Connect with us

Today News

بلوچستان: پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

Published

on



خضدار پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل اور صوبے کی پہلی خاتون کانسٹیبل شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔

 پولیس کے مطابق گزشتہ روز سولر پلیٹوں کی چوری کے حوالے سے پولیس نے علاقے باجوئی میں چھاپہ مارا تو وہاں موجود دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل ملک ناز بی بی اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر شہید ہوگئے ، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب الرحمن زخمی ہوئے ، مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔

ادھر دشت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے دہشت گردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سمیت چھ جوان شدید زخمی ہو گئے۔

دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کئے جس میں ہیڈ کانسٹیبل ایس پی سریاب کا ریڈر رحمت اللہ موقع پر ہی شہید جبکہ سی ٹی ڈی کا سب انسپکٹر جاوید گل، کانسٹیبل نیاز احمد ،سریاب پولیس کا اے ایس آئی وقار احمد ، ہیڈ کانسٹیبل نور اللہ، کانسٹیبل عبدالعلیم اور کانسٹیبل تاج محمد شدید زخمی ہو ہوئے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

Published

on



آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتوار کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانوی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا، 5.13 ڈالر اضافے سے برطانوی خام تیل کی قیمت 95.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

جمعہ کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم ہفتے کے روز ایران نے اچانک اس اہم راستے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

واضح رہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت بھی بدھ کو ختم ہونے کے قریب ہے۔

ایران نے اس اقدام کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ’’اعتماد کی خلاف ورزیاں‘‘ کی ہیں۔ دوسری جانب امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر فائرنگ کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

جہازوں کی نقل و حرکت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے کوئی آئل ٹینکر نہیں گزرا، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز بحران، مذاکرات ہی واحد راستہ

Published

on


مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جب کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، ہمارے پاس اچھی خبر ہے، کل تک سرپرائز ہو سکتا ہے،ایک ذہین شخص وائٹ ہاوس آئے گا، انھوں نے دھمکی دی کہ بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم کردی جائے گی۔ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ فریم ورک معاہدے تک امریکا کے ساتھ مزید براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔

امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کے خلاف ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جب کہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جب کہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف دو ، دن باقی رہ گئے۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی لغزش بھی وسیع پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جنگ بندی کے دن گنے جا رہے ہیں، بیانات کی شدت بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے اعصاب کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں سفارت کاری کی ہر کوشش، ہر رابطہ اور ہر مصالحتی قدم غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک منظرنامے میں پاکستان کا کردار ایک سنجیدہ، متوازن اور ذمے دار ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو زندہ رکھا بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ باور کرایا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط بداعتمادی، جغرافیائی سیاست اور مفادات کے ٹکراؤ کا عکاس ہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں اطراف سے سخت بیانات نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایران کا یہ مؤقف کہ جب تک اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان اور دباؤ کو مسترد کرنے کی پالیسی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں جنگ بندی کا خاتمہ محض ایک سفارتی ناکامی نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک ایسے تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کو محض ایک علاقائی معاملہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی، یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہے، جس کے ذریعے دنیا کی معیشت کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی پیدا کی بلکہ عالمی تجارت کے دھارے کو بھی متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک کے جہازوں کو واپس لوٹنے کی ہدایات، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور عسکری موجودگی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

اس پس منظر میں ایران کی جانب سے مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھولنے کی پیشکش ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر یہ اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک اعتماد کی فضا بحال نہ ہو۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خود امریکا کے اندر سے بھی اس جنگی ماحول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سابق امریکی قیادت کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی غیر مقبول اور غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا بیانیہ کمزور ہو رہا ہے جب کہ سفارت کاری کی ضرورت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر قائم ہیںاور یہی ہٹ دھرمی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی کوششیں امید کی ایک کرن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت حکمت، بردباری اور سنجیدگی کے ساتھ اس نازک معاملے میں کردار ادا کیا ہے۔ تہران میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں، مسلسل رابطے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نہ صرف خطے کے امن میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایسے حساس اور پیچیدہ تنازعے میں دونوں فریق پاکستان کی ثالثی پر آمادہ ہوئے۔پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو محض وقتی پیش رفت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو جنگ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں قیادت سے ملاقاتوں میں جس انداز سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے تسلسل پر زور دیا گیا، وہ ایک ذمے دار عسکری قیادت کی عکاسی کرتا ہے جو صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی امن کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سفارتی محاذ پر جو سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک متوازن اور فعال رخ کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے۔ ایران فریم ورک معاہدے کے بغیر براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، جب کہ امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں دکھائی دیتا۔ ایران کی قیادت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔ دوسری طرف امریکا یہ مؤقف رکھتا ہے کہ خطے میں اپنی سیکیورٹی اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس تضاد نے مذاکرات کو ایک مشکل امتحان بنا دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے اور وہ ہے خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست۔ ایران کا یہ دعویٰ کہ وہ جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے اور اسی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کسی کمزور فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی نگرانی جاری رکھنے اور اس سے گزرنے والے جہازوں پر شرائط عائد کرنے پر مصر ہے۔ اس طرز عمل کو بعض حلقے دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جب کہ ایران اسے اپنے دفاع کا حق سمجھتا ہے۔دوسری جانب امریکا کے اندر بھی پالیسی کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ بعض حلقے جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دے رہے ہیں اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

یہ داخلی دباؤ بھی مذاکرات کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہیں تو حکومت کے لیے طویل عرصے تک سخت مؤقف پر قائم رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ایسے پیچیدہ حالات میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک بااثر ملک بھی ہے جس کے ایران سمیت کئی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں، جو اسے ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک مؤثر ثالث بناتا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا طویل المدتی طور پر اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے، جب کہ امریکا کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ دباؤ کی پالیسی ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتی۔ فریقین کو اپنی پوزیشن میں لچک دکھانی ہوگی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی ثالثی ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ خطے کے عوام، جو پہلے ہی عدم استحکام، مہنگائی اور غیر یقینی کا شکار ہیں، کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہر بم، ہر میزائل اور ہر عسکری کارروائی دراصل انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے، جن کا ازالہ دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، اور نفرت کی نئی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قیادتیں اپنی ذمے داری کا احساس کریں اور ایسے فیصلے کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بن سکیں۔اسلام آباد میں متوقع مذاکرات اس تناظر میں امید کی ایک اہم کرن ہیں۔ یہ نہ صرف ایک جغرافیائی مقام ہے بلکہ ایک علامت بھی بن چکا ہے کہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین اگر ایک بڑے تنازعے کے حل کا ذریعہ بنتی ہے تو یہ نہ صرف اس ملک بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت مثال ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

شادی کی تقریب سے چند لمحے قبل دلہن پر بھابھی نے سیاہ پینٹ پھینک دیا

Published

on



برطانیہ میں ایک دلہن کی شادی اس وقت خوفناک واقعے کا شکار ہو گئی جب اس کی بھابھی نے تقریب سے چند لمحے قبل اس پر سیاہ پینٹ پھینک دیا۔

امریکی  نشریاتی  ادارے فوکس نیوز کے مطابق یہ واقعہ ایک طویل خاندانی تنازع کے نتیجے میں پیش آیا۔ 35 سالہ جیما مونک اپنے بچپن کے ساتھی سے شادی کے لیے بے حد پرجوش تھیں۔

سفید لباس میں ملبوس، وہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے خوشی خوشی شادی ہال کی جانب بڑھ رہی تھیں کہ اچانک کسی نے ان کا نام پکارا۔ وہ رکیں اور اگلے ہی لمحے سیاہ پینٹ ان کے چہرے اور لباس پر بہہ رہا تھا۔

یہ حملہ کسی اجنبی نے نہیں بلکہ جیما مونک کی اپنی بھابھی نے کیا جس کے ساتھ خاندانی تنازع کافی عرصے سے جاری تھا۔



Source link

Continue Reading

Trending