Connect with us

Today News

   ایرانی ڈرونز ٹیکنالوجی نے دنیا میں طاقت کا تصور بدل دیا

Published

on



ایرانی ڈرونز کا پہلا تذکرہ برسوں قبل اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں سے متعلق فوجی رپورٹس میں سامنے آیا،بعدازاں عسکری ماہرین نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز کا سِرا بھی ایرانی صنعت سے جوڑا،تاہم ستمبر 2022 میں دنیا اْس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے،اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 (شاہد-136) نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کئیو کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ 40 برس سے پابندیوں کا شکار ملک بین الاقوامی تنازعات میں کھیل کے اصول کیسے بدلنے میں کامیاب ہو گیا؟ کون سی بنیادی قدریں اور عوامل تھے جنھوں نے اسے ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابی دلائی؟یہ دراصل 1979 کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ہی تھیں جنھوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک میں دستیاب امکانات پر غور کرنے، مشکلات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے اور درست فیصلے کرنے پر مجبور کیا انہی پابندیوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک کے انجینیئروں پر اعتماد کرنے پر آمادہ کیا،پابندیوں کے باعث ایران نے بیرونِ ملک سپلائی نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ضروری ساز و سامان اور پرزہ جات حاصل کیے جا سکیں۔

جنوری 1979ء میں جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی،ایرانی فضائیہ اس وقت ایف 14 ٹام کیٹ، ایف 4 فینٹم اور ایف 5 ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی،اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔

شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی قیادت یا تو ملک چھوڑ گئی، قتل کر دی گئی یا قید میں ڈال دی گئی، ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہایت خونریز جنگ شروع ہوئی،جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے،جنگ کے ابتدائی مراحل میں عراقی افواج کو فضائی برتری حاصل رہی۔

دوسری جانب ایرانی افواج ایک ایسی جنگ لڑ رہی تھیں جس کے لیے ان کے پاس نہ واضح وژن تھا اور نہ ہی ضروری عسکری صلاحیت،ایران کو ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی تھی لیکن معاشی پابندیوں نے اسے عالمی منڈی سے یہ ٹیکنالوجی خریدنے کے قابل نہ رہنے دیا۔

چنانچہ ایرانیوں نے 1981 کے اوائل ہی میں ان چھوٹے آلات پر کام شروع کر دیا،ان پر کیمروں کی تنصیب کا خیال زیرِ غور آیا۔ اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی،برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں یہ نوجوان ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے،ان میں ایک سویلین پائلٹ جس کا نام فرشید تھا، دوسرا سعید نامی فزکس کا طالبعلم اور تیسرا مسعود زاہدی نامی پیشہ ور سنار تھا۔

جب پہلی مرتبہ انھوں نے اپنا ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا،یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا،اس کا فیول ٹینک ایک طبی آئی وی بیگ تھا، جبکہ اس کا ’فین‘ یا پنکھا مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا، 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا۔

 یہ طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے،یہ پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک طالب علمانہ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا پر تاریخی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے، ایرانی صدر پزشکیان

Published

on



ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر تاریخی عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایکس پر  اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری بنیادی شرط ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا دراصل ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایران کسی بھی قسم کے دباؤ یا طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مکالمے کی کامیابی کے لیے اعتماد اور وعدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔

پایبندی به تعهدات منطق موجه هر نوع گفتگوست. علاوه بر بی‌اعتمادی تاریخی عمیقی که در ایران نسبت به پیشینه رفتار و عملکرد دولت آمریکا وجود دارد، رویکرد غیرسازنده و متناقض مسئولین آمریکا در روزهای اخیر حاوی یک پیام تلخ است: آن‌ها خواهان تسلیم ایرانند. مردم ایران زیر بار زور نمی‌روند. https://t.co/JCbZM63sdH
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 20, 2026

صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی خودمختاری اور قومی مفاد پر مبنی ہے اور ملک کسی بھی غیر حقیقی وعدوں یا غلط معلومات کے ذریعے عوامی اعتماد کو متاثر نہیں ہونے دے گا۔

اس سے قبل ایرانی صدر نے تہران میں سرکاری عہدے داروں سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو میں کہا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ایران اپنی داخلی ترقی اور تعمیر نو پر توجہ مرکوز کر سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی پی ایل میں ٹیم اونر کی جانب سے بھی ’کالا جادو‘ کرنے کا انکشاف

Published

on



للت مودی نے آئی پی ایل میں ایک ٹیم اونر کی جانب سے بھی ’کالا جادو‘ کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

رواں سیزن میں ایک میچ کے دوران تماشائی کی جانب سے اسٹینڈ میں کالا جادو کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے، سن رائزرز حیدرآباد اور چنئی سپر کنگز میں میچ کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک شائق لیموں کے ساتھ ایک عجیب سا عمل کرتا دکھائی دیا، جسے بعض لوگ کالے جادو سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

وہ وکٹ پر موجود سن رائزرز حیدرآباد کے بیٹر شیوم ڈوبے کی جانب اشارہ کررہا تھا اور چند لمحوں بعد وہ بولڈ ہوگئے، جس پر اسٹیڈیم میں جشن شروع ہو گیا۔

اس پر آئی پی ایل کے سابق چیئرمین للت مودی کو پراناواقعہ یاد آگیا، انھوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، 2011 کے سیزن میں ایک ٹیم کے مالک نے بھی اسی طرح کے طریقے استعمال کیے تھے، وہ مخالف ٹیم کے ڈریسنگ روم میں اس طرح کے عمل کر رہا تھا ۔



Source link

Continue Reading

Today News

معاہدے کی خلاف ورزی پر پی سی بی نے سری لنکن کرکٹر پر ایک سال کیلیے پابندی لگا دی

Published

on



پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکن کرکٹر ڈاسن شناکا پر ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شرکت کے لیے ایک سال کی پابندی عائد کر دی۔

کرکٹر اور لاہور قلندرز کے کنٹریکٹ معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ ایڈیشنز میں کھلاڑی کی اہلیت سے متعلق حتمی فیصلہ جاری کیا گیا، بورڈ نے قرار دیا کہ شناکا کی 21 مارچ 2026 کو ٹورنامنٹ سے یکطرفہ دستبرداری، پلیئر رجسٹریشن کی شرائط اور سہ فریقی معاہدے دونوں کی واضح خلاف ورزی تھی۔

کرکٹر ایسی وجوہات کی بنیاد پر دستبردار ہوئے جوکہ موجودہ معاہداتی فریم ورک میں تسلیم شدہ نہیں تھیں، اگرچہ بورڈ نے باقاعدہ سماعت کے دوران کھلاڑی کی جانب سے اظہارِ افسوس اور پاکستان میں کھیلنے کے جذبے کو مدنظر رکھا تاہم معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث لیگ کی ساکھ اور انفرادیت برقرار رکھنے کیلیے ڈسپلنری کارروائی کو ضروری سمجھا گیا، فوری طور پر نافذ العمل فیصلے کے تحت ڈاسن شناکا کو آئندہ برس شیڈول پی ایس ایل 12 میں شرکت کیلیے نااہل قرار دے دیا گیا۔

 پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں ڈاسن شناکا کا بیان بھی شامل کیا گیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایچ بی ایل، پی ایس ایل سے دستبرداری کے اپنے فیصلے پر گہرا افسوس کرتا ہوں۔



Source link

Continue Reading

Trending