوان کاپی کرتے تھے، جی ہاں، ان کا نام وحید مراد تھا اور یہ پاکستانی فلمی دنیا کے چاکلیٹی ہیرو کہلاتے تھے۔انھوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا تھا مگر ایک وقت ایسا آیا کہ فلم انڈسٹری میں ان کے اختلافات ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ ان کے لیے فلم انڈسٹری میں کام کرنا مشکل ہو گیا، یوں وہ سخت ڈپریشن کا شکار ہوئے اور مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار ہوگئے اور اسی حالت میں ایک دن صبح اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی موت طبعی تھی یا کچھ اور معاملہ تھا۔

فلم انڈسٹری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں جس قدر شہرت ملی تھی جب وہ اس مقام سے نیچے آئے تو یہ صورتحال برداشت نہ کر سکے ،یوں ان کی زندگی کا خاتمہ ایک دردناک انداز میں ہوا۔بات یہ ہے کہ انسان جب مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار ہو جائے تو پھر کچھ ایسے ہی صورتحال ہوتی ہے اور انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے اور خودکشی کی کوشش تک بھی پہنچ جاتا ہے۔مینٹلی ڈس آرڈر کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی فرد اپنی زندگی کا کوئی ایسا ’’گول‘‘ یعنی مقصد طے کر لے کہ جس کے آگے دیگر مقاصدکچھ باقی نہ رہیں اور اس گول کے حصول میں ناکامی ہو جائے۔یوں مینٹلی ڈس آرڈر کا اس قدر شدت سے شکار ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام دیگر مقاصد یا ’’گولز‘‘ کو بیکار سمجھتا ہے اور اپنے اس واحد ’’گول‘‘ کے نہ ملنے پر شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی مایوسی اسے بعض اوقات خودکشی تک بھی لے جاتی ہے۔

انسان جب اپنی زندگی گزارتا ہے تو اس کے سامنے ایک دو نہیں بہت سارے مقاصد ہوتے ہیں جن کی وہ ایک ترتیب قائم کرتا ہے اگر انسان صرف ایک مقصد کو ہی تمام مقاصد پر حاوی کر لے تو یہ صورتحال خطرناک ہوتی ہے اور یہی صورتحال اسے مینٹلی ڈس آرڈر تک لے جاتی ہے لیکن جو لوگ اپنے مختلف مقاصد یعنی ’’گول‘‘ کی ترتیب اس طرح سے رکھتے ہیں کہ سب سے اول مقصد نہ بھی حاصل ہو تو دوسر،ا تیسرا یا کوئی اور مقصد حاصل ہو جائے تو بھی قابل قبول ہو، ایسے ہی لوگ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں اور مینٹلی ڈس آرڈر کا شکار نہیں ہوتے۔

مذکورہ مسئلہ آج کے معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنا کوئی ایک مقصد ایسا طے کر لیتے ہیں اور اس کو موت اور زندگی کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، گویا اگر وہ مقصد پورا نہ ہوا تو زندگی کا مقصد ہی بیکار ہے۔ ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ایسے بہت سارے لوگ نظر آئیں گے جو اسی قسم کے مقصد اپنی زندگی میں لیے بیٹھے ہیں اور یہ عام بات ہے۔

مثلاً تعلیم کی سطح پر دیکھیں تو بیشتر طالب علم اور ان کے گھرانے ایسے ملیں گے جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس کریں اور کوئی اچھا مستقبل حاصل کریں، مثلاً ڈاکٹر بنے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا اور اچھے نمبر لانا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے لیکن داخلہ ہر ایک کو نہیں مل سکتا جس کی بہت ساری وجوہات ہیں ایسے میں اگر اچھے نمبر نہ آئیں یا داخلہ نہ ملے تو ہمارے ہاں بہت سارے طالب علم نہ صرف مینٹلی ڈس آرڈر میں چلے جاتے ہیں بلکہ ان کے گھر والے بھی طالب علم پر سخت دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ کیوں اچھے نمبر نہیں لایا؟کیوں اس کا داخلہ نہیں ہوا؟ بہت سے گھرانے اپنے بچوں کے دماغ میں بٹھا دیتے ہیں کہ امتحان میں لازمی اچھے لانا ہے اور یہی سب سے اہم مسئلہ اور کامیابی ہے چنانچہ اگر بچہ اس میں ناکام ہو جائے تو بعض اوقات خودکشی کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔

غور کریں تو ہمارے ہاں لوگوں میں ایک یہ ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ وہ کوئی ایک گول طے کرتے ہیں اور پھر اس کے پیچھے اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں ۔کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی مشہور ماڈل بننا چاہتا ہے تو کوئی ملک سے باہر جا کر پڑھنا یا کمانا چاہتا ہے۔ اب ایسے میں اگر ناکامی ہو تو سخت مایوسی پھیلتی ہے اور اس کے نتیجے میں زندگی کے تمام معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف نئی نسل بلکہ ان کے والدین بھی تعلیم سے لے کر عملی زندگی تک کے مختلف مقاصد کے حصول کی صحیح ترتیب بنائیں اور اس میں متبادل بھی رکھیں تاکہ کوئی ایک چیز حاصل نہ بھی ہو تو متبادل راستہ مل سکے اور مایوسی سے بچا جا سکے،اگر ہم دینی لحاظ سے دیکھیں تو سب سے بہتر ترتیب یہ ہوگی کہ نمبر ون پر ہم اپنی زندگی کا مقصد یہ رکھیں کہ ہم نے اپنی آخرت سنوارنی ہے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دیگر دنیاوی مقاصد ترتیب کے لحاظ سے اس کے بعد آئیں گے، چنانچہ دنیاوی مقاصد میں جہاں جہاں بھی ناکامی ہوگی یا مشکلات آئیں گی تو وہ نمبر ون مقصد سے نیچے ہوں گی، چونکہ نمبر ون مقصد آخرت کی کامیابی ہوگی تو ذہنی طور پہ توجہ آخرت کی کامیابی کے لیے ہوگی اور باقی ٹارگٹ اس کے آگے کم تر ہوں گے، چنانچہ جب ہم انھیں کمتر سمجھیں گے تو اگر اس میں ناکامی ہو بھی گئی تو ہم اس کو با آسانی سہہ لیں گے۔

نئی نسل کو چاہیے کہ اپنے ’’گول‘‘ یا ٹارگٹ میں سب سے پہلے آخرت کی کامیابی کا نمبر رکھیں اور اس کے بعد جتنے بھی ’’گول‘‘ اپنی زندگی کے لیے رکھیں، اس میں متبادل بھی ضرور رکھیں۔

 مینٹل ڈس آرڈر کی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں جس میں سے اہم وجہ کی جانب یہاں بات کی گئی ہے اور اس اہم وجہ سے بے شمار وجوہات کا تعلق بنتا ہے۔واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کروڑوں افراد اس مسئلے کا شکار ہیں جب کہ کراچی میں ہر تین سے چار افراد میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہو سکتا ہے، بعض رپورٹ میں کراچی میں ڈپریشن کی شرح 47 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، یوں دیکھا جائے تو یہ پاکستان اور کراچی جیسے شہر کا ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے لیکن ہمارا اس طرف دھیان نہیں۔ آئیے! سوچیں غور کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending