Connect with us

Today News

مذاکرات،عالمی امن کی جانب اہم قدم

Published

on


واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی ختم ہونے میں ایک دن باقی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسٹیووٹکوف اور جیرڈکشنر اسلام آباد پہنچ جائیں گے، تہران نے ہماری ڈیل قبول نہ کی تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ اورپل کو تباہ کردیں گے ، دوسری جانب ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو امریکی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔

دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دورمیں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔

 موجودہ عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر دشوار عمل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جو وقتی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے محدود کی گئی تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ صورتِ حال کے یکسر بدل جانے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اسلام آباد کو اس تمام بحران میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لا کر نہ صرف کشیدگی میں کمی لائے بلکہ ایک پائیدار حل کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار یا کم از کم ہچکچاہٹ نے اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یہ انکار محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں حالیہ واقعات، بیانات اور اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے موزوں نہیں۔

 ایران کا موقف بنیادی طور پر اعتماد کے بحران کے گرد گھومتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اگر اس الزام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو باقی تمام کوششیں رسمی اور غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں اور ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔

دوسری جانب امریکا کا رویہ بظاہر دہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سطح وفد کی اسلام آباد آمد کی تیاری اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات، دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذاکراتی فضا متاثر ہوتی ہے اور فریق مخالف کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بات چیت دراصل ایک رسمی عمل ہے، اصل مقصد اپنی شرائط منوانا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری معاملہ خاص طور پر اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے معاہدے بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو فریقین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے۔

 موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں گولیوں کا تبادلہ اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کس قدر حساس ہو چکی ہے، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

چین کا ردعمل اس تمام تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ذمے دارانہ رویے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ چین کی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، اگرچہ اس کردار کی نوعیت اور حدود کا تعین حالات کے مطابق ہوگا۔

 خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاونت کے امکانات پر غور اور متبادل کرنسیوں کی بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع محض عسکری یا سفارتی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی تجارت میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ڈالر کے متبادل نظام متعارف کروائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔پاکستان کے لیے یہ تمام صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے اپنے قومی مفادات، علاقائی تعلقات اور داخلی استحکام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے، خاص طور پر جب فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں، مگر یہی خصوصیت اس کے لیے خطرات بھی پیدا کرتی ہے، اگر وہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں، جو اس کے سفارتی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہایت احتیاط اور توازن کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔

موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے گی یا نہیں؟ اگر یہ توسیع نہ ہو سکی تو پھر کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔سفارت کاری اس وقت واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کسی حد تک قابو میں لا سکتا ہے، مگر سفارت کاری اسی وقت موثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سنجیدگی، لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی ہوں۔ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔

ایران کا یہ کہنا کہ وہ ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتا، دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنی عالمی قیادت کے دعوے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے، اگر وہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مکمل انکار یا سخت موقف کسی حل کی جانب نہیں لے جاتا۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں، اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یہ تنازع شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف موجودہ حالات کو نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کو بھی متعین کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مذاکرات ناگزیر کیوں؟ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی نظر آرہی ہے۔ ایران کی جنگ کے بعد ان کے مقبولیت کے گراف میں کافی کمی ہوئی ہے۔

اسی لیے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات ہار سکتی ہے۔ ان کے مخالفین نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ ڈیموکریٹ نے جلدی مہم شروع کر دی ہے تاکہ ٹرمپ کے گرتے ہوئے گراف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ نو کنگ مارچ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ویسے بھی ڈیموکریٹ اب ریلیوں میں نظر آرہے ہیں۔ ریپبلکن پریشان ہیں۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ ٹرمپ ایران سے جنگ بند کرنا چاہتے ہیں۔ سیز فائر اور جنگ بندی ان کی سیاسی ضرورت ہے، وہ ایران سے بات چیت پر مجبور ہیں، وہ دباؤ میں ہیں، اسی لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کی ایک مشکل نہیں ہے۔ انھیں جنگ بند کرنی ہے لیکن انھیں امریکا میں یہ تاثر بھی دینا ہے کہ انھیں فتح حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے ایران کو شکست دی ہے۔

اس لیے وہ ایسے مذاکرات چاہتے ہیں جس میں ایران کو جتنی رعائتیں دی جا سکتی ہیں دے دی جائیں لیکن فتح کا تاثر باقی رہ جائے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو جو فتح میدان جنگ میں نہیں ملی ہے آپ مذاکرات سے لین دین کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہی اصل صورتحال ہے۔ اس کو سمجھ کر ہی مذاکرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکا میں مڈٹرم انتخابات قریب نہ ہوتے تو سیز فائر اور امن مذاکرات کی اتنی ضرورت نہ محسوس کی جاتی۔ نہ جے ڈی وینس آتے ، نہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جاتے۔ ٹرمپ کی ضرورت کا سب کو احساس ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھیں کہ ایسا امن معاہدہ جس میں ٹرمپ کی ہار کا تاثر جاتا ہو، اس کا ٹرمپ کو فائدہ نہیں۔ پھر تباہی زیادہ قابل قبول ہے، پھر لمبی جنگ زیادہ قبول ہے۔ پھر جنگ کے ساتھ انتخابات میں جانا زیادہ بہتر حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔ایسے مذاکرات جن میں ایران کی جیت کا تاثر بنتا ہو، جس سے امریکا کی ہار کا تاثر بنتا ہو ، وہ ٹرمپ کے لیے زیادہ زہر قاتل ہے۔

اس لیے ٹرمپ کی مشکلات عجیب ہیں۔ امن کی بھی ضرورت ہے، کچھ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایران کی شرائط ماننے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن صحیح فتح کا بگل چاہیے۔ ایسا کچھ چاہیے جس کو فتح کہا جا سکے۔ یہ آسان نہیں، یہ میڈیا کا دور ہے، بات نکل جاتی ہے۔ امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات نومبر میں ہیں لیکن انتخابی مہم شروع ہے۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں۔ جیسے ایران کی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کا اقتدار خطرہ میں ہے ایسے ہی اسرائیل میں نیتن یاہو بھی خطرہ میں ہیں۔ ان پر کرپشن کیسز ہیں، ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہے، وہاں بھی لوگ جنگوں سے تنگ ہیں۔ وہاں بھی ان کی اپوزیشن اقتدار میں آنے کے لیے بے تاب ہے۔

نیتن یاہو کی گیم بھی یہی تھی کہ ایران پر مکمل فتح ان کو انتخاب جیتنے میں مدد دے گی۔ وہ اسرائیل کے لوگوں کو بتائیں گے کہ میں نے ایران میں رجیم چینج کر دی، ایران کا خطرہ ختم کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ نیتن یاہو اس وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے، وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اب سیز فائر امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے زہر قاتل ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنے اقتدار کو دیکھیں یا نیتن یاہو کو دیکھیں ۔ وہ امریکی انتخابات کو دیکھیں یا نیتن یاہو کے مسائل دیکھیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان میں سیز فائر پر مجبور کیا گیا ہے۔

34سال بعد لبنان اسرائیل مذاکرات کروائے گئے ہیں۔ امن مذاکرات سے پہلے لبنان میں امن کی ایران کی شرط کو قبل کیا گیا کیونکہ امن ٹرمپ کی ضرورت ہے۔ انھیں 47سال بعد ایسا موقع مل رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر امریکا کے ساتھ بیٹھ کر کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایران کو مالی مفاد دیکھنا چاہیے انھیں اپنے اوپر سے پابندیاں اٹھانے پر توجہ رکھنی چاہیے۔ انھیں ٹرمپ کے بیانیہ پر توجہ نہیں رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ کے ٹوئٹ ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔ لیکن ابھی تک ایران کی توجہ ان ٹوئٹس کا جواب دینے پر ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے، ایران کی موجودہ رجیم کی بھی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتنی شہادتیں ہیں، اس کے بعد مالی مفاد پر صلح کیسے کر لی جائے۔ جنگ میں لوگ فاقے کاٹ لیتے ہیں، امن میں روٹی مانگتے ہیں۔ نوجوان نوکریاں مانگیں گے۔ اس لیے مالی فوائد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن نظریہ سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ 47سال سے امریکا اور اسرائیل سے جنگ کی تیاری کی گئی ہے۔ اب جنگ ہے تو جنگ لڑنی چاہیے، ساری تیاری اسی لیے تھی، ساری قربانیاں اسی لیے تھیں۔ اب جنگ سے فرار کیوں۔ یہ شہادتیں کس لیے تھیں، امن یا سیز فائر کے لیے تو نہیں تھیں۔ اس لیے امن چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ اور ایران دونوںمشکل میں ہیں۔

فتح دونوں کی ضرورت ہے، فتح دونوں کو نہیں مل سکی، دونوں ہارے بھی نہیں ہیں، میچ برابر ہو گیا ہے۔ جس کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں۔ اس لیے دونوں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں میچ برابر ہو گیا۔ یہ ٹرمپ کے لیے سیاسی موت ہے۔ یہ ایران کو پھر بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ لیکن وہاں قدامت پسند کہتے ہیں جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ برابر میچ قابل قبول نہیں۔ انھیں میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ امریکا کو ایران کے لیے فتح تلاش کرنی ہے اور ایران کو امریکا کے لیے فتح تلاش کرنی ہے۔ تب ہی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کی مشکل کا احساس کرنا ہوگا جو نہیں ہو رہا ۔ یہ اصل مشکل ہے۔ مذاکرات کار اپنی فتح کی تلاش میں ہیں۔ انھیں دوسرے کی فتح کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

انجینئر محمد علی مرزا  کی اکیڈمی پر حملہ کرنیوالا اپنے استاد کا بھی قاتل نکلا

Published

on



انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والا حملہ آور اپنے استاد کا بھی قاتل نکلا۔

میانوالی سے تعلق رکھنے والا 25 سالہ بلال احمد موقع پر ہلاک کردیاگیاتھا، ماضی میں بھی قتل کے مقدمہ میں ملوث رہا۔

ڈی پی او میانوالی وقار کھرل کے مطابق ملزم کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے تھا۔پولیس کے مطابق 2016 میں جب وہ نویں جماعت کا طالب علم تھا، اس نے اپنے استاد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا۔

2017 میں مقتول کے لواحقین نے اس کے ایک بھائی کو قتل کر دیا، 2018 میں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی۔ جس کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گیا جہاں ایک پٹرول پمپ پر سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا رہا۔



Source link

Continue Reading

Today News

رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے، میئر کراچی کا جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا اعلان

Published

on



میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ رواں سال ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا سال ہے اور شہر کے تمام ٹاؤنز میں نمایاں ترقیاتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی اس سال 68 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی اور 15 جون تک جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کراچی میں جاری کاموں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے۔

میئر کراچی نے اولڈ سٹی میں میسم لی اسٹریٹ کی بحالی کے کام کا معائنہ کیا، اس موقع پر صحافیوں کے وفد اور بلدیہ عظمیٰ کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ساتھ لانے کا مقصد ترقیاتی کاموں اور ان کی شفافیت کو عوام کے سامنے رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ سڑک ٹاؤن کی حدود میں آتی ہے، تاہم عوامی سہولت کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ اس پر کام کروا رہی ہے۔

بعد ازاں میئر کراچی نے ضلع سینٹرل میں جاری میگا ترقیاتی اسکیموں کا بھی جائزہ لیا اور ایس ایم توفیق روڈ پر بحالی کے کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی جی ٹیکنیکل سروسز طارق مغل نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ میئر کے مطابق یہ سڑک ضلع سینٹرل کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل ہے اور سوا ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر کام تیزی سے جاری ہے، جسے جلد مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے صدر ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں دن رات کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہبا اختر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی بحالی سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

میئر کراچی نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہر کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ماضی کی طرح اپنے وعدے پورے کرے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شاہراہ بھٹو پر تیزی سے کام جاری ہے اور قیوم آباد سے کاٹھور تک اہم منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے، جبکہ ایک اور منصوبہ بندرگاہ کو شاہراہ بھٹو سے جوڑنے کے لیے شروع کیا جا چکا ہے۔ عظیم پورہ فلائی اوور کی تعمیر بھی سو دن کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ واٹر بورڈ نے حب ڈیم سے پانی کا کوٹہ بڑھانے کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہے، جبکہ حب ڈیم کی نئی کینال مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ شہر کی خدمت کرنے والے مسلسل کام میں مصروف ہیں اور کراچی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے گا۔

 



Source link

Continue Reading

Trending