Connect with us

Today News

سکھن میں گھر کے اندر جھگڑے کے دوران شوہر نے فائرنگ کر کے بیوی کو قتل کردیا

Published

on



سکھن میں گھر کے اندر جھگڑےکے  دوران شوہر نے فائرنگ کر کے بیوی کو قتل کردیا ، مقتولہ کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی۔

 اس حوالے سے ایس ایچ او سکھن خالد میمن نے بتایا کہ واقعہ شاہ لطیف سیکٹر 51 اے الجدون کالج کے قریب گھر میں پیش آیا ہے ، مقتولہ کی شناخت 30 سالہ شبانہ کے نام سے کی گئی جو کہ ایک بچے کی ماں ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ گھر کے اندر گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر کی فائرنگ سے پیش آیا ہے جس میں ملزم اسلم موقع سے فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے ، پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے متعدد خول ملے ہیں جبکہ ملزم اور مقتولہ کا آبائی تعلق نوابشاہ سے بتایا جاتا ہے۔

 تاہم پولیس نے کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے ہیں اور فرار ہونے والے ملزم شوہر کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل بھی جاری ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر شدت 5 ریکارڈ

Published

on



پشاورسمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش تھا  جبکہ زلزلے کی شدت 5 ریکارڈ کی گئی۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ پولیس اورحساس اداروں کے افسران بن کر کالز کے ذریعے فراڈ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

Published

on



کراچی کے علاقے قائد آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں سے فراڈ میں ملوث تین رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا۔

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں گروہ کا سرغنہ ابوبکر، نصیر احمد اور محمد حسن شامل ہیں، جو گزشتہ سات برس سے مختلف طریقوں سے شہریوں کو لوٹنے میں ملوث تھے۔ ملزمان خود کو پولیس، حساس اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کے افسران ظاہر کرکے فون کالز کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دیتے تھے۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان شہریوں کے بینک اکاؤنٹس خالی کرنے کے علاوہ مختلف مصنوعات کی فروخت کے نام پر بھی رقم وصول کرتے رہے۔ اس کے علاوہ گروہ بڑی مقدار میں اشیا کا آرڈر دے کر سامان وصول کرتا اور ادائیگی کیے بغیر فرار ہو جاتا تھا۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان مختلف سمز استعمال کرکے شہریوں کو کالز کرتے اور اب تک کروڑوں روپے کا فراڈ کر چکے ہیں۔ حکام نے انکشاف کیا کہ محمد حسن اور نصیر احمد ایک سیلولر کمپنی کی فرنچائز کے ذریعے جعلی ناموں پر سمز ایکٹیویٹ کرکے گروہ کے سرغنہ ابوبکر کو فراہم کرتے تھے، جس سے فراڈ کی کارروائیاں آسان بنائی جاتی تھیں۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش اور ممکنہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پنجاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کسان پریشان، فصلوں کو شدید نقصان

Published

on



پنجاب کو پاکستان کی فوڈباسکٹ کہا جاتا ہے۔ یہاں گندم، چاول، گنا، مکئی اور کپاس جیسی اہم فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ انہی فصلوں سے پورے ملک کو غذائی تحفظ ملتا ہے اور معیشت بھی چلتی ہے۔ لیکن گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں کے دوران پنجاب کا موسم تیزی سے بدلا ہے۔ بارشوں کا انداز بے ترتیب ہو گیا ہے۔ گرمی پہلے سے زیادہ شدید ہو گئی ہے اور سردیوں کا موسم چھوٹا اور کم سرد ہوتا جا رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے کسانوں کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے اور فصلوں کی پیداوار کو بہت نقصان پہنچا ہے۔۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی سیزنل آؤٹ لک رپورٹس کے مطابق سن 2000 کے بعد پنجاب میں اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوا جبکہ بارشوں کا نظام غیر یقینی ہو گیا۔ گرمی کی شدت اور دورانیہ بڑھا ہے اور سردیوں کا موسم مختصر ہو گیا ہے، جس سے فصلوں کے قدرتی سائیکل متاثر ہو رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تحقیق کے مطابق زیادہ اور کم درجہ حرارت میں اضافہ فصلوں کے بڑھنے کے دورانیے کو کم کر رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت میں ایک سے چار ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو تو گندم کی پیداوار میں 9 سے 30 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

 انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے 80 فیصد سے زائد کسان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔ وسطی پنجاب میں بارشوں کا نظام غیر مستحکم ہو چکا ہے، جہاں بعض سالوں میں شدید بارشیں جبکہ بعض میں شدید خشک سالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں غیر متوقع بارشوں نے  گندم کی کٹائی کو متاثر کیا جبکہ جولائی اور اگست میں شدید بارشیں کپاس اور چاول کی فصلوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے ایگزیکٹو ممبر  و زرعی ماہر ڈاکٹر انجم علی کے مطابق پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی اب کلائمیٹ شفٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے تحت مون سون کا روایتی دورانیہ تبدیل ہو گیا ہے اور بارشیں محدود مدت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ درجہ حرارت اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن کے باعث فصلوں کی کاشت کے رجحانات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، خصوصاً وسطی پنجاب میں پانی والی فصلوں جیسے گنا، چاول اور مکئی کا رقبہ بڑھ رہا ہے جبکہ کپاس کی کاشت کم ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر انجم علی کے مطابق اس صورتحال کے جواب میں زرعی نظام میں کئی تبدیلیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ شارٹ ڈیوریشن اقسام کے بیج، جدید بریڈنگ پروگرام، مائیکرو نیوٹرینٹس اور پوٹاش کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ فصلیں سخت موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کیڑوں کے حملوں میں اضافہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ زیادہ درجہ حرارت ان کی افزائش کو تیز کرتا ہے۔

انہوں نے سفارش کی کہ ڈیجیٹل ایگریکلچر کو فروغ دیا جائے، کسانوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں، اور کلسٹر فارمنگ یا اجتماعی کاشتکاری کے ماڈلز اپنائے جائیں۔ اس کے علاوہ پانی کے بہتر استعمال، اسٹوریج انفراسٹرکچر، اور تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا۔

دوسری جانب  پراگریسوفارمر  عامر حیات بھنڈارا کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے کاشت اور کٹائی کے اوقات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ اور اپریل میں غیر متوقع بارشوں کے باعث گندم کی کٹائی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے فصلیں قبل از وقت پکنے لگتی ہیں، جس سے پیداوار میں کمی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

عامر حیات کے مطابق ہیٹ ویوز، سیلاب اور خشک سالی جیسے عوامل مل کر زرعی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ درجہ حرارت میں سال بہ سال نمایاں فرق سامنے آ رہا ہے، جس سے فصلوں کی نشوونما کا پورا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے سفارش کی کہ کاشتکاروں کو موسمیاتی خطرات کے مطابق فصلوں کے انتخاب اور کاشت کے اوقات میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی تحفظ، موسمیاتی معلومات تک رسائی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرے۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق  موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو کسان اگلے سال گندم نہیں بویں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمیں برباد کر دیا ہے۔ حکومت درآمدات پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے جبکہ مقامی کسان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending