Today News
پاکستان خطے میں امن کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے دورے سے آگاہ کیا اور عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس خوش گوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے صدر پزشکیان اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا، جس کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔
شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کے حق میں اتفاق رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے رواں ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔
صدر پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔
Source link
Today News
اسلام آباد ریڈ زون میں داخلہ بند، جُڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل، شہری رُل گئے
وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیاگیا جبکہ جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا جس کے باعث مسافر رل گئے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جبکہ نجی و سرکاری اسکولوں اور دفاتر کو ورک فرام ہوم کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی پابندیوں کے باعث جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والے افراد دن بھر لاری اڈوں پر خوار ہوتے رہے اور متبادل سفری ذرائع تلاش کرتے رہے۔
بس سروس بند ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مسافروں نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ٹرینوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل بھی تین گھنٹے تاخیر کا شکار رہی، تاہم اس کے باوجود مسافر طویل انتظار کرتے رہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ عام زندگی کم سے کم متاثر ہو۔
Today News
مہنگی ترین بجلی اور اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ
وزیر اعظم جناب شہباز شریف تین اسلامی ممالک کے ہنگامی اور طوفانی دَورے سے واپس آ چکے ہیں۔ وہ پہلے سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد جناب محمد بن سلمان سے تازہ ترین بدلتے عالمی حالات بارے تفصیلی ملاقات کی ۔ سعودیہ سے وہ قطر پہنچے اورامیرِ قطر جناب شیخ تمیم بن حمد سے ، اِسی تناظر میں،ملے۔ قطر سے جناب شہباز شریف ترکیہ کے معروف ساحلی اور سیاحتی شہر ’’انطالیہ ‘‘ پہنچے جہاںچھٹا عالمی ’’انطالیہ ڈپلومیسی فورم‘‘ منعقد ہو رہا تھا۔ اِسی عالمی فورم پر جناب شہباز شریف نے دیگر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ ، 17اپریل کو، ترکیہ کے صدر جناب طیب ایردوان سے بھی ملاقات کی ۔
اِن تین ملاقاتوں کی جو سرکاری تصاویر میڈیا میں شائع اور نشر ہُوئی ہیں ،زبانِ حال سے بتاتی ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کا تینوں مقامات پر کھلے بازوؤں اور کھلے دل سے استقبال کیا گیا۔ جناب شہباز شریف کی یہ عزت افزائی درحقیقت پورے پاکستان کی عزت فرمائی کے مترادف ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر حالیہ جو بلند اور منفرد مقام ملا ہے، یہ درحقیقت اُن شاندار اور بے مثال سفارتی کوششوں کا ثمر ہے جو پاکستان نے ایران اور امریکہ ( پلس اسرائیل) میں جنگ بندی اور امن کے لیے کی ہیں ۔ پوری دُنیا( مائنس صہیونی اسرائیل اور بی جے پی کے بھارت ) کی جانب سے پاکستان کی مذکورہ امن کوششوں کی ستائش اور تحسین کی جا رہی ہے ۔
امریکی صدر ، جناب ڈونلڈ ٹرمپ ، بھی پاکستان کو شاباش دے رہے ہیں ۔ جن ایام میں وزیر اعظم جناب شہباز شریف اپنے سہ ملکی ہنگامی دَورے پر تھے، پاک آرمی کے سربراہ، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر، بھی ایران میں اپنے سہ روزہ دَورے پر تھے (جنرل صاحب 18اپریل کو ایران سے وطن واپس پہنچ گئے) ساری دُنیا نے ہمارے فیلڈ مارشل کے دَورئہ ایران پر نظریں جما رکھی تھیں ۔ ہمارے سی ڈی ایف صاحب ایران ہی میں تھے کہ ایران نے متنازع بنی آبنائے ہرمز بارے اعلان کیا کہ ’’اِسے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے ۔‘‘
اِس اقدام کو جنرل عاصم منیر صاحب کی مساعی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔امریکہ تک اِس خبر نے خوشی ، مسرت اور اطمینان کی لہریں دوڑا دیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت پھر سے ، معمول کے مطابق، شروع ہو گئی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر کو، پاکستان کے ساتھ ، یکساں طور پر ’’ شاندار ‘‘۔۔زبردست‘‘۔۔اور ’’عظیم‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا اور پکارا ہے ۔ بِلا شبہ اِن الفاظ سے، اقوامِ عالم میں، پاکستان ہی کی شوبھا میں اضافہ ہُوا ہے ۔
امریکی صدر کی زبان سے پاکستان اور اعلیٰ ترین پاکستانی سویلین و غیر سویلین قیادت کی تحسین کے ساتھ ہی ، ہم سب نے دیکھاکہ ، تیل کی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کم از کم 23فیصد کمی آ گئی (اور ٹرمپ کے تحسینی بیان کی بنیاد پر ہی دُنیا بھر میں حصص کے دارالمبادلہStock Exchangesکا گراف بلند ہُوا) اِسی کارن ، شائد، وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیزل اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے ۔
اِس اقدام کی تعریف کی جانی چاہیے ، لیکن عوام ابھی تک منتظر ہیں کہ وزیر اعظم صاحب اور وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کب اور کتنی کمی کی جاتی ہے ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ مہنگا ترین پٹرول استعمال کرنے والے غریب اور زیریں متوسط طبقات کا بھرکس نکل چکا ہے ۔ بھرکس تو ویسے عوام کا مہنگی ترین بجلی نے بھی نکال دیا ہے ۔ اوپر سے بے تحاشہ اور بے وقتی لوڈ شیڈنگ نے قیامت ڈھا رکھی ہے ۔جس طرح آبنائے ہرمز بارے ڈونلڈ ٹرمپ کے ( مثبت اور منفی) بیانات سے دُنیا بھر کے حصص کے دارالمبادلہ (Stock Exchanges)میں بے تحاشہ ادلی بدلی اور نااستواری (Fluctuation)آتی ہے ، اِسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی جس وحشت سے نااستواری دیکھنے میں آ رہی ہے ، اِس نے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں ۔
طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اچانک بجلی آتی ہے تو کبھی نہائت مدہم اور کبھی بے حد زیادہ ۔ اِس نا مطلوبہ اُتار چڑھاؤ سے گھریلو الیکٹرانک اشیا کے جلنے کے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ آج کل طلبا و طالبات کے سالانہ امتحانات بھی ہو رہے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ عذاب کے موجب نہ وہ اپنے امتحانات کی تیاری کر پائے ہیں اور نہ ہی کمرئہ امتحان میں ، شدید گرمی کے باعث، درست حواس کے ساتھ اپنے پرچے حل کر سکے ہیں۔ گویا عذاب کئی رُخا ہے ۔ اِس عذاب نے وفاقی حکومت بارے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے ۔
بیرونِ ملک اگر وفاقی حکومت کی (بجا طور پر) تعریف و تحسین ہو رہی ہے تو اندرونِ ملک مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کی قیامتوں نے عوام کو حکومت سے بے حد نالاں کردیا ہے ۔ ایسے میں ہمیں حیدر علی آتش کا معروف شعر یاد آ تا ہے : سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا/ کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا !! شدید لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ترین بجلی ( اور اوپر سے مہنگائی اور بے روزگاری ) کی اساس پر خلقِ خدا غائبانہ طور پر حکومت کو جن القابات سے یاد کررہی ہے، کیا حکومت ہمت اور حوصلے کے ساتھ یہ القابات سُن سکتی ہے ؟
اِن القابات کا طوفان ِ محشر سوشل میڈیا کے متنوع پلیٹ فارمز پر بپا ہے ۔ مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز آئی عوام جس اسلوب میں سوشل میڈیا فورمز پرحکومت بارے جوردِ عمل دے رہی ہے، اِسے لگام ڈالنا شائد حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اِسی لیے تو سوشل میڈیا اہلِ اقتدار کو چبھتا ہے۔حکومت عوام کے غصے اور ردِ عمل کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی۔ اعدادو شمار کا ایسا ہیر پھیر بتایا جاتا ہے کہ سادہ لوح عوام کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ مہنگی ترین بجلی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب کا اصل سبب کیا ہے ؟اور حکومت کتنی ذمے دار ہے؟ حکومت آجکل صرف ایک بات پر نازاں ہے کہ اس نے پاور سیکٹر کے ملازمین ( گریڈ 17سے اوپر) کو ملنے والی مفت بجلی کی سہولت(عدالتی فیصلے کے بعد) ختم کر دی ہے ۔ وہ مگر عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ( مبینہ طور پر) اِنہی ملازمین کو مفت بجلی کے بدلے میں سرکار کے خزانے سے کتنی، رقوم ادا کی جارہی ہیںاوراعلیٰ ترین سرکاری حاضرسروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو مفت بجلی، مفت گیس اور مفت پٹرول کی( بے جا) سہولیات کب ختم کی جا رہی ہیں؟ یہ مفت فراہم کی جانے والی سہولیات اربوں روپے مالیت کی حامل ہیں اور اِن کا بوجھ غریب عوام کی جیب پر مسلسل پڑرہا ہے ۔
میڈیا میں وزیر توانائی سے عذابناک لوڈ شیڈنگ بارے جو تڑپتے پھڑکتے سوالات پوچھے جا رہے ہیں ، موصوف اِن کا جواب دینے سے تقریباً قاصر ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بارے اُن کے اپنے دلائل، اپنی منطق اور اپنی وضاحتیں ہیں ، مگر عوامی سوالات کا پلّہ بھاری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ حکومت کے 2وزار جونہی ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں ، عوام کی جان ہی نکل جاتی ہے : وزیر بجلی اور وزیر تیل !دونوں وزرا عوام کا تیل نکالنے کے لیے نِت نئے حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لا رہے ہیں ۔
اِن دونوں محکموں کے پچھلی حکومتوں کے وزرا بھی اِسی راستے پر گامزن تھے ۔مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے عذابوں سے نجات پانے کے لیے عوام پیسے جوڑ جوڑ کر کبھی یو پی ایس لگاتے ہیں ، کبھی بیٹریاں خریدتے ہیں ، کبھی مہنگے داموں جنریٹرز لاتے ہیں اور کبھی سولر سسٹم کے تحت نیٹ میٹرنگ کے سرکاری جھانسے میں آتے ہیں ۔ اِن مدات میں عوام اپنا اربوں روپیہ ڈبو چکے ہیں ، مگر بجلی کے عذاب سے نجات نہیں ملی۔ حکومت نے سولر پلیٹوں پر نئے بھاری ٹیکس بھی عائد کر دیئے ہیں۔
Today News
نواز شریف، مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس، اسکائی گلاس برج بنانے سمیت سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے
مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں مری اور کوٹلی ستیاں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی و امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
اجلاس میں مری میں تین نئے ہاسپٹیلٹی زون قائم کرنے، نجی شعبے کے اشتراک سے 5 اسٹار معیار کے ہوٹلز کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع اور گلاس ٹرین پراجیکٹ کے جلد آغاز کا ہدف مقرر کیا گیا۔
اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے نئے پارکس، زولوجیکل گارڈن، ایکوزون، گلیمپنگ پوڈ ویلج اور پیراگلائیڈنگ کلب کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بلک واٹر سپلائی اسکیم اور رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پنجاب بھر میں سرکاری عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے فیسلیٹی مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔
-
Sports2 weeks ago
Pakistan women to make FIFA Series debut in Ivory Coast – Sport
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE PROBLEM WITH MERI ZINDAGI HAI TU – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pegula reaches WTA Charleston Open semi-finals with latest three-setter – Sport
-
Magazines2 weeks ago
SMOKERS’ CORNER: PAKISTAN’S PRAGMATIC TURN – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pogacar clinches joint-record third Tour of Flanders – Sport
-
Magazines2 weeks ago
HERITAGE: SUBVERSION OF THE SHRINE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Muriqi strikes late as Mallorca dent Real’s title hopes – Sport
-
Magazines2 weeks ago
EXHIBITION: THE HARMONY OF VIOLENCE – Newspaper