Connect with us

Today News

عمران خان کو پیغام دیدیا قوم اسٹریٹ موومنٹ کیلیے تیار ہے مردان جلسہ اسکا ثبوت ہے، سہیل آفریدی

Published

on



مردان:

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کا حکم دیا ہے، عمران خان کو پیغام دیا کہ قوم تیار ہے، حکم کریں تو اگلے دن اسلام آباد ہوں گے، ایک بار نہیں ہزار بار عمران خان کی کال پر قربان ہوں گے۔

یہ بات انہوں ںے مردان میں پی ٹی آئی کے جلسہ عام سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے اس موقع پر مردان کے لیے 50 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان بھی کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مردان جلسے میں عوام کا جم غفیر عمران خان کی کال پر آیا ہے، ہماری اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے، کچھ ٹاؤٹس کہتے تھے لوگ نہیں نکلیں گے لیکن مردان نے ثابت کر دیا عوام عمران خان کی کال پر لبیک کہتے ہیں، عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کا کہا، 25 اپریل کو آزاد کشمیر اور یکم مئی کو لاہور جاؤں گا، عمران خان کو پیغام دیا کہ قوم تیار ہے، حکم کریں تو اگلے دن اسلام آباد ہوں گے، ایک بار نہیں ہزار بار عمران خان کی کال پر قربان ہوں گے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کل بھی لیڈر تھا اور آج بھی لیڈر ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ عمران خان ختم ہو چکا ہے عوام نے انہیں واضح پیغام دے دیا ہے، میرا لیڈر ایک ہی ہے اور وہ عمران خان ہے، جو حکم دے گا وہی کروں گا، جو ہمارے لیڈر عمران خان کی پالیسی ہے اس پر کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ ریاست کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے، عمران خان کے دور میں امن قائم تھا، ناکام پالیسی سے دہشت گردی دوبارہ آئی، میں نے خیبرپختونخوا میں آپریشن کی مخالفت ڈنکے کی چوٹ پر کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی عدالتوں سے امید ختم ہو چکی ہے، نظریں عوام پر ہیں، عمران خان اور ان کی اہلیہ کا ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں علاج نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا، علاج نہ کرانا اور ملاقاتیں بند کرنا دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تھی جو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ گئی، قرضے 50 ہزار ارب سے بڑھ کر 81 ہزار ارب ہو گئے، گزشتہ تین سال میں قرضوں میں 31 ہزار ارب روپے اضافہ ہوا، پٹرول 150 روپے سے بڑھ کر 360 روپے سے زائد ہو چکا ہے، کسان اور مزدور مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں، عوام کی قوت خرید ختم ہو گئی، ریجیم چینج کے بعد سے ہم 
نے سکھ کا سانس نہیں لیا، ایک ایلیٹ قبضہ مافیا نے ملک کے ہر عہدے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج خطے میں مذاکرات ہو رہے ہیں، اس کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، مذاکرات عمران خان کی پالیسی ہے، وہ 2002 میں یہ بات کرتے تھے، دنیا آج کر رہی ہے، عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے مشاورت کی جائے، ہم اس کا خیال رکھیں گے، اس مرتبہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس گراؤنڈ میں منعقد کریں گے، کامیاب جلسے پر پی ٹی آئی تنظیم، پارلیمنٹرینز اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسلام آباد ریڈ زون میں داخلہ بند، جُڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل، شہری رُل گئے

Published

on



وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیاگیا جبکہ جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا جس کے باعث مسافر رل گئے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جبکہ نجی و سرکاری اسکولوں اور دفاتر کو ورک فرام ہوم کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی پابندیوں کے باعث جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والے افراد دن بھر لاری اڈوں پر خوار ہوتے رہے اور متبادل سفری ذرائع تلاش کرتے رہے۔

بس سروس بند ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مسافروں نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ٹرینوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل بھی تین گھنٹے تاخیر کا شکار رہی، تاہم اس کے باوجود مسافر طویل انتظار کرتے رہے۔

شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ عام زندگی کم سے کم متاثر ہو۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

مہنگی ترین بجلی اور اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ

Published

on


وزیر اعظم جناب شہباز شریف تین اسلامی ممالک کے ہنگامی اور طوفانی دَورے سے واپس آ چکے ہیں۔ وہ پہلے سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد جناب محمد بن سلمان سے تازہ ترین بدلتے عالمی حالات بارے تفصیلی ملاقات کی ۔ سعودیہ سے وہ قطر پہنچے اورامیرِ قطر جناب شیخ تمیم بن حمد سے ، اِسی تناظر میں،ملے۔ قطر سے جناب شہباز شریف ترکیہ کے معروف ساحلی اور سیاحتی شہر ’’انطالیہ ‘‘ پہنچے جہاںچھٹا عالمی ’’انطالیہ ڈپلومیسی فورم‘‘ منعقد ہو رہا تھا۔ اِسی عالمی فورم پر جناب شہباز شریف نے دیگر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ ، 17اپریل کو، ترکیہ کے صدر جناب طیب ایردوان سے بھی ملاقات کی ۔

اِن تین ملاقاتوں کی جو سرکاری تصاویر میڈیا میں شائع اور نشر ہُوئی ہیں ،زبانِ حال سے بتاتی ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کا تینوں مقامات پر کھلے بازوؤں اور کھلے دل سے استقبال کیا گیا۔ جناب شہباز شریف کی یہ عزت افزائی درحقیقت پورے پاکستان کی عزت فرمائی کے مترادف ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر حالیہ جو بلند اور منفرد مقام ملا ہے، یہ درحقیقت اُن شاندار اور بے مثال سفارتی کوششوں کا ثمر ہے جو پاکستان نے ایران اور امریکہ ( پلس اسرائیل) میں جنگ بندی اور امن کے لیے کی ہیں ۔ پوری دُنیا( مائنس صہیونی اسرائیل اور بی جے پی کے بھارت ) کی جانب سے پاکستان کی مذکورہ امن کوششوں کی ستائش اور تحسین کی جا رہی ہے ۔

امریکی صدر ، جناب ڈونلڈ ٹرمپ ، بھی پاکستان کو شاباش دے رہے ہیں ۔ جن ایام میں وزیر اعظم جناب شہباز شریف اپنے سہ ملکی ہنگامی دَورے پر تھے، پاک آرمی کے سربراہ، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر، بھی ایران میں اپنے سہ روزہ دَورے پر تھے (جنرل صاحب 18اپریل کو ایران سے وطن واپس پہنچ گئے) ساری دُنیا نے ہمارے فیلڈ مارشل کے دَورئہ ایران پر نظریں جما رکھی تھیں ۔ ہمارے سی ڈی ایف صاحب ایران ہی میں تھے کہ ایران نے متنازع بنی آبنائے ہرمز بارے اعلان کیا کہ ’’اِسے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے ۔‘‘

اِس اقدام کو جنرل عاصم منیر صاحب کی مساعی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔امریکہ تک اِس خبر نے خوشی ، مسرت اور اطمینان کی لہریں دوڑا دیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت پھر سے ، معمول کے مطابق، شروع ہو گئی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر کو، پاکستان کے ساتھ ، یکساں طور پر ’’ شاندار ‘‘۔۔زبردست‘‘۔۔اور ’’عظیم‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا اور پکارا ہے ۔ بِلا شبہ اِن الفاظ سے، اقوامِ عالم میں، پاکستان ہی کی شوبھا میں اضافہ ہُوا ہے ۔

امریکی صدر کی زبان سے پاکستان اور اعلیٰ ترین پاکستانی سویلین و غیر سویلین قیادت کی تحسین کے ساتھ ہی ، ہم سب نے دیکھاکہ ، تیل کی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کم از کم 23فیصد کمی آ گئی (اور ٹرمپ کے تحسینی بیان کی بنیاد پر ہی دُنیا بھر میں حصص کے دارالمبادلہStock Exchangesکا گراف بلند ہُوا) اِسی کارن ، شائد، وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیزل اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے ۔

اِس اقدام کی تعریف کی جانی چاہیے ، لیکن عوام ابھی تک منتظر ہیں کہ وزیر اعظم صاحب اور وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کب اور کتنی کمی کی جاتی ہے ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ مہنگا ترین پٹرول استعمال کرنے والے غریب اور زیریں متوسط طبقات کا بھرکس نکل چکا ہے ۔ بھرکس تو ویسے عوام کا مہنگی ترین بجلی نے بھی نکال دیا ہے ۔ اوپر سے بے تحاشہ اور بے وقتی لوڈ شیڈنگ نے قیامت ڈھا رکھی ہے ۔جس طرح آبنائے ہرمز بارے ڈونلڈ ٹرمپ کے ( مثبت اور منفی) بیانات سے دُنیا بھر کے حصص کے دارالمبادلہ (Stock Exchanges)میں بے تحاشہ ادلی بدلی اور نااستواری (Fluctuation)آتی ہے ، اِسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی جس وحشت سے نااستواری دیکھنے میں آ رہی ہے ، اِس نے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں ۔

 طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اچانک بجلی آتی ہے تو کبھی نہائت مدہم اور کبھی بے حد زیادہ ۔ اِس نا مطلوبہ اُتار چڑھاؤ سے گھریلو الیکٹرانک اشیا کے جلنے کے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ آج کل طلبا و طالبات کے سالانہ امتحانات بھی ہو رہے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ عذاب کے موجب نہ وہ اپنے امتحانات کی تیاری کر پائے ہیں اور نہ ہی کمرئہ امتحان میں ، شدید گرمی کے باعث، درست حواس کے ساتھ اپنے پرچے حل کر سکے ہیں۔ گویا عذاب کئی رُخا ہے ۔ اِس عذاب نے وفاقی حکومت بارے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے ۔

بیرونِ ملک اگر وفاقی حکومت کی (بجا طور پر) تعریف و تحسین ہو رہی ہے تو اندرونِ ملک مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کی قیامتوں نے عوام کو حکومت سے بے حد نالاں کردیا ہے ۔ ایسے میں ہمیں حیدر علی آتش کا معروف شعر یاد آ تا ہے : سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا/ کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا !! شدید لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ترین بجلی ( اور اوپر سے مہنگائی اور بے روزگاری ) کی اساس پر خلقِ خدا غائبانہ طور پر حکومت کو جن القابات سے یاد کررہی ہے، کیا حکومت ہمت اور حوصلے کے ساتھ یہ القابات سُن سکتی ہے ؟

 اِن القابات کا طوفان ِ محشر سوشل میڈیا کے متنوع پلیٹ فارمز پر بپا ہے ۔ مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز آئی عوام جس اسلوب میں سوشل میڈیا فورمز پرحکومت بارے جوردِ عمل دے رہی ہے، اِسے لگام ڈالنا شائد حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اِسی لیے تو سوشل میڈیا اہلِ اقتدار کو چبھتا ہے۔حکومت عوام کے غصے اور ردِ عمل کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی۔ اعدادو شمار کا ایسا ہیر پھیر بتایا جاتا ہے کہ سادہ لوح عوام کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ مہنگی ترین بجلی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب کا اصل سبب کیا ہے ؟اور حکومت کتنی ذمے دار ہے؟ حکومت آجکل صرف ایک بات پر نازاں ہے کہ اس نے پاور سیکٹر کے ملازمین ( گریڈ 17سے اوپر) کو ملنے والی مفت بجلی کی سہولت(عدالتی فیصلے کے بعد) ختم کر دی ہے ۔ وہ مگر عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ( مبینہ طور پر) اِنہی ملازمین کو مفت بجلی کے بدلے میں سرکار کے خزانے سے کتنی، رقوم ادا کی جارہی ہیںاوراعلیٰ ترین سرکاری حاضرسروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو مفت بجلی، مفت گیس اور مفت پٹرول کی( بے جا) سہولیات کب ختم کی جا رہی ہیں؟ یہ مفت فراہم کی جانے والی سہولیات اربوں روپے مالیت کی حامل ہیں اور اِن کا بوجھ غریب عوام کی جیب پر مسلسل پڑرہا ہے ۔

میڈیا میں وزیر توانائی سے عذابناک لوڈ شیڈنگ بارے جو تڑپتے پھڑکتے سوالات پوچھے جا رہے ہیں ، موصوف اِن کا جواب دینے سے تقریباً قاصر ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بارے اُن کے اپنے دلائل، اپنی منطق اور اپنی وضاحتیں ہیں ، مگر عوامی سوالات کا پلّہ بھاری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ حکومت کے 2وزار جونہی ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں ، عوام کی جان ہی نکل جاتی ہے : وزیر بجلی اور وزیر تیل !دونوں وزرا عوام کا تیل نکالنے کے لیے نِت نئے حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لا رہے ہیں ۔

اِن دونوں محکموں کے پچھلی حکومتوں کے وزرا بھی اِسی راستے پر گامزن تھے ۔مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے عذابوں سے نجات پانے کے لیے عوام پیسے جوڑ جوڑ کر کبھی یو پی ایس لگاتے ہیں ، کبھی بیٹریاں خریدتے ہیں ، کبھی مہنگے داموں جنریٹرز لاتے ہیں اور کبھی سولر سسٹم کے تحت نیٹ میٹرنگ کے سرکاری جھانسے میں آتے ہیں ۔ اِن مدات میں عوام اپنا اربوں روپیہ ڈبو چکے ہیں ، مگر بجلی کے عذاب سے نجات نہیں ملی۔ حکومت نے سولر پلیٹوں پر نئے بھاری ٹیکس بھی عائد کر دیئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

نواز شریف، مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس، اسکائی گلاس برج بنانے سمیت سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے

Published

on


مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں مری اور کوٹلی ستیاں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی و امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

اجلاس میں مری میں تین نئے ہاسپٹیلٹی زون قائم کرنے، نجی شعبے کے اشتراک سے 5 اسٹار معیار کے ہوٹلز کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع اور گلاس ٹرین پراجیکٹ کے جلد آغاز کا ہدف مقرر کیا گیا۔

اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے نئے پارکس، زولوجیکل گارڈن، ایکوزون، گلیمپنگ پوڈ ویلج اور پیراگلائیڈنگ کلب کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بلک واٹر سپلائی اسکیم اور رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پنجاب بھر میں سرکاری عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے فیسلیٹی مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔

 





Source link

Continue Reading

Trending