Today News
پاکستان کی ثالثی اور بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کررہے ہیں۔ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے، اگر ایران سے ڈیل ہوگئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔ ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کی شام اپنے دورہ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سرکاری دورہ ایران کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ہمیشہ ایک پیچیدہ معمہ رہی ہے جہاں طاقت، مفاد، نظریہ اور جغرافیہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک عنصر کو الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی محض علاقائی نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
موجودہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، تاہم اس میں ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ایران اور امریکا جیسے دیرینہ حریف ایک بار پھر مذاکرات کی دہلیز پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف پاکستان نے ایک فعال، مربوط اور بامقصد سفارتی کردار کے ذریعے خود کو اس ممکنہ مفاہمتی عمل کا ایک اہم فریق بنا لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غیر متوقع ہے بلکہ اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے تسلسل، حکمت اور توازن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کو اگر محض ایک رسمی یا روایتی سفارتی سرگرمی سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا، کیونکہ اس ملاقات کے پس منظر میں جو علاقائی اور عالمی حرکیات کارفرما ہیں، وہ اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ قطر گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر منوانے میں کامیاب رہا ہے جو نہ صرف متحارب فریقین کے درمیان مکالمے کا پل بن سکتا ہے بلکہ پیچیدہ تنازعات میں قابلِ عمل راستے بھی تجویز کر سکتا ہے۔ پاکستان کا قطر کے ساتھ سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دراصل ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد خطے میں ایک ایسے اتحاد کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔دوحا کے بعد انطالیہ کا سفر اس سفارتی تسلسل کو مزید واضح کرتا ہے۔
ترکیہ کی خارجہ پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت مغرب اور مشرق دونوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے اور کئی مواقع پر ایک توازن ساز کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعلقات اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل ترتیب دے سکیں جو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرے بلکہ وسیع تر خطے میں ایک نئے توازن کی بنیاد بھی رکھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورے محض دوطرفہ تعلقات کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی نقشے کا حصہ ہیں جس میں مختلف ریاستیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت قریب آ رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ اس پورے عمل کو ایک اور جہت فراہم کرتا ہے، جو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ سیکیورٹی اور تزویراتی نوعیت کے بھی ہیں۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں جس انداز سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران،امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر بات کی گئی، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور ہمہ جہتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عسکری مرکز کا دورہ ایک علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایران کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور اعتماد سازی کی کوششوں کا مظہر ہے۔
یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جاتا ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان محض ایک رسمی تعریف نہیں بلکہ اس میں ایک عملی امکان پوشیدہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ابھر سکتا ہے جہاں ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ طے پا سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ذمے داری کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا کہ وہ اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔تاہم اس امید افزا منظرنامے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات نہایت گہرے اور پیچیدہ ہیں۔
ان اختلافات کی جڑیں محض حالیہ برسوں تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سیاسی عدم اعتماد، نظریاتی تصادم اور تزویراتی رقابت شامل ہیں۔ جوہری پروگرام اس تنازع کا مرکزی نکتہ ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کا کردار، اور مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایسے مسائل ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی ناکامی اور ان کی خلاف ورزیاں اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر چکی ہیں، جس کے باعث کسی بھی نئی پیش رفت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے حالیہ بیانات، جن میں مذاکرات کی خواہش اور لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم شامل ہے، ایک محتاط لچک کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس لچک کو کمزوری یا مکمل آمادگی سمجھنا غلط ہوگا۔ ایران اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مسلسل کشیدگی اس کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتا ہے مگر ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی اور خوراک کا بحران اس صورتحال کو مزید نازک بنا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تیل، گیس اور کھاد کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے، جو بالآخر خوراک کے عالمی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری کیے گئے انتباہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ مسئلہ محض علاقائی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔
یہاں پاکستان کی سفارت کاری ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک کڑا امتحان بھی ہے۔ پاکستان کو نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے بلکہ اسے اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو وسعت دے اور ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھائے۔اگر اس صورتحال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے اتحاد اور روایتی طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
اب وہ وقت نہیں رہا جب چند بڑی طاقتیں دنیا کے فیصلے طے کرتی تھیں، اب درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کریں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی تجربے اور علاقائی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ہمیشہ ان اقوام کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلے کرتی ہیں اور امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موقع سے دوچار ہے جہاں وہ نہ صرف ایک علاقائی بلکہ ایک عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو منوا سکتا ہے۔
شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی بصیرت کو عملی حکمت عملی میں ڈھالے، توازن کو برقرار رکھے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کرے جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا باعث بنے۔
Today News
ایران نے آبنائے ہرمز پر نقل و حمل کی آزادی کو دائمی جنگ بندی سے مشروط قرار دے دیا
ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ محفوظ ماحول کی عدم موجودگی میں اس اسٹریٹجک راستے پر معمول کی نقل و حرکت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مخالف فریقوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔
Today News
سافٹ ڈرنکس پینے کی عادت والدین بننے کی امید کم کرسکتی ہے، ماہرین نے خبردار کردیا
روزمرہ زندگی میں شوق سے پینے والی سافٹ ڈرنکس اب صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان میٹھے کاربونیٹڈ مشروبات کا مسلسل استعمال مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
طبی جریدے Epidemiology میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری خوراک اور طرزِ زندگی نہ صرف عمومی صحت بلکہ والدین بننے کی صلاحیت پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اس تحقیق میں بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں نے امریکا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 21 سے 45 سال کی عمر کے 3828 خواتین اور ان کے شریک حیات کو شامل کیا۔
تحقیق کے دوران شرکاء کے طرزِ زندگی، خوراک اور طبی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خواتین سے ہر دو ماہ بعد سوالنامہ پُر کروایا گیا، جس میں ان کی صحت اور حمل سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
ایک سال کے تجزیے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو افراد زیادہ مقدار میں سافٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں، ان میں ہر ماہ والدین بننے کے امکانات تقریباً 20 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ گزشتہ پچاس برسوں میں خوراک میں شکر کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میٹھے مشروبات کے بڑھتے استعمال نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال تولیدی نظام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس سے حمل ٹھہرنے کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صحت مند زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کیا جائے اور متوازن غذا کو ترجیح دی جائے۔
Source link
Today News
پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہمہ جہت تہذیب سے مالا مال ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ثقافتی ورثے کے لیے عالمی سطح پر ایک مخصوص دن کا منایا جانا اس کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کے موقع پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ ثقافتی ورثہ سماجی تنوع کی عکاسی کرتا ہے، ہمارے ماضی کی حفاظت کرتا ہے، حال کی ترجمانی کرتا ہے اور مستقبل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی ورثہ ایک ہمہ جہت تہذیب سے مالا مال ہے۔ ہماری سرزمین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی امین ہے جو انسانی تخلیقی صلاحیت اور تنوع کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اہم دن کے موقع پر تمام پاکستانیوں خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ثقافتی ورثے پر فخر کریں اور اس کے تحفظ اور فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا ورثہ ہماری قومی شناخت اور اتحاد کی اصل روح ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس انمول قومی اثاثے کی حفاظت کریں اور اس کا جشن منائیں۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: A kind heart – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Rs20 million fine for a deleted tweet: The cost of irreverence? – Prism
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper