Connect with us

Today News

علی اصغر نے کپل شرما شو میں ’دادی‘ کا کردار کیوں چھوڑا؟

Published

on



بھارتی کامیڈین اور اداکار علی اصغر نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ انہوں نے مقبول پروگرام ’دی کپل شرما شو‘ میں اپنے شہرۂ آفاق ’’دادی‘‘ کے کردار کو خیرباد کیوں کہا۔

علی اصغر کا کہنا ہے کہ اس کردار نے انہیں بے پناہ شہرت دی اور وہ گھر گھر میں ’’دادی‘‘‘ کے نام سے پہچانے جانے لگے، لیکن وقت کے ساتھ یہی پہچان ان کے لیے ایک محدود دائرہ بنتی چلی گئی۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلہ ایسا آیا جب وہ ٹی وی پر بار بار خواتین کے کردار ہی ادا کر رہے تھے، جس سے ان کی بطور اداکار وسعت متاثر ہو رہی تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس دور میں وہ ایک سے زیادہ شوز میں خواتین کے روپ میں نظر آ رہے تھے، جس کے باعث ان کی ایک خاص امیج بن گئی تھی۔ ان کے مطابق لکھاریوں اور پروڈیوسرز کے لیے بھی یہ آسان ہو گیا تھا کہ انہیں بار بار ایسے ہی کردار دیے جائیں، جبکہ وہ خود مختلف کردار آزمانا چاہتے تھے۔

علی اصغر نے کہا کہ بعض اوقات انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل صلاحیتوں کا مکمل اظہار نہیں کر پا رہا۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں دیگر کرداروں میں بھی موقع دیا جائے، لیکن انڈسٹری کی روایتی سوچ کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود وہ ان کرداروں کو اپنے کیریئر کا اہم حصہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج بھی انہی کی بدولت انہیں کئی بڑے شوز اور مواقع ملتے ہیں۔

اداکار نے ایک دلچسپ مگر معنی خیز بات بھی شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ خدشہ بھی رہتا تھا کہ کہیں ان کے بچوں کو اسکول میں اس بنیاد پر چھیڑا نہ جائے کہ ان کے والد ہمیشہ خواتین کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فلم ’’دیوار‘‘ کا مشہور جملہ یاد دلایا اور کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بیٹے کے ہاتھ پر کوئی لکھ دے ’’میرا باپ عورت ہے‘‘۔

علی اصغر کا یہ فیصلہ محض ایک کردار چھوڑنے کا نہیں بلکہ اپنی پہچان کو وسیع کرنے اور بطور اداکار نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش تھا، جس نے ان کے کیریئر کو ایک نیا موڑ دیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی فوج کا ایران کے آئل ٹینکرز اور کمرشل جہازوں پر قبضے کا منصوبہ ہے؛ میڈیا رپورٹ

Published

on


آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورت حال بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور اس غیریقینی کیفیت نے عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے سے متعلق تشویش کو مزید گہرا کردیا ہے۔

امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی فوج آئندہ چند دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روکنے اور ان پر سوار ہو کر تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ممکنہ کارروائی ان جہازوں کے خلاف کی جا سکتی ہے جنہیں ایران سے منسلک سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی جب کہ امریکا کی جانب سے بھی اس کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی اور ایران نے بھی تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔

یاد رہے کہ آج ہی ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرکے اپنی مزید سخت نگرانی میں لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بحریہ کی تاحال ناکہ بندی کی ہوئی ہے جس کے ردعمل میں آبنائے ہرمز بند کی۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز وہ اہم سمندری راستہ ہے جس سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) گزرتا ہے۔

اس راستے کی بندش کی وجہ سے دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے باعث مہنگائی کا سیلاب امڈ آیا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

paec another international milestone – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے عالمی سطح پر ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے جہاں لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کولیبریٹنگ سینٹر قرار دے دیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق تاریخی کامیابی پر انمول میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹر کی تختی پیش کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اس اعزاز کے بعد پاکستان کے پانچ ادارے عالمی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹر بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے 45 ممالک میں موجود 92 مراکز کی فہرست میں پاکستان کا چوتھے نمبر پر ہونا باعثِ فخر ہے۔

تقریب کے دوران تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی جدید ٹرو بیم لیناک مشین کا افتتاح بھی کیا گیا اور نئی کیموتھراپی بے کے قیام سے مریضوں کی گنجائش 20 سے بڑھا کر 50 کر دی گئی ہے۔

ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی اور ڈی جی ڈاکٹر شازیہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی ادارے کی تحقیق اور طبی معیار میں بہتری کا مظہر ہے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک بھر میں 21 کینسر اسپتال چلا رہا ہے جہاں 80 فیصد مریضوں کو علاج کی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

اہم معاشی اشاریے توقعات سے زیادہ تیزری سے بہتر ہوئے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

Published

on



اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے عالمی مالیاتی و سرمایہ کاری اداروں کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریے مالی سال کے آغاز پر کی گئی توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئے خطرات پیدا کیے ہیں اور معاشی منظرنامے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال بڑھا دی ہے، تاہم معیشت ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں اب ان ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

تقریب میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن، فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی شریک تھیں، یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 تک عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر ہوئیں۔

اس موقع پر جمیل احمد نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

گورنر نے شرکا کو مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز سے قبل معیشت کو مستحکم کرنے میں پاکستان کی نمایاں پیش رفت سے آگاہ کیا اور زور دیا کہ محتاط مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کے امتزاج نے مہنگائی کو ہدف کی حد میں لانے اور مستحکم کرنے میں مدد دی جبکہ ملک کے مالیاتی اور بیرونی بفرز کو بھی مضبوط کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس میں رہا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، بنیادی طور پر انٹربینک فاریکس مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی خریداری کی وجہ سے 16.4 ارب ڈالر تک مستحکم ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی وصولی، بشمول نئے دوطرفہ معاہدوں کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک مزید مضبوط ہو کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

گورنر نے وضاحت کی کہ بہتر معاشی استحکام نے اقتصادی ترقی میں بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد بحالی میں مدد دی ہے، مالی سال 2026کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد کا وسیع البنیاد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ شرح 1.8 فیصد تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ محتاط پالیسی کے رخ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی حالات آج 2022 کے اوائل میں روس-یوکرین تنازع جیسے بیرونی جھٹکوں کے پچھلے ادوار کے مقابلے میں نمایاں طور پر مضبوط ہیں۔

گورنر جمیل احمد نے کہا کہ ان بہتر ابتدائی حالات نے معیشت کو مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت سے پیدا ہونے والے چیلنجز، بشمول عالمی توانائی کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس لاگت میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں رکھا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی محتاط رہی ہے اور حقیقی پالیسی ریٹ نمایاں طور پر مثبت ہے، اس کے علاوہ حکومت نے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا ہے، جاری تنازع کے پیش نظر ہدفی سبسڈیز نافذ کی ہیں اور طلب کو منظم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

گورنر نے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدے نیز ایک بڑی ایجنسی کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگز کی توثیق کو حکومت اور اسٹیٹ بینک کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے سے وابستگی کے آزادانہ اعتراف کے طور پر نوٹ کیا۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ روڈ شو میں پاکستانی ڈائیسپورا اور عالمی اسٹیک ہولڈرز سے بھی رابطہ کیا اور آر ڈی اےکی رقوم کے 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے اور 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کے سنگ میل کو اجاگر کیا۔

انہوں نے آر ڈی اے کے ریگولیٹری فریم ورک میں حالیہ بہتری کا بھی خاکہ پیش کیا، جس میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید ضم کرنا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی وسیع تر رینج کو راغب کرنا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending